کیا دیوبند شہر کا نام تبدیل کر دیا جائے گا؟

انڈیا کی ریاست اترپردیش میں حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی برجیش سنگھ نے دیوبند شہر کا نام بدل کر دیوورند رکھنے کی تجویز دی ہے۔

بی جے پی کے ممبر اسمبلی کی یہ تجویز ان کے انتخابی وعدوں میں سے ایک ہے۔ ایسی تجاویز کی ماضی میں مسلمان مخالفت کرتے آ رہے ہیں تاہم اس بار نام بدلنے کی تجویز بظاہر زیادہ سنجیدہ لگتی ہے۔

دیوبند کا نام بدلنے کا معاملہ اور بھی سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ مسلمان برادری اسے انڈیا کی ثقافت میں مسلمانوں کی شراکت کو مٹانے کی کوشش سمجھ سکتے ہیں کیونکہ دیوبند کا نام لیتے ہی سب سے پہلے جو تصویر ذہن میں آتی ہے یا جو نام ذہن میں آتا ہے وہ ہے اسلامی ادارہ دارالعلوم۔

دیوبند شہر اور دارالعلوم کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ دونوں نام ایک ہی سانس میں لیے جاتے ہیں۔شہر کی پوری خوردہ معیشت کا انحصار دارالعلوم پر ہے جہاں دکانیں چلانے والے اکثر ہندو اور خریدار مسلمان ہوتے ہیں۔ اس میں دارالعلوم مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے پانچ ہزار طالب علم اور ان سے ملنے کے لیے آنے والے سینکڑوں رشتہ دار، مہمان اور اساتذہ شامل ہیں۔

دیوبند ریلوے سٹیشن سے باہر نکلتے ہی، آٹو رکشہ اور رکشہ والے دارالعلوم، دارالعلومکی فریاد لگا کر گاہکوں کو بلاتے ہیں۔دہلی سے 160 کلومیٹر دور دیوبند ایک پسماندہ شہر ہے۔ شہر کو مسلم شناخت دارالعلوم سے ہی ملی ہے جس پر یہاں کے بہت سارے ہندوؤں کو بھی فخر ہے۔

شہر کی پرانی عمارتوں کی جگہ نئی عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں لیکن یہاں کا مینا بازار ہو یا کوئی اور بازار یہ آپ کو 20ویں صدی میں واپس لے جاتا ہے۔

لیکن دیوبند شہر اور دارالعلوم ایک دوسرے میں سمٹے رہنے کے باوجود ایک دوسرے سے کافی مختلف نظر آتے ہیں۔ یہ دو مختلف دنیائیں ہیں جن کا ثقافتی ملاپ کے علاوہ سماجی ملاپ بھی نہیں ہے۔ہندو اور مسلم اپنے اپنے محلوں میں رہتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کی دوسری جگہوں کے مقابلے میں یہاں ہندو مسلم تعلقات بہتر ہیں۔

دیوبند کے دارالعلوم کا قیام 1866 میں ہوا تھا اور اس کا تعلق 1857 میں انگریزوں کے خلاف ہونے والی بغاوت سے بھی جڑا ہے۔

ہندوستان کی آزادی کی پہلی جنگ سمجھی جانے والی اس بغاوت کو مغل سلطنت کے زوال کی طرح سے دیکھا جاتا ہے۔ انگریز حکومت نے اس واقعہ کے بعد کئی مسلم اداروں کو بند کر دیا تھا اور سینکڑوں اسلامی علماء کرام کو یا تو پھانسی پر لٹکا دیا تھا یا جیل بھیج دیا تھا۔

زندہ بچ جانے اسلامی علماء کرام نے ایک ساتھ مل کر اس مدرسے کو 30 مئی 1866 میں قائم کیا گیا تھا۔

یہ وہ لوگ تھے جو ہندوستان کو انگریزوں کی ایسٹ انڈیا حکومت سے نجات دلانا چاہتے تھے اور ساتھ ہی ہندوستان میں اسلام کی تعلیم کو مٹنے سے بچانا چاہتے تھے۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں اس مدرسے کا کردار قابل ستائش رہا ہے۔ یہاں کے علماء نے پاکستان کے قیام کی سخت مخالفت کی تھی۔

آزادی کی لڑائی میں دارالعلوم کی قربانی کو تمام مانتے ہیں لیکن مدرسے کی شناخت اسلامی تعلیم سے ہوئی۔آج دارالعلوم کی جانب سے دیے گئے فتوے اور مذہبی مشورے کو انڈیا کے زیادہ تر مسلمان مانتے ہیں۔

مدرسے کے قیام کے وقت دیوبند ایک چھوٹا سا قصبہ تھا اور ان دنوں اس کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ ہے لیکن اس وقت یہ چند ہزار افراد پر مشتمل ایک قصبہ تھا۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مدرسے کے قیام کے لیے دیوبند کو ہی کیوں منتخب کیا گیا؟ کیا اس کی کوئی تاریخی اہمیت ہے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔دستاویزات میں جو باتیں درج ہیں وہ یہ کہ دیوبند کا نام دہلی سلطنت کے زمانے میں بھی لیا جاتا تھا۔

تو آخر اس کا نام دیوبند کیوں پڑا؟ اس کے نام سے منسلک جو دلائل ہیں وہ اس شہر کو مہابھارت کے زمانے سے جوڑتے ہیں۔

ایک دلیل یہ ہے کہ دیوبند نام دیوی ونسے بنا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ جگہ ون یعنی جنگلوں سے بھری تھی جہاں دیوی اور دیوتا رہتے تھے۔ اس لیے اسے ’دیوی ون‘ کہتے تھے.

دوسری دلیل یہ ہے کہ دیوبند کا پرانا نام دیوی ودنسے لیا گیا ہے کیونکہ یہاں درگا دیوی کی رہائش تھی جبکہ دیوورند دھام بھی اس کے پرانے ناموں میں سے ایک تھا۔

لیکن گذشتہ 150 سالوں سے دیوبند کا نام دارالعلوم سے لیا جاتا ہے۔ سّنی اسلام کے حنفی مسلک کے ماننے والے ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بڑی تعداد میں آباد ہیں جنھیں دیوبندیکہا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں مذہبی انتہاپسندوں یعنی دیو بندیوں نے ربوہ شہر( جس کی بنیادی احمدی فرقے نے رکھی تھی )کا نام تبدیل کرکے چناب نگر رکھا گیا ہے۔

BBC

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    دیوبند بھلا کونسا اسلامی یا صوفیانہ نام ہے یا کونسا دارالعلوم کے بانی علماء کا رکھا ہوا نام ہے جسے اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کی مخالفت مسلمانوں کی طرف سے ہو رہی ہے۔ شہر یا سڑک کا نام بدلنے سے نہ تو کسی کا مسلک تباہ ہو سکتا ہے اور نہ کوئی علمی یا اصلاحی تحریک ٹھپ ہوجا نے کا خطرہ ہے۔
    ربوہ کا معاملہ یکسر مختلف تھا۔ربوہ کا نام قرآن کریم کی ایک آیت سے لیا گیا تھا جس پر علماء اور پنجاب اسمبلی کے پارلیمنٹیرین کو شدید اعتراض تھا۔اگر میں “سہیل وڑائچ” ہوتا تو ضرور پوچھتا کہ ہندووں کو توکسی شہر کا نام اپنی مذہبی کتاب،مہابھارتہ وغیرہ میں درج نام کے مطابق رکھنے میں فخر وانبساط محسوس ہوتا ہے مگر علماء کرام کسی شہر کا نام قرآن کریم میں درج کسی نام کے مطابق رکھا دیکھ کر شدید صدمہ اور رنج و غم میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔”کیا یہ تضاد نہیں”؟ حالانکہ سابق ربوہ مٰیں تو مجلس تحفظ ختم نبوت کے بہت سے جید رہنما بھی مستقلاً قیام پذیر ہیں۔ لیکن میں یہ سوال نہیں پوچھوں گا۔دین بلکہ خدا کو بھی اپنا “رجسٹرڈ ٹریڈمارک” بنانے والوں نے تو ملائیشیا میں عیسائیوں پر لفظ “اللہ” استعمال کرنے پر پابندی لگادی ہوئی ہے۔حالانکہ قرآن کریم کے مطابق حضرت عیسٰٰی علیہ السلام نے خود کو “عبداللہ” کہہ کر متعارف کروایا تھا۔ان سے منسوب ہونے والے خدا کو اللہ کیوں نہیں کہہ سکتے جو رب العٰلمین ہے؟ چھوڑیں رہنے دیں میں یہ سوال بھی نہیں پوچھوں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *