ریاست:نظریات و خیالات ۔ دوسراحصہ

بیرسٹر حمید باشانی

میں نے پچھلے کالم میں عرض کیا تھا کہ مغرب کی تیز رفتار ترقی کا رازدو چیزوں میں مضمر تھا۔چرچ کی ریاست سے علیحدگی اور سائنسی شعور کا آغاز۔ ظاہر ہے ترقی کوئی حادثاتی چیز نہیں ہے۔ یہ ایک سلسلہ عمل کا نام ہے۔ اس سلسلہ عمل کے پیچھے کئی گھمبیر اور پیچیدہ عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ مگر ترقی کا اب کوئی راز باقی نہیں ہے۔ سارے راز مدت سے آشکارا ہو چکے ہیں۔

ہم پسماندہ اس لیے ہیں کے ہم میں ترقی کی خواہش نہیں ہے۔ ہمارا یہ تصور غلط ہے کہ ہم میں یہ خواہش موجود ہے۔ اگر ہم میں ترقی کی خواہش موجود ہو تو کوئی چیز ہمیں ترقی کرنے سے نہیں روک سکتی۔ترقی کی خواہش کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کے ہم ان چیزوں سے نفرت کرتے ہیں جو ہماری ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہو تی ہیں ۔ پھر ہم ان چیزوں کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

مگر جیساکے ہم ٓاگے چل کر دیکھیں گے کے ہم ان چیزوں کو پسند کرتے ہیں جو حقیقت میں ہماری ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کے ترقی یافتہ قوموں نے ترقی کیسے کی۔اس عمل کا آغاز کس نقطے سے کیا۔ اور انکو ترقی کی کتنی شدید خواہش تھی ؟ 

اس کہانی کا آغاز سائنسی انقلاب سے ہوتا ہے۔ یورپ میں سترویں اور اٹھارویں صدی کے دوران جتنی بھی تبدیلیاں آئیں ان میں سب سے زیادہ موثر تبدیلی یہ ہی تھی۔ یہ سائنسی انقلاب صرف قدرتی سائنس اور ٹیکنالوجی تک ہی محدود نہیں تھا۔اس انقلاب سے یورپ کی سوچ کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی آئی۔یہ اانقلاب دراصل کئی چھوٹے چھوٹے انقلابوں کا مجموعہ تھا۔اس انقلاب کے بعد یورپ میں اس سوچ نے جڑ پکڑی کے یہ دنیا دراصل ایک مشین کی طرح کام کرتی ہے۔

اس تبدیلی نے زندگی کے بارے میں انسانی تجربے کو بدل کر رکھ دیا۔چنانچہ سترویں اور اٹھارویں صدی کے یورپین لوگوں نے دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا۔اس تبدیلی کا عکس انکی مصوری، مجسمہ سازی اور انکے طرز تعمیر میں جھلکتا ہے۔مگر یہ انقلاب ایک دم برپا نہیں ہوا۔اس کے شروع ہونے کی کوئی معین تاریخ بھی نہیں ہے۔

حقیقت میں جس سائنسی انقلاب کو ہم گلیلو، فرانسس بیکن اور نیوٹن کے حوالے سے دیکھتے ہیں دراصل بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔ اس کو نیکولس کوپرینکس اور لیونارڈووینسی تک لے جایا جا سکتا ہے۔مگر پندرھویں صدی کے وسط تک جانے کے باوجود بھی وہ سارے عوامل گنے نہیں جاسکتے جو اس سائنسی انقلاب کا موجب بنے ہیں۔کچھ لوگ تو اس انقلاب کی جڑیں بارہویں اور تیرویں صدی میں تلاش کرتے ہیں جب یورپ ارسطو کو دوبارہ دریافت کر رہاتھا۔

ہمارے کچھ نام نہاد دانشور یہ کھوکھلا دعویٰ دہرانے پر بضد ہیں کہ اس وقت کے یورپ میں ارسطو اسلامی دنیا کے ذریعے داخل ہوا۔ اور یہ کہ ہم نے اسلامی دنیا میں اس وقت ارسطو اور افلاطون کے فلسفے کو زندہ رکھا ہو اتھا جس کو یورپ مکمل طور پر فراموش کر چکا تھا۔ اگر یہ بات درست بھی مان لی جائے تو اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ارسطو اور افلاطون کے خیالات نے ہمار اکچھ نہیں بگاڑا۔ 

اس کے بر عکس مغرب میں ارسطو کے انداز فکر نے بارہویں اور تیرویں صدی کے انسان کے انداز فکر کو بڑے پیمانے پر متا ثر کیا۔قرون وسطیٰ کے سائنس دانوں کو جتنے سوالات سے پالا پڑتا تھا ان کا تعلق مذہب اور اسرار سے تھا۔لیکن اس وقت کے سب سے اہم سوالات کا تعلق علم کیمیا سے تھا۔اس پر ہمارے دانشور یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ مغرب کو سانئس اسلام سے وراثت میں ملی تھی۔ خصوصاً علم کیمیا گری ۔کیونکہ یونانی اور رومن علوم میں کیمیا کوئی علیحدہ مضمون نہ تھا۔دراصل کیمیا بنیادی طور پر ہے ہی عربی زبان کا لفظ۔ اور ابتدا کی علم کیمیا کی بیشتر اصطلا حیں بھی عربی زبان سے ہی آئی تھیں۔

ہو سکتا ہے کہ یہ بات درست ہو مگر اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ علم کیمیا نے ہمار ے خیالات اور ہمارے انداز فکر کو متا ثر نہیں کیا۔ نہ ہم نے خود اس پر دل سے یقین کیا نہ آنے وال نسلوں کو اس پر یقین کرنے دیا۔آج بھی ہمارے ہاں یہ منترا ہے کہ ڈگری اور جاب کے لیے سائنس پڑھو مگر اس میں موجود کس چیز پر یقین مت کرو۔ ہمارے چوٹی کے سائنس دان بار بار سر عام یہ بات دہرا چکے ہیں۔

اس کے بر عکس مغرب کے سانئس دانوں نے سائنس پر یقین رکھ کر کام کیا۔ان میں راجر بیکر قابل ذکر ہیں۔اس شخص نے صرف بارود ہی دریافت نہیں کیا تھابلکہ اس نے ٹرائل اور ایرر کا طریقہ کار بھی دریافت کیا جو تجرباتی سائنس میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیکن کی دریافت کا نچوڑ یہ تھا کہ انسان نتائج پر قابو پا سکتا ہے۔ اگر ایک ہی طرح کے تجربے کو ایک ہی طریقے سے دہرایا جائے تو اس سے ایک ہی طرح کے نتائج اخذ ہوں گے۔

یہ ایک سادہ سا نتیجہ ہے مگر علم اور سچائی کی جانب ایک بڑی چھلانگ۔ آج بھی دنیا بھر کی کروڑوں سائنسی لیبارٹریوں میں کروڑوں لوگ ایک ہی قسم کے کیمیائی تجربے کو دہرا تے ہیں اور لگ بھگ ایک ہی قسم کے نتائج اخذ کرتے ہیں۔سچائی کی دریافت اور اپنے عقائد کے خلاف ہونے کے باوجود اسکو تسلیم کرنے کے عمل کا ترقی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔اس کے لیے پورے طرز فکر میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ بیکن کے طریقہ کار سے اس تبدیلی کا آغاز ہو تا ہے۔

( جاری ہے )

پہلا حصہ

ریاست:نظریات و خیالات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *