حمیدہ کھوڑو: نامور مورخ اور موقع پرست سیاست دان 

لیاقت علی

اتوار12فروری کو نامورمورخ اور سیاست دان حمیدہ کھوڑو 81سال کی عمرمیں انتقال کرگئیں۔ وہ قیام پاکستان کے بعد سندھ کے پہلے وزیر اعلی ایوب کھوڑو کی بیٹی تھیں۔حمیدہ کھوڑو کا تعلق لاڑکانہ کی کھوڑو فیملی سے تھا ۔

سندھ کے بڑے سیاسی خاندان کھوڑو، بھٹو، قاضی اور چانڈیوکا تعلق لاڑکانہ سے ہے۔ حمیدہ کھوڑو کے والد قیام پاکستا ن کے فوری بعد بانی پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ ان اختلافات کا باعث جناح کا کراچی سے علیحدہ کرکے وفاقی دارالحکومت بنا نے کا فیصلہ تھا۔ کھوڑو اس فیصلے کے خلاف تھے۔

جناح نے ایوب کھوڑو کو اپنے حکم کی عدم عدولی کی سزا ان کی صوبائی وزارت سے برطرف کر نے کی صورت میں دی۔ محترمہ حمیدہ کھوڑو نے اپنے ابتدائی سالوں میں سیاست کی بجائے تعلیم پر مرکوز رکھی۔ انھوں نے اعلیٰ تعلیم آکسفورڈسے حاصل کی اور تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔

ان کی خصوصی دلچسپی نوآبادیاتی عہد کے سندھ میں تھی۔ انھوں نے سندھ کی سیاست، معیشت اور انتظامی ڈھانچے پر کلونیل ازم کے اثرات کا مطالعہ کیا تھا۔ انھوں نے سندھ کے بارے میں متعدد کتابیں مرتب کی تھیں۔ بطور مورخ محترمہ حمیدہ کھوڑو کی شخصیت بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھی اور انھوں نے یہ مقام اپنےتاریخ کے حوالے سے اپنے معروضی نکتہ نظر کی بدولت حاصل کیا تھا ۔

حمیدہ کھوڑو علمی میدان میں جتنی قد آور تھیں سیاست میں اتنی ہی ناکام اور موقع پرست تھیں۔ 1970کے انتخابات میں ان کے والد کو بھٹو نے لاڑکانہ سے شکست دی تھی۔ کھوڑو چونکہ لارکانہ کواپنا سیاسی قلعہ سمجھتے تھے اس لئے اپنے والد کی شکست کو حمیدہ کھوڑو نے کبھی تسلیم نہ کیا اور اس وجہ سے ہمیشہ پی پی پی کی مخالف سیاسی قوتوں کی ہمراہی میں سیاسی میدان میں سر گرم رہیں۔

انھوں نے جنرل ضیا الحق کا ساتھ دیا اور ایم آرڈی یعنی تحریک بحالی جمہوریت سے فاصلے رکھا کہ مبادا انھیں پیپلز پارٹی کا حمایتی نہ سمجھ لیا جائے۔ جب غلام اسحاق خان نے جام صادق علی کو سندھ کی وزارت اعلیٰ سونپی تو محترمہ حمیدہ کھوڑو اس کی وزارت میں وزیر تعلیم بن گئیں۔

انھوں نے جنرل پرویز مشرف کی حمایت کی اور ق لیگ کی ٹکٹ پر عورتوں کے لئے مخصوص نشست پر رکن منتخب ہوکر ایک دفعہ پھر صوبا ئی وزیر تعلیم بن گئیں۔ انھوں نے جئے سندھ محاذ اور دیگر سندھی قوم پرست تنظیموں میں بھی شمولیت اختیار کی اور نواز شریف اور جی ایم سید کے مابین تعلقات استوار کرانے کی بھی کوششیں کیں لیکن وہ سید کو قائل کرنے میں ناکام رہیں۔

وہ تار یخی حقائق سے آگاہ ضرور تھیں مگر عوام کے مطالبات اور ان کی خواہشوں اور امنگوں سے انھیں کوئی واسطہ نہیں تھا ۔ وہ سندھ میں فیوڈل سیاست کو درست تسلیم کرتے ہوئے ایسے افراد اور تنظیموں سے تعلقات بناتی رہیں جو سندھی عوام کے حقیقی مطالبات کے مخالف اور دشمن تھیں اور ہیں۔

وہ نامور مورخ ضرور تھیں لیکن موقع پرست سیاست دان بھی تھیں۔

 ♥

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *