رحمت العالمین کو زِحمت العالمین نہ بنائیے

آصف جاوید

پاکستان میں توہینِ مذہب اور توہینِ رسالت کی آڑ میں اظہارِ رائے کی پابندی، ریاست پاکستان کا بہت ہی پرانا اور آزمودہ حربہ ہے۔ ریاست اپنے آئین کے آرٹیکل 19 میں نمائشی طور پر اظہارِ رائے کی آزادی کی لولی لنگڑی ضمانت تو دیتی ہے ۔ مگر زمینی صورتحال بالکل بر عکس ہے۔ سوچ و فکر پر پابندی اور اظہارِ رائے کی آزادی نہ ہونے کی وجہ پاکستانی معاشرہ سماجی و ثفاقتی گھٹن کا شکار ہو کر رہِ گیا ہے۔

بیس کروڑ زندہ انسانوں کا ملک نفسیاتی عوارض کا شکار ہو کر مذہبی عقائد کا اسیر اور ایک غیر منطقی، غیر استدلالی ، غیر سائنسی سوچ و فکر رکھنے والے معاشرے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اب آلو اور بینگن پر اللہّ کانام تلاش کرنے والے سائنٹسٹ اور حضور نبی کریم کی نعلین کے عکسِ مبارک کےتعویز پہنے والے دانشور کہلاتے ہیں۔

اقوامِ متّحدہ کی جنرل اسمبلی نے 10 دسمبر 1948 کو انسانی حقوق کے عالمی چارٹرڈ کا اعلان اس یقین و اعتماد کے ساتھ کیا تھا کہ دنیا بھر میں موجود اس کے تمام ممبر ممالک اپنے اپنے آئین و قوانین، انسانی حقوق کے عالمگیر چارٹرڈ کی روح سے ہم آہنگ کریں گے۔ مغربی ممالک نے دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں سے بہت بڑا سبق سیکھ لیا تھا، اور امر پر یقین کے ساتھ اپنے اپنے ممالک کی تعمیرِ نو شروع کی تھی کہ انسانی معاشرے کی ترقّی سے ملک ترقّی پاتا ہے۔

انسانی معاشرے سوچ و فکر پر پابندی اور اظہارِ رائے پر قدغن سے شاہ دولا کے چوہے اور کنویں کے مینڈک تو پیدا کر سکتے ہیں۔ مگر مارک زُکر برگ، بل گیٹس اور اسٹیفن ہاکنگز پیدا نہیں کرسکتے۔ یہی وجہ کے کہ آج ستّر 70 سال گذرنے کے باوجود ہم سوائے ڈاکٹر عبدالسّلام کے عالمی سطح کا کوئی عظیم سائنسدان نہیں پیدا کرسکے۔

اوریا مقبول جان جیسے ہمارے دانشوروں کا تو یہ حال ہے کہ ہم توہینِ مذہب اور توہینِ ریاست کے لئے ایک ہی قانون اور ایک ہی سزا تجویز کرتے ہیں۔ چاہے ریاست کے ہاتھ بے گناہ بنگالیوں، مہاجروں اور بلوچوں کے خون سے ہی کیوں نہ رنگے ہوں۔ ان دانشوروں کے نزدیک ریاست کا تقدّس ، رسول مقبول کے تقدّس کے مساوی ہے۔ اور افواجِ پاکستان و خفیہ ادارے ، پیغمبروں کے تقدّس کے حامل ہیں۔

ہمارے حکمران اور ریاستی تھنک ٹینک کے دانشور یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انسانی حقوق سے لاپرواہی اور ان کی بے حرمتی سے اکثر ایسے افعال سرزرد ہوتے ہیں، جن سے انسانی ضمیر کو سخت صدمات پہنچتے ہیں۔ اور انسان ظلم و استبداد سے عاجز آکر بغاوت اور سرکشی اختیار کرلیتا ہے۔

اقوامِ متّحدہ کے عالمی منشور کے آرٹیکل نمبر 18 میں واضح طور پر اس حق کی ضمانت دی گئی ہے کہ ہر انسان کو آزادیِ فکر، آزادی ضمیر اور آزادیِ مذہب حاصل ہے۔ اس حق میں مذہب یا عقیدے کو تبدیل کرنے ، اور پبلک میں یا نجی طور پر یا دوسروں کے ساتھ مل جل کر اپنے عقیدے کی تبلیغ، عمل، عبادت اور اس کا پرچار کرنے کی آزادی ہے۔

اقوامِ متّحدہ کے عالمی منشور کے آرٹیکل نمبر 19 میں واضح طور پر اس حق کی ضمانت دی گئی ہے کہ ہر انسان کو ملکی سرحدوں کا احترام کئے بغیر علم و خیالات کو تلاش کرنے، انہیں حاصل کرنے، اور ان کی تبلیغ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ ہر شخص کو آزادی حاصل ہے وہ اپنی آزاد رائے رکھ سکتا ہے، ، اور اس کا اظہارِ آزادی کے ساتھ کر سکتا ہے۔

پاکستان سے آنے والی خبروں کے مطابق ، جنوری کے آخری ہفتے میں رہا کئے جانے والے 5 سوشل میڈیا بلاگرز کی رہائی کے بعد یہ امید ہو چلی تھی کہ شاید ہماری ریاست کو احساس ہوگیا ہے کہ سوچ و فکر اور اظہارِ رائے کی آزادی اور توہینِ مذہب میں بڑا فرق ہوتاہے۔ مگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جناب شوکت صدّیقی کے سوموٹو ایکشن اور ریاستی دانشور جناب اوریا مقبول جان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے متحرّک ہونے کے بعد مورخہ 24 مارچ ،2017 کو مزید 24 سوشل میڈیا بلاگرز کو توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا، اور انکشاف کیا گیا کہ ان مشتبہ افراد میں ایک دیو بندی مولانا عبدالوحید کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جو کہ سوشل میڈیا پر ایاز نظامی کے فرضی نام سے الحاد کی تبلیغ اور توہین مذہب میں ملوّث تھا۔

میں ایک آزاد فکر، خرد مند اور ریشنلسٹ شخص ہوں۔ مجھے مذہب سے کبھی بھی کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ حالانکہ میں ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوا ہوں۔ مگر بچپن ہی سے مجھے مذہبی عبادات اور عقائد کی کتابوں کے مطالعے سے بے رغبتی اور سائنسی اور فنّی علوم کی کتابوں سے دلچسپی رہی ہے۔ تیسری جماعت میں تھا تو آٹھویں جماعت تک کی سائنس کی تمام درسی کتابیں پڑھ کر محدّب عدسے اور آئینے کی مدد سے سینما پروجیکٹر اور برقی مقناطیس بنا چکا تھا۔ آٹھویں جماعت تک کرسٹل ڈایوڈ ، ارتھ اور ایرئیل کے امتزاج سے سنگل بینڈ ریڈیو اور کباڑی سے حاصل کئے گئے تانبے کے تاروں کی مدد سے بیٹری سیل کی مدد سے چلنے والی موٹر بھی بغیر کسی مدد کے صرف مطالعہ کی مدد سے ہی بنائی تھی۔

مذہب کبھی بھی میرا میدان نہیں رہاہے، ہمیشہ جستجو اور کھوج یعنی تحقیق کی عادت رہی ہے۔ اس ہی وجہ سے انجینئرنگ اور اطلاقی کیمیاء میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، ساری زندگی عملی سائنس اور ڈیزائن انجینئرنگ کے شعبہ سے دلچسپی اور وابستگی رہی۔ والدہ اردو ادب سے وابستہ تھیں ،اس لئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے بعد سب سے زیادہ مزا اردو ادب، تاریخ اور سوشل سائنسز میں آتا تھا۔

میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ کائنات میں موجود تمام مظاہر پر غور و فکر کیا جاسکتا ہے، ہر موضوع کو زیربحث لایا جاسکتا ہے۔ ان پر فکری اور علمی سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں اور ہر سمجھ میں نہ آنے والی چیز کا منطقی جواز تلاش کیا جاسکتا ہے۔ نقد ونظر یعنی تنقید و جائزہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ میں ذہنی جمود کو فکری موت اور انسانی ترقّی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصوّر کرتا ہوں۔میرا ایمان ہے، کہ تنقیدی سوچ کے بغیر، انسانی ذہن نہ ترقی کرسکتا ہے، نہ نئے خیالات، نہ نئے افکارات، ، نہ نیا انداز فکر اورنہ نئی راہ سوچ سکتا ہے۔

میں پیچھے کی طرف نہیں، بلکہ آگے کی طرف دیکھنے اور سوچنے کوپسند کرتا ہوں۔ میرے تمام خیالات، نظریات، لچک دارہیں، اور قابل تغیرہیں، ان کے مقابلے میں جو لوگ کٹ ملّائیت ، سخت گیری، غیرلچک دار عقائد رکھتے ہیں، وہ معاشرے کے لئے زہرِ قاتل اور انسانی و سماجی ترقّی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

میری نظر میں مذہبی عقائد او رمذہبی مسائل پر تنقیدی گفتگو کی جاسکتی ہے۔ سمجھ میں نہ آنے والے عقائد کا منطقی اور فکری جواز تلاش کیا جاسکتا ہے۔ مذہب کے بارے میں سوال اٹھانے کو ہرگز جرم تصوّر نہیں کیا جاسکتا۔ میرا پیدائشی مذہب اسلام ہے، اور وہ مجھے سوال اٹھانے اور غور و فکر کی آزادی دیتا ہے۔

مذہب اگر سچّا ہوگا تو اپنا دفاع خود کرے گا۔ دنیا کے سارے مذاہب ہمیشہ سے ہی تنقید کی زد میں رہتے ہیں، کیونکہ مذہبی تعلیمات جامد اور ساکت ہوتی ہیں، جب کہ انسانی شعور و علم ترقّی کرتا رہتا ہے، خیالات اور افکار تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کسی بھی مذہب کو سوال اٹھانے اور تنقید سے مبرّا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ رسولِ مقبول کے زمانے میں بھی مذہب اسلام تنقید کی زد میں رہتا تھا، لوگ رسول مقبول سے سوالات بھی کرتے تھے، جو مطمئن ہوجاتے تھے، ایمان لے آتے تھے، جو مطمئن نہیں ہوتے تھے، اپنے عقائد پر قائم رہتے تھے۔ رسولِ مقبول کسی کی گردن نہیں کاٹتے تھے۔

اب 1400 سال قبل کا زمانہ نہیں رہا، یہ علم و فن کے عروج کا دور ہے، نِت نئی سائنسی تحقیقات سامنے آرہی ہیں، جو مذہبی عقائد سے اختلاف کررہی ہیں، ایسے میں اگر سائنس و ٹیکنالوجی کے حصول کے ذریعے انسانی و معاشرتی ترقّی کی بجائے ہم اپنے عقائد کی بناء پر سوچ و فکر پر پابندی عاید کردیں گے تو، ہم واقعی ترقّیِ معکوس کا سفر طےکرتے ہوئے 1400 سال پہلے کے زمانے میں پہنچ کر جدیدٹرانسپورٹ کی بجائے اونٹ گدھے اور خچر کی سواریوں پر سفر، بجلی کے بلب کی بجائے نورِ ایمانی سے گھروں کو منوّر ، ادویات کی بجائے کلونجی ، دم درود، دعا تعویز سے علاج، انٹرنیٹ کی بجائے ملائکہ کے ذریعے روابط، جدید سائنسی علوم کی بجائےضعیف احادیث پر عمل کرتے ہوئے، ٹخنے سے اوپر شلوار، ہاتھ میں مسواک، سر میں تیل اور آنکھوں میں سرما لگائے پوری دنیا میں تحقیر اور پسماندگی کی علامت بنے ہونگے۔

اسلام امن کا دین ہے، رسول مقبول، خاتم المرسلین تمام انسانیت کے لئے رحمت بناکر بھیجے گئے تھے۔ رسولِ مقبول کے اوصافِ حمیدہ ساری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں۔ رسولِ مقبول رِحمت العالمین ہیں ۔ انہیں زِحمت العالمین نہ بنایا جائے۔

کسی بے گناہ کو توہینِ مذہب کی آڑ میں موت کے گھاٹ نہ اتارا جائے، اسلام ایک سچّا مذہب ہے، ہر قسم کی توہین سے ماوراء ہے۔ اللہّ اور رسول کی ذات آفاقی ہے، اس کا کسی پر اجارہ نہیں، اللہّ نے رسولِ مقبول کو آخری نبی قرار دے کر، بعد میں آنے والوں پر دینِ اسلام کی ٹھیکیداری بھی ختم کردی ہے۔ آپ بھی یہ خود ساختہ ٹھیکہ داری ختم کردیں۔ لوگوں کو اسلام کی امن پسند تعلیمات پر عمل کرنے کا موقع دیں۔ دینِ اسلام پر آپ کا جارہ نہیں ہے، اگر ہے تو اجارہ داری کی سند دکھائیے، ورنہ یہ گستاخ گستاخ کا کھیل بند کیجئے۔ وما علینا الالبلاغ۔ اپنی اصل آئی ڈی کے ساتھ ٹورونٹو، کینیڈا سےآصف جاوید، بقلم خود

7 Comments

  1. صبح صبح ہی ایمان تازہ کردیا۔ ہم تو یہاں دن رات رفتہ رفتہ ایک بند گلی کی جانب بڑھتے معاشرے میں جی رہے ہیں اب سنا ہے کہ کنیڈا بھی بھی اب پاکستان ثانی بنے گا۔

  2. بہت زبردست ! خدا آپ کو خوش رکھے ! آمین

  3. ایازاحمداحمدانی says:

    Blaspheme
    قانونِ (Blasfheme)ناموسِ رسالت(Death to stone) قرآن کی نظر کے عین مطابق یا غیرقرآنی ؟

    قانونِ ناموسِ رسالت در حقیقت قرآن کریم سے نہیں بلکہ بائبل کا دیاقانون ھے کہ جس طرح زنا کا قانونِ سنگسار منافقین شد مد سے قرآنی ثابت کرتے ہیں .
    جب کہ یہ بھی بائبل سے لیا گیا ہے

    آئیں قرآن اور بائبل کے تقابل سے دیکھیں کہ یہ کتنا قرآنی ھے یا پھر Jew اور .Cristian نے کسی سازش کے تحت اسے ھمارے دین کا حصہ تونہیں بنادیا ھے

    آلقران کا فرمان ھے

    وَمَا ٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِيهِ مِن شَىۡءٍ فَحُكۡمُهُ ۥۤ إِلَى ٱللَّهِ ۚ ذَٲلِكُمُ ٱللَّهُ رَبِّى عَلَيۡهِ تَوَڪَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ أُنِيبُ

    تم جس بات میں اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے یہ ہے اللہ میرا رب میں نے اس پر بھروسہ کیا، اور میں اس کی طرف رجوع لاتا ہوں

    الشوری 42:10

    يَـٰحَسۡرَةً عَلَى ٱلۡعِبَادِ ۚ مَا يَأۡتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَہۡزِءُونَ

    ہائے افسوس ان بندوں پر جب ان کے پاس کوئی بھی تو رسول نہیں آیا کہ جس کا مزاق نہ اڑایا گیا ھو

    یس 36:30

    وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّن قَبۡلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَىٰ مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّىٰٓ أَتَٮٰهُمۡ نَصۡرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَـٰتِ ٱللَّهِ ۚ وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِن نَّبَإِىْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ

    اور تم سے پہلے رسول جھٹلائے گئے تو انہوں نے صبر کیا اس جھٹلانے اور ایذائیں پانے پر یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد آئی اور اللہ کی باتیں بدلنے والا کوئی نہیں اور تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آ ہی چکیں ہیں

    فَذَرۡنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِہَـٰذَا ٱلۡحَدِيثِ‌ ۖ سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ

    تو جو بھی اس بات کو جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ اس طرف لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی،

    وَأُمۡلِى لَهُمۡ ۚ إِنَّ كَيۡدِى مَتِينٌ

    اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے

    القلم 68;45,44

    وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّمَا نُمۡلِى لَهُمۡ خَيۡرٌ لِّأَنفُسِہِمۡ ۚ إِنَّمَا نُمۡلِى لَهُمۡ لِيَزۡدَادُوٓاْ إِثۡمًا ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِينٌ

    اور ہرگز کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ جو ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں کچھ ان کے لئے بھلا ہے، ہم تو اسی لئے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ اور گناہ میں بڑھیں اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے،
    آل عمران 3:178

    وَلَقَدِ ٱسۡتُہۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُواْ مِنۡهُم مَّا ڪَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَہۡزِءُونَ

    اور ضرور اے محبوب تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹھا کیا گیا تو وہ جو ان سے ہنستے تھے ان کی ہنسی انہیں کو لے بیٹھی
    الانعام 6:10

    قُلۡ مَا كُنتُ بِدۡعًا مِّنَ ٱلرُّسُلِ وَمَآ أَدۡرِى مَا يُفۡعَلُ بِى وَلَا بِكُمۡ‌ۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ وَمَآ أَنَا۟ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ
    الانعام 6:34

    تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا۔الاحقاف 46:9

    بائبل جو اصلی خالق ہے(Blasstpheme)قانون کی
    ۔

    اوروہ جو خداوند کے نام پر کفر بکے ضرور جان سے مارا جائے۔ساری جماعت اسے قطعی سنگسار کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جب وہ پاک نام پر کفر بکے تو وہ ضرور جان سے مارا جائے۔

    And he that blasphemeth the name of the LORD, he shall surely be put to death, and all the congregation shall certainly stone him: as well the stranger, as he that is born in the land, when he blasphemeth the name of the Lord, shall be put to death.

    احبار

    دوآدمیوں کو جو شریر ہوں اُس کے سامنے کر دو کہ وہ اُس کے خلاف یہ گواہی دیں کہ تُو نے خدا پر اور بادشاہ پر لعنت کی پھر اُسے باہر لیجا کر سنگسار کرے تاکہ وہ مر جائے ۔

    And set two men, sons of Belial, before him, to bear witness against him, saying, Thou didst blaspheme God and the king. And then carry him out, and stone him, that he may die.

    سلاطِین 21:10

    اور وہ دونوں آدمی جو شریر تھے آکر اُس کے آگے بیٹھ گئے اور اُن شریروں نے لوگوں کے سامنے اُس کے یعنی نبوت کے خلاف یہ گواہی دی کہ نبوت نےخدا پر اور بادشاہ پر لعنت کی ہے ۔ تب وہ اُسے شہر سے باہر نکال لے گئے اور اُس کو ایسا سنگسار کیا کہ وہ مر گیا ۔

    And there came in two men, children of Belial, and sat before him: and the men of Belial witnessed against him, even against Naboth, in the presence of the people, saying, Naboth did blaspheme God and the king. Then they carried him forth out of the city, and stoned him with stones, that he died.

    سلاطِین

    اَے یروشلِیم! اَے یروشلِیم! تُو جو نبِیوں کو قتل کرتی اور جو تیرے پاس بھیجے گئے اُن کو سنگسار کرتی ہے! کِتنی بار میں نے چاہا کہ جِس طرح مُرغی اپنے بچّوں کو پروں تَلے جمع کر لیتی ہے اُسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کر لُوں مگر تُم نے نہ چاہا!۔

    O Jerusalem, Jerusalem, thou that killest the prophets, and stonest them which are sent unto thee, how often would I have gathered thy children together, even as a hen gathereth her chickens under her wings, and ye would not!

    متّی 23:37
    یہُودِیوں نے اُسے جواب دِیا کہ اچھّے کام کے سبب سے نہِیں بلکہ کُفر کے سبب سے تُجھے سنگسار کرتے ہیں اور اِس لِئے کہ تُو آدمِی ہو کر اپنے آپ کو خُدا بناتا ہے۔

    The Jews answered him, saying, For a good work we stone thee not; but for blasphemy; and because that thou, being a man, makest thyself God.

    یُوحنّا 10:33
    یِسُوع نے اُنہِیں جواب دِیا کیا تُمہاری شَرِیعَت میں یہ نہِیں لِکھا ہے کہ مَیں نے کہا تُم خُدا ہو؟۔

    Jesus answered them, Is it not written in your law, I said, Ye are gods?

    یُوحنّا 10:34

    جبکہ اُس نے اُنہِیں خُدا کہا جِن کے پاس خُدا کا کلام آیا (اور کتاِب مُقدّس کا باطِل ہونا مُمکن نہِیں)۔

    If he called them gods, unto whom the word of God came, and the scripture cannot be broken;

    یُوحنّا 10:16
    جو کوئی تیرے حُکم کی مخالفت کرے اور سب معاملوں میں جنکی تُو تاکید کرے تیری بات نہ مانے وہ جان سے مارا جائے۔ تُو فقط مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ۔ ۔

    Whosoever he be that doth rebel against thy commandment, and will not hearken unto thy words in all that thou commandest him, he shall be put to death: only be strong and of a good courage.

    یشوؔع 1:18
    موسیٰ نے خُداوند سے فِریاد کر کے کہا کہ مَیں اِن لوگوں سے کیا کُروں ؟ وہ سب تو ابھی مجھے سنگسار کرنے کو تیار ہیں ۔

    And Moses cried unto the LORD, saying, What shall I do unto this people? they be almost ready to stone me.

    کتاب خُروج

    اور بائبل کا یہ قانون پوری دنیا میں ناقابل فہم اور نا قابل عمل قانون رہا ھے اور دنیامیں منافقت کے پیروکار یعنی مسلمانیت کا لیبل سجائے لوگوں نے جب کبھی بھی اس کالے (بائبل کے) قانون پر عملدرآمد کرنے کی کوشش کی تو سب سے زیادہ شور بھی ان ہی یعنی بائبل کے ماننے والوں میں سے اٹھتا ہے

    اور القرآن کا فائنل یعنی حتمی فیصلہ

    أُوْلَـٰٓٮِٕكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فَأَصَمَّهُمۡ وَأَعۡمَىٰٓ أَبۡصَـٰرَهُمۡ

    یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں اندھی کر دی

    و َأَنَّہُمۡ يَقُولُونَ مَا لَا يَفۡعَلُونَ

    اور وہ کہتے ہیں, جوکرتے نہیں
    26:226 الشوریٰ

  4. بشارت حئی says:

    ایک بات عرض کرنا چاہتا ھوں کہ آپ نے لکھا ھے کہ مذہبی تعلیمات جامد و ساکت ہوتی ہیں جو صحیح نہیں۔ جس طرح سائینس کے اصول ہمیشہ ایک ہوتے ہیں جیسے سیب درخت سے گر کر زمین پرآتا ہے۔ آسمان پر نہیں چڑھ جاتا۔ اسی طرح مذہب اور اخلاق نے اصول وضع کر دئے مگر وہ زمانے اور معاشرت اور ماحول کے حساب سے تغیر پذیر ہوتے ہیں۔ یہ مولوی لوگ تو مذاھب کی تعلیمات سے بے بہرہ ہیں۔ اس لئے بہت سے ذہنوں میں مذہب سے بغاوت اور مذہنی خلجان ان نامرادوں کی وجہ سے پیدا ہو جاتا ھے۔۔۔۔۔۔۔ آپ کا مضمون بہت عمدہ ھے۔ عنوان کے مطابق ھے۔ ماشاٗ اللہ زورِ قلم اور زیادہ۔

  5. ضیاءالدین ملک says:

    آپ بالکل درست فرما رھے ھیں کہ مذھبی تعلیمیات جامدھوتی ھیں ۔۔۔۔ لیکن کن کے لیے ؟
    جو اپنے آپ کو بدلنا نھی چاھتے ۔۔۔ قرآن کسی کو صاحب ھدایت کرتا ھے تو کسی کو گمراہ بھی کرتا ھے ۔۔جن لوگوں نے صرف علم ظاھر کو سب جانا وہھی خوارجین منافقین ھوئے ۔۔ لیکن جن لوگوں نے علم ظاھر کیساتھ علم لدنی ، علم باطن کو سمجھا ، علم لدنی تک رسائی حاصل کی ۔۔ وہ داتا صاحب ، خواجہ صاحب ، بن گئیے ۔۔۔۔۔
    قرآن کے ظاھر کیساتھ ساتھ باطن کو بھی سمجھنے کی ضرورت ھے ۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ ھمیں صاحب تدبر بنائیے ۔۔ آمین ۔۔

  6. great article. Keep it up!

  7. Salman naimat says:

    Good likha aap ne sir agar mazhab sacha hai tu apna difa khud kare ga wah g wah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *