میٹرو میں آئیو آنڈرچ

جنید الدین


اس کے باوجود کہ لاہور میں مینار پاکستان، شاہی قلعہ،شاہی مسجد، عجائب گھر اور چڑیا گھر واقع ہیں ہمارے بزرگ لاہور کا ذکر داتا دربار سے کرتے تھے۔ انہیں اس کے علاوہ کسی سے غرض نہیں تھی۔

ہاں مگر یہ کچھ سال پہلے کی باتیں ہیں۔ اب میٹرو نے اسکی جگہ لے لی ہے۔ اب کسی صورتحال کا اندازہ اس کے میٹرو سے تعلق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اب لوگ میٹرو پر چڑھتے داتا صاحب کو سلام کر کے آگے چلے جاتے ہیں۔ ایک ہاتھ ماتھے پر رکھے سر کو ہلکا سا جھکاتے، مشرقی تعظیم کے انداز سے بھرپور۔ 

داتا صاحب مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں۔ سچا صوفی سب سمجھتا ہے۔

سکھر اگر روہڑی سے قدیم ہے تو میں غلط ہوں کہ شہر دریا کے بہاؤ سے بائیں جانب بستے ہیں۔ 

میٹرو بس کے علاوہ گائیڈ بھی ہے۔ کسی بھی مقامی شہری یا غیر مقامی سیاح کیلئے۔

آئیو آنڈرچ نے انتظار کیا کہ درینہ کے پل سے متاثر ہوئے میٹرو پر بھی لکھا جائے گا۔ لیکن افسوس۔ آئیو آنڈرچ غلط تھا۔ اس نے خود یہاں آ کر دیکھنے اور لکھنے کا فیصلہ کیا۔ تمام معلومات ہوٹل میں رہ جانیوالی اس کی ڈائری سے لی گئی ہیں۔

اس نے شاہدرہ سے گجومتہ تک سفر کیا۔ رش زیادہ ہونے کے باعث اسے اکثر جگہ پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کہ کل کتنے اسٹیشن ہیں۔ اس نے پھر بھی درست لکھے۔ پورے ستائیس اسٹیشن۔ 
وہ واپسی پر دونوں راستوں کے بیچ چوک کے سرے پر واقع ہوٹل تک آیا۔

سوموار کے باعث اسے طویل انتظار کرنا پڑا۔ اس نے کارڈ خریدا اور نوبل انعام سے حاصل رقم کا تین فیصد ڈلوا لیا۔ اسے لگا کہ اگر ڈارون زندہ ہوتا تو سیٹ کے حصول کی خاطر نظریہ ارتقاء کا عملی مظاہرہ دیکھ سکتا۔  وہ ہر اسٹیشن پر اترا۔ سب ویز کو دیکھا۔ خاکروبوں کو صفائی کرتے، کھانا کھاتے اور گھٹیا موسیقی سنتے۔ اور کہیں لمبی لائنوں میں لگے لوگوں کو۔

اسے کوئی میجر اسٹرنگز نہیں دکھا، مایانک آسٹن صوفی یا کچھ بھی ویسا جو ایسے مقامات کی پہچان ہوتی ہے۔

بس میں طلبا و دیگر میں فرق نہیں، سوائے حلیے کہ جو کہیں بھی قابل ذکر نہیں ہوتا۔ بحث کے موضوعات بھی یکساں۔ مفروضوں پر مبنی بحثیں اور دھوکے بازی سے مزین واقعات۔ ہاتھ فاکنر اور جیک لندن کی کتابوں سے خالی، انگلیاں نظم لکھنے کی بجائے سماجی ویب سائٹس کو اوپر نیچے کرتیں۔ لوگ مشرق سے بیٹھ کر مغرب کی طرف آتے اور شام کو واپس لوٹتے۔ شروع سے آخر اور برعکس۔

نیچے اترتے اس نے میٹرو کو کسی بانجھ کی طرح دیکھا جس کی سزا صرف زندہ رہنا لکھ دی گئی ہو۔

رات اس نے ڈائری نکالی اور جو یہاں لکھا ہے ایک صفحہ پر لکھا اور ساری یہاں کچھ بھی قابل ذکر نہیں ہے لکھتے ختم کر دی۔

اگلے دن سوائے ڈائری کے کچھ برآمد نہیں ہوا۔ داخلے کے صفحات پھٹے پڑے تھے۔ فارینزک سے سگنیچر سکین کے ذریعہ پتہ لگایا گیا کہ یہاں کون رکا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *