کیا مذہب رہنمائی کر سکتا ہے؟

سعید اختر ابراہیم

پچھلی کچھ دہائیوں سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال بڑی شدت سے سر اٹھا رہا ہے کہ آیا اس ملک کے قیام کیلئے مذہبی پریکٹس کا جو نعرہ لگایا گیا تھا وہ محض کہیں ایک نعرہ ہی تو نہیں تھا جسکا مقصد عام مسلمانوں کے جذبات بھڑکا کر ایک خاص مقصد کی تکمیل تھا۔ بدقسمتی سے اس سوال کا جواب ایک واضح ہاں میں ملتا ہے۔

اب مذہب کے عملی نفاذ کے معاملے کو ہم ایک اور سوال کی شکل میں سامنے لاتے ہیں اور وہ یہ کہ کیا پاکستان میں مذہب کا عدم نفاذ محض حکمرانوں کی منافقت اور بد عملی کا نتیجہ تھا یا کہ مذہب بذاتِ خود انسانی معاملات کو حل نہ کر سکنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔ اس سوال کا دوسرا حصہ یقیناًبہت سے جذباتی لوگوں کی جبینوں کو شکن آلود کر سکتا ہے مگر انکی جذباتیت ہی وہ کمزوری ہے جس کی بنا پر وہ اس سوال کا مناسب اور مدلل جواب دینے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ 

بدقسمتی سے جذباتیت اسی وقت روبہ عمل آتی ہے جب عقلی دلائل ختم ہو جاتے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ عقائد ہمیشہ عقل کے سامنے بے بس ہوتے رہے ہیں لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جب دو اشخاص میں کسی مذہبی عقیدے پر بحث ہو جاتی ہے تو ابتدا میں دونوں ہی اپنے نقطہ نظر کو عقلی دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ایک خاص سطح پر پہنچ کر جب عقلی دلائل کی مدد سے ایسا کرنا ممکن نہیں رہتا تو دوسرے کے دلائل کے راستے میں فوراً کسی آیت یا حدیث کا حوالہ رکھ دیا جاتا ہے اور یوں بحث کا دروازہ بند کر کے خود کو ایک جھوٹی فتح کے احساس سے سرشار کر لیا جاتا ہے۔

دوسرا فرد اگرچہ بحث کو کسی منطقی نتیجے پر پہنچانے کی خواہش رکھتا ہے مگر آیت یا حدیث سے وابستہ تقدس کا تصور اسے گفتگو کو آگے بڑھانے سے روک دیتا ہے ۔ تقدس کے زور پر حاصل کی جانے والی یہ فتح کسی کی جھوٹی انا کو تسکین تو دے سکتی ہے مگر عملی طور پر کسی مسئلے کا حل نہیں بن پاتی بلکہ الٹا اس تصور کو مضبوط بناتی ہے کہ مذہب منطقی اور عقلی بنیادوں پر قائل کرنے کی طاقت سے محروم ہے۔ 

پاکستان میں بے شمار مذہبی جماعتیں اور گروہ ایسے ہیں جو اس ملک میں شدت کیساتھ اسلام کے نفاذ کی خواہش رکھتے ہیں جن میں جماعت اسلامی، ماضی قریب میں ڈاکٹر اسرار احمد کی تحریک خلافت، طاہرالقادری کی منہاج القرآن، جمعیت العلمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، جمعیت اہلِ حدیث اور نفاذِ فقہ جعفریہ وغیرہ سبھی شامل ہیں۔ 

یہ سب جماعتیں قرآن و سنت اور فقہ کو ہی بنیاد مانتی ہیں مگر ان کا قرآن ایک ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوجاتا ہے کیونکہ ہر جماعت قرآن کی آیات کی تشریح اپنے اپنے فہم اورعقائد(جن کے پردے میں دراصل انکا اپناہی ذاتی مفاد ملفوف ہوتا ہے) کے مطابق کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر یہ جماعتیں اپنی ہی سابقہ قرآنی تشریحات کو بدلنے میں قطعاً شرم محسوس نہیں کرتیں۔ ان لوگوں نے قرآن کو موم کی ناک بنا کر رکھ دیا ہے ، ایک طرف تو انکا فکری دعویٰ یہ ہے کہ قرآن مکمل ضابطہء حیات ہے مگر جب یہ اپنے عقائداور مفادات کا ثبوت قرآن سے ڈھونڈنے میں ناکام رہتے ہیں تو احادیث اور فقہ کی طرف بھاگتے ہیں ۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وہاں انہیں عموماً بڑی آسانی سے خلافِ قرآن عقائد کی سند بھی مل جاتی ہے، جسے وہ ’’صحیح ‘‘اسلامی عقیدے کے نام پرپھیلانے لگتے ہیں لہذا اب جو بھی اس ’’صحیح ‘‘ اسلامی عقیدے کی مخالفت کریگا وہ لازماً کافر ٹھہرے گا یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پہلے دن سے ہی کافر گری کا کام عروج پر ہے (تاریخ میں جھانکا جائے تو یہ سلسلہ خارجیوں تک پہنچتا ہے ) اور یہ معاملہ محض اسلام کیساتھ خاص نہیں بلکہ یہ دنیا کے ہر مذہب کی ان بلٹ خصوصیت ہے کہ وہ فرقہ بندی سے بچ ہی نہیں سکتا۔

یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب اپنے ابتدائی مختصر دور کے سوا ،انسانوں کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مذہب کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود ہی اپنی موت (بے عملی) کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ مذہب کی جانب سے متعارف کردہ قدروں کو الوہی ہونے کی بنا پر مستقل بالذات مان لیا جاتاہے جبکہ زندگی ہمہ وقت تبدیلیوں کے نتیجے میں سادگی سے پیچیدگی کی طرف بڑھتی رہتی ہے۔

زندگی میں آنے والی تبدیلیاں نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں اور نئے مسائل نئے حل کا تقاضہ کرتے ہیں مگر یہاں مذہب کی مستقل بالذات ہونے کی خصوصیت اسے نئے حل دینے کی صلاحیت سے محروم کر دیتی ہے۔ ان حالات میں جب سائنسی فکر رکھنے والے گروہ آگے بڑھ کر ان مسائل کا حل پیش کرتے ہیں تو منجمد مذہبی خیالات کے حامل گروہوں کو مذہب ختم ہونے کے خطرے سے دوچار دکھائی دیتا ہے (پاکستانی سیاسی تاریخ میں ’’اسلام خطرے میں ہے‘‘ کا نعرہ بارہا سنائی دیا ہے ) انکا پہلا رد عمل تو یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی نئی سائنسی ایجاد یا دریافت یا حل کو یا تو سرے سے ہی ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اور اگر انکار کا چارہ نہ رہے تو فوراً (بلا سوچے سمجھے) اسے شیطانی قرار دے دیتے ہیں۔

اور جب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ دریافت یا ایجاد اپنی عملی افادیت ثابت کر دے تو یہ لوگ نہایت ڈھٹائی سے اپنی اپنی مذہبی کتابوں سے اسکے مبہم اور اشارہ نما حوالے تلاش کر لیتے ہیں ۔ گو اسطرح کی حرکت اس خواہش کے تحت کی جاتی ہے کہ مذہب کو سائنس کا لیڈر ثابت کیا جائے مگر اصل میں یہ مذہب کی شکست کا اعلان ہوتا ہے۔ کیونکہ ان سائنسی دریافتوں سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا ہوتا کہ مذہبی علما نے الہامی کتابوں کی مدد سے انہیں دریافت کیا ہو۔
مذہب اور عقل میں ابتدا سے ایک تصادم رہا ہے اور یہ تصادم کسی بھی صورت میں ختم ہونے والا نہیں ہے۔ مذہبی لوگوں کا المیہ رہا ہے کہ وہ عقل کے ہتھیار سے ہی عقل کو شکست دینا چاہتے ہیں۔ جہاں تک خدا کی ذات کا تعلق ہے وہ واضح طور پر ایک غیر سائنسی تجرید ہے جس کے وجود کی شکل اور دائرہ کار ہر انفرادی ذہن میں پنپنے والے تصور کیساتھ مشروط ہے ۔ 

ہمارے ذہنوں میں خدا کا جو تصور ہے وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اسے تمام کائنات سے ماورا ثابت کیا جائے اور جب کوئی بات ثابت کرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے تو عقل کے سوا ہمارے پاس کوئی ٹول موجود نہیں ہوتا مگر ہم ساتھ ہی یہ بھی ماننے پر مجبور ہیں کہ خدا عقل سے ماورا ہے ۔ اور یہی وہ قضیہ ہے جس کاہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ اس قضیے کے نتیجے میں ہمیشہ سے دو طرح کے مذہبی دھڑے موجود رہے، ایک وہ جنھوں نے مذہب کو عقل کے زور پر منوانے کی سعی کی جبکہ دوسرے دھڑے نے نظری طور پر سرے سے ہی عقل کو اپنے تئیں طلاق دیدی۔

مگر انکی منافقت کا عالم یہ رہا کہ عقل یعنی سائنس کی کاوشوں سے وجود میں آنے والی کسی بھی شے پر تصرف سے باز نہیں رہے اور اسکے ساتھ ساتھ انکے اپنے تخلیقی بانجھ پن کی انتہا یہ ہوئی کہ جن مذہبی آیات کا وہ دن رات ورد کرتے اور بحث اور مباحثوں کے دوران حوالہ دیتے ہیں ان کی مدد سے ایک بھی ایسی شے ایجاد یا دریافت نہیں کر سکے جو نسلِ انسانی کی مسائل سے بھری زندگی کو تھوڑا سا بھی آسان کرتی ہو۔
اس کرہ ارض پر جب سے انسان وجود میں آیا ہے اسکی زندگی میں مسائل اور مشکلات کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ چلا آتا ہے ان مسائل کو ذرا آسانی کیساتھ سمجھنے کیلئے ہم انہیں تین بنیادی شعبوں یعنی روحانی یا نفسیاتی، اخلاقی اور مادی مسائل میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ان تینوں طرح کے مسائل کیلئے انسان قدم قدم پر اپنی عقل اور غور و فکر کا محتاج رہا ہے جسکے نتیجے میں نہ صرف اس نے پرانے مسائل کا مناسب حل تلاش کیا بلکہ اسکی عقل ایک پرانی سطح سے ترقی کر کے ایک نئی سطح پر آگئی جہاں اسے ایک بار پھر نئے مسائل کا سامنا تھا جن کو حل کرنے کے نتیجے میں عقل نے ایک اور اگلی سطح تک پہنچنا تھا۔ منیر نیازی کا اس حوالے سے ایک انتہائی برمحل شعر ہے کہ 

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو 
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

اب جہاں تک آسمان سے پیغام آنے کا تعلق ہے تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ انسانی عقل ناقص ہے اور وہ انسانی مسائل کا حل تلاش کرنے میں ناکام ہے۔ لہٰذا زمین پر بسنے والے انسانوں کو آسمانی حل کی ضرورت ہے، مگر بد قسمتی سے جس انسانی عقل کو نا اھل اور ناقص قرار دیا جا رہا ہے مذہب اپنے نفاذ اور تشریح کیلئے اسی کا محتاج بھی ہے۔ مذہب کا ایک المیہ یہ ہے کہ وہ آسمانی ہدایت مانے جانے کی وجہ سے تقدس کے غلاف میں لپٹا ہوتا ہے اور جب بھی زمانہء موجود کے تقاضے اسکے عملی بانجھ پن کو چیلنج کرتے ہیں توفوراََ یہ تقدس جو کہ بنا سوچے سمجھے لوگوں کی نفسیات میں گندھا ہوتا ہے ایک طوفان کی طرح اسکی مدد کو پہنچ جاتا ہے اور عقل و خرد اور منطق اپنی بے بسی کا تماشہ دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

لہٰذا کسی بھی مذہبی سوچ والے سماج میں مذہب کا تنقیدی جائزہ نہیں لیا جا سکتا ہاں البتہ اسکی مختلف تشریحات (جو کہ عام طور پر ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہو سکتی ہیں) کے درمیان بحث و مجادلہ ضرور ہو سکتا ہے اور اسکا بھی عام نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ کفر کی فتویٰ سازی کا کام اور تیز ہو جاتا ہے جبکہ زندگی کے حقیقی مسائل کسی بھی عملی اور انسانی حل سے محروم مذہب کا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
الہامی کتابوں کی آیات میں اسقدر ابہام اور لچک ہوتی ہے کہ تشریح و توضیح کے زور پر ان میں سے بادشاہت اور سرمایہ داری سے لیکر جمہوریت اور اشتراکیت تک تمام نظام دریافت کئے جا سکتے ہیں۔ عورت کی آزادی سے لیکر لونڈیاں رکھنے اور چار عورتوں کو ایک مرد کے تصرف میں دینے تک کا جواز تلاش کیا جاسکتا ہے۔ مذہبی تشریحات کے زور پر فنونِ لطیفہ کو حرام بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور جائز بھی۔

مختلف مذہبی گروہوں کی یہ تشریحات ایک ہی ماخذ کی دعویدار ہونے کے باوجود عموماً قطبین پر کھڑی ہوتی ہیں لہٰذا اپنے ماننے والوں کو ہمہ وقت دوسروں کی دشمنی پر اکساتی رہتی ہیں اور یوں معاشرے کو نفرت کرنے والے گروہوں میں تقسیم کرتی چلی جاتی ہیں(اس وقت پاکستان بدقسمتی سے شدت کیساتھ اس المیے سے دوچار ہے) ۔ عام طور پر حکمران طبقوں کو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ مذہب ریاستی معاملات کا معقول اور مناسب حل دینے کی صلاحیت سے محروم ہے مگر یہ مذہب ہی ہوتا ہے جس سے انہیں اپنے طبقاتی مفاد ، دوسرے لفظوں میں انکی لوٹ مار کو جواز میسر آتا ہے۔

لہٰذا لوحِ محفوظ کا عقیدہ ، تقدیر کا فلسفہ اور وتعزو من تشاء وتذل من تشاء جیسی آیات کو وہ ایک ٹول کے طور پر برتتے ہیں کیونکہ انکے زور پر وہ عام عوام کی مذہبی نفسیات سے کھیلتے ہوئے اپنے حقِ حکمرانی کیلئے مذہبی جواز حاصل کر لیتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ مذہبی تقدس کے سہارے ہی ہوتا ہے کیونکہ تقدس کو عقل سے چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور جو ایسا کرنے کی غلطی کر ے گا۔وہ فوراً سے پہلے کافر اور قابلِ گرد زدنی ٹھہرے گا۔ 

آج ہماری زندگی کا شائد ہی کوئی ایسا معاملہ ہو (بشمول جمالیاتی اور نفسیاتی ضرورتوں کے ) جو مادی اصولوں کی دریافت سے ہونے والی ترقی کا مرہونِ منت نہ ہو۔ بھلا ہو یورپ کا جس نے مذہبی جبریت کو علم کے راستے سے اٹھا کر ایک طرف کر دیا وگر نہ تو چرچ ہر سائنسی فکر رکھنے والے شخص کے راستے میں آگ کے الاؤ دہکائے بیٹھا تھا۔ زندگی نے آگے بڑھنا تھا سو بڑھتی رہی اور تبدیلی کے مخالف مذہبی رویوں کو چرچ تک محدود ہونا پڑا۔ 

مسلمان ابھی تک تاریخ سے سبق سیکھنے سے انکاری ہیں اور فکری تضادات کے سمندر میں غوطے کھا رہے ہیں ۔ان کا طرفہ رویہ یہ ہے کہ بیک وقت یورپ کو کافر بھی قرار دیتے ہیں اور اس سے ٹیکنالوجی کی بھیک بھی مانگتے ہیں۔ یورپ کی دریافتوں کو شیطانی بھی کہتے ہیں اور ان سے متمتع ہونے کی خواہش میں بھی مبتلا ہیں۔ ان کے فکری افلاس اور تضاد کی یہ حالت ہے کہ بچوں کو نصاب میں چارلس ڈارون کی ارتقائے حیات کی تھیوری بھی پڑھانے پر مجبور ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ آدم کی پیدائش کی کہانی کو انتہائی بچگانہ مگر مافوق الفطرت انداز میں منوانے پر بھی بضد ہیں۔
صورتِ حال یہ ہے کہ فکری تضادات کی ایک طویل زنجیر ہے جس نے ہمیں بری طرح سے جکڑ رکھا ہے اور ہمارے اپنے مسائل کا کوئی حقیقی حل سجھائی نہیں دے رہا۔ اپنے مذہبی عقائد کا دلیل سے دفاع نہ کر سکنا (جو کہ ممکن ہی نہیں ہے) ہمیں جھنجھلاہٹ کا شکاربنا رہا ہے، لہٰذا جہاں دلیل ختم ہوتی ہے وہاں ہم بندوق نکال لیتے ہیں اور یوں عقل کے تمام دروازے بند کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں ۔
ہمارے معاشرے میں موجودبے شمار ناانصافیوں کو ، جن میں معاشی ناانصافی سب سے اوپر ہے، کو بدقسمتی سے مذہب کا تحفظ حاصل ہے ۔جنرل ضیا نے مذہب کے نام پر ہی جاگیرداروں اور بڑے سرمایہ داروں کو انکی جاگیریں اور صنعتیں واپس کی تھیں اور افغانستان کے نام نہاد جہاد میں مذہب کے نام کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ کی پراکسی وار لڑی تھی۔ مذہب کا تحفظ حاصل ہونے کی وجہ سے ان نا انصافیوں کو چیلنج کرنا بھی مشکل ہے کیونکہ کسی بھی لمحے آپکو کافر قرار دیا جاسکتا ہے۔ ہاں اگر ان ناانصافیوں کے سامنے سے مذہب کی ڈھال ہٹالی جائے تو انہیں نہایت آسانی سے چیلنج کر کے مسائل کے شکار لوگوں کو ان کے خلاف ابھارا جا سکتا ہے اور پھر انکی طاقت سے حالات کو ان کے حق میں بدلا بھی جاسکتا ہے۔ 

یہ بات ہمیں آج نہیں تو کل ضرور ماننا پڑے گی (لیکن بڑے نقصان کے بعد) کہ مذہب فرد کا انفرادی معاملہ تو ہو سکتا ہے اور ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے اختیار کرے لیکن یہ ریاستی معاملات کو ایسے انداز میں چلانے میں مکمل طور پر ناکام ہے کہ اسکے نفاذ سے انسانی آزادی اور ترقی کو مثبت بڑھاوا ملے۔ ہاں البتہ اسکے نفاذ سے معاشرہ جبراور ڈکٹیٹر شپ میں ضرور جکڑا جا ئیگا اور نتیجے کے طور پر ہر طرح کی ترقی اور رواداری سے محروم محض ایک متشدد انہ اور نفرت کے رویوں کا حامل بن کر رہ جائے گا۔ جہاں کفر کے فتووں کی فیکٹریاں تو بہت ہونگی مگر غریب کو گھر، دوا دارو اور تعلیم تو دور کی بات ہے روٹی بھی دستیاب نہیں ہوگی۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا عقل ا ورفکر سے عاری یہ بانجھ رویہ ہمیں کوئی ایسا قابلِ فخر ماڈل بننے میں مدد دے رہا ہے جسے مسائل کا شکار دوسرے لوگ اپنانے کی خواہش کر سکیں؟؟؟

One Comment

  1. سیاست اور ریاست میں دین کا کردار ایک ایسا موضوع ہے جو دور حاضر میں بدقسمتی سے افراط و تفریط اور دو طرفہ شدت پسندی کا شکار ہے۔

    ایک طرف وہ مذہبی طبقہ ہے جس کی ذہنی پرورش اور بلوغت ایسے تنگ نظر مذہبی ماحول میں ہوئی ہے جہاں دنیوی علوم اور عصر حاضر کے مسائل شجرِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مزید برآں مذکورہ مذہبی ماحول میں تدریس کا مرکزی نقطہ اسلام کم اور اپنے مسلک کی حقانیت اور دوسرے مسلک کی گمراہی و ضلالت زیادہ رہتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس مذہبی طبقہ کو گزشتہ چار دہائیوں سے عالمی طاقتوں اور ملکی اداروں نے بالترتیب اپنی عالمی سرد جنگ اور سٹریٹیجک مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
    دنیا کے مختلف علاقوں میں سیاسی طور پر غلامی و محکومی اور جبر و تشدد کا نشانہ بننے والی مسلمان قوموں کے مسائل سے عالمی طاقتوں کی چشم پوشی اور بعض جگہوں پر جبر و تشدد کی حمایت و پشت پناہی، مسلم حکمرانوں کی منافقانہ و بزدلانہ پالیسیوں، کرپشن، اقربا پروری اور اُمت مسلمہ کے مسائل کے حل میں عدم دلچسپی نے اس مذہبی طبقے میں ردعمل کے طور پر یہ احساس پیدا کیا کہ اسلام پسندوں اور حق پرستوں کے اقتدار میں آئے بغیر یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ اس پس منظر میں ان کے ہاں اقتدار صرف ’اہل حق‘ کا حق ہے اور ’اہل حق‘ اُن کے علاوہ کوئی نہیں۔ اس فکر کو دراصل theocracy یا پاپائیت کا عنوان دیا جاسکتا ہے۔

    دوسری طرف وہ جدت پسند طبقہ فکر ہے جس کی نظر میں اہل مذہب کی تنگ نظری، کردار کی عدم پختگی، ان کے ہاں مسائل جدیدہ سے عدم آگہی اور اکیسویں صدی کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی عدم صلاحیت واضح تھی۔ اس طبقہ نے مغرب میں مذہب کو ریاست و سیاست سے الگ کرنے کے انقلابی نتائج و ترقی کا واضح مشاہدہ یا مطالعہ کیا تھا۔ لہذا وہ اس بات کا داعی بن گیا کہ اسلام یا اھل مذہب کا ریاست و سیاست سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں ہونا چاہیے۔ مذہب صرف فرد کے پروردگار سے تعلق سے عبارت ہے۔ اس دائرہ سے باہر مذہب کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے۔
    ان دو انتہائی افکار کے درمیان عامۃ الناس کی اکثریت ہے جو confused ہے اور وہ کسی نہ کسی طرح دونوں انتہاؤں میں سے کسی ایک طرف راغب نظر آتے ہیں۔
    http://www.minhaj.info/mag/index.php?mod=mags&month=2015-03&article=6&read=txt&lang=ur

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *