فتح کا فتویٰ

خالد تھتھال

طارق فتح ایک پاکستانی نژاد کینیڈین ہیں۔ سیکولر خیالات کے حامل ہونے کے علاوہ وہ چند کتابوں کے مولف بھی ہیں، جن میں خاصی مقبول

chasing a mirage

کتاب ہے۔ جس کا اردو ترجمہ مشعل بکس کے ہاں دستیاب ہے۔

طارق فتح ماضی میں بائیں بازو کی سیاست سے منسلک ہونے کے علاوہ بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریک کے بہت بڑے حامی ہیں۔

طارق آج کل بھارتی چینل زی ٹی وی سے فتح کا فتویٰنامی پروگرام کی میزبانی کر رہے ہیں، جس میں وہ مخلتف متنازعہ موضوعات کو زیر بحث لاتے ہیں، وہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینا، مسلم خواتین کو تین بار طلاق طلاق طلاق کہہ کر طلاق دینے اور برقعہ اوڑھنے جیسےاسلامی شعائر پر سخت تنقید کرتے ہیں۔

بھارت جیسے سیکولر ملک میں طارق فتح کی سیکولر باتیں مسلمان علماء سے ہضم نہیں ہو پا رہیں۔ جس کا اظہار دوران پروگرام بھی ہوتا ہے۔ کئی بار باتیں اور سوال جواب اتنے تلخ ہو جاتے ہیں کہ گمان ہونے لگتا ہے کہ ابھی گالم گلوچ یا ہاتھا پائی شروع ہو جائے گی ۔ انہیں متنازع موضوعات کی وجہ سے کافی مسلمان علماء اس پروگرام کو بند کروانے کے علاوہ طارق فتح کے خلاف قتل کا فتوی ٰ بھی دے رہے ہیں ۔

اسی سلسلہ میں بریلی میں موجود آل انڈیا فیضان مدینہ کونسلکے سربراہ معین صدیقی نے طارق فتح کو قتل کرنے والے قاتل کو دس لاکھ سات سو چھیاسی روپے بطور انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ معین صدیقی کے بقول طارق فتح کا پروگرام غیر اسلامی نظریات کا پرچارک ہے۔

آل انڈیا فیضان مدینہ کونسل نے فتح کا فتویٰ کو ایک دم سے بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے۔ طارق فتح معاشرے کے اندر ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی کو ختم کرنے کیلئے سازشیں کر رہے ہیں۔ انہیں ہر قیمت پر روکا جانا چاہیئے۔ ہماری جماعت اس آدمی کو دس لاکھ سات سو چھیاسی روپے بطور انعام دے گی جوطارق فتح کو قتل کرے گا۔

معین صدیقی نے مزید کہا۔ ان کے پروگرام کو ہمارے ملک کے بیرونی دشمنوں کی مالی معاونت حاصل ہے، ہماری حکومت کو چاہیئے کہ وہ طارق فتح کے خلاف تفتیش شروع کریں۔

معین قریشی کا کہنا ہے اس پروگرام میں وہ برقعہ پہننے کی ضرورت سے انکار کرنے کے علاوہ تین طلاقوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کو ان کی باتوں پر کان نہیں دھرنے چاہیئے، بلکہ ان کی مخالفت میں سامنے آنا چاہیئے۔معین صدیقی نے دوسری اسلامی جماعتوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ طارق فتح کے خلاف آواز اٹھائیں۔

درگاہ اعلیٰ حضرت کے زیر اہتمام چلنے والی جماعت رضائے مصطفیٰنامی سماجی تنظیم کے رہنما ناصر قریشی نے صدر پرناب مکرجی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ اس پروگرام کو بند کرنے کے علاوہ طارق فتح کو ملک بدر کر دیا جائے۔

ناصر قریشی نے پروگرام کے نام فتح کا فتویٰکے نام پر تنقید کرتے ہوئے کہا۔ فتویٰ ایک مذہبی حق ہے جسے کوئی مستند اسلامی عالم ہی جاری کر سکتا ہے۔ فتح نہ ہی عالم ہیں اور نہ ہی انہیں قرآنی تعلیمات سے آگاہی ہے۔ ان کے پروگرام نے اسلام کے ماننے والوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

آل انڈیا فیضان مدینہ کونسلاور جماعت رضائے مصطفیٰنے مل کر مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس چینل کو فوری طور پر بند کر دے جس سے یہ پروگرام نشر ہو رہا ہے۔

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    طارق فتح صاحب مبینہ طور پر یہ جارحانہ اور گستاخانہ اندازِ گفتگو اپنانے پر کیوں مجبور ہوئے؟ سوچنے کی بات ہے۔ یہ تو واقعی درست ہے کہ طارق فتح کوئی مستند(پروفیشنل) مذہبی عالم یامفتی نہیں لیکن نام نہاد”مستند اسلامی “عالموں کے اس قسم کے “مصدقہ “فتاویٰ کہ “زاغِ کلاں (کوا)حلال ہے۔بیوی کے دودھ کی چائے مہمانوں کو پلائی جاسکتی ہے۔سمندر میں نہاتے ہوئے مچھلی سے غیر ارادی طورپر جماع کرنے سے روزہ ٹوٹتا نہیں صرف مکروہ ہوتا ہے۔ فلاں فلاں تعداد میں متعہ کرنے سے ایک “مومن” نعوذ باللہ حسن حسین بلکہ علی کے مقام پر بھی متمکن ہو سکتا ہے۔رمضان میں ماڈل گرل کے ساتھ تنہائی میں سیلفی لینا حالت اضطرار میں جائزہے۔دین کی خاطر جھوٹ بولا جاسکتا ہے۔ٹوتھ برش،ٹیلی فون،فوٹو ،ہوائی جہاز ،ٹرین،آنکھ کا آپریشن اور نجانے کیا کیا حرام ہے ” وغیرہ وغیرہ ہزار ہا فتاویٰ ہیں جو “مستند علماء” نے عقلاً نقلاً اور عملاً صادر فرما فرما کر دین کو کچھ سے کچھ بنا دیا ہے۔
    احادیث کے مطابق ایک زمانہ ایسا آئے گا جب دین کا محض نام رہ جائے گا۔مساجد پر رونق لیکن ہدایت سے خالی ہونگی اور ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہونگے۔انہی سے فتنے اٹھیں گے اور ان پر ہی ان کا اختتام ہو گا۔لوگ اپنے مسائل لیکر ان علماء کے پاس جائیں گے تو وہ انہیں بندروں اور خنزیروں کی مانند پائیں گے۔اس زمانہ میں یہ پیشگوئی بڑی صفائی سے پوری ہو چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *