شطرنج کے کھلاڑی

سبطِ حسن

(پریم چند کی ایک کہانی سے ماخوذ)

بہت سال پہلے کی بات ہے، ہمارے علاقے پر بادشاہ حکومت کیا کرتے تھے۔ بادشاہوں کے ساتھی چند سو لو گ تھے۔ بادشاہ اور اس کے ساتھی مل کر لوگوں پر حکومت کیا کرتے تھے۔ یہ لوگ مل کر لوگوں کو ڈراتے تھے اور انھیں تکلیف میں دو چار کرنے کی طاقت بھی رکھتے تھے۔ حکومت کرنے کا مطلب یہ تھا کہ کسان جو کچھ بھی پیدا کریں، اس کا سب سے اچھا حصہ اپنے قبضے میں کر لیا جائے۔ کسانوں کے پاس اناج کا وہ حصہ رہ جاتا جو سب سے معمولی ہوتا تھا۔ کسان اس لیے اپنی محنت کی کمائی بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کو دے دیتے تھے کیونکہ وہ ان کی تکلیف دینے کی طاقت سے ڈرتے تھے۔
بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کے درمیان رشتہ ڈاکوؤں کا تھا۔ ڈاکو مل کر لوٹتے ہیں اور مال بانٹتے وقت ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اور اچھا مال حاصل کرلیں۔ اس طرح وہ ساتھی ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے دشمن رہتے ہیں۔ بادشاہ اور اس کے ساتھیوں نے جب بھی موقع ملا، ایک دوسرے کو اپنے فائدے کے لیے قتل کر دیا یا پھر اپنی الگ حکومت بنالی۔ ہمارے علاقے پر جب بادشاہوں کی حکومتیں کمزور ہو گئیں تو انھی کے ساتھیوں نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنی الگ حکومتیں بنا لیں۔ بادشاہ اور اس کے ساتھی مل کر ایک بڑے علاقے پر حکومت کر یں یا پھر یہ حکومت ٹوٹ کر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ جائے، دونوں صورتوں میں کسانوں کی حالت میں کوئی فرق نہ پڑتا۔ کسانوں کی محنت سے کمائی دولت، ان کے حکمرانوں کے لیے مفت مال سے زیادہ نہ تھی۔ وہ اسے لوٹے ہوئے مال کی طرح خرچ کرتے۔ اپنی زندگی میں لذیذ کھانوں، شاندار محلوں، آسائشوں اور مرنے کے بعد شاندار مقبروں میں پڑے رہنے کا بندوبست کرتے۔
ہمارے علاقے میں پہلے مغل بادشاہ حکومت کرتے تھے۔ جب وہ کمزور ہو چلے تو انھی کے ساتھیوں نے الگ الگ ریاستیں بنا لیں۔ ایسی ہی ایک ریاست لکھنؤ(بھارت) میں قائم ہوئی۔ اس علاقے کی زمین زرخیز تھی، اس لیے کسان بے شمار دولت پیدا کرتے۔۔۔ اور اس ریاست کے حکمران اور ان کے ساتھی مل کر خوب عیاشیاں کرتے۔
یہ اس دور کی کہانی ہے جب ہمارے علاقے پر انگریزوں نے، ایک ایک کرکے ان چھوٹی بڑی ریاستوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ لکھنؤ میں نواب واجد علی شاہ کی حکومت تھی۔ دولت بے شمار تھی اور حکومت میں شامل امرا اور حکومتی ملازموں کو ان کے حصے کے حساب سے دولت مل جاتی تھی۔ چونکہ مال مفت تھا، اس لیے اسے لٹادیا جاتا۔ ہر امیر کو بس اس سے غرض تھی کہ وہ اپنے آپ کو خوش کس طرح رکھ سکتا تھا۔ کسی کو اپنے ارد گرد بسے لوگوں کا خیال کرنا تو دور کی بات اپنے بچوں کی زندگیوں سے بھی کوئی سروکار نہ تھا۔ ذاتی ہوس کا مطلب یہ تھا کہ وہ سب کام کر لیے جائیں جن سے جسم کی بھوک ختم ہو۔ اعلیٰ سے اعلیٰ لذیذ کھانوں کا بندوبست کرنا، انھیں ہضم کر نے کے لیے حکیموں سے اچھے اچھے نسخے بنوانا، طوائفوں کے پیچھے رہنا اور ان کے پاس بیٹھ کر خوش ہونا۔ ایسے مشروبات پینا جن سے ہوش نہ رہے۔ تیتر بازی، کبوتر بازی، مرغوں کو لڑانا اور کشتیاں کروانا، ان امیروں کے پسندیدہ کام تھے۔ یہ سب کام اس وقت اپنی پکڑ مضبوط کرتے ہیں جب مفت مال و افر طور پر مل رہا ہو اور خود محنت کر کے کمانے کی عادت اور خواہش نہ ہو۔
اس دور میں لکھنؤ شہر میں دو دوست رہا کرتے تھے۔ ایک کا نام مرزا سجاد علی اور دوسرے کا نام میر روشن علی تھا۔ ان دونوں کو شطرنج کھیلنے کا جنون تھا اور ان دونوں کا خیال تھا کہ شطرنج کھیلنے سے عقل تیز ہو جاتی ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ ان دونوں کے پاس بہت سی زمینیں تھیں جو ان کے باپ دادا کو بادشاہوں نے دی تھیں۔ ان کے باپ دادا دراصل بادشاہ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ ان کا کام جاگیروں پر کام کرنے والے کسانوں سے اناج لے کر بادشاہ کو دینا تھا۔ وہ کافی حصہ خود رکھ لیتے تھے۔ یہ لوگ دراصل کسانوں کو دبا کر رکھنے اور ان کو لوٹنے میں بادشاہ کے ساتھی تھے۔ جو لوگ کسانوں کو لوٹنے اور ان کو دبا کر رکھنے کے ہنر میں ’قابلیت‘ رکھتے تھے، ان کی جاگیریں ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتی رہتی تھیں۔
مرزا اور میر کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ انھیں سال بھر کی عیاشیوں اور کھانے پینے کے لیے کافی دولت مل جاتی تھی۔ اب مسئلہ دن گزارنے کا تھا۔ یہ دونوں ناشتہ کرنے کے بعد شطرنج کھول کر بیٹھ جاتے اور پھر انھیں کچھ خبر نہ رہتی کہ کب دوپہر ہوئی اور کب شام۔۔۔ بار بار گھر سے آدمی آ کر کہتا، ’’حضور ، کھانا تیار ہے۔۔۔‘‘ دونوں شطرنج کی چالوں میں گم سم، توجہ دیے بغیر کہتے: ’’چلو آتے ہیں، تم دستر خوان بچھاؤ۔۔۔ بس ابھی۔۔۔‘‘ کھانے پڑے رہتے۔ دونوں دوستوں کو کچھ بھی یاد نہ رہتا۔
شطرنج کی بازی زیادہ تر مرزا سجاد علی کے ہاں ہوتی تھی۔ یہ نہیں کہ مرزا کے گھر والے اس کھیل سے خوش تھے۔ گھر کی عورتوں اور ملازموں کی مشترکہ رائے تھی کہ شطرنج ایک منحوس کھیل ہے۔یہ گھر کو تباہ کر کے چھوڑتا ہے۔ خدا نہ کرے، کسی کو اس کا نشہ لگے۔ آدمی نہ دین کا رہتا ہے اور نہ دنیا کا۔ بس اسے دھوبی کا کتا ہی سمجھو، گھر کا نہ گھاٹ کا۔ سخت موذی مرض ہے۔ مرزا کی بیگم شطرنج کے خلاف اس احتجاج میں سب سے پیش پیش رہتیں۔ ان کی مرزا سے ملاقات ،ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی کبھی کبھار ہی ہوتی تھی۔ جب بیگم صاحبہ گہری نیند سوئی ہوتیں تو مرزا گھر آتے۔ مرزاصبح کو اٹھتے اور بیگم کے اٹھنے سے پہلے ہی باہر دیوان خانے میں چلے آتے۔ وہاں ان کے آنے سے پہلے ہی میر صاحب تشریف فرما ہوتے۔ شطرنج کھولے، مہروں کو اِدھر اُدھر اٹھا کر مختلف چالوں کا جائزہ لے رہے ہوتے۔ بیگم سے ملاقات کی صرف ایک صورت تھی اور وہ یہ کہ مرزا دوپہر کے کھانے کے لیے گھر چلے آتے۔ مگر ایسا کبھی ممکن نہ ہو سکا۔ بیگم پیغام بھجواتیں، مرزا کے آنے کا انتظار کرتیں اور جب بار بار پیغام بھجوانے پر بھی مرزا نہ آتے تو بیگم اپنا سارا غصہ نوکروں پر نکال دیتیں۔
’’
جاؤ، سارا کھانا ان کے سر پر تھپک دو۔۔۔ خود کھائیں یا کتوں کو کھلا دیں۔۔۔ یہاں ان کے انتظار میں کون بیٹھا رہے۔۔۔ حد ہوتی ہے۔۔۔ یہ میر۔۔۔ اس نے سارے لکھنؤ کو بگاڑ رکھا ہے۔۔۔‘‘
ایک دن بیگم صاحبہ کے سر میں درد ہونے لگا۔ ملازمہ نے کہا کہ جاؤ اور مرزا جی سے کہو کہ وہ حکیم جی کو بلادیں۔۔۔ ملازمہ فوراً دیوان خانے میں گئی اور سارا پیغام سنا دیا۔ مرزا صاحب کہنے لگے
’’
چلو ، ہم ابھی آتے ہیں۔۔۔‘‘
ملازمہ نے مرزا کا جواب بیگم صاحبہ کو دے دیا۔
’’
اری، مرزا سے کہو، ہم سر کے درد سے مر رہے ہیں۔۔۔ جلدی کریں نہیں تو ہم خود حکیم صاحب کے پاس چلے جائیں گے۔۔۔ ہمیں حکیم صاحب کی دکان کا راستہ معلوم ہے۔۔۔ پھر کہیں گے اتنے بڑے نواب کی بیگم خود سے گھر سے باہر چلی گئی۔۔۔‘‘
ملازمہ نے مرزا کو بیگم کا پیغام دیا تو کہنے لگے:
’’
ارے کیا ہوگیا۔۔۔ سر میں درد ہی تو ہے۔۔۔ جان تو نہیں نکل رہی۔۔۔ابھی ایک دو چالوں میں مات ہونے والی ہے۔۔۔ ذرا صبر بھی تو کریں۔ حکیم صاحب ، کیا جادوگر ہیں جو چھومنتر کر دیں گے۔۔۔‘‘
میر صاحب خاموشی سے ملازمہ کے بار بار آنے جانے اور پیغام رسانی کے سلسلے کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس پیغام رسانی میں مرزا کی توجہ شطرنج کی چالوں پر نہ رہے گی اور وہ اچانک مات کر دیں گے۔ مگر ایسے ہی کہنے کی غرض سے کہنے لگے:
’’
ارے مرزا صاحب، ذرا اندر ہو ہی آئیے۔ لگتا ہے ، بیگم صاحبہ سخت تکلیف میں ہیں۔‘‘
’’
جی ہاں، آپ بھی اپنی تاک میں ہیں، کیوں چلا جاؤں۔۔۔ ابھی دو چالوں میں آپ کو مات ہونے والی ہے۔۔۔‘‘ مرزا نے کہا۔
’’
ارے، شطرنج کی بات نہ کریں۔۔۔ وہ ظالم چال سوچی ہے کہ آپ کے مہرے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔۔۔چلے جائیے، گھر سے ہو آئیں، کیوں معمولی سی بات پر بیگم صاحبہ کا دل دکھا رہے ہیں۔۔۔‘‘
’’
یار، تم چھوڑو، یہ سب۔۔۔ کوئی درد ورد نہیں بس ہمیں پریشان کرنے کا حیلہ کر رہی ہیں۔۔۔!‘‘
’’
تم چال چلو۔۔۔‘‘
’’
نہیں، ہم نہیں کھیلیں گے۔۔۔ آپ پہلے جا کر بات تو سن آئیے۔۔۔‘‘
’’
ارے یار، حکیم کے ہاں جانا پڑے گا۔۔۔ وہ مؤا، شہر کے اس طرف رہتا ہے۔۔۔‘‘
’’
کچھ بھی ہو، بیگم صاحبہ کی خاطر یہ سب کرنا تو ہو گا۔۔۔‘‘
’’
ہرگز نہیں، میں آپ کو مہروں کو چھونے بھی نہ دوں گا۔‘‘
آخر مجبوری میں مرزا صاحب گھر کے اندر چلے جاتے ہیں۔ بیگم ایک تخت پر لیٹی ہوئی کراہ رہی تھیں۔ مرزا کو دیکھتے ہی ، ان پر برس پڑیں: ’’چاہے کوئی مر جائے ،آپ کو تو اس منحوس کھیل سے غرض ہے۔۔۔یہ تو میری سوکن بن گیا ہے۔۔۔ میرا تو آپ کو کوئی خیال ہی نہیں۔۔۔ کیا جیتی ہوں یا مر رہی ہوں۔۔۔ کئی ہفتے گزر گئے، آپ کا چہرہ تک نہیں دیکھا۔۔۔‘‘
’’
کیا کروں۔۔۔میر صاحب مانتے ہی نہ تھے، بڑی مشکل سے جان چھڑا کر آیا ہوں۔۔۔‘‘
’’
خود کسی کا خیال نہیں۔۔۔ بیوی کو چھوڑ چھاڑ یہاں آدھمکتے ہیں۔۔۔ آپ کا تو گھر ہے۔۔۔‘‘
’’
۔۔۔ کیا کہوں بیگم، میر صاحب کو تو جیسے لت ہے۔ جب آکر سر پر سوار ہو جائیں تو مجبوراً کھیلنا ہی پڑتا ہے۔۔۔‘‘
’’
ارے دھتکار کیوں نہیں دیتے، کتے کی طرح۔۔۔ آخر میرا بھی تو آپ سے کوئی رشتہ ہے۔۔۔ کہ نہیں۔۔۔ سارا دن ساری رات اکیلی پڑی رہتی ہوں۔۔۔‘‘
’’
کیا بات کر رہی ہو۔۔۔ میر صاحب مجھ سے عمر میں بڑے ہیں، رتبے میں بھی کم نہیں۔۔۔ آخر دین دنیا کا لحاظ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔۔۔‘‘
’’
ساری مصیبتیں صرف میرے لیے ہی ٹھہریں۔۔۔‘‘
بیگم صاحبہ خوب غصے میں ملازمہ سے کہتی ہیں:
’’
۔۔۔ جاؤ اور شطرنج اٹھا لاؤ۔۔۔ میر صاحب سے کہہ دینا، مرزا اب نہیں کھیلیں گے۔ ان سے یہ بھی کہو کہ اب تشریف لے جائیں۔۔۔ اور پھر کبھی نہ منہ دکھائیں۔۔۔‘‘
یہ سن کر مرزا صاحب تو جیسے بوکھلا سے گئے۔ کہنے لگے:
’’
اری بیگم ایسا غضب نہ کرنا۔۔۔ ذلیل ہو جائیں گے، سارے جگ میں۔۔۔‘‘
یہ سب دیکھ سن کر ملازمہ تو ایک طرف چپکے سے کھڑی رہی، مگر بیگم صاحبہ کا غصہ کہاں کم ہونے والا تھا۔ کہنے لگیں:
’’
ٹھیک ہے، تم ملازمہ کو تو روک سکتے ہو۔۔۔ میں خود جاتی ہوں۔۔۔ مجھے روک کر دکھاؤ۔۔۔‘‘
مرزا صاحب کا چہرہ فق ہو گیا۔ ہوائیاں اڑنے لگیں۔ بیوی کی منتیں کرنے لگے۔ اسے واسطے دے کر منانے لگے:
’’
خدا کے لیے بیگم، تمھیں کربلا کے شہیدوں کا واسطہ، تم اگر ایسا کرو تو بس میری میّت دیکھو۔۔۔‘‘
بیگم طیش میں دیوان خانے کی طرف لپکی مگر یہ سوچ کر کہ اس کے سر پر دوپٹہ بھی نہیں، پاؤں روک لیے۔ اس وقت میر صاحب بھی دیوان خانے میں نہ تھے۔ انھوں نے اپنی مرضی سے کچھ مہرے اپنی جگہوں سے بدل دیے تھے۔ یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ انھوں نے کچھ بھی نہیں کیا، دیوان خانے کے ساتھ کھلے صحن میں چہل قدمی میں مصروف تھے۔ بیگم صاحبہ کے رکتے پاؤں پھر جوش میں آئے۔ انھوں نے جب میر صاحب کو صحن میں چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھا تو لپک کر دیوان خانے میں آئیں اور ایک ہاتھ مار کر شطرنج کو الٹ دیا۔ سب مہرے اِدھر اُدھر بکھر گئے۔ واپس لوٹیں اور پورے زور سے دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی۔ میر صاحب نے بیگم صاحبہ کو شطرنج کے مہروں کو پھینکتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ فوراً ساری بات سمجھ گئے۔ چہل قدمی کرتے ہوئے مرزا صاحب کے گھر سے نکلے اور چپکے سے گھر کی راہ لی۔
گھر کے اندر بیگم صاحبہ اور مرزا کے درمیان گرما گرم بحث جاری رہی۔ مرزا کہنے لگے:
’’
اری بیگم، تم نے یہ کیا غضب کر دیا۔۔۔ اب میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گا۔۔۔؟‘‘
’’
اب یہ مؤا میر کا بچہ ادھر آیا تو کھڑے کھڑے نکال دوں گی۔۔۔ ارے اتنی لَو خدا سے لگا دیتے تو کب کے ولی ہو جاتے۔۔۔ آپ لوگ سارا دن شطرنج کھیلیں اور میں قسمت کی جلی سارا دن ادھر جلتی رہوں۔۔۔ لونڈی سمجھ رکھا ہے کیا۔۔۔ ابھی حکیم صاحب کے پاس چلتے ہو یا نہیں۔۔۔‘‘
مرزا صاحب گھر سے نکلے۔ جانا تو انھیں حکیم کے پاس تھا مگر سیدھے میر صاحب کے گھر پہنچے۔ لمبی لمبی معذرت کی۔ پھر درد سے بھرا قصہ سنایا۔ میر صاحب نے بات ہنسی میں ٹال دی۔ کہنے لگے:
’’
۔۔۔ میں اسی وقت سمجھ گیا تھا جب ملازمہ حکیم صاحب کو بلوانے کا پیغام لائی تھی۔۔۔ مجھے اندازہ تھا کہ آج معاملہ کچھ ایسا اچھا نہیں۔۔۔ بیگم صاحبہ غصے میں معلوم ہوتی ہیں۔۔۔ مگر وہ تو زیادہ ہی بگڑ گئیں۔۔۔ مرزا صاحب آپ نے انھیں بہت سر پر چڑھا رکھا ہے۔۔۔ انھیں اس سے غرض نہیں ہونی چاہیے کہ آپ گھر سے باہر ۔۔۔ ارے دیوان خانے میں ہی تو رہتے ہیں آپ۔۔۔ کیا کرتے ہیں۔۔۔ان کا کام گھر کو سنبھالنا ہے۔۔۔مردوں کی باتوں میں خواہ مخواہ کی دخل اندازی مجھے تو ٹھیک نہیں لگی۔۔۔ میرے ہاں دیکھیے، مجال ہے کہ کسی کو چُوں کرنے کی اجازت ہو۔۔۔ گلا دبا دوں گا۔۔۔‘‘
’’
خیر، جو ہوا اس پر کیا کرنا ہے۔۔۔ یہ بتائیے، اب کہاں شطرنج جمے گی۔۔۔‘‘
’’
جگہ کا کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔ اتنا بڑا گھر پڑا ہے، یہاں بیٹھ جائیں گے۔۔۔‘‘
’’
۔۔۔ وہ بات تو ٹھیک ہے، مگر بیگم کو کیسے مناؤں گا۔۔۔ جب دیوان خانے میں بیٹھتا تھا تو ایسی ناراض ہوئیں، اب گھر سے باہر کہیں بیٹھنے لگا تو پھر تو شاید زندہ ہی نہ چھوڑیں۔۔۔‘‘
’’
ارے ، مرزا صاحب، آپ بھی تو بس، کیسی باتیں کررہے ہیں۔۔۔انھیں بولنے دیں۔۔۔ دو چار دن میں خود بخود سیدھی ہو جائیں گی۔۔۔ آپ ذرا مرد والی آنکھ تو دکھائیں۔۔۔‘‘
2
میر صاحب جب تک گھر سے باہر شطرنج کھیلتے رہے، ان کی بیگم کوان سے کوئی شکوہ نہ تھا۔ بس کبھی کبھار جب بہت دیر سے گھر آتے تو ہلکی پھلکی پوچھ گچھ کر لیتیں۔ اس صورت حال میں میر صاحب اپنی بیگم کو بہت اچھا اور دوسروں کے لیے مثال سمجھتے تھے۔ جب سے شطرنج کا کھیل ان کے دیوان خانے میں شروع ہوا، یہ صورت حال یکسر بدل گئی۔ میر صاحب کی بیگم اڑوس پڑوس میں جھانکنے کی دلدادہ تھیں۔ جب سارا دن میر صاحب ان کے سر پر سوار رہنے لگے تو انھیں اپنی آزادیاں کم کیا ختم ہوتی محسوس ہونے لگیں۔ اس پر مصیبت یہ کہ ہر پل دیوان خانے سے فرمائشیں آنا شروع ہوگئیں۔۔۔ کبھی پانی مانگا جارہا ہے، کبھی تمباکو یا پان کا تقاضا اور کبھی کھانے میں فلاں چیز پکا دیں۔۔۔ پہلے تو بیگم صاحبہ اپنی مرضی کی مالک تھیں۔ دن میں چار پانچ دفعہ بازار کا چکر لگانا تو معمولی بات تھی۔ اب جب سے شطرنج کا کھیل، گھر میں شروع ہوا، سارا دن گھر پر پڑی اکتاسی گئیں۔ محلے والے الگ سے شکایت کرنے لگے۔ سب شطرنج کے کھیل کو نحوست مانتے تھے۔ یہ کیسا کھیل ہے کہ صبح سے بیٹھو اور شام تک یہ ختم ہی نہیں ہوتا۔
انھی دنوں لکھنؤ کے ہر شخص کو یہ فکر تھی کہ انگریزوں کا لکھنؤ کے نوابوں پر قرضہ بڑھتا جا رہا ہے۔ کسانوں نے کھیتی کا کام چھوڑ، چوری ڈکیتی شروع کر دی تھی۔ جو رہ گئے تھے وہ اس قدر بُرے حالات میں تھے کہ ان سے کھیتی باڑی کا کام نہیں ہو رہا تھا۔ نوابوں کی آمدنی کم سے کم ہونے لگی۔ وہ اپنی عیاشیوں میں کمی لانے کی بجائے انگریزوں سے قرضے پر قرضے لیتے گئے۔ انگریزوں نے نواب کو کئی دفعہ خطوں کے ذریعے قرضوں کی ادائیگی کا تقاضا کیا۔ کچھ نوابوں کو فکر ہوئی تو مگر ان کے ساتھی ان باتوں پر دھیان دینے کی بجائے اپنے مشغلوں میں مصروف تھے۔ مرزا اور میر بھی انھی میں سے تھے۔
میر صاحب کے دیوان خانے میں شطرنج کئی ماہ تک جاری رہی۔ کئی باتیں ہوئیں۔ شطرنج کے کئی بادشاہ جیتے اور کئی مارے گئے۔ کھیلنے کے دوران کئی دفعہ جھڑپیں ہوئیں، تُوتُو میں میں تک نوبت آجاتی۔ مگر یہ سب باتیں جلد ہی بھلا دی جاتیں۔
ایک دن دونوں دوست بیٹھے شطرنج کے بادشاہوں کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ ملازم ہانپتا ہوا دیوان خانے میں داخل ہوا اور میر صاحب سے کہنے لگا:
’’
حضور، نواب صاحب واجد علی شاہ کے محل سے ایک گھڑ سوار دروازے پر کھڑا ہے اور آپ کا پوچھ رہا ہے۔۔۔‘‘
میر صاحب نے یہ بات سنی۔ ان کے ہوش اڑ گئے اور تھرتھر کانپنے لگے۔ سوچا نجانے کونسی بلا سر پر آگئی ہے۔ فوراً گھر کے دروازے بندکر لیے اور ملازم سے کہا کہ جا کر شاہی سوار سے کہہ دو کہ وہ گھر پر نہیں ہیں۔
ملازم نے شاہی سوار سے وہی کہا جو میر صاحب نے کہنے کا حکم دیا تھا۔ سوار پوچھنے لگا:
’’
میاں میر صاحب گھر پر نہیں توپھر کہاں ہیں۔۔۔؟ سنا تھا سارا دن شطرنج کھیلتے ہیں۔۔۔ چلو، کہیں چھپے بیٹھے ہوں گے۔۔۔‘‘
’’
مجھے اس بات کا کچھ علم نہیں۔۔۔ گھر سے جو پیغام ملا، آپ سے کہہ دیا۔۔۔ کام کیا ہے۔۔۔؟‘‘
’’
کام کا تجھے کیا بتاؤں۔۔۔؟ نواب صاحب نے طلب کیا ہے۔۔۔ شاید فوج کے لیے سپاہی درکار ہیں۔ آخر میر صاحب بھی تو نواب صاحب کی دی ہوئی زمینوں پر عیاشیاں کرتے ہیں۔۔۔مذاق تو نہیں۔۔۔‘‘
’’
ٹھیک ہے، میں آپ کا پیغام میر صاحب تک پہنچا دوں گا۔۔۔ آپ بے شک تشریف لے جائیے۔۔۔‘‘
’’
میاں، کہنے سننے کی بات نہیں۔۔۔ میں کل پھر آؤں گا۔۔۔ تلاش کر کے ساتھ لے جاؤں گا۔۔۔ نواب صاحب نے ساتھ لانے کا حکم دیا ہے۔۔۔‘‘
شاہی سوار تو رخصت ہو گیا مگر میر صاحب کی جان اٹک گئی۔ ہکلاتے ہوئے مرزا صاحب سے کہنے لگے:
’’
۔۔۔اب کیا ہو گا۔۔۔؟‘‘
’’
مجھے تو لگتا ہے کہ میری بھی طلبی ہو گی۔۔۔‘‘
’’
کم بخت، کل پھر سے نہ آجائے۔۔۔‘‘
’’
قہر کی بات ہے، سپاہی چاہییں تو ہم کیا کریں۔۔۔ لڑائی کا تو نام سن کر گھٹنوں سے جان نکل جاتی ہے۔۔۔‘‘
’’
مجھے تو لگتا ہے کہ اب یہاں پر بیٹھنا تو گیا۔۔۔‘‘
’’
بہتر بھی یہی ہے کہ اس سوار سے ملتے ہی نہیں۔۔۔‘‘
’’
سارا شہر ڈھونڈلے۔۔۔ ہم کل سے دریا کے پار کسی ویرانے میں جا بیٹھتے ہیں۔۔۔ وہاں کسے خبر ہو گی۔‘‘
’’
واہ واہ، آپ کو کیسی عمدہ بات سوجھی۔۔۔ٹھیک ہے کل سے دریا پار جا کر بیٹھیں گے۔۔۔‘‘

3
اس دن کے بعد دونوں دوست منہ اندھیرے گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ بغل میں چھوٹی سی دری دبائے۔ ڈبے میں پان رکھے، دریا کے اس پار پرانی ویران مسجد کے چبوترے پر جا بیٹھتے۔ یہ مسجد، پرانے زمانے کے کسی بادشاہ نے بنوائی تھی۔ راستے میں حقے کے لیے تمباکو لیتے اور مسجد میں پہنچ، دری بچھا، شطرنج کا کھیل شروع ہو جاتا۔ شطرنج کے سپاہی اور دوسرے مہرے اپنے بادشاہ کو بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہو جاتے۔ بادشاہوں کو مارنے یا بچانے کا یہ سلسلہ رات تک جاری رہتا۔ دونوں دوست مکمل طور پر شطرنج کے کھیل میں غرق ہو جاتے۔ صرف اس وقت بھاگم بھاگ تھوڑی دیر کے لیے اٹھتے جب بھوک کے لالے پڑ جاتے۔
ادھر لکھنؤ کے نوابوں نے جب انگریز سے لیے گئے قرضے واپس نہ کیے تو انھوں نے لکھنؤ پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ انگریزوں کی فوجیں شہر کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ شہر میں جس نے بھی یہ خبر سنی، گھبرا گیا۔ لوگ خونریزی سے بچنے کے لیے اپنے بچوں کو ساتھ لیے، دیہات کی طر ف بھاگنے لگے۔ مرزا اور میر دونوں دوست اس صورت حال سے بے خبر اپنی شطرنج میں مست تھے۔ انھیں کسی دوسرے کے دکھ سے کوئی سروکار تھا اور نہ ہی اپنے غموں کا کوئی پاس لحا٭۔۔۔ محلے والوں کو ان کی صورتیں کبھی دکھائی ہی نہ دیتیں۔۔۔ آخر انگریزوں کی فوجیں شہر کے قریب پہنچ گئیں۔
ایک دن دونوں دوست شہر سے باہر بیٹھے شطرنج کی بازی لگا رہے تھے۔ میر صاحب کی بازی کچھ کمزور تھی۔ مرزا صاحب بار بار بادشاہ کو مات دینے کی اطلاع دے رہے تھے۔ میر صاحب نے نظر اٹھائی کہ شاید اچھی سی چال ذہن میں آجائے۔ کیا دیکھتے ہیں، شہر کی طرف جانے والی سڑک پر انگریزوں کی فوج چلی جا رہی ہے۔ میر صاحب نے سوچا کہ شاید انگریزوں نے شہر پر قبضہ کر لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ مرزا صاحب سے کہنے لگے:
’’
دیکھیے، آپ کے پیچھے انگریزی فوج شہر کی طرف کوچ کر رہی ہے۔‘‘
’’
چھوڑیے ان باتوں کو، آپ اپنا بادشاہ بچائیں۔۔۔‘‘ مرزا صاحب نے کہا۔
’’
ارے دیکھیے تو ،کیسے جوان ہیں، یہ بڑی بڑی چھاتیاں، دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔۔۔‘‘
میر صاحب نے پھر کہا۔
’’
کیا ہے؟ جاتے ہیں تو جانے دیجیے، آپ اپنے مہروں کی خبر لیں۔۔۔‘‘
’’
ارے توپ خانہ بھی ہے۔۔۔سپاہی کچھ نہیں تو پانچ ہزار سے کم نہیں لگتے۔۔۔ چہرے تو دیکھیں کیسے سرخ ہیں۔‘‘
’’
میر صاحب، آپ حیلے چھوڑیں، آپ خواہ مخواہ میری توجہ ان موئے فوجیوں کی طرف کر رہے ہیں۔۔۔‘‘
’’
آپ بھی عجیب آدمی ہیں، خیال تو کیجیے، فوجیوں نے جب شہر کا محاصرہ کر لیا تو ہم اپنے گھروں کو کیسے لوٹیں گے۔۔۔‘‘
’’
جب گھر لوٹنے کا وقت آئے گا تو کوئی سبیل نکال لیں گے۔۔۔ آپ اس وقت شطرنج پر میرے محاصرے سے نکلیں۔۔۔‘‘
اس دوران انگریزوں کی ساری فوج شہر کی طرف چلی گئی۔ دونوں دوستوں کو بازی ختم کرنے کے بعد کچھ کھانے کا خیال آیا۔ مرزا صاحب کہنے لگے:
’’
میر صاحب، آپ دوسری باری بچھا دیں۔۔۔ میں کھانے کے لیے کچھ کرتا ہوں۔۔۔‘‘
’’
آج کیا روزہ ہے۔۔۔ کھانے کو کچھ نہیں ملنے والا۔۔۔‘‘
’’
معلوم نہیں شہر میں کیا ہو رہا ہو گا۔۔۔؟‘‘
’’
شہر میں کچھ نہ ہو رہا ہو گا۔۔۔ لوگ کھانے سے فارغ ہو کر قیلولہ کر رہے ہوں گے۔۔۔‘‘
’’
۔۔۔اور نواب صاحب حضور، شاید آرام فرما رہے ہوں گے یا پھر شراب کا شوق فرما رہے ہوں۔۔۔‘‘
شطرنج کی بازی چلتی رہی۔ سہ پہر تک لکھنؤ کے نواب کی حکومت ختم کر دی گئی۔ فوج ان کو گرفتار کرکے واپس جاتی نظر آئی۔ انگریزوں کی فوج اس طرح شہر میں گئی جیسے دولہا کی بارات جاتی ہے۔ کسی نے ان کا راستہ نہ روکا۔ نواب صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔۔۔ جیسے دلہن کو سسرال لے جاتے ہیں۔ صرف بیگمات روئیں، ملازم روئے اور نواب روئے۔ کسی حکمران کی معزولی اس طرح نہ ہوئی تھی۔ سارے لکھنؤ نے اپنے حاکم کو قید ہو کر انگریزوں کے ساتھ جاتا دیکھا۔ کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ سب عیش کی نیند میں مست تھے۔ مرزا صاحب نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا۔ کہنے لگے:
’’
حضور عالی کو ظالموں نے قید کر لیا ہے۔۔۔‘‘
’’
آپ کوئی منصف یا قاضی ہیں؟ یہ لیجیے شہ!‘‘
’’
میر صاحب، کچھ دیر ٹھہریے، اس وقت دھیان شطرنج کی بازی کی طرف نہیں رہا۔۔۔ حضور عالی خون کے آنسو رو رہے ہوں گے۔۔۔ آج لکھنؤ ختم ہو گیا۔۔۔‘‘
’’
انھیں رونا ہی ہوگا۔۔۔ یہ عیاشیاں اب انگریزوں کی قید میں کہاں ملیں گی۔۔۔ آپ اپنے بادشاہ کی فکر کریں۔۔۔‘‘
’’
وقت ایک سا تو نہیں رہتا۔۔۔ مصیبت آتی ہے تو پتا ہی نہیں چلتا۔۔۔‘‘
’’
۔۔۔ یہ لیجیے ، اب ایک اور چال میں آپ کی مات پکی ہے۔۔۔‘‘
’’
میر صاحب، آپ بڑے بے درد ہیں۔۔۔ ایسا حادثہ ہو گیا۔۔۔ لکھنؤ ویران ہو گیا اور آپ۔۔۔‘‘
لکھنؤ کے نواب کو قیدی بنائے، انگریزی فوج، دونوں دوستوں کی نظروں کے سامنے سے گزر گئی۔ نئی بازی بچھا دی گئی۔ مرزا صاحب کو اپنی مات کا بدلہ لینے کی فکر ہوئی۔ وہ سخت غصے میں تھے اور شکست کا انتقام لینا چاہتے تھے۔

4
شام ہو گئی۔ مسجد کے کھنڈر سے چمگادڑیں نکل کر ہوا میں اڑنے لگیں۔ روشنی کم ہوئی اور پھر اندھیرا چھانے لگا مگر دونوں کھلاڑی بدستور شطرنج کے کھیل میں الجھے ہوئے تھے۔ مرز اصاحب کو متواتر تین ماتیں ہو چکی تھیں۔ وہ سخت غصے اور طیش میں کھیل رہے تھے۔ میر صاحب بھی فتح مندی کے نشے میں اترا رہے تھے۔ شطرنج کا کھیل کیا تھا، دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے تھے۔
اُس وقت جو بازی چل رہی تھی، اس میں بھی مرزا صاحب کی حالت ایسی اچھی نہ تھی۔ وہ خوب سنبھل سنبھل کر چالیں چلتے مگر کہیں ایک چال خراب ہوجاتی اور ساری بازی بگڑ جاتی۔ میر صاحب، مرزا صاحب کو چڑانے کے لیے غزلیں پڑھتے، گیت گانا شروع کر دیتے، چھیڑ خانی کرتے، آوازے کستے اور مذاق اڑاتے۔ وہ ایسے خوش تھے کہ جیسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔ مرزا صاحب مسلسل جھنجھلارہے تھے۔ بار بار تیوری چڑھا کر کہتے:
’’
جانے بھی دیں، میر صاحب، آپ چال تبدیل کر لیتے ہیں۔ ادھر چال چلی اور فوراً ہی اسے بدل ڈالا۔ جو کرنا ہے صرف ایک چال میں کریں۔۔۔ مہرے سے انگلی ہی نہیں ہٹاتے۔‘‘
’’
میں نے تو ابھی تک چال ہی نہیں چلی۔۔۔ آپ خواہ مخواہ خفا ہو رہے ہیں۔۔۔‘‘
’’
آپ کی چال ہو چکی، اب آپ مہرہ اسی گھر میں رہنے دیجیے۔۔۔‘‘
’’
اسی گھر میں کیوں رکھوں؟ میں نے تو ابھی تک مہرے کو چھؤا تک نہیں۔۔۔‘‘
’’
آپ قیامت تک مہرے سے چپکے رہیں۔۔۔ تو اس میں میری کیا غلطی ہے۔۔۔؟‘‘
’’
اب مات ہوتے دیکھ رہے ہیں تو دھاندلی شروع کر دی۔۔۔‘‘
’’
مات تو آپ کی ٹھہر گئی ہے۔۔۔‘‘
’’
میری مات کیوں ہونے لگی۔۔۔‘‘
’’
تو آپ مہرے اسی گھر میں رہنے دیں، جہاں پہلے پڑے تھے۔۔۔‘‘
’’
میں کیوں رکھوں۔۔۔؟ نہیں رکھتا۔۔۔‘‘
’’
آپ کو رکھنا پڑے گا۔۔۔‘‘
’’
ہرگز نہیں۔۔۔‘‘
’’
آپ کے فرشتے بھی رکھیں گے۔۔۔ آپ نے اپنے آپ کو کیا سمجھ رکھا ہے۔۔۔‘‘
بات بڑھتے بڑھتے بدتمیزی کے علاقے میں داخل ہو گئی۔ دونوں دبنے والے نہ تھے۔ دونوں ایک دوسرے کو ذلیل کرنے پر اتر آئے۔ پہل مرزا صاحب نے کی:
’’
اگر خاندان میں کسی نے شطرنج کھیلا ہوتا تو آپ کو قاعدے کا پاس لحاظ ہوتا۔۔۔ ہمیشہ سرکنڈے چھیلتے رہے۔۔۔ جاگیر مل جانے سے کوئی رئیس نہیں ہو جاتا۔۔۔‘‘
اجی رہنے دیجیے، نواب غازی الدین کے ہاں باورچی کا کام تو آپ کے بڑے کرتے تھے۔ اسی کے طفیل جاگیر مل گئی اور بڑے رئیس بن بیٹھے۔۔۔‘‘
’’
کیوں اپنے بزرگوں کا منہ کالا کر رہے ہو۔۔۔ وہی باورچی رہے ہوں گے۔۔۔ ہمارے بزرگ تو نواب صاحب کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھتے تھے۔ ہم نوالہ ، ہم پیالہ تھے۔۔۔‘‘
’’
آپ تو بے حیا ٹھہرے، شرم کہاں سے آئے گی۔۔۔!‘‘
’’
میاں زبان سنبھالو، ورنہ بہت بُرا ہو گا۔۔۔ ہم ایسی باتیں سننے کے عادی نہیں۔۔۔‘‘
’’
۔۔۔ تو تم کیا کرلو گے۔۔۔؟ تلوار اٹھانا آپ کے بس میں نہیں۔‘‘
’’
تم سے میں نہیں دبتا۔۔۔!‘‘
دونوں دوستوں نے کمر سے تلواریں نکال لیں۔ (اس زمانے میں تلوار کمر سے باندھ کر چلنے کا رواج تھا۔) دونوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔ دونوں زخم کھا کر گر پڑے۔ دونوں وہیں تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ دونوں دوست، جن کی آنکھوں سے اپنے حکمران کے لیے ایک بوند آنسو نہ گرا تھا، دونوں نے شطرنج کے بادشاہ کے لیے اپنی گردنیں کٹا دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *