صوفی شاہ عنایت اور آج کی طبقاتی جدوجہد 

سجاد ظہیر سولنگی

سندھ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہاں بھی مختلف ادوار میں دنیا کے مختلف خطوں کی طرح محنت کار انسانوں کی طبقاتی جدوجہد نظر آتی ہے ۔ مختلف بادشاہوں کے خلاف مظلوموں کی بغاوتیں ہوتی رہی ہیں۔ بادشاہت کا نظام غریب طبقات کا استحصال کرتا رہا ہے۔ ایسے استحصالی سماج کے خلاف ایک منظم جدوجہد کی ضرورت پڑتی ہے۔طبقاتی جدوجہد کی ایک ایسی مثال 17 ویں صدی کے اختتامی دور اور18 ویں صدی کی شروعات میں ملتی ہے۔ یہ دور سندھ میں کلہوڑا حکمرانی کا ہے۔ جب کہ باقی ہندوستان میں اورنگ زیب ( مغل سلطنت) کی حکومت تھی۔ سندھ میں اس دور کی بہت بڑی عوامی بغاوت جس کو ہم جھوک ( ٹھٹہ ) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

استحصالی طبقات نے تاریخ کو ہمیشہ اپنی مرضی ومنشاء سے پیش کیا ہے لیکن جدید عہد میںیہ ہتھکنڈے ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔آج ہم جانتے ہیں کہ ہم ایک انقلابی تاریخ کے وارث ہیں۔ ہمارا خطہ خوشحال رہا ہے۔ مختلف ادوار میں بیرون حملہ آوروں کی یلغار سے اس سرزمین کو لوٹنے اور نیست و نابود کرنے کی سازش ہوتی رہی ہے۔ تاریخ جسے دانشوروں نے مختلف زاویوں سے پیش کیا ہے۔ ایسے ماحول میں ایک بات سامنے آجاتی ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ اپنے قلم سے لکھنی پڑیگی۔ مقامی بادشاہت اور بیرونِ سامراج ہمیشہ عوامی تاریخ کو مسخ کرتا رہا ہے۔ ان کے خواہشات کو دبانے کی ناکام کوشش کرتا رہا ہے۔ مگر تاریخ جب عوام کے ہاں پہنچی تو بادشاہت فقط قصہ اور افسانوی داستان بن گئی اورتاریخ کو عوام نے سنبھال لیا۔ 

جھوک ( ٹھٹہ) کی اس انقلابی بغاوت کا روحِ رواں شاہ عنایت شہید ہے۔ آپ سترویں صدی کے درمیان 1655ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق لانگاہ قبیلے سے تھا۔ شاہ عنایت کی تعلیم و ترویج وقت کے بہت بڑے عْلَماکے زیرِ نگرانی ہوئی۔ انہوں نے سماجی فکر کے علوم کے ساتھ ساتھ تصوف کا علم بھی حاصل کیا۔شاہ عنایت شہید نے ہندوستان کے مختلف صوفیوں سے ملاقاتیں کی۔ وہ جن اساتذہ کی صحبت میں رہے۔بعد ازاں شاہ عنایت حیدرآباد (دکھن) کے بیجاپور میں چلے گئے ،یہ وہی حیدرآباد ہے جہاں ڈیڑھ صدی بعد کسانوں کی تلنگانہ تحریک نے جنم لیا۔ جو کہ آگے چل کر بہت بڑی اشتراکی تحریک کی بنیاد بنی ۔ 

اسی حیدرآباد میں کامریڈحسن ناصر کا جنم ہوا۔ حسن ناصر جو کہ پاکستان بننے کے بعد سندھ کی مزدور کسان تحریک میں صفِ اول کا کردار ادا کرتے رہے۔ اگرحسن ناصر کی تحریک کو شاہ عنایت کی جدوجہد کا تسلسل کہا جائے تو میرے خیال میں درست ہی ہوگا۔حسن ناصر شاہ عنایت کی طرح یہاں مزدورکسان اور مظلوم دوست سماج کی بنیاد ڈالنا چاہتے تھے اور اسی پاداش میں شہید کیے گئے۔ شاہ عنایت نے اسی حیدرآباد میں بہت سے سال گزارے۔ وہاں کے سیاسی اور سماجی حالات سے واقف ہوئے۔ آپ نے وہاں سے بہت کچھ سیکھا۔ اس کے نظام کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس ریاست کو قریب سے دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ایک انسان دشمن سماج ہے۔ یہاں پر مختلف طبقات ہیں۔ وہ کس قدر مظلوموں کا استحصال کرتے ہیں۔ آپ 10 سال تک سندھ سے باہر رہنے کے بعد ایک انقلابی بن کر واپس اپنی دھرتی کو لوٹے۔آپ نے مختلف ممالک افغانستان، عراق اور دیگرکا سفر بھی کیا۔ وہاں ان کے حالات اور فرق کو محسوس کیا۔ آپ نے فارسی پر عبور حاصل کرلیا اور اسی زبان کے مقبول شاعر بن کر ابھرے۔

سنہ1713 ء میں جب شاہ عنایت واپسی ٹھٹہ پہنچے تو سندھ کے حکمران میاں یار محمد کلہوڑو تھے۔میاں دین محمد کلہوڑو ایک مضبوط حکمران بن کر ابھرے جو بھکر سے لیکر بلوچستان تک مغل حکمرانوں کے لیے ایک بہت بڑی رکاوٹ سمجھے جارے تھے۔ سخت لڑائی کے بعداورنگ زیب کی جانب سے انہیں گرفتار کرکے قتل کیا گیا۔ اورنگ زیب کا اقتدار کمزور ہوا تو دین محمد کلہوڑو کے بھائی نے وہی کھویا ہوا اقتدار واپس لے لیا۔ تاریخ میں جھانک کر دیکھا جائے تو1608 ء کو ایسٹ انڈیا کمپنی کا برِصغیر میں آنا۔جیسے یہاں کی بادشاہوں کا خاتمہ ثابت ہوا۔ انگریز وں نے بڑی چالبازی سے یہاں بادشاہت کو جاگیرداری نظام میں تبدیل کیا جس نے کش مکش کو جنم دیا۔ صدیوں سے جو لوگ غلامی کی دلدل میں پھنسے ہوئے تھے انگریز ان کو نجات دہند گان نظر آنے لگے۔ لیکن بعد میں یہاں کے عوام کو سمجھ میں آگیا کہ یہ ایک سامراج ہے۔ لیکن انگریزوں کے یہاں آنے سے لوگوں میں بات کہنے کا رواج پیدا ہوا تاریخ ،فلسفہ اور تہذیب میں نئی تبدیلی رونما ہونے لگی۔ اس عمل نے لوگوں کو جوڑنے میں کردار ادا کیا۔ 
کلہوڑا حکمران مغلوں کو ٹیکس ادا کرتے تھے۔ یہ شرط کسانوں پہ بھی لاگو تھی۔ اس خطے میں کام کرنے والے جیسا کہ کھیتی باڑی کرنے والے بھی خوشحال تھے۔ لیکن استحصالی عمل جاری تھا۔ جس کی بڑی شکل جبری ٹیکس کی وصولی تھی۔بغاوت کا ایک سبب اس دور میں موجوداستحصال تھا۔ اس دور میں کسان بہت کچھ اگانے کے باوجودحکمران طبقے کے جبر تلے زندگی گزارتے تھے۔ ان کے فصل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر اس دور کے حکمرانوں کا ناجائز قبضہ بڑھتا جا رہا تھا۔ سندھ بھی اس وقت پیری، مریدی کا روایتی سلسلہ جاری تھا اور سماج جاگیردارنہ نظام میں جکڑاہوا تھا۔ ریاستی طاقت کے بل بوتے پر یہ پیر اور اس دور کے سید فصل کے مالک بنے بیٹھے تھے۔

شاہ عنایت سے یہ ظلم اور جبر برداشت نہیں ہو سکا۔ انہوں نے اس عمل کے خلاف آواز بلند کرنے کا اعلان کیا۔ وہ مظلوم اور پسماندہ طبقات کی حمایت میں اس ظلم اور جبر کے خلاف سینہ سپر ہوگئے۔ انہوں نے جھوک میں رہنا پسند کیا تاکہ وہاں عام لوگوں اور کسانوں میں شعور بیدار کرسکیں۔ انہوں نے وہاں لوگوں سے ملکر ایک ایسی خانقاہ کی بنیاد ڈالی جو ان جابر حکمرانوں، پیروں اور وڈیروں کے خلاف ایک الٹی میٹم ثابت ہوئی۔ آپ کا مقصد اجتماعی کاشتکاری کا نظام تھا۔ انہوں نے اس کی شروعات اپنے ہی گھر سے کی۔ سب سے پہلے اپنے آباواجدادکی زمینوں کو کسانوں میں مفت تقسیم کیا۔ یہ اس دور میں اشتراکی نظریات کی بہت بڑی مثال تھی۔ شاہ عنایت کی فراخ دلی اور سچائی سے متاثر ہوکر چھوٹے کاشتکار بھی اس تحریک میں شامل ہوگئے۔ مال ، دولت اور بیل وغیرہ مشترکہ ملکیت قرار دیے گئے۔ 

جھوک میں قائم اس چھوٹے سے سماج میں کسان اپنے قائدکے ہمراہ گویا ایک کمیون میں رہنے لگے۔یہ ایک خاندان کی طرح فیصلے کیا کرتے تھے۔ آمدنی کی تقسیم مل بانٹ کر کیا کرتے تھے۔ صوفی شاہ عنایت کا نعرہ تھا جیکو کھیڑے سو کھائے” ( جو کاشت کرے وہی کھائے) اس نعرے نے وقت کے حکمران طبقات ، مغل سلطنت اور استحصالی قوتوں کے ہوش اڑا دیے۔ سندھ کے حکمرانوں کی بھی نیندین حرام ہوگئیں۔ شاہ عنایت کی اس تحریک نے بہت سے غریب کسانوں کی زندگیاں تبدیل کر دیں۔ مغل حکمران سمجھ گئے کہ شاہ عنایت کی جنگ عمل کے ساتھ نظریاتی اور فکری بنیاد پر کھڑی ہے۔انہوں نے اس کے خلاف بہت بڑالشکر تیار کیا۔ جس میں سندھ کی مختلف برادریوں کو بھی لالچ دیکرشامل کیا گیا۔ ہندوستان کے مغل بادشاہوں نے جس طرح اپنے اقتدار اور انا کی خاطر سگے بھائیوں کو قتل کیا وہاں شہید عنایت کو مارناان کے لیے کوئی بڑی بات نہیں تھی۔

شاہ عنایت سچ اور حق کا علم بلند کرتے ہوئے ایک نئے سماج اور محنت کش راج کی بنیاد رکھ چکے تھے وہ اس زمانے کے سندھ میں طبقاتی جنگ کا آغاز کر چکے تھے۔ شاہ عنایت شہید کے خلاف لشکر کشی کی گئی ، ان کا گھیراؤ کیا گیا ۔ جب اس سے بھی ان کا مقصد پورا نہ ہوا تو قرآن کو ضامن بنا کر انھیں مذاکرات کی دعوت دی گئی ۔یوں انہیں دھوکے سے بلا کر قید کر لیا گیا ،وہ جانتے تھے کہ انہیں قتل کردیا جائیگا۔لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان کی فکر زندہ رہے گی۔ 7 جنوری 1778 ء کو سندھ کے اس پہلے صوفی سوشلسٹ صوفی شاہ عنایت کے ساتھ ان کے بیٹے اور بھائی کو بھی قتل کر دیا گیا۔ جھو ک (ٹھٹہ) جہاں شاہ عنایت کی ولادت ہوئی۔ آج وہ شہر جھوک شریف کے نام سے جانا جاتا ہے۔آج صوفی شاہ عنایت شہید سے محبت کرنے والوں میں ہر مذہب، فرقے ، نسل ،ذات کے انسان شامل ہیں۔ 

آج یہ خطہ بنیاد پرستی کی دلدل میں جکڑ چکا ہے۔ ہمارا ملک بم دھماکوں، خون خرابے اور بنیاد پرستی کی آغوش میں لپٹا ہوا ہے ۔بھوک ،افلاس اور بربریت ہے جس کے خلاف ایک نظریاتی جنگ کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی لڑائی جس کی بنیاد شاہ عنایت نے رکھی تھی ۔جسے محنت کش طبقے کے نظریاتی اساتذہ کارل مارکس اور اینگلز نے سائنسی بنیادں فراہم کیں اورلینن نے عمل کی کھسوٹی پر اسے ثابت کیا ۔

♦ 

2 Comments

  1. Wah wah … its a beautiful tribute to Shah Inayat. The age that we live in, needs the visionary thought and action that Shah Inayat symbolizes. Thank you.

  2. آفتاب چانڈیو says:

    صوفی شاہ عنایت شہید کے ساتھ جو کچھ ہوا سو ہوا لیکن راقم الحروف سجاد ظہیر صاحب نے بھی جو تاریخ کے ساتھ بیچ بازار میں جو بلادکار کیا ہے وہ بھی ناقابل فراموش ہے۔۔ جون ایلیا صاحب نے کیا خوب کہا تھا کہ’ مصیبت تو یہ ہے کہ جن کو پڑہنا چاہیے وہ لکھ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *