شرمساری اور خلش پر مبنی ذلتیں

سبط حسن


انجیل کے عہد نامۂ قدیم کے مطابق جب آدم اور حوا نے ’’علم کا پھل‘‘ کھایا تو وہ ننگ دھڑنگ ہوگئے۔اس ننگ دھڑنگ پر انہیں شرم بھی آئی۔ اس قصے کی تفسیر مختلف دانشوروں نے اس طرح کی ہے: باغ عدن میں قدرت کی پیدا کردہ نعمتیں اپنی قدرتی شکل میں میسر تھیں۔ غالباً یہ زمانہ پھل سبزیاں کھانے سے متعلق تھا۔ فطرت سے قُرب اور کسی قسم کے فکر واندیشے سے قطع نظر، ایک بھرپور لطف اور شانتی کا دور تھا۔ جب ایک علاقے میں پھل وسبزیاں ختم ہوگئے تو اندیشے اور فکر کی گنجائش پیدا ہوگئی۔

آدم، جو بنی نوع انسان کے لیے استعارہ ہے، نے وہ بننے کا ارادہ کرلیا جو وہ پہلے نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے حقیقی وجود کی طرف لوٹ آیا۔ وہ اپنی اصلیت کی طرف چلا آیا جس کو علامتی طور پر ننگ دھڑنگ ہونے سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ فطرت کو جاننے کی ابتداء تھی۔ فطرت کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی طرف پیش قدمی تھی۔ اس پیش قدمی میں نیاز مندی اور عاجزی تھی، اس لئے انسان کو شرم بھی محسوس ہوئی۔ یہاں شرمساری، کم مائیگی کے باعث پیدا ہوئی جو فطری جذبہ تھا اور اس کی بدولت کوئی بھی فردسیکھتا ہے اور اپنی ذات کی دریافت کرسکتا ہے۔ شرمساری کا ایسا احساس مثبت ہے۔

دوسری جانب شرمساری کو کنٹرول اور زہر آلود تعلیم وتربیت کے فروغ کے لئے بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ شرمساری کا ایک نظام ہے جو وسیع تر مذہبی اور سماجی جبر کا اٹوٹ حصہ ہے۔ شرمساری کا یہ نظام رویوں کو مخصوص سانچوں میں ڈھالنے کا ذریعہ ہے۔ ہر شرمساری کے عمل میں ایک شرمسار کرنے والا ہوتا ہے جو دراصل اسی مذہبی وسماجی جبر کا ایجنٹ ہوتا ہے۔ جس فرد کو شرمسار کیا جاتا ہے، اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسے منفی حربوں مثلاً خیالات اور جذبات کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے کردارمیں تبدیلی پیدا کرے۔

اسی طرح شرمسار ہونے والے کو اپنے رویوں اور کردار کے بارے میں منفی تاثرقبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ایسا کرتے ہوئے ان کے کردار یا برتاؤ کے اثر کی تشریح سے گریز کیا جاتا ہے۔ تشریح کرنے کی صورت میں کسی قسم کے کردار یا برتاؤ کے اچھے یا بُرے ہونے کی واضح دلیل او رجواز مل سکتا ہے جبکہ شرمساری کے عمل میں منفی جذبات کی ترسیل اور ان کے ذریعے ایک مخفی یا واضح بے عزتی کا ابلاغ حقیقی مقصد ہوتا ہے۔ وضاحت کے لئے یہ مثالیں ملاحظہ کریں:

۔1۔ طعنہ زنی:’’ کسی کی معاشی یا سماجی حیثیت پر فقرہ کسنا مثلاً تم اپنی اوقات میں رہتے تو اچھا تھا۔۔۔‘‘۔
۔2۔اخلاقی درس دینا:’’بچو ! تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے، اس سے استاد کی عزت پر حرف آتا ہے‘‘۔
۔3۔عمر سے متعلق ریمارکس:’’ تم بزرگ ہوکر بھی بچوں جیسی حرکتیں کررہے ہو۔۔۔!‘‘۔
۔4۔ جنسی تفریق:’’اب عورتوں کی طرح رونا بند کرو!‘‘۔
۔5۔استطاعت یا قابلیت سے متعلق ریمارکس:’’اوئے تمہارے پاس پیسے نہیں تھے تو ایسی بڑ مارنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔!‘‘۔
۔6۔مقابلہ بازی:’’تمہیں فلاں شخص کی طرح ہونا چاہئے‘‘۔

عام طور پر اتھارٹی کی جگہ پر بیٹھے افراد، اپنی اتھارٹی کے زیر اثر آنے والے افراد کو شرمساری کے زہر کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس کا شکار عام طور پر بچے اور خواتین بنتی ہیں۔ بچوں میں شرمسار ہونے کا جذبہ قریباً دو سال کی عمر میں پیدا ہوجاتا ہے۔ شرمساری کا یہ احساس ان کی اپنی ذات کی خود آگاہی سے منسلک ہوتا ہے۔ عمومی طور پر والدین اپنی ناکامیوں اور خفتوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے بچوں کو زہر تھوکنے والا برتن(اگالدان) سمجھ لیتے ہیں۔ وہ غصہ نکالنے کے لئے شرمساری کا طریقہ استعمال کرتے ہیں اور ایسا کرنے سے انہیں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔

دوسری جانب بچے کے ساتھ شرمساری کا تماشا کرنے سے خودشناسیکے ایسے حصار پیدا ہوجاتے ہیں کہ بچہ انہی اذیت ناک نفرتوں کو ہی اپنی پہچان بنالیتا ہے۔ جب بچے کے جذبات کی وقعت نہ کی جائے تو وہ اپنے آپ کو غیر اہم اور کسی کام جوگانہیں سمجھتا۔ اگر انہی شرمساریوں کو بہت گہرائی سے محسوس کرلیا جائے تو واقعتا ہمارے ہاں پرورش پانے والا روایتی عورت کا کردار پیدا ہوجاتا ہے۔ ایسی عورت جو مکمل طور پر اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتی ہے۔ اس کے ذہن میں خودشناسی سے متعلق جو یادیں محفوظ ہیں، ان میں زیادہ تر شرمساریاں ہی ہیں۔ اس کا دِل چاہتا ہے کہ وہ گانا گائے مگر گانے سے متعلق اس کے ذہن میں محفوظ شرمساری اسے منع کردیتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بچپن میں اس نے گانے کی کوشش کی ہو اور اس کی ماں یا کسی اور نے اس کو شرمسار کردیا ہو۔ اس طرح شرمساری’’اندر سے اٹھنے والی ایک آواز‘‘ کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ یہ آواز کوئی بھی دِل خوش کن کام کرنے سے روکتی ہے۔۔۔’’بے وقوف نہ بنو، بھلا ایسے بھی کوئی کرتا ہے۔۔۔ ایسا کرتے ہوئے تم زمین میں کیوں نہ گڑھ گئے۔۔۔‘‘

بچے میں قدرتی طور پر جوش اور زندگی کی قوت ہوتی ہے۔ اس جوش اور قوت کا اظہار کسی قاعدے یا سانچے کی بجائے کھلے طور پر کسی حد کے بغیر ہوتو اس کی بے ساختگی اور قدرتی پن برقرار رہتا ہے۔ زندگی میں لطافت انہی رویوں کے باعث ہی ممکن ہوتی ہے وگرنہ زندگی گوشت کی دکان بن جاتی ہے۔ جہاں زندگی کی بے ساختگی تو کیا، زندگی کا کلی وجود بھی میسر نہیں ہوتا۔ جو بچے مسلسل شرمساری کا شکار رہتے ہیں، وہ ’’برابچہ، شرارتی‘‘ کے القابات سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو اچھا بچہ ثابت کرتے میں جُت جاتے ہیں۔ایسے میں ان کا قدرتی پن اور شخصیت کا خالص پن ختم ہوجاتا ہے۔ وہ ایک جعلی شخصیت یا جعلی شخصیت کے عناصرکو ہی حقیقی سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔

واضح رہے کہ جعلی شخصیت ہو یا جعلی نوٹ، دونوں کو حقیقی ثابت کرنے کے لئے ملمع کاری یا فراڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب شرمساریوں کا سلسلہ مسلسل اور زندگی کے معمولی یا بڑے معاملے میں گتھا ہوتو حقیقی شخصیت کا نشان بھی نہیں ملتا۔ صرف ادھورے پن کا احساس مسلسل ہر بات، ہر کام اورہر آرزو کے ساتھ چپک جاتا ہے کیونکہ شرمساریوں کی اساس پر سنوری شخصیت میں بہر طور جذبات کند اور منجمد ہوجاتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتو بھی عدم سلامتی، مخاصمت یا غصے کے سونامی آتے رہتے ہیں۔

شرمساریوں پر مبنی شخصیت کا سرچشمہ ذات سے باہر، شرمسار کرنے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ شرمسار کرنے والا، شرمساری کے اس کھیل میں واضح دلیل وثبوت دینے کی بجائے اپنے شکار پر ایک لیبل چسپاں کردیتا ہے۔’’تم شرارتی بچے ہو۔۔۔!‘‘ ’’تم ہڈدھرم ہو!‘‘۔۔۔ مگر وہ شرارتی یا ہڈ دھرم ہونے کی وجوہات یا شہادت فراہم نہیں کرتا۔ اس صورتحال کا شکار ہونے والا بچہ وجوہات جانے بغیر محض اپنے اندر ناکامی اور بے بسی کا الجھاؤ سامحسوس کرتا ہے۔ اس طرح اس کے جذبات کی تربیت قدرتی انداز میں نہیں ہوپاتی۔

ایسے بچے دوسروں سے رشتہ قائم کرنے یا دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے سے عاری ہوجاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنی ذات کا ابلاغ، اس پر لگے لیبل سے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ضروری نہیں کہ ذات کی خصوصیات ، اس پر لگے لیبل سے مطابقت رکھتی ہوں۔ مثال کے طور پر پہلے زمانوں میں کسی فرد کی پاکیزگی اس کے دنیاوی معاملات اور لوگوں سے تعلق کی بنیاد پر سمجھی اور پرکھی جاتی تھی، اب یہ سب کرنا ضروری نہیں، اس پر ایسے لیبل چسپاں کرنے ضروری ہیں، جن کو’’پاکیزگی‘‘ کی سند حاصل ہو۔

شرمساری سے نسبت یا تحریک فرد سے باہر کسی شرمسار کرنے والے کے ساتھ منسلک ہوتی ہے جبکہ خلش کا تعلق ذات کے اندر ہوتا ہے۔ شرمساری کے عمل میں اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ذاتی نقائص یا عیب منکشف نہ ہوجائیں مگر خلش کا بچھوایسے معیار اور اہداف کو حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو خود کسی شخص نے طے کیے ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ اجتماعیت پسند، روایتی یا مذہبی معاشروں میں ایک فرد ایک اکائی کے طور پر کرداری اہداف مقرر کرتا ہوا اور ان کو حاصل کرتا ہوا نظر تو ضرور آتا ہے مگر دراصل وہ جبر کے تربیتی نظام کے تحت انہی اہداف کو ہی اپنا نصب العین سمجھتا ہے جن کا تقاضا، وہ نظام کرتا ہے۔ مثال کے طور پر شرمساری پر مبنی تربیت میں جواہداف حاصل ہوتے ہیں وہ انفرادی سطح پر خلش کی صورت میں کسی بھی شخص کے اندر ریگولیٹر کا کام کرتے ہیں۔ اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ضمیر، دراصل انہی اجتماعی خواہشات یا پاگل پن کا انفرادی ریگولیٹر ہوتا ہے۔

شرمساری او رخلش کے درمیان متحرک تعلق کی بنیاد پر انفرادی شرمساریوں اورخلشوں کی توسیع اجتماعی سطح تک جاپہنچتی ہے۔ مثال کے طو رپر نازیوں کے ظلم وستم کے باعث جنگ عظیم دوم کے بعد جرمن قوم ایک اجتماعی شرمساری کا شکاربنادی گئی۔ جاپان کو شرمساری کا کلچر کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں کردار کا سرچشمہ اجتماعی اور خارجی عناصر پر منحصر ہوتا ہے۔ وہ معاشرے جنہوں نے انفرادیت پسندی کو معاشرتی اساس مان لیا، وہاں خلش پر مبنی کلچر ہے۔ مگر مارکیٹ اکانومی کے زیر اثر فرد کی شرمساریوں کو بذریعہ اشتہارات اس طرح گھڑا جاتا ہے کہ کسی چیز کے نہ ہونے سے ایسے خلش محسوس ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اس میں کسی پس ماندہ قوم کے لئے پیدا ہونے والے احساسات اور خلش کو بھی مارکیٹ اکانومی اپنے فائدے میں استعمال کرلیتی ہے۔ اس کے لئے بڑی بڑی کمپنیاں سکیمیں نکالتی ہیں کہ آپ ان کی مصنوعات خریدیں، ان مصنوعات کی قیمت میں سے اتنے فیصد ایتھوپیا کے پناہ گزینوں کے لئے امداد میں شامل ہوجائے گا۔

کوئی بھی شخص اس طرح اپنی خلش سے بچنے کے لئے اور ساتھیوں کی شرمساری سے بچاؤ کے لئے، وہ مصنوعات خریدتا ہے۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ قدیم وجدید مذہبی نظامات ہوں یا جدید مارکیٹ اکانومی دونوں کو چلانے کے لئے شرمساری/خلش کی تربیت نہایت کار آمد ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *