گاندھی کا عدم تشدد کا نظریہ سرا سر ناکام؟

آصف جیلانی

ایک سو دس سال پہلے جنوبی افریقہ میں ہندوستانی مزدوروں کے حقوق کے لئے گاندھی جی نے عدم تشدد یا ’’اہنسا‘‘ کے اس فلسفہ کو پہلی بار سیاسی میدان میں ایک حربے کے طور پر آزمایا تھا، جس کی بناء پر پورے چار دانگ عالم میں گاندھی جی نے شہرت پائی اور یہ دعوی کیا گیا کہ ہندوستان کی آزادی عدم تشدد کے اسی فلسفہ کی مرہون منت ہے۔ 

آج جب کہ گاندھی جی کی انہترویں برسی منائی جارہی ہے ان سوالات کا ذہنوں میں ابھرنا قدرتی ہے کہ گاندھی جی کا عدم تشدد کا فلسفہ کس حد تک کامیاب رہا اور کیا واقعی ہندوستان کی سیاست اپنے آپ کو اس نظریہ کے سانچے میں ڈھالنے میں کامیاب رہی ہے؟

حقیقت تو یہ ہے کہ عدم تشدد کا فلسفہ بنیادی طور پر خود گاندھی جی کا اپنا فلسفہ نہیں ہے بلکہ یہ فلسفہ جین مت اور بدھ مت کے عقیدوں پر مبنی ہے۔ گاندھی جی اپنے آبائی شہر پوربندر میں ہندو وشنو دھرم کے پابند تھے لیکن اس علاقہ میں جین مت کے ماننے والوں کی اکثریت تھی لہذا بچپن میں ان جین مت کا گہرا اثر پڑا ۔ اسی کے ساتھ انہوں نے بدھ مت کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور انگلستان کے قیام کے دوران ان پر تھیوسفیوں اور عیسائیوں کے اثرات پڑے۔ 

جنوبی افریقہ میں تو گاندھی جی عدم تشدد اور ستیہ گرہ کے بل پر ہندوستانی مزدورون کے کچھ حقوق منوانے میں کامیاب رہے لیکن ہندوستان واپسی پر جب1919میں جلیانوالہ باغ میں برطانوی فوج کے ہاتھوں چار سو افراد کے قتل عام کے بعد انہوں نے ستیہ گرہ کی تحریک شروع کی تو کامیاب نہ رہی کیونکہ تحریک میں شامل لوگ اس قدر برانگختہ تھے کہ انہوں نے تشدد کی راہ اختیار کی اور اسی دوران یوپی کے مقام چوری چورا پر ستیہ گرھوں نے ایک پولیس تھانے پر حملہ کر کے چوبیس سپاہیوں کو ہلاک کر دیا۔ گاندھی جی کو اعتراف کرنا پڑا کہ یہ ہمالیائی غلطی تھی اور تحریک روک دی۔یہ عدم تشدد کے نظریہ کی پہلی ناکامی تھی۔

اسی دوران ہندوستان میں ترکی کی خلافت کے حفظ و بقا کے لیے مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں مسلمانوں کی تحریک اٹھی جو برطانوی راج کے خلاف جہاد کے جذبہ سے معمور تھی۔ اس تحریک کی خاطر مسلمانوں نے سرکاری نوکریاں اور انگریزی اسکول چھوڑ دیئے اور بیس ہزار سے زیادہ مسلمان ہجرت کر کے افغانستان چلے گئے۔

اس موقع پر جب کہ انگریزوں کو مسلمانوں کی مسلح جدوجہد کا شدید خطرہ تھا، گاندھی جی کی طرف سے اس تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینے سے ہندوستان میں برطانوی راج کو بڑی حد تک اطمینان اور طمانیت حاصل ہوئی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اب گاندھی جی کی بدولت یہ تحریک تشدد کا رخ اختیار نہیں کر پائے گی۔ یہ بات اہم اور نہایت تعجب خیز ہے کہ برطانوی راج نے یہ جانتے ہوئے کہ خلافت کا مسئلہ خالصتاً مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے، اس تحریک کے لیے گاندھی جی کی قیادت کو شہہ دی اور ان کی قیادت میں خلافت کے وفد سے مذاکرات کیے۔ 

گاندھی جی کی قیادت کی بدولت انگریزوں کو جو توقعات وابستہ تھیں وہ پوری ہوئیں کیونکہ دو سال کے اندر اندر گاندھی جی کی طرف سے ستیہ گرہ کی تحریک روک دینے کے بعد خلافت کی تحریک بھی دم توڑ بیٹھی۔

بہت سے مبصرین کی یہ رائے ہے کہ خلافت کی تحریک کی ناکامی کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ گاندھی جی کا نظریہ عدم تشدد اور ستیہ گرہ ہندوستان میں برطانوی راج کے لیئے ایک سیاسی چیلنج سہی لیکن ملک میں مسلمانوں کے جہاد کے خطرہ اور عسکریت پسند قوم پرستوں کے مقابلہ میں برطانیہ کے مفادات کے لیے گاندھی جی کے نظریہ سے کوئی بڑا خطرہ نہیں۔

سن 1938-39 میں لگا تار دو بار انقلابی اور عسکریت پسند رہنما سبھاش چندر بوس، گاندھی جی کی شدید مخالفت کے باوجود کانگریس کے صدر منتخب ہوئے تو نہ صرف گاندھی جی کے نظریہ عدم تشدد کو زبردست زک پہنچی بلکہ برطانوی راج کو بھی شدید فکر دامن گیر ہوئی۔ اور آخر کار جب گاندھی جی ،جواہر لعل نہرو اور کانگریس کے دوسرے رہنماوں کی کوششوں کےنتیجہ میں سبھاش چندر بوس کو کانگریس کی صدارت کے ساتھ کانگریس کو خیر باد کہنے پر مجبور ہونا پڑا تو برطانوی راج کی مسرت اور شادمانی عیاں تھی۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آزاد ہند فوج کی طرز پر ہندوستان کی آزادی کے لئے بر صغیر کے سب ہی مذاہب کے لوگ مل کر مسلح جدوجہد کرتے تو عین ممکن ہے کہ نہ تو وہ حالات پیدا ہوتے جو ملک کی تقسیم کا جواز بنتے اور جس طرح آزاد ہند فوج میں جنرل شاہنواز، کرنل پریم سہگل اور کرنل گروبخش سنگھ ڈھلوں شانہ بشانہ تھے، اسی طرح پورا ملک متحد ہو کر آزادی حاصل کرتا اور ممکن ہے فرقہ پرستی کے عفریت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات حاصل ہو جاتی۔

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان نے کسی بڑے خون خرابے کے بغیر آزادی حاصل کی ہے اور اس کا سہرا گاندھی جی کے نظریہ عدم تشدد کے سر ہے۔ لیکن بہت سے مبصرین کی رائے ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے حصول میں اور کئی محرکات شامل تھے:

اول تو دوسری عالم گیر جنگ کے بعد برطانیہ کی معیشت اتنی کمزور ہوگئی تھی کہ اسے اتنی بڑی نوآبادی کو سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔

دوم: امریکہ اور یورپ کا برطانیہ پرشدید سیاسی دباؤ تھا کہ وہ ہندوستان اور اپنی دوسری نوآبادیوں کو آزادی دے۔

سوم: ہندوستان میں فرقہ وارانہ کشمکش اور کشیدگی اس سطح پر پہنچ گئی تھی کہ برطانوی راج کو اس پر قابو پانا بہت مشکل ہوگیا تھا۔

چوتھی وجہ سب سے اہم تھی جس سے برطانوی راج ہل کر رہ گیا تھا اور وہ تھی فروری سن 46 میں ہندوستان کی بحری بغاوت۔ یہ بغاوت بمبئی سے شروع ہوئی اور اس نے کراچی، کلکتہ اور دوسری بندرگاہوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بحری فوج کے 78جہازوں کے بیس ہزار بحری فوجیوں نے اس بغاوت میں حصہ لیا۔ اس بغاوت کو فرو کرنے کے لیے آخرکار برطانوی راج نے ہندوستان کے سیاست دانوں کی مدد حاصل کی۔

اگر ہندوستان کی آزادی گاندھی جی کے عدم تشدد کے نظریہ کی مرہون منت ہے تو بہت سے مبصرین یہ سوال کرتے ہیں کہ آزادی کے ساتھ ساتھ پورے برصغیر میں جو ہولناک فرقہ وارانہ قتل وغارت گری ہوئی جس میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے، پچاس لاکھ سے زیادہ افراد جس خونریزی کے عالم میں اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور ایسی بھیانک اقتصادی اتھل پتھل مچی کہ جس کی آج تک نظیر نہیں ملتی، اسے تو کسی صورت میں عدم تشدد کی کامیابی نہیں کہا جاسکتا۔ 

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سبھاش چندر بوس یا مولانا عبید اللہ سندھی کی قیادت میں آزادی کی مسلح جدو جہد میں ممکن ہے دس لاکھ لوگ جاں بحق ہوتے لیکن اتنے بڑے پیمانے پر تو اتھل پتھل اور تباہی نہ ہوتی، جس پیمانہ پر بر صغیر کو سامنا کرنا پڑا۔

گاندھی جی آج اگر زندہ ہوتے تو ہندوستان کی آزادی کے بعد ملک بھر میں ہندو مسلم فسادات کی خوں ریز لہر کے بعد بابری مسجد کو جس طرح مسمار کیا گیا اور اس کے بعد ملک میں بڑے پیمانہ پر جو قتل وغارت گری ہوئی اور خود ان کی ریاست گجرات میں نریندر مودی کی قیادت میں ہولناک مسلم کش فسادات میں دو ہزار سے زیادہ مسلمانوں کے قتل عام کے بعد تو گاندھی جی خود یہ اعتراف کرتے کہ وہ یک سر ناکام رہے ہیں ۔

آزادی کے وقت گاندھی جی دلی میں نہیں تھے بلکہ حسین شہید سہروردی کے ساتھ ، نوا کھالی میں فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لئے کوشا ں تھے، نوا کھالی سے جب وہ دلی آئے توسیدھے جامعہ ملیہ اسلامیہ آئے جہاں آس پاس کے لٹے پٹے مسلمان پناہ لئے ہوئے تھے ۔ اس وقت میں وہیں جامعہ میں تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ،گاندھی جی کے چہرے پر کرب اور اذیت کا شدیداحساس عیاں تھا۔ کمر ان کی جھک گئی تھی، بھاری قدموں سے آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ جامعہ میں لوگوں سے بات کرتے کرتے وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگتے جیسے خلا میں گھور رہے ہوں۔

وہ تین گھنٹے جامعہ میں رہے ہوں گے لیکن اس دوران وہ بہت کم بولے۔ بس یہی دہراتے رہے: بہت برا ہوا۔ بہت برا ہوا۔ لیکن سب ٹھیک ہو جائے گا۔میں پاکستان جا کر اپنے مسلمان بھائیوں کو واپس لاؤں گا۔ اس وقت، پورے ملک میں فسادات خاص طور پر دلی کے خونریز بلووں نے گاندھی جی کی کمر توڑ دی تھی۔فسادات کی آگ پر قابو پانے کے لیے انہوں نے جنوری سن 48 کی تیرہ تاریخ کو مرن برت شروع کیا۔ ہندو مسلم فسادات کو روکنے کے مطالبہ کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہندوستان کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس نے پاکستان کی پچپن کروڑ کی جو رقم روک لی ہے وہ فورا ادا کی جائے۔

گاندھی جی کے مرن برت نے ملک کی فضا یکسر بدل دی۔ یکایک فسادات بند ہو گئے۔ پانچ روز کے بعد جب پورے ملک میں امن و امان بحال ہوگیا تو گاندھی جی نے برت توڑ دیا۔ لیکن اس کے بارہ روز بعد وہ آر ایس ایس کے کٹر حامی نتھو رام گوڈسے کے ہاتھوں قتل ہوگئے، اور اس تشدد کا شکار ہوگئے جس سے معاشرہ کو نجات دلانے کے لیے ساری عمر انہوں نے جدوجہد کی تھی۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ آج اسی آر ایس ایس کی پروردہ جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوستان پر حکمران ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *