لاپتہ بلاگرز اور توہین رسالت

محمد شعیب عادل

لاپتہ ہونے والے بلاگرز کے حق میں دنیا بھر میں اٹھنے والی آوازوں سے بنیاد پرست شاید بہت زیادہ تکلیف میں مبتلا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی طرف سے لاپتہ بلاگرز پر الزامات کی بارش کی جارہی ہے ۔ جبکہ بلاگرز اپنی صفائی بھی پیش نہیں کرسکتے کہ ان کے بارے میں ملائیت زدہ ذہنیت جو پراپیگنڈہ کر رہی ہے اس میں کتنی حقیقت ہے۔ یہ کہاں ثابت ہو ا ہے کہ سلمان حیدر ،بھینسا کے نام سے بلاگ لکھتے تھے یا کمنٹ کرتے تھے؟ سلمان حیدر اور دوسرے بلاگرز کو کسی عدالت میں سنے بغیر ان پر الزام تراشیاں کی جارہی ہیں؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ سلمان حیدر اور بھینسا دو الگ الگ آئی ڈیز ہوں۔

کچھ ذرائع کے مطابق بھینسا صاحب ملک سے باہر بیٹھے ہیں اور ان کاپیج ہیک کرکے اس پر ایسا توہین آمیز مواد ڈالا جارہا ہے جو شاید اس نے ڈالا ہی نہ ہو؟ لیکن پاکستان میں کون ہے جو ایسے معاملات کی تصدیق کرنے کی تکلیف کرتا ہو۔ رٹے اور ضربیں لگا کر تعلیم حاصلکرنے والوں سے کسی تخلیقی سوچ کی امید ہی کیوں کی جائے۔ کاپی پیسٹ کرنے والے ذہنوں میں جو بھی فیڈ کر دیا جائے وہ بغیر سوچے سمجھے آگے پھیلا تا جاتا ہے اور اسی کا نام ملائیت ہے۔احتجاج کرنے والے یہی تو مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں کھلی عدالت میں پیش کیا جائے ان پر فرد جرم عائد کی جائے اور انہیں اپنی صفائی کا موقع دیا جائے نہ کہ ان پر کفر کے فتوے لگائے جائیں۔

ہاں ان بلاگرز کا یہ جرم ضرور ہے کہ انہوں نے روشن خیالی کی بات کی، ملائیت پر تنقید کی، اسے طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا۔ ریاستی اداروں پر اس لیے تنقید کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے ہیں ۔ کیا یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ انہیں عدالت کے کٹہرے میں لانے کی بجائے اغوا کر لیا جائے۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ الزام تراشی کی مہم میں آزادی اظہار رائے کے علمبردار نجی ٹی وی چینلز اور ان کے پروردہ دانشور بھی ملوث ہیں۔

جو افراد ریاستی اداروں کی دہشت گردی اور فرقہ وارانہ پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہیں انہیں سیکیورٹی ادارے غائب ہی اسی لیے کرتے ہیں کہ ان کے خلاف الزامات کو عدالت میں ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ریاستی ادارے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب دینے کی بجائے ان آوازوں کو دبانے کے لیے  ماورائے قانون ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں ۔ یہی سلوک پچھلی کئی دہائیوں سے بلوچوں سے روا رکھا جارہا ہے۔ جب ریاست بلوچوں کے اٹھائے ہوئے سوالوں کے جواب نہیں دے سکتی تو وہ ان آوازوں کو تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کرتی ہے ۔اور انہیں غدار، ڈاکو ، چور لٹیرے بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

توہین آمیز مواد کیا ہوتا ہے؟ اس پر کم ازکم پاکستان جیسی ریاست میں بحث نہیں ہو سکتی جہاں کافر گری کا کاروبار عروج پر ہے۔ توہین رسالت کا الزام لگانا انتہائی آسان ہے۔اور یہی کچھ لاپتہ بلاگرز کے متعلق کہا جارہا ہے۔ اپنے مخالف پر توہین رسالت کا الزام لگانے کے بعد کسی مائی کے لال میں اتنی جرات نہیں ہوتی کہ وہ اس کا دفاع بھی کر سکے۔ جس سماج میں کسی قانون پر تنقید کرنے کا مطلب توہین مذہب یا رسالت لے لیا جائے تو اسے کسی’’ دلیل ‘‘ سے قائل کیا جا سکتا ہے؟

گورنر سلمان تاثیر کا کیا قصور تھا؟آسیہ بی بی کا کیا قصور ہے؟ جس سماج میں آسیہ بی بی کے حق میں بات کرنے کو توہین رسالت قرار دے دیا جائے کیا وہاں ’’ مکالمہ ‘‘ ہو سکتا ہے؟ جنید حفیظ کئی سالوں سے توہین رسالت کے جھوٹے الزام میں ملتان کی جیل میں قید ہے ۔ ’’گردو پیش‘‘ میں کسی کی جرات نہیں کہ اس کے دفاع میں کوئی احتجاج تو دور کی بات چار لفظ بھی بول دے۔ ایک ہی پاگل شخص راشد رحمان تھا جو جنید حفیظ کے دفاع میں اٹھا لیکن اپنی جان سے گیا۔

پاکستانی ریاست، غالب کے اس مصرعے ، مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی، کی روشن مثال ہے۔ پاکستانی ریاست میں جہاد ان بلٹ ہے۔اس کی بنیاد ہی جہادی بیانیے پر رکھی گئی ہے ۔ قیام کے فورا! بعد کشمیر میں جہاد کے لیے قبائلیوں کو بھیجا گیا۔ آپریشن جبرالٹرکے نام پر دہشت گردی کی گئی پھر یہی کچھ کارگل میں دہرایا گیا۔ بنگالیوں نے احتجاج کیا تو لاکھوں بنگالیوں کو تہ تیغ کردیا گیا۔ یہی کچھ بلوچوں کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ ریاست نے مذہبی اور فرقہ وارانہ تنظیموں کو اپنے سٹریٹجک مفادات کے لیے پھلنے پھولنے دیا۔ مقدس جہاد افغانستان نے قوم کو ہیروئن اور کلاشنکوف کا کلچر دیا۔

سعودی عرب کے اسلام نے پاکستانی سماج کیا پوری دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے ۔روشن خیال سمٹتی جارہی ہے ۔مُلا کی خود ساختہ مذہب کی تشریح سے اختلاف کرنے کو توہین مذہب کا مرتکب قرار دے دیا جاتاہے۔ریاستی ادارے دہشت گردوں (جہادی و فرقہ وارانہ تنظیموں )کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ مُلا لاؤڈ سپیکر پر نفرت پھیلانے کے لیے آزاد ہے۔ ان مذہبی تنظیموں کا لٹریچر نفرت آمیز مواد پر مشتمل ہے۔ ان حالات میں اگر کوئی روشن خیالی کی بات کرتا ہے تو وہ واقعی توہین مذہب کا مرتکب ہو رہا ہے۔

2 Comments

  1. توہین آمیز مواد کیا ہوتا ہے؟ اس پر کم ازکم پاکستان جیسی ریاست میں بحث نہیں ہو سکتی جہاں کافر گری کا کاروبار عروج پر ہے۔ توہین رسالت کا الزام لگانا انتہائی آسان ہے

    پاکستان پر وہی زمانہ ہے جو کبھی مغرب پر نازل ہوا تھا جب بااختیار طاقتور حلقے اپنی ناراضگی کا بدلہ مذھب کی آڑ میں لیتے اور ہزاروں معصوم انسانوں کو “شیطان کے چیلے اور چڑیلوں کا ساتھی ” قرار دے کر جلا دیا جاتا نتیجہ کیا ہوا ؟ عملی مذھب کا بڑے پیمانے پر خاتمہ

  2. ریاست نے نے ایسے حالات ہی کیوں پیدا کیے ہیں جو لوگوں کو اپنی شناخت چھپاکر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا رُخ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ریاست کا حال یہ ہے کہ جہاں ریاست نے ایک طرف الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر یک رخی بیانیہ یعنی (اسلام، پاکستان، اور بوٹ پرستی ) کو رواج دیا ہے وہاں ریاست دوسری طرف متبادل بیانیہ کے لیے جگہ دینے اور اسے برداشت کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے ۔
    ریاستی پالیسوں سے اختلاف رکھنے والوں اور ان پر تنقید کرنے والوں پر ریاستی گماشتے غداران وطن کا لیبل چسپاں کردیتے ہیں۔ یا پھر صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کو توہین مذہب کا مرتکب قرار دے دیا جاتا ہے۔
    فوجی عدالتوں اور دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے موجود ہوتے ہوئے ، اور سائبر کرائمز کنٹرول قانون بنانے کے باوجود اتنی جبری گمشدگیوں کی آخر کیوں ضرورت پیش آئی ہے۔ اگر کوئی دہشت گرد یا سہولت کار ہے تو پھر اسے باقاعدہ حراست میں لے کر خصوصی یا فوجی عدالت کے روبرو پیش کرنے میں کیا آئینی یا اخلاقی رکاوٹ ہے ؟ گمشدہ افراد کو عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا جاتا؟ کیا ریاست کو اپنی عدالتوں پر عتماد نہیں ہے؟ آصف جاوید ، ٹورونٹو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *