محمد علی جناح: شخصیت اور سیاست

تبصرہ: لیاقت علی

بر صغیر کی تقسیم اور دو آزاد ممالک۔۔پاکستان اور بھارت کے قیام کے پس منظر اور مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات نے اس تقسیم میں جو کردار ادا کیا اس بارے میں اب تک لاتعداد کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور نہ جانے اورکتنی لکھی جائیں گی۔ان کتابوں میں کچھ ایسی ہیں جو ان لوگوں نے لکھی ہیں جنھوں نے اس تاریخی ڈرامے میں خود بھی چھوٹا بڑا رول ادا کیا تھا۔کچھ لوگ ایسے ہیں جنھوں نے ہندوستان سے بر طانیہ کی روانگی اور دنیا کے نقشے پر دو آزاد ممالک کے ابھرنے کے اس سارے عمل کو تنقیدی نکتہ نظر سے دیکھا اور اس کا تجزیہ کیا ہے ۔

اس حوالے سے ایک دلچسپ اور اہم داستان ہندوستان کے اہم سیاسی اور سماجی رہنما کانجی دوارکا داس نے بیان کی ہے۔ انھوں نے’ ہندوستان کی آزادی‘ ( مطبوعہ 1966) کے عنوان سے کتاب لکھی۔ کانجی نے اپنی اس کتاب میں 1913-1937 کے درمیانی سالوں میں تحریک آزادی کی صورت حال، اس کے نشیب و فراز اور مختلف سیاسی رہنماؤں کے کردار کا احاطہ کیا تھا ۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا دیباچہ انگلستان کی لیبر پارٹی کے اہم رہنما لارڈ ایٹ لے نے لکھا تھا۔

یہ لارڈ ایٹ لے ہی تھے جنھوں نے انگلستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے بر صغیر کی تقسیم کے سارے عمل کوپا یہ تکمیل تک پہنچایا تھا ۔بعد ازاں کانجی دوارکا داس نے ایک اور کتاب لکھی ( مطبوعہ 1968)جس کا نام تھا ’آزادی سے پہلے کے دس سال ‘۔ اپنی اس کتاب میں کانجی نے 1937-47کے دس سالوں میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا جائزہ اور تجزیہ پیش کیا تھا۔

کانجی دوراکا داس نے اپنے سیاسی کیئر یر کا آغاز اوائل عمری میں اینی بیسنٹ کی ہوم رول لیگ سے کیا تھا اور وہ تادیر سیاسی اور سماجی طور پر متحرک رہے ۔ان کا شمار لیگ کے بانیوں میں ہوتا ہے اور وہ لیگ کے جنر ل سیکر ٹر ی بھی رہے ۔ وہ بر صغیر کے مزدوروں کی سب بڑی تنظیم آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کے بھی بانیوں میں سے ہیں ۔سیاسی کام کے دوران اینی بیسنٹ کے وہ اتنے قریب ہوگئے تھے کہ اینی کانجی کو بیٹا اور وہ انھیں ماں کہتے اور لکھتے تھے ۔

تحریک آزادی کے تقریبا سبھی کرداروں سے کانجی دوراکا داس ذاتی طور پر شناساتھے۔ اینی بیسنٹ ،گاندھی ، نہرو،جناح اور ولبھ بھائی پٹیل سے ان کے قریبی ذاتی تعلقات تھے۔ جناح اور رتی جناح کے ساتھ تو دوارکا داس کو قلبی لگاو تھا اوروہ ان کے مداحین میں شامل تھے ۔انھوں نے جناح کو بہت قریب سے دیکھا تھااس لئے انھوں نے جناح کی سیاست اور ذاتی زندگی کے بارے میں جو باتیں لکھی ہیں ان میں بہت سی ایسی ہیں جو بانی پاکستان کے بارے میں لکھی گئی دوسری کتابوں میں موجود نہیں ہیں۔

دوارکا کانجی داس نے نہ صرف جناح بلکہ گاندھی کے بارے میں بھی جو کچھ لکھا ہے اس سے ان کے اُن مداحین کو یقیناًاختلاف ہوسکتا ہے جنھوں نے ان کو الوہی درجہ دے رکھا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے سیاسی ماضی اور اُ س عہد کی سیاسی شخصیات کی جدو جہد کا جائزہ معروضی اور حقیقت پسندانہ انداز میں لیں تاکہ درست نتائج اخذ کیے جاسکیں۔

خود کانجی دوارکا داس کو اس حقیقت کا ادراک تھا یہی وجہ ہے کہ انھوں نے لکھا ہے کہ ’ میں ہر بات صاف صاف لکھتا ہوں نہ کسی کو خوش کرنے کی خاطر، نہ کسی کو ناراض کرنے کے لئے‘۔ اپنی کتابیں لکھتے وقت کانجی کو اپنی وہ یادداشتیں اور نوٹس بہت کام آئے جو وہ ہر روز ڈائری کی صورت لکھتے رہے تھے ۔ان کے پاس ایسے نوٹس کی تین سو کے قریب فائلیں تھیں جو انھوں نے پنسیلوینیا یونیورسٹی کی لائبریری کو دے دی تھیں۔

کانجی دوارکا داس نے اپنی دونوں کتابوں میں جناح کے بارے میں جو کچھ لکھا زیر نظر کتاب میں اس کو یکجا کرکے ترجمہ کیا گیا ہے۔ دوارکا داس نے جناح کی نہ صرف سیاسی زندگی بلکہ ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بھی دلچسپ معلومات اور تاثرات اپنی کتابوں میں رقم کئے ہیں۔ جناح کی سیاست، ان کی بطور وکیل پیشہ ورانہ لیاقت اور قابلیت کے حوالے سے بہت سا مواد چھپ چکا ہے لیکن ان کی ذاتی فائل کے بہت سے صفحات ابھی تک عام قاری کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ جو کچھ اب تک کچھ سامنے آ یا ہے اس بارے میں ان کے مداحین کا رویہ معذرت خواہانہ اور اکثر صورتوں میں انکار پر مبنی ہے۔

کانجی دوارکا داس پہلی دفعہ جناح سے کب اور کہاں ملے اس بارے میں لکھتے ہیں کہ ’جون1916بمبئی پریذیڈنسی ایسوسی ایشن کا ایک جلسہ ہورہا تھا ۔ جلسے میں حاضرین کی تعداد کل 25 تھی۔دو تین تقریریں ہوچکیں تو چھریرے بدن کا ایک مقرر کھڑا ہوا ،چیک ڈیزائن کی پتلون اور سیاو رنگ کا کوٹ پہنے، بالوں کی مانگ ایک طرف کو نکلی ہوئی، چہرے پر مونچھیں۔ جب تک یہ شخص بولتا رہا ، سب ہمہ تن گوش ہو کر اس کا ایک ایک لفظ سنتے رہے،اس کے انداز بیان میں خوش مزاجی تھی ،لہجہ صلح کن تھا مسئلے کو مختلف زاویوں سے پیش کرکے وہ درمیانی راہ نکالنا چاہتا تھا ۔

میں حیرا ن ہوکر سوچنے لگا یہ شخص کون ہے؟ ۔پی ۔کے تیلنگ میرے پاس بیٹھے تھے ۔میں نے ان سے دریافت کیا ، وہ تعجب سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولے’تم جناح کو نہیں جانتے؟‘میں نے جناح کا نام تو سنا تھا لیکن دیکھا کبھی نہ تھا ۔ ان کی عمر اس وقت 43سال تھی اور وہ بمبئی کے قانونی حلقوں میں اپنا نام پیدا کرچکے تھے ۔ان کی جرح اور بحث دونوں کی دھوم مچی ہوئی تھی ۔ علاوہ ازیں وہ مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے بھی کافی شہرت حاصل کر چکے تھے۔سیاسی میدان میں وہ سرو جنی نائیڈو کے دئیے گئے خطاب ’ ہندو مسلم اتحاد کی علامت‘ سے پہچانے جاتے تھے اور بعض لوگ انھیں’ مسلمانوں کا گوکھلے‘ بھی کہتے تھے۔ اس طرح دیکھا جائے تو وہ ہندوستان کی سیاست میں ’ گاندھی کا عہد ‘ شروع ہونے سے بہت پہلے یعنی 1916میں اپنا سیاسی مقام پیدا کر چکے تھے۔

جلسہ ختم ہوا تو تیلنگ نے ان سے یہ کہہ کر میر ا تعارف کرایا کہ میں مسز اینی بیسنٹ کی تھیاسوفی تحریک سے وابستہ ہوں اور سیاست میں دلچسپی رکھتا ہوں ۔جناح نے بڑے دل آویز انداز سے جھکتے ہوئے دوستانہ لہجے میں مشورہ دیا کہ اگر سیاست میں حصہ لینا ہو تو مجھے پورے انہماک اور خلوص کے ساتھ اس میں کام کرنا چاہیے۔ نصیحت کے اس فقرے کے ساتھ جناح سے میری دوستی کا آغاز ہوا ۔ اُسوقت میری عمر 24سال تھی ۔ہماری یہ دوستی ستمبر 1948میں ان کی وفات تک قائم رہی ‘۔

جناح کی پہلی شادی ایمی بائی کے ساتھ 16سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ان کی دلہن کی عمر 14سال تھی۔ جناح شادی کے فوری بعد اپنے باپ کے کاروبار ی پارٹنر کے ایما پر انگلستان چلے گئے۔ بوجوہ ان کے والد کا کاروبار زوال کا شکار ہوگیا اور جناح جس مقصد کے لئے انگلستان گئے تھے وہ پورا نہ ہوسکا لیکن انھوں نے ہندوستان واپس آنے کی بجائے بیرسٹری کا امتحان پاس کر لیا ۔جناح جب بیس سال کی عمر میں بیرسٹر بن کر واپس بمبئی آئے تو ان کی پہلی بیوی ان کی غیر موجودگی میں انتقال کر چکی تھیں۔

جناح کی دوسری شادی کے بارے میں دوارکا داس لکھتے ہیں کہ ’جس جلسے کا میں نے ذکر کیا ہے جناح اس میں غیر معمولی طور پر مسرور نظر آرہے تھے ۔اس مسرت کا سبب بعد معلوم ہوا کہ وہ گرمی کی دوماہ کی چھٹیاں دارجلنگ میں سر ڈنشا پیٹٹ اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ گزار کر لوٹے تھے اور وہیں اپنے میزبان کی سولہ سالہ بیٹی کے دام الفت میں گرفتار ہوگئے تھے۔جناح کی عمر اس وقت 43سال تھی‘۔

رتی کے نابالغ ہونے کی بنا پر عدالت سے اس کے باپ نے جناح کے خلاف حکم امتناعی بھی حاصل کیا تھا لیکن جو نہی رتی اٹھارہ برس کی ہوئی اس نے جناح سے شادی کرلی ۔کانجی دوارکا داس کہتے ہیں کہ رتی نے اسلام قبول کیا کیونکہ ان دنوں سول میرج کرنے کے لئے فریقین کو ایک ڈیکلریشن عدالت میں دینا پڑتا تھا کہ ان کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔جناح بمبئی سے مسلم نشست پر مرکزی اسمبلی کے رکن تھے لہذا وہ ایسا ڈیکلریشن نہیں دے سکتے تھے اور اگر دیتے تو انھیں اپنی نشست سے ہاتھ دھونا پڑتے چنانچہ رتی نے’ قربانی دیتے ہوئے اسلام قبول کر لیا ۔‘ جناح کی وصیت کے بارے میں بھی کانجی دوارکا داس کی اپنی توجیح ہے ان کا کہنا ہے کہ جناح نے اپنی وصیت میں علی گڑھ کالج کے لئے چھ لاکھ روپے کی رقم مختص کی تھی کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جناح کو ہندوستان کے بھارت اور پاکستان میں تقسیم ہونے کی ہرگز توقع نہیں تھی ؟۔

جناح کی بیوی رتی سے اپنی آخری ملا قات کے حوالے سے کانجی کہتے ہیں کہ جب میں آخری بار ملا تو میں نے ادھر ادھر کی باتیں کیں اور ’اچھا اب میں رات کو پھر ملوں گا ‘ کہہ کر ان سے رخصت ہونے لگا تو انھوں نے بڑی افسردگی سے جواب دیا ’ اگر زندہ رہی تو ورنہ دیکھو میری بلیوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنا ،کسی اور کو نہ دے دینا‘۔

جب رتی کا انتقال ہوا تو جناح مرکزی اسمبلی کے اجلاس میں مصروف تھے وہ بمشکل دو دن بعد بمبئی پہنچ پائے۔ تجہیز تکفین تک پورے پانچ گھنٹے میں جناح کے ساتھ رہا ۔میر ا خیال تھا کہ خود رتی دفن کئے جانے کی بجائے جلایا جانا پسند کرتیں ۔یہ بات میں نے جناح سے بھی کہی لیکن وہ نہ مانے اور اسلامی طریقے سے دفن کا انتظام کیا گیا ۔سارا وقت جناح بڑے ضبط اورہمت سے کام لیتے رہے۔کچھ دیر تو خاموش رہے پھر یکایک بڑی روانی سے اسمبلی کی کاروائیوں کاذکر کرنے لگے۔لیکن یہ بات چھپ نہیں رہی تھی کہ جناح کا دل رو رہا ہے اور وہ بے محل گفتگو چھیڑ کر اپنے جذبات کو چھپانے کی انتہائی کوشش کر رہے تھے۔

رتی کی موت نے جناح کوکس قدر متاثر کیا تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جناح جو شگفتہ مزاجی اور شائستگی کا نمونہ تھے اب ان کی شخصیت میں انانیت کی دراڑیں پڑنے لگی تھیں ۔اگر کسی نے غلطی سے یا غیر ارادی طور پر کوئی ایسی بات کر دی جو انھیں ناگوار گذری تو انھوں نے اُسے کبھی معاف نہیں کیا ۔رتی کی مو ت کا اثر ان پر غیر معمولی حد تک پڑ ا تھا ۔ رتی گو عملی سیاست سے علیحدہ رہیں لیکن جناح کی زندگی میں بیحد معاون تھیں۔ جناح کو قوم پرست رکھنے میں رتی کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔

کانجی دوراکا داس کہتے ہیں کہ کچھ لوگ جناح کے بارے میں یہ افواہیں پھیلاتے تھے کہ وہ بد دماغ ہیں اور اپنے مقابل سے ان کا رویہ نا مناسب ہوتا ہے ۔حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا ۔ ان کے مطابق’ جناح دراز قد اور اپنی لمبی ٹانگوں کی وجہ سے ہمیشہ پیروں کو آگے کرکے بیٹھا کرتے تھے اور مسلسل سگریٹ پینے کے عادی تھے ۔ ان کی ان عادات کی وجہ سے کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جناح نخوت کا اظہار کرتے ہیں ‘۔

جناح کا نظریہ پاکستان کیا تھا اس کےخد و خال انھوں نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بیان کردیئے تھے ۔ ان کے نزدیک وہ ایک ایسا پاکستان چاہتے تھے جس کے تمام شہری بلا لحاظ مذہب مساوی آئینی اور قانونی حقوق رکھتے ہوں اور جس میں مذہب کے نام پر شہریوں میں کوئی تفریق نہ ہو ۔ کانجی دوارکا داس جناح کے اس تصور پاکستان کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’جناح نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ان کے پاکستان کا مقصد پین اسلامزم ہرگز نہیں ہے۔وہ پاکستان کو ہندوستان کی جغرافیائی حدود کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ امور خارجہ کے معاملے ہندوستان اور پاکستان مل جل کر کام کیا کریں۔

حقیقت میں جناح نہ تو پاکستان جانا چاہتے تھے نہ وہاں مستقل سکونت اختیار کرنا چاہتے تھے اور نہ آزاد مملکت پاکستان کے سربراہ بننے کا خواب دیکھ رہے تھے‘۔کانجی کا موقف ہے کہ پاکستان جناح کی خواہش پر نہیں کانگریس کی ہٹ دھرمی کی بنا پر وجود میں آیا ۔ جناح ہندوستان کے وفاق میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے آئینی حقوق کا تحفظ چاہتے تھے لیکن کانگریس نے ان سے اس ضمن میں تعاون نہ کیا جس پر جناح پاکستان اور تقسیم ہند کے موقف پر ڈٹ گئے ۔

کانجی کہتے ہیں کہ میں نے جناح سے مجوزہ پاکستان کی تفصیل کے حوالے سے سوالات کئے تو انھوں نے بڑی حسرت سے جواب دیا ’ مائی ڈئیر کانجی ۔ میں کانگریس کی طرف سے ایک اشارہ چاہتا تھا ، صرف ایک دوستانہ اشارہ لیکن مجھے وہ بھی حاصل نہ ہوا ۔اگر یہ اشارہ مل جاتا تو ہمارے مسائل کا حل ہوجانا کوئی دشوار بات نہیں تھی ۔ میر اخیال ہے کہ جناح اپنے آپ کو کمزور اور متزلزل محسوس کرنے لگے تھے۔۔اس لئے معقول اور مناسب شرطوں پر وہ کانگریس سے سمجھوتہ کرنے پر مائل نظر آتے تھے‘۔

جناح کو 1945 تک اس کا یقین نہیں تھا کہ ان کا مطلوبہ پاکستان انہیں مل جائے گا یہی وجہ ہے کہ انھوں نے لاکھوں روپے خرچ کرکے بمبئی میں اپنے بنگلے کی تزئین و آرائش کی تھی۔ کانجی لکھتے ہیں کہ 5نومبر1945کو دیوالی تھی۔ میں وقت مقرر کئے بغیر اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر جناح کے یہاں دیوالی مبارک کہنے کے لئے پہنچ گیا ۔انھوں نے اپنے نئے بنے ہوئے بنگلے کی پہلی منزل پر بلا لیا ۔میں ان سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اگر واقعی وہ پاکستان چاہتے تھے اور اس کے حصول کا انہیں یقین تھا تو پھر پرانے مکان کی ازسر نو تعمیر پر کئی لاکھ روپے خرچ کرنے کے کیا معنی تھے؟

مارچ 1943میں انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ اس پرانے مکان کو فروخت کرنا چاہتے تھے لیکن جتنی قیمت وہ چا ہتے تھے اتنی نہیں ملی اس لئے انہوں نے مکان فروخت کرنے کا خیال ترک کر دیا تھا اس کے بعد پھر اتنی بڑی رقم کا خرچ کرنا کیا اس بات کا اشارہ نہیں تھا کہ وہ پاکستان کے وجود میں آجانے پر یقین کامل نہیں رکھتے تھے؟نومبر 1945تک جناح کا اس بنگلے کو چھوڑ کر کراچی میں جا بسنے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں تھا ‘۔

کانجی دوارکا داس کا موقف ہے کہ جناح پاکستان قطعاً نہیں چاہتے تھے۔ 1946تک وہ متحدہ ہندوستان کے لئے کام کرنے کو تیار تھے۔ کانجی کے خیال میں پاکستان کا مطالبہ پیش کرکے وہ مسلمانوں کے زیادہ سے زیادہ حقوق و مراعات حاصل کرنا چاہتے تھے۔

کانجی دوارکا داس کی یہ کتاب جناح کی سیاست اور شخصیت کی ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جو ہمارے ریاستی بیانئے اور درسی کتابوں میں موجود جناح کی تصویر سے قطعی مختلف ہے ۔ جناح اس کتاب میں ایک جیتے جاگتے اور متحرک شخص اور سیاست دان نظر آتے ہیں۔ ایک ایسی شخصیت جو عشق کرتی ہے ، بیوی کی وفات پر اداس اور غم زدہ ہوتی اور سیاست میں سمجھوتوں اور لچک پر یقین رکھتی ہے۔ ایک عملی انسان جو حوادث سے متاثر ہوتا ہے اور جو بدلتی ہوئی صورت حال میں اپنی راہ عمل بدلنے پر یقین رکھتا ہے ۔

کتاب: قائد اعظم 
مصنف: کانجی دوارکا داس 
اردو ترجمہ : شہاب الدین دسنوی 
ناشر: فکشن ہاؤس لاہور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *