پیمرا ‘وہابی’ مت بنو

ارشد محمود

ہم ٹی وی چینلاپنے ڈراموں کے لئے مشہورہے۔ ڈرامہ ہمیشہ سے فنون لطیفہ اورتخلیقی ادب کے زمرے میں آتا ہے۔ نئے تجربے، نئے موضوعات، نئی ٹیکنیک سے ہی آرٹ آگے بڑھتا ہے۔ کسی بھی تخلیقی عمل میں کسی ہیڈ ماسٹرکا ڈنڈا پکڑ کرتخلیق کار کے سر پربیٹھ جانا تخلیق کی موت ہوتی ہے۔

تخلیق بے کراں خیال کا نام ہے۔ انسانی احساسات،جذبات، فکروعمل لامحدود ہیں۔ ان پرپابندیاں ایسے ہی ہیں جیسے کسی کونپل نکالتے بیج پربلڈوزر چلا دیا جائے۔ ہم ٹی ویکو چلانے والے اعلی تعلیم یافتہ جدید فکروخیال کے لوگ ہیں۔ اس ادارے کی سربراہ سلطانہ صدیقی ہیں،ان کا ایک ڈرامہ سیریل ہے کتنی گرہیں باقی ہیں۔

اسی سلسلے میں کوئی ایسا ڈرامہ دکھایا گیا ہے، جس پرفتوی بازوں کی طرف سےالزام لگایا گیا ہے، کہ اس میں دو خواتین کے درمیان ہم جنسیتعلق کوظاہرکیا ہے۔ جو پاکستان کی سماجی، اخلاقی، معاشرتی اقدارکے خلاف ہے۔ مذکورہ ڈرامہ سیریل کی ڈائریکٹرانجلینا ملک ہیں، جو خود بھی ایک تعلیم یافتہ خاتون اور اعلی پائے کی فنکارہ ہیں۔ اس ڈرامے میں کچھ بھی جارح مواد موجود نہیں۔اشاروں کنایوں میں اس بات کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں کوئی غیراخلاقی حرکت اورکوئی غیراخلاقی مکالمہ موجود نہیں۔

لیکن اس معاشرے میں جماعت اسلامی کے پالے اوریا مقبول اورانصارعباسی جیسے لوگ 20 کروڑلوگوں کے اخلاق اور ایمان کے مامےبنے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے اپنی آنکھوں پرفحاشی کی عینکیں لگا رکھی ہیں۔ جن کے دماغ جنسی گند سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں میں ذرا بھرلطافت نام کی چیز نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے منہ انتہاپسندوں، تکفیریوں اور دہشت گردوں کے خلاف کوئی بات کرتے ہوئےجلتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں، جوکسی اشتہارمیں لڑکی کے چہرے کودیکھ کرجنسی اشتعال میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ظاہر ہے اسی طرح کے قبیل کے لوگوں نے پیمرا میں شکایات درج کرائی ہیں، جس پرپیمرا نے ہم ٹی وی کو نوٹس بھیج دیا ہے۔ ہم پیمرا پرواضح کرنا چاہتے ہیں۔ کہ وہ قوم کی اخلاقیات کا ٹھیکے دارنہ ادارہ نہ بنے۔ اور نہ وہابی کلچرل ازمکو فروغ دینے والا۔ کلچر تنوع کا نام ہے۔ یہ انسانی اور فطری موضوعات ہیں۔ اگر یہ فحاشی ہے، تو اس کا منبع خود خدا کی ذات بنتی ہے۔ جس نے انسان کے اندر اس طرح کے جذبات پیدا کئے۔ ورنہ وہ مولانا مودودی کے تصورکا انسان پیدا کردیتا۔

جو لوگ ہم جنس موضوع کوفحش قرار دے رہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں، جو دھمال کو، رقص، میوزک کوحرام قراردیتے ہیں۔ آپ اخلاق کا تعین نہیں کررہے، تخلیق اور انسانی سوچ پرپابندیاں لگا رہے ہیں۔ جن لوگوں نے پیمرا کو اس ڈرامے کے خلاف رپورٹ کیا ہے۔ ہماری رپورٹ بھی درج کریں۔ ہمیں اس ڈرامے میں کوئی غیراخلاقی بات نظر نہیں آئی۔ اب بتائیں آپ کون ہوتے ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں فیصلہ کرنے والے۔

شاعری، ڈرامہ ، فلم، آرٹ، پینٹنگز کے موضوعات کیا ہونے چاہئے۔۔ ہم پاکستان میں وہابی کلچرل ازم کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ میری تمام دوستوں سے اپیل ہے، کہ وہ فوری طورپر پیمرا کی سائٹ پر جا کرپیمرا کے نوٹس کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائیں، اور لکھیں کہ ہمیں اس ڈرامے میں کوئی قابل اعتراض مواد نظر نہیں آیا۔۔ جماعت اسلامی اور ملاؤں کی کلچرل بدمعاشی نہیں چلنے دی جائے گی۔

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    کمال کا انکشاف ہوا ہے آج کہ ہم جنسیت کو ایک گناہ اور فحاشی سمجھنے والا وہابی ہوتا ہے۔دیو بندی،اہل تشیع،اسماعیلی،بریلوی،قادریہ،چشتیہ،سہروردیہ،وجودی،شہودی،نزاری،مالکی،شافعی،چکڑالوی،ذکری،حنفیہ،قادری،اہل قرآن،اہل حدیث، داودی بوہرہ،حنبلی، اور دیگر نجانے کتنے ہی غیر وہابی فرقوں کے نزدیک یہ فعل قابل اعتراض نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *