ڈاکٹر عبدالسّلام، کائنات کی بنیادی قوّتیں اور ذرّہِ خدائی۔تیسرا حصہ

آصف جاوید

قارئین اکرام ، پچھلی دو قسطوں میں ہم نے ڈاکٹر عبدالسّلام کی معرکہ آرا تحقیق جس نے دنیائے سائنس میں ایک عظیم بریک تھرُو دیا تھا، کا تذکرہ کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب ذرّاتی طبعیات کے نظریہ سازوں میں سے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ساٹھ اور ستّر کی دہائی میں ہگز بوسان نامی پارٹیکل یعنی ذرّہِ خدائی کی نظریہ سازی میں معمار کا کردار ادا کیا تھا۔

چودہ 14،جولائی سنہ 2012ء کو نیویارک ٹائمز میں ڈاکٹر سٹیو وائن برگ کا ایک مضمون شائع ہوا تھا، یہ وہی ڈاکٹر سٹیو وائن برگ ہیں، جنہوں نے ڈاکٹر عبدالسّلام کے عہد یعنی 1967 میں ذرّاتی طبعیات، کائناتی قوّتوں اور گاڈ پارٹیکل پر ایک الگ آزادانہ تحقیق میں کمزور نیوکلیائی قوّت اور برقی مقناطیسی قوّت کی یکجائی کا نظریہ پیش کیا تھا۔ اور اپنے تجویز کردہ سائنسی ماڈل میں ہگز بوسن نامی ذرّے کی پیش گوئی کی تھی۔ اور یہ بھی ڈاکٹر عبدالسّلام کو ملنے والے نوبل انعام میں شریک حصّہ دار تھے۔

ڈاکٹر سٹیو وائن برگ کے مضمون کا عنوان تھا ہگز بوسن کیوں اہم ہے؟

مضمون کا ابتدائیہ کچھ یوں تھا۔ ” 4 جولائی کو اعلان ہوا کہ ہگز بوسن جنیوا کی سرن لیبارٹری میں دریافت کرلیا گیا ہے۔ سنہ 1967 اور سنہ 1868 میں، مرحوم ڈاکٹر عبدالسّلام اور میں نے اپنے اپنے طور پر ریاضی کی پیچیدہ مساواتوں کے استعمال سے حساب لگا کر ایک خصوصی نظریہ تشکیل دیا تھا، یعنی کمزور جوہری قوّت اور برقی مقناطیسیت کی وحدانیت کا نظریہ جو ذرّاتی طبعیات میں اُس سٹینڈرڈ ماڈل کا حصّہ بن گیا تھا، جس میں سوائے کمیت کے گاڈ پارٹیکل ہگز بوسان کی تمام خصوصیات ، ہمارے الیکٹرو ویک نظرئیے میں بطور پیش خبری بیان کردئے گئے تھے۔ میں گاڈ پارٹیکل ہگز بوسان کی دریافت کا 1967 سے انتظار کررہا ہوں، اور اب اِس کے دریافت ہوجانے کے بعد شک میں پڑنا میرے لئے بہت مشکل ہے۔

آخر گاڈ پارٹیکل (ذرّہِ خدائی)ہے کیا؟

ہگز بوسان وہ تخیلاتی لطیف عنصر یا ’سب اٹامک‘ ذرہ ہے، جو مادّے کو کمیت فراہم کرتا ہے، اور جسے اس کائنات کی تخلیق کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ لارج ہیڈرون کولائیڈر تجربہ گاہ میں شریک تحقیقی سائنسداں ڈاکٹر ارچنا کے مطابق “’جب ہماری کائنات وجود میں آئی اس سے پہلے سب کچھ ہوا میں تیر رہا تھا، کسی چیز کا وزن نہیں تھا۔ جب ہگزبوسان بھاری توانائی لے کر آیا تو تمام عناصر اس کی وجہ سے آپس میں جڑنے لگے اور ان میں ماس یا کمیت پیدا ہوگئی‘۔

ڈاکٹر ارچنا کے مطابق پارٹیكل یا انتہائی لطیف عناصر کو سائنسدان دو زمروں میں باٹتے ہیں، مستحکم اور غیر مستحکم۔ مستحکم عناصر کی بہت لمبی عمر ہوتی ہے جیسے پروٹون اربوں كھربوں سال تک رہتے ہیں جب کہ کئی غیر مستحکم عناصر زیادہ دیر تک ٹھہر نہیں پاتے اور ان کا رویہ بدل جاتا ہے۔ ڈاکٹر ارچنا کہتی ہیں، ’ہگز بوسان بہت ہی غیر مستحکم عنصر ہے، وہ بگ بینگ کے وقت ایک پل کے لیے آیا اور ساری چیزوں کو کمیت دے کر چلا گیا۔ ہم نے اپنی لیبارٹری میں کنٹرولڈ طریقے سے، بہت چھوٹے پیمانے پر ویسے ہی حالات پیدا کئے ہیں جن میں ہگس بوسون آیا تھا‘۔

قارئین اکرام، اس مرحلے پر بتا تے چلیں کہ 1964 میں برطانوی ماہر طبعیات پیٹر ہگز نے ایک نظریہ قائم کیا تھا۔ جس کے مطابق کائنات کی تشکیل کے وقت بگ بنک دھماکے کے بعدسیکنڈ کے ایک حصّے میں انرجی فیلڈ وجود میں آئی ۔ اور ذرّات اس فیلڈ میں سے گذرتے ہوئے کمیت حاصل کرلیتے ہیں۔ انرجی فیلڈ ذرّات کو کمیت کے علاوہ جسامت اورہیئت بھی دیتی ہے۔ اور ان پارٹیکلز کو ایٹموں کی تشکیل کے قابل بھی بناتی ہے۔

برطانوی ماہر طبعیات پیٹر ہگز کے مطابق ہر انرجی فیلڈ کا ایک مخصوص ذرّہ ہوتا ہے، جو اپنے اطراف موجود یا انرجی فیلڈ میں سے گذرنے والے اجسام کے فنکشن کو کنٹرول کرتا ہے۔ پروفیسر ہگز کے نام کی مناسبت سے سائنسدانوں نے اس مخصوص ذرّے کو ہگز پارٹیکل یا ہگز بوسان کا نام دیا ۔ ہگز بوسان ہی وہ ذرّہ ہے جو دیگر تمام پارٹیکلز کو کمیت فراہم کرتا ہے، اس ذرّے کو گاڈ پارٹیکلز کا نام بھی دیا گیا ہے ، کائنات میں موجود ہر ٹھوس شے(جسم) اپنے وجود کو ظاہر کرنے کے لئے اس ذرّے کی مرہونِ منّت ہے۔ پروفیسر ہگز کی تھیوری کے مطابق اگر یہ ذرّہ (ہگز بوسان) نہ ہوتا تو، دیگر تمام ذرّات خلائے بسیط میں روشنی کی طرح محوِ سفر ہی رہتے۔

4 جولائی سنہ 2012ء کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ منصوبے سے وابستہ سائنسدانوں نے ہگس بوسون یا ’گاڈ پارٹیكل‘ جیسے ذرے کی دریافت کا دعویٰ کیا۔ یہ سائنسداں سوئٹزرلینڈ اور فرانس کی سرحد پر بنائی گئی ایک ستائیس کلومیٹر طویل سرنگ میں انتہائی باریک ذرات کو آپس میں ٹکرا کر اس لطیف عنصر کی تلاش کر رہے تھے جسے ہگس بوسون یا خدائی عنصر کہا جاتا ہے۔ ہگس بوسون کی تھیوری کے خالق پروفیسر پیٹر ہگز ہیں ۔ جو پریس کانفرنس کے وقت موجود تھے۔

پروفیسر پیٹر ہگز نے ساٹھ کے عشرے میں سب سے پہلے یہ نظریہ پیش کیا تھا۔ جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران پروفیسر پیٹر ہگس نے کہا کہ ’میں اس دریافت پر ہر اس فرد کو مبارکباد دینا چاہوں گا جو اس کارنامے کا حصہ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے حیرت ہے کہ سائنسدانوں نے میری زندگی میں یہ کامیابی حاصل کرلی ہے۔ چالیس سال پہلے تو لوگوں کو یہ معلوم تک نہیں تھا کہ وہ کیا تلاش کر رہے ہیں۔ یہ حیرت انگیز پیش رفت ہے‘۔

لارج ہیڈرون کولائیڈر تجربہ گاہ کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے ڈیٹا میں ایک ’اٹھان‘ دیکھی جو کہ ایسا ذرہ تھا جس کا وزن ایک سو پچیس اعشاریہ تین گیگا الیکٹرون وولٹس تھا۔ یہ ذرہ ہر ایٹم کے مرکز میں موجود پروٹون سے ایک سو تینتیس گنا بھاری ہے۔

ان کے مطابق حاصل شدہ ڈیٹا کو جمع کرنے کے بعد شماریاتی جانچ پڑتال کو فائیو سگما لیولِ کی کسوٹی پر ، پرکھا گیا۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ تجربے کی درستگی کے پینتیس لاکھ امکانات کا کا جائزہ لیا گیا۔ اور جب انہیں یہ یقین ہوگیا کہ ایک خاص انرجی لیول پر ہگز بوسن ذرّے کی دو فوٹونز میں تحلیل کا عمل بالیقین ہورہا ہے۔ جو سگنل انہوں نے دیکھا ہے وہ ہگز بوسن ذرّے کی یقینی موجودگی کو ظاہر کررہا ہے، تو سائنسدانوں نے ہگز بوسن کی دریافت کا اعلان کردیا۔

سائنسدانوں کے ترجمان پروفیسر جو انکنڈیلا کے مطابق ’یہ ابتدائی نتائج ہیں لیکن ہم جو ایک سو پچیس گیگا الیکٹرون وولٹس پر فائیو سگما سگنل دیکھ رہے ہیں وہ ڈرامائی ہے۔ یہ درحقیقت ایک نیا ذرہ ہے‘۔ہگس بوسون کو کائنات کا بنیادی تخلیقی جزو سمجھا جاتا ہے اور یہ پارٹیکل فزکس کے اس سٹینڈرڈ ماڈل یا ہدایتی کتابچے کا لاپتہ حصہ ہے۔ یہ سٹینڈرڈ ماڈل کائنات میں عناصر اور قوت کے باہمی رابطے کو بیان کرتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ہگز بوسن کی دریافت میں کامیابی کے بعد ڈارک میٹر اور بلیک ہولز سمیت کائنات کے بہت سے سربستہ رازوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

قارئین اکرام، عظیم سائنسداں جناب ڈاکٹر عبدالسّلام کے سائنسی کارناموں اور انکے علمی کام کو سادہ اور آسان لفظوں میں آپ تک پہنچانے میں، میں کس حد تک کامیاب ہوا ہوں۔ اس کیلئےمیں آپ کے تبصرے کا منتظر ہوں۔

حوالہ جات

لارج ہیڈرون کولائڈر لیبارٹری سرن آفیشل ویب سائٹ

سائنس کی دنیا آن لائن میگزین

رموزِ فطرت از زکریا ورک

سلام! عبدالسّلام از زکریا ور ک

بی بی سی اردو

One Comment

  1. Well done Asif Javed sahib. Great work.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *