دھماکوں پر پلنے والی حکمرانیاں

عطاء الرحمن عطائی

سرمایہ داریت کے کعبے کا طواف کرنے والی پارلیمانی سیاست اور نہتی انسانیت کے سینے میں نیزے مار کر خوشی سے چلانے والی چنگیز خصلت ریاستیں عوام کا لہو کسی رونگ ٹرن فلم کے آدم خور کی طرح پی کر ہونٹوں پر زبان پھیرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

ان کی مسلط کردہ جنگ میں دھماکوں کے زلزلوں نے محکوم عوام کے گھروں اور شہروں کو ارض متحرکہ بنا رکھا ہے اور اسی بے رحم دور میں بیگانگی کا سمندر محکوم طبقات کی کشتیاں ڈبوتے جارہا ہے اور انہی ڈوبنے والوں کو اپنے طبقے کی بچی ہوی کشتیوں میں کوئی جگہ ملنے کا امکان نہیں۔

بس جس طرف موج قاتل نے گزرنا ہے اسی کشتی کا لمحہ اجل اٹل ٹھہرتا ہے۔ ان حالات میں یہ سوال کسی ذہن میں نہیں ابھر سکتا کہ میں کیوں اور کیسے مر رہا ہوں؟ کیونکہ اس کے سامنے کھڑی موت اسے سوچنے سے پہلے اس سے اس کی زندگی چھین لیتی ہے، جس کے نتیجے میں لوگ مرتے ہیں مگر عوامی انتقام کا طبقاتی معروض انگڑائی نہیں لیتا ۔

در حقیقت حاکم طبقات کی درندگی (جسے عوام نے اپنی قسمت سمجھنا شروع کر دیا ہے) سے روشناس کرانا سیاسی قیادت کا فریضہ تھا مگر قوم پرست قیادتیں خود حکمرانی کے پیچھے دوڑ پڑیں، جن سیاسی قیادتوں نے عوام کو ذاتی ملکیت کے ہوس میں بھیڑیے نما طبقات سے نبرد آزما کرانا تھا وہی قیادت بذات خود اور یا مقبول جان کی طرح برقعہ پوش دلائل دےکر ذاتی ملکیت کی وکالت کرنے لگی۔ جس کے نتیجے میں ایک ایسا ماحول وجود میں آیا کہ سماج کے ہر شعبے میں برقرار رہنے کے لئے مسلط طبقات کو چیر پھاڑ استحصال کے علاوہ اور کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔

اس بات کی وضاحت ہم آسان الفاظ میں یوں کرسکتے ہیں اگر سیاسی نظریات اور تحریکوں پر خاندانوں کی شکل میں افراد مسلط ہوں تو وہ اپنے غلبے کو برقرار رکھنے کے لئے عوام کا سودا کرنے سے کبھی دریغ نہیں کرینگے۔ اپنی پارٹی میں ابھرنے والی صحیح ذہنیت کو کچلنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

دوسری مثال میں اگر ہم سرمایہ داروں کی طرف دیکھیں تو وہ ذاتی ملکیت کے پلیٹ فارم پر عوامی وسائل پر قبضے کی ننگی ہوس میں اکثریت کو ننگا بھوکا بنانے پر تلے ہیں مزید اگر سیاسی مائکروسکوپ میں دیکھا جائے تو ریاستی ادارے فوج ،عدلیہ، پارلیمنٹ اسی سرمایہ دار طبقے کے لئے قصابوں کی دکانیں کھولے بیٹھے ہوتے ہیں جو مذہبی دہشت گرد تنظیموں کو چاقو کے طور پر استعمال کر کے کوئٹہ کے وکلاء گردن زنی کرتے ہیں پشاور کی ماؤں کو رلاتے ہیں کراچی میں قتل و غارت کا بازار گرم رکھتے ہیں اور کبھی کبھی لاہور میں بھی ماتم کا اہتمام کر دیتے ہیں۔

غرض آگر عوام کو زبوں حالی سے نکالنے کے لئے جو جستجو اور راستہ ہے تو وہ طبقاتی سیاست ہے کیونکہ طبقاتی سیاست کی فطرت میں حکمرانیاں نہیں جو دھماکوں اور استحصال پر پلتی ہیں۔

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    عمدہ الفاظ اور تراکیب پرمشتمل بظاہر چونکا دینے والی تحریر ہے لیکن اسکا ڈراپ سین کسی رانگ یا رائٹ ٹرن پہ منتج ہوتا نظر نہیں آیا۔جس “طبقاتی” سیاست کی آپ نے نشاندہی فرمائی ہے اکیسویں صدی میں اس کے خدوخال کیا ہونگے۔اس کی قیادت کس قسم کے سیاسستدان کریں گے۔کیا وہ “بھائی” کہلایئں گے یا “خادم” یا چئرمین یا خدمتگار؟ یہ “طبقاتی سیاستدان” دیگر قوام عالم کے ساتھ کیا سلوک روا رکھیں گے؟اگر اتفاقًاً اس طبقاتی سیاست کو چلانے والے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ہوں تو کیا آپ
    ان کو محض اس لئے رد کر دینگے کہ وہ ایک ہی خاندان کے ہیں چاہے وہ کتنے ہی مخلص کیوں نہ ہوں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *