پہاڑ ‘ پارلیمنٹ اور پرندے

منظور بلوچ

متنازعہ مردم شماری نے بلوچستان کی انتخابی سیاست میں چار چاند لگا دیئے ہیں۔ پارلیمانی قوم پرست ایک بار پھر اس ایشو کو لے کر ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔ دونوں اطراف سے الفاظ کی جنگ شروع ہو چکی ہے تربت میں گزشتہ دنوں ایک جلسہ عام سے سردار اختر مینگل نے بہت گرم و سرد باتیں کیں ان کے خطاب کا خاص نشانہ نیشنل پارٹی اور پشتونخوامیپ تھیں ۔ انہوں نے پیش کش کی کہ اگر وہ غائب کئے جانے والے بلوچوں کو منظر عام پر لائیں اور شہید ہونے والوں کی قبریں بتائیں تو وہ اپنی جماعت کی چار نشستیں بھی ان کو بخش دیں گے ۔

پشتونخوامیپ کو انہوں نے ایک فاشسٹ جماعت قرار دیا انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی کی گڈ بک میں نہیں یہاں کسی سے مراد ریاست ہی ہوگی ۔ کیا اختر مینگل کسی کی گڈ بک میں نہیں ؟ یا ان کے ساتھی بھی بلیک لسٹ ہیں ؟ حالانکہ ثنا بلوچ کی تازہ تازہ آمد تو یہ بتا رہی ہے کہ جہاں آبادی یا پانی ہو گا وہاں پرندے ضرور دکھائی دیں گے۔ کیا اس پر دیسی پرندے کے بعد کچھ اور کہنے کی گنجائش باقی رہتی ہے ۔ کیا نیشنل پارٹی اور پشتونخوامیپ سے بی این پی کا یارانہ ختم ہو چکا ہے ؟

اگر ایسا ہی ہے تو ”پونم “ بیچاری کے فوت ہونے کا اعلان باقاعدہ کیوں نہیں کیا جا رہا یہ اتحاد کس کام کا …. یہ کل کا قصہ ہے جب نواب بگٹی پہاڑوں میں تھے اور تشنج زدہ ”پونم “ کا (ابتک ) آخری جلسہ میزان چوک پر منعقد ہوا جہاں سردار عطاءاللہ مینگل نے اپنی ناسازی طبیعت کی وجہ سے رضا کارانہ طور پر ”پونم “ کی قیادت محمود خان اچکزئی کو سونپ دی ۔انہوں نے بڑے اعتماد اور یقین کے ساتھ یہ ذمہ داری اچکزئی کو دی لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے ۔

بلوچستان میں لگنے والی آگ نے اس وقت اور خوفناک شکل اختیار کی جب نواب بگٹی کو شہید کیا گیا لیکن پونم صاحبہ ٹس سے مس نہیں ہوئی اس کے بعد سردار اختر مینگل کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے منہ پر کالا نقاب اوڑھا گیا۔ انہیں ایک پنجرے میں قید کیا گیا لیکن پونم صاحبہ بدستور خاموش رہی ۔ جب تشخیص کی گئی تو معلوم ہوا کہ اچکزئی نے ڈاکٹر مالک سے ملاقات میں انہیں پیغام دیا کہ اگر نیشنل پارٹی اور بی این پی بلوچستان میں ان کی برابری کے فارمولے کو تسلیم کریں تو پونم صاحبہ آناً فاناً نہ صرف صحت یاب ہوگی بلکہ اپنی سرگرمیوں کا بھی آغاز کرے گی۔

ڈاکٹر مالک نے معاملے کو ہنسی میں ٹالتے ہوئے کہا کہ بھئی ہم تو غریب لوگ ہیں ( متوسط طبقہ والی بات ) یہ بات آپ سردار اختر مینگل سے کریں جو ان دنوں دبئی میں ہوتے تھے ۔ شاید بات آگے بڑھ نہ سکی ۔ اس برابری کے فارمولہ کا تعلق بلوچستان کی 2000ءکے بعد رونما ہونے والی صورتحال سے ہے۔ شاید اچکزئی صاحب اور ان کی پارٹی بلوچوں کے گھروں میں لگنے والی آگ میں اپنے ہاتھ تھاپنا چاہتی ہے ۔

پھر یہ ہوا کہ ق لیگ کے دور اقتدار میں ”بلوچ مسئلہ “ سے متعلق دو کمیٹیاں بنائی گئیں ایک کمیٹی کے سربراہ وسیم سجاد تھے جو آئینی امور سے متعلق تھی لیکن آج تک اس کا کوئی سنگل اجلاس تک نہ ہو سکا دوسری کمیٹی انتظامی امور سے متعلق تھی جس کے سربراہ مشاہد حسین سید تھے ان کی کمیٹی نے بلوچستان میں پیریٹی کی سفارش بھی کی جسے تمام بلوچ حلقوں نے مسترد کر دیا۔ پھر سوشل میڈیا کے ذریعے معاملات کے نبض دیکھنے کیلئے ایک سروے رپورٹ جاری ہوئی جس میں دکھایا گیا کہ پشتونوں کی آبادی 48فیصد ‘ بلوچی بولنے والے بلوچوں کی تعداد غالباً 23فیصد اور براہوئی بولنے والے بلوچوں کی تعداد کو صرف 16فیصد دکھایا گیا۔

حیرانگی کی بات یہ ہے کہ براہوئی بولنے والے بلوچ قبائل جو صدیوں سے یہاں آباد ہیں ان کی زبان کو دنیا کی قدیم ترین زبان ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور صدیاں گزر جانے کے باوجود ان کی تعداد بلوچستان میں صرف 16فیصد ہے اس سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں ہوا ۔ پھر اب افغان مہاجرین سمیت سب کو مردم شماری میں شامل کیا جا رہا ہے ۔ بحیثیت قوم یہ بلوچوں کے ساتھ مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں۔

ایک قوم جو موجودہ تاریخ میں گزشتہ سترہ سالوں سے بے مثال قربانیاں دے رہی ہے تمام بلوچ اضلاع حالیہ انسر جنسی سے بری طرح متاثر ہیں جن میں کوہلو ‘ ڈیرہ بگٹی ‘ آواران ‘ خضدار ‘ پنجگور ‘ تربت ‘ قلات کی بیشتر آبادی تو مہاجرت اختیار کر چکی ہے کیا اتنی بڑی آبادی کی دوبارہ بحال کاری کی بجائے مردم شماری …. چہ معنی دارد؟ قصہ یہاں تک نہیں بلکہ افغان مہاجرین کو بھی اس میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے جو کسی بھی صورت میں نئے سیاسی بحران کا باعث ہوگا ۔

خیر بات ہو رہی تھی تربت جلسے کی کیا سردار اختر مینگل بہت سیدھے سادے ہیں کیا وہ ”پونم “ بی این پی کی تشکیل اور سابقہ پارلیمانی بی این ایم کے تجربات کو بھول چکے ہیں حقیقت یہ ہے کہ جے یو آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے بی این پی کا تجربہ کچھ اتنا خوشگوار بھی نہیں ۔ 1998ءکی مردم شماری میں پشتونخوامیپ اور بی این پی کےدرمیان سیاسی تناؤکا خاتمہ ”پونم “ کی صورت میں ہوا جب اچکزئی کی سربراہی میں پشتون علاقوں میں سردار اختر مینگل کا والہانہ استقبال کیا گیا حالانکہ اس سے قبل جب وہ وزیراعلیٰ تھے تو پشتونخوامیپ کے زیر اثر پشتون علاقوں میں ان کے استقبال کیلئے کالی جھنڈیاں لہرائی گئیں ۔

آخر ”پونم “ کی سربراہی کس جمہوری طریقے سے ہوئی ؟ ”پونم “ نے پاکستان میں نئے عمرانی معاہدے کا مطالبہ کیا لیکن اپنے اندرونی معاملات کو حل کرنے سے قاصر رہی لیکن اس کے باوجود بلوچوں اور پشتونوں کے آپس کے تعلقات میں کوئی فرق نہیں پڑا ۔ نیشنل پارٹی کے موجودہ سربراہ حاصل خان بزنجو نے سردار اختر مینگل کی پارٹی کو دونیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اس کے بعد وہ ”عوامی “ کے ساتھ ڈھکے چھپے تعلقات کے ساتھ سردار ثناءاللہ زہری کے ساتھ بھی سیاسی وابستگیوں کو برقرار رکھا۔

حاصل بزنجو نے اپنے چار ساتھیوں کے ہمراہ بی این ایم (ڈاکٹر حئی ) کے ساتھ انضمام کیا اور بڑے مزے کے ساتھ نیشنل پارٹی کے قائدبن گئے بی این پی (عوامی ) ‘ نیشنل پارٹی ‘ پشتونخوامیپ اور جے یو آئی کا کردار سامنے ہے۔ آخر آنے والے انتخابات میں سردار اختر مینگل کس ”مخالف “ کے ساتھ اتحاد کریں گے نیشنل پارٹی سے متعلق انہوں نے یہ کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی زیادتیوں میں اس نے اپنا کندھا پیش کیا کیا۔ سردار اختر مینگل اگلی حکومت بنا کر اپنا کندھا پیش کریں گے ؟

انہوں نے بلوچستان کی سیاست کو تین حصوں میں بانٹ دیا یعنی پہاڑ ‘ پارلیمنٹ اور متوسط طبقہ …. لیکن کونسا متوسط طبقہ …. جس میں سردار ‘ نواب سارے شامل ہیں ؟ کیا یہی سارے سردار ‘ نواب اگلے الیکشن میں سردار اختر مینگل کے ساتھ ہونگے ؟ کیا نواب ذوالفقار مگسی ‘ نواب زادہ لشکری رئیسانی ‘ سردار یار محمد رند اور اصغر اچکزئی ان کے نئے اتحادی ہوں گے ؟ کیا جو پہاڑ کی سیاست کا فریم ورک ہے اس کی تشکیل میں سردار اختر مینگل کی ”تقریروں “ کا کچھ عمل دخل نہیں ؟

اگر پہاڑ کی سیاست ‘ اب ان کے نظر میں درست نہیں تو یہ تلخ حقیقت ہے کہ وہ جن شہیدوں کی بات کرر ہے ہیں ان کے لہو کا نذرانہ تو پہاڑ کے نظریاتی سیاست کے حق میں بہا …. اگر وہ بلوچستان کے شہداءکو دل سے تسلیم کرتے ہیں …. تو پہاڑ کی نظریاتی سیاست سے وہ کیسے انکار کر سکتے ہیں ؟ کیا جب 1988ءکے انتخابات میں میر بزنجو اور ان کی پارٹی کو خود سردار اختر مینگل نے کس نام سے یاد کیا تھا ؟ کیا بلوچستان کی سیاست واضح نہیں ہو چکی ہے ؟ ٹھیک ہے کہ اس وقت لوگ بہت تکلیف میں ہیں انتخابی جلسوں کے ذریعے ان کے جذبات کا تو کتھارسس ہو گا لیکن اس کے نتیجے میں جو مایوسی جنم لے گی اس کے بارے میں بھی سوچا گیا ہے ؟

اختر مینگل کے مطالبات درست ہیں لیکن کیا وہ اپنے ہی چھ نکات کو بھول گئے ؟ کیا ان کے مرحوم چھ نکات کے جواب میں ان کو کسی قسم کی ضمانت ملی ؟ وہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد اور راولپنڈی ان کے خلاف ہیں ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ترقی مخالف نہیں ۔ کیا ان کی جماعت میں کبھی ”ترقی “ کے موضوع پر کوئی تبادلہ خیال ہوا ہے ؟ کہ ”ترقی “ آخر کس چڑیا کا نام ہے ؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کیا گیا تو یہ جنگ قیامت تک ختم نہیں ہوگی ؟

کس کی جنگ ۔ کیسی جنگ ؟ شاید انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی یا پھر ان کے خطاب کو صحیح طور پر بیان نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگلے انتخابات میں ان کی پارٹی کلین سویپ کرے گی ؟ ثناءبلوچ کی آمد کے بعد لگتا ہے کہ واقعی ان کی جماعت اگلے انتخابات میں کلین سویپ کر ے گی کہیں ایسا نہ ہو کہ چھ نکات کو پیش کئے جانے والی کوشش کی طرح حالیہ امیدیں بھی اپنے انجام کو پہنچیں ۔ دیکھتے ہیں پرندوں کا رخ کیا بتاتا ہے ؟

One Comment

  1. کوئلوں کی دلالی میں مذکور تمام صاحبان کے ہاتھ پاوں تو گندے ہو ہی چکے
    اب ایک دوسرے کے منہ پہ مل کر سیاسی حض اٹهانے کی کوشش کر رہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *