طبقاتی نقطہ نظر ہمیں حقیقت کے قریب کردیتا ہے

فرحت قاضی

کسی قول و فعل اور نظریہ کی حقیقت جاننے میں طبقاتی نقطہ نظر ہماری بھرپور معاونت کرتا ہے۔

مذہبی پیشوا اپنے وعظ میں ہمیں اچھے اور برے کا امتیاز بتاتا ہے اسی چیز کو مد نظر رکھ کر مقرر اور ووٹ کا امیدوار بھی اپنے قول و فعل سے اپنے کو پارسا،حق گو اور مفید ظاہر کرنے کی اداکاری کرتا ہے جب منتخب ہوکر پارلیمنٹ یا اعلیٰ عہدے پر فائز ہوجاتا ہے اور اس کے قول و فعل میں تضاد سامنے آجاتا ہے تو ہم اسے اچھے کی فہرست سے اٹھاکر بُروں کی قطار میں لا کھڑا کردیتے ہیں۔

انسانوں کی مانند الفاظ اور صفات کا بھی یہی حال ہوتا ہے جس طرح باربار کی تکرار اور پرچار سے ہم مقرر اور لیڈر کے سحر میں آجاتے ہیں اسی طرح ایک لفظ یا الفاظ کی تکرار کے باعث ان کی طبقاتی نوعیت ہم سے اوجھل رہتی ہے۔

بلاشبہ صبر ایک اعلیٰ صفت اور خوبی ہے یہ جہاں نہیں ہوتا ہے وہاں دھینگا مشتی اور فساد ہوتا ہے مگر مفاد پرست طبقہ اور مالکان اسے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بھی بروے کا ر لاتے ہیں ایک جاگیردار اور سرمایہ دار اپنے کاشتکار اور مزدور کو صبر کی تلقین کرتا ہے یہ اسے نسخے کے طور پر تجویز کرتا ہے مگر کہیں بھی خود اس پر عمل کرتا ہوا نظر نہیں آتا ہے وہ اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی بہتر سے بہتر اور پرآسائش بنانے کے لئے ہر جتن کرتا ہے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے اپنا مستقبل روشن اور محفوظ بناتا ہے اور اپنے کاشتکار اور مزدور کے کان میں کہتا ہے:۔
’’
صبر کرنے والا اللہ کا دوست ہے‘‘

باالفاظ دیگر وہ اپنے کاشتکار اور مزدور کو کم سے کم اجرت پر راضی اور صابر رکھنا چاہتا ہے تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ پیسے کی بچت او ر منافع ہو یہ چیزوں اور افعال کے طبقاتی نوعیت کی ایک ادنیٰ مثال ہے علاوہ ازیں مالک اپنی ضرورت اور مجبوری کو عوامی فلاح وبہبود کا رنگ دے کر بھی پیش کرتا ہے۔

جاگیردار کی ضرورت ان پڑھ کھیت مزدور پوری کرتا ہے اور تعلیم اور تعلیم یافتہ نوجوان کو وہ اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے اس لئے وہ بلاواسطہ اور بالواسطہ تعلیم کی مخالفت کرتا اور کرواتا ہے چنانچہ کبھی وہ اسے مذہب اور روایات سے متصادم قرار دیتا ہے اور کبھی اس کی مغربی اور مشرقی میں تقسیم کرتا ہے چنانچہ وہ ہر قیمت پر تعلیم کے فروغ کا راستہ روکنے کی سعی و کاوش کرتا ہے اور اپنا تمام زور اسے برا ثابت کرنے پر لگا دیتا ہے

سرمایہ دار کا کارخانہ ناخواندہ اور خواندہ دونوں شہری چلاتے ہیں چنانچہ تعلیم کے حوالے سے اس کا رویہ قطعی طور پر مختلف ہوتا ہے وہ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہات میں بھی تعلیمی ادارے کھولتا ہے اور جب اس کی پیداوار بڑھ جاتی ہے اور شہر سے ملک اور ملک سے بیرون ممالک منڈیا ں تلاش کرتا ہے تو انسانوں کے مابین مذہب، عقیدے،رنگ، نسل اور قومیت کی دیواروں کو بھی پاٹنے لگتا ہے وہ ان کو تنگ نظری، تعصب اور قومی عصبیت قرار دینے لگتا ہے ۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں

دیہہ میں ایک خاندان دوسرے خاندان سے ذات پات،پیشے اور عقیدے کی بنیاد پر نفرت کرتا ہے مگر ترقی یافتہ ممالک کے ارباب اختیار نے اپنی ریاستوں کے دروازے دنیا بھر کے تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کے لئے کھلے رکھے ہوتے ہیں
پاکستان میں ہم پشتون،پنجابی، سندھی اور بلوچی
پشتون، ہزارہ، ہندکیان،سرائیکی
سنی،شیعہ اور احمدی
لوہار،خاکروب،میاں اور درزی
سفید،سیاہ اور گندمی رنگ

پاکستانی، بھارتی، ایرانی اور افغانی میں تقسیم ہیں اور اس بنیاد پر ایک دوسرے کو بنظر حقارت دیکھتے ہیں مگر ایک ہی امریکہ میں یہ اور ایسے کئی افراد اور کنبے ایک نظام کے تحت اور ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں 

کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ انسان صرف انسان پیدا ہوتا ہے یہ امتیازات طبقاتی مفادات اور نقطہ نظر کو پیش نظر رکھ کر پیدا کئے گئے ہیں اور عوام اپنی کم علمی کے باعث آنکھیں بند اور ذہنوں کو تالے لگاکر اس پر عمل کررہے ہیں دیکھا یہ گیا ہے کہ جب ایک علاقے کے غریب باسی اپنے ارد گرد کی اشیاء کو طبقاتی عینک سے دیکھنے اور پرکھنے لگتے ہیں تو پھر وہ غریب ایک دوسرے کے قریب ہونے لگتے ہیں ان کے دکھ اور سکھ ساجھے ہوجاتے ہیں اور اجتماعی مفادات کے لئے اتحاد کا مظاہر ہ کرنے لگتے ہیں۔

دیہات کی نسبت شہر اور کھیت مزدوروں کے مقابلے میں صنعتی مزدوروں میں زیادہ اتحاد و اتفاق پایا جاتا ہے اسی لئے کارخانہ کو سوشلزم کے سکول بھی کہا گیا ہے یہی اتحاد و اتفاق دیہات میں بھی اس کے غریب باسیوں میں پیدا ہونے لگتا ہے جب اس کے پڑھے لکھے نوجوان اپنے رہنماؤں کے قول و فعل کو طبقاتی نظر سے ماپنے اور تولنے لگتے ہیں۔

بالا دست طبقہ ، اس کے نمائندے ، مقرر اور خطیب اپنے دلائل کو وزن دار بناکر قائل کرنے کے لئے اپنی بات چیت، تقریر اور تحریر میں کسی مشہور و معروف شخصیت یا کتاب کا حوالہ دیتے ہیں جس سے عام شہری مرعوب ہوجاتا ہے اور اس طرح طبقات کا تصور پس منظر میں چلا جاتا ہے یاد رہے کہ چالاک انسان اپنے مفادات کا اظہار سیدھا سادہ اور براہ راست نہیں کرتا ہے جبکہ خان خوانین اور وڈیرے اپنے مفادات،طبقاتی سوال اور نوعیت کو چھپاتے ہیں اس لئے وہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر غریب غرباء پر ظاہر کرتے رہتے ہیں کہ ہم سب کے مفادات ،دکھ سکھ اور نفع نقصان ساجھے ہیں حالانکہ اس کا انحصار حالات اور واقعات پر ہوتا ہے۔

متحدہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کے تحت مسلمان دولت مند اور مسلمان غریب کو جہاں یکساں حالات اور سلوک کا سامنا تھا ان کے دکھ سکھ ساجھے تھے تو مسلمان امیر نے مسلمان غریب کے کندھوں پر بندوق رکھ کر پاکستان بنالیا البتہ جہاں مسلمان صاحب جائیداد اور مسلمان غریب کو متحدہ ہند میں اپنا مفاد نظر آتا تھا تو اس نے وہیں رہنے اور کاروبار جاری رکھنے کو ہی بہتر اور مناسب سمجھا ۔

قیام پاکستان سے پہلے مسلمان نوابوں اور جاگیرداروں نے غریب مسلمانوں کو متحد کیا ان سے کام بھی لیا مگر تخلیق کے بعد اسی امیر مسلمان نے سب کچھ اپنی جھولی میں سمیٹ لیا غریب مسلمان اپنے مفادات کا دفاع اور تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام رہا یہ صاحب حیثیت طبقہ محنت کشوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اسی مذہب اور عقیدے کے اختلافات کو سامنے لے آیا جس کا نتیجہ یہ نئے ملک کے ثمرات حاصل کرنے سے محروم رہ گیا چونکہ متحدہ ہند میں مسلمانوں میں اسلام،معاشی حالات کی یکسانیت اور ہندو اکثریت کا خوف مشترکہ تھے اس لئے بالا دست طبقے نے ان سب کا سہارا لیا پاکستان وجود میں آگیا تو موخر الذکر دونوں کو پس پشت ڈال دیا گیاگو کہ پاکستان میں بھی معاشی عدم مساوات اور اکثریت کا مسئلہ پیش آیا بلکہ قوموں کی خود مختاری اور اپنے وسائل پر اختیار کا مسئلہ بھی ابھر کر سامنے آیا مگر اسے
ایک مذہب اور یکساں عبادات
مشترکہ سرحدات
ایک پاکستانی قوم
ایک قومی ثقافت
ایک قومی کھیل اور ایک قومی پوشاک کا لبادہ اوڑھا دیا گیا چنانچہ چھوٹی قوموں کے اپنے وسائل پر اختیارات
مادری زبان میں تعلیم
اورقومی حقوق کے تصورات پس پشت ڈال دئیے گئے

اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے
ہمارا روزمرہ مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ بالا دست طبقے کے افراد غریب اور محنت کش کے ساتھ مسجد، مندر اور گرجے میں ایک صف میں کندھے سے کندھا ملاکر عبادت کرتے ہیں فوتگی اور شادی کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں زمین پر بیٹھ کر کھانا بھی کھاتے ہیں غریب کو زکواۃ دیتے،رحم کھاتے اور ہمدردی بھی جتاتے ہیں مگر ان کا سیاسی، معاشی اور سماجی مرتبہ اور قد ہمیشہ اپنے سے چھوٹا رکھتے ہیں

طبقہ اشرافیہ ہمیشہ ایسی مشترکہ اقدار سامنے لاتا ہے جن سے یکسانیت کا تاثر پیدا ہو تاکہ اسے غریب طبقے کے استحصال کرنے میں آسانی ہو اور بوقت ضرورت اپنی جنگ اس کے کندھوں پر بندوق رکھ کر لڑسکے چونکہ غریب محنت کش آج بھی یہ حقیقت جاننے سے قاصر ہے لہٰذا وہ عوام کو اچھے اور برے اور نیک و بد کی عینک سے ماپتاہے اور جب ایک شخص انسانوں کو اس نقطہ نظر سے دیکھتا اور تولتاہے تو اس کی نگاہوں سے طبقاتی تصور پس پشت چلا جاتا ہے۔

وہ اسے ہندو، یہودی، مسلم اور عیسائی میں تقسیم کرکے دیکھتا اور لڑتا بھی ہے اس لئے اس کے دل میں دیگر عقائد،مسالک اور مذاہب کے پیروکاروں کے لئے نفرت بھری ہوتی ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا ہے کہ اس کا استحصال کرنے والا ہی اسے غریب اور محتاج رکھتا ہے ۔

گو کہ یہ درست ہے کہ کبھی کبھار ایک قوم،ایک ملک،ایک علاقہ،ایک نسل،ایک زبان،ایک ثقافت،ایک تاریخی پس منظر، ایک مذہب اورایک عقیدے کے پیروکاروں سے مخصوص حالات اور یکساں مفادات اتحاد اور یکجہتی کا تقاضہ کرتے ہیں تاہم غریب غرباء کو ہر جد وجہد میں طبقاتی سوال کو سر فہرست رکھنا چاہئے پاکستان کی تخلیق کے دوران اس کی لیڈر شپ جاگیرداروں اور نوابوں کے ہاتھوں میں رہی اسی لئے بعدازاں تمام تر فوائد بھی ان کو ہی پہنچے۔

اور اگر آج بھی اس نے طبقاتی سوال کی افادیت کا دراک نہیں کیا تو اس کی محنت سے کھر درے ہاتھ اسی طرح خالی رہیں گے۔

One Comment

  1. Very good column.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *