افغانستان سے مطالبے کی بجائے پہلے پاکستان سے تو دہشت گردوں کا خاتمہ کرو

سندھ کے شہر سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر ہوئے خودکش حملے کے بعد پاکستانی مسلح افواج نے افغان سفارتکاروں کو جنرل ہیڈکوارٹرز طلب کر کے 76 مطلوب دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

  تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں موجود دہشت گردوں کی نرسریاں ختم کرنے کی بجائے افغانستان سے مطالبے کرنا انتہائی احمقانہ اقدام ہے۔پاکستان کے سیکیورٹی ادارے ہمیشہ افغانستان اور بھارت کو مورود الزام ٹھہرا کر اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جمعہ کی صبح ہی پاکستان میں افغان سفارت خانے کے ایک اعلیٰ نمائندے کو مسلح افواج کے ہیڈکوارٹرز میں طلب کیا گیا اور پاکستان میں مطلوب 76 دہشت گردوں کی ایک فہرست اس سفارت کار کے حوالے کر کے مطالبہ کیا گیا کہ کابل حکومت ان کے خلاف فوری کارروائی کرے یا پھر ان دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ریاست کو پہلے پاکستان میں موجود جہادی تنظیموں اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ختم کرنا چاہیے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کی بجائے افغانستان سے مطالبہ کرکے پاکستانی ریاست اپنے آپ کو نہ بری الذمہ قرار دینے کی کوشش میں ہے۔ بلکہ پاکستان میں موجود دجہادی تنظیموں سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہے۔

سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں اب تک 83 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں زخمیوں کی حالت ہسپتالوں میں ابھی بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اس درگاہ پر حملے کو پاکستان پر حملہ قرار دیا ہے۔آرمی چیف جنرل باجوہ نے مزید کہا کہ آپریشن ضرب عضب سے حاصل ہونے والی دو سالہ کامیابیوں کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں گزشتہ شب ہی واضح کر دیا تھا کہ پاکستان میں رواں ہفتے کے دوران ہونے والے پانچ دہشت گردانہ حملوں میں افغانستان میں موجود پاکستان دشمن قوتیں ملوث ہیں اور مسلح افواج نہ صرف ہر قیمت پر ملک کا دفاع کریں گی بلکہ ان ملک دشمن قوتوں کو بھی بھرپور جواب دیا جائے گا۔

حکومت نے افغانستان سے متصل دو ہزار کلومیٹر طویل سرحد فوری طور پر غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہے مگر آج جمعے کی صبح پاکافغان سرحد پر طورخم کے قریب افغانستان کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی جس سے چند ایف سی اہلکار زخمی ہو گئے۔

سیہون میں درگاہ پر حملے کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی فورسز مزید متحرک ہو گئی ہیں اور اکتالیس مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ صرف کراچی میں رینجرز نے دو مختلف کارروائیوں میں کالعدم تنظیموں کے اٹھارہ مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

DW/News Desk

3 Comments

  1. کمر تو ٹوٹ گئی تھی مگر ڈاکڑ نے جوڑ دی۔ کمبخت ۔ عشق ۔

  2. I think the solution lies in comprehensive solution both facilitators( in Pakistan mostly Punjab who are providing the religious and intellectual based and backed by avalanche of fake stories and conspiracy theories) but also by addressing the actual supply of terrorists around the NW border
    You can kill many terrorists but more work is needed to bring a change in mindset. Unfortunately it will take time and planning

  3. Kamal ka comment kia he janab.doctor bhe g h q ka tha.paka kam kia he

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *