عارف کی کہانی، ایک تفتیش کار کی زبانی

سبطِ حسن

رات ڈھل رہی تھی اور میں سونے کی تیاری کر رہا تھا۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ ضلعی پولیس کا ایک اہلکار دروازے پر کھڑا تھا۔ وہ ضلعی پولیس کے ایک بڑے افسر کی طرف سے طلبی کا پروانہ لے کر آیا تھا۔ مجھے لگا کہ کوئی سنگین معاملہ ہو گا جو صبح کا انتظار کیے بغیر مجھے فوری تفتیش کے لیے بلایا گیا ہے۔ میں نے پیغام لانے والے سے پوچھا آیا ضلعی پولیس تھانے کے ڈیوٹی افسر نے معاملے کی ابتدائی چھان بین کر لی ہے۔ اس نے نفی میں جواب دیا۔
۔’’آخر واردات کیا ہے؟ قتل، چوری، حملہ یا بلوہ۔۔۔؟‘‘۔
اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ اسے کچھ معلوم نہیں۔ وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ کوئی گھنٹہ بھر پہلے ایک فوجی تابوت گاڑی، محاذِ جنگ پر کام آنے والے ایک سپاہی کی لاش لے کر ضلعی پولیس تھانے پہنچی تھی۔
میں جلدی جلدی تیار ہوا اور ضلعی پولیس تھانے تک پہنچا۔ اس وقت ڈیوٹی افسراور جاسوسی کے محکمے کا ایک اہلکار وہاں موجود تھے۔ میں نے ڈیوٹی افسر سے ابتدائی معلومات حاصل کیں اور تفتیش کا کام شروع کر دیا۔ فوجی افسر کو بلوایا گیا۔ اس نے پورے معاملے کا خلاصہ بیان کیا:۔
’’
وہ جنگ میں کام آنے والے ایک سپاہی کی لاش اس کے گھر والوں کے سپرد کرنے کی غرض سے گاؤں گیا۔ اس پر انکشاف ہوا کہ جو مرنے والے کا نام ہے، اس نام کا آدمی زندہ اور بخیریت موجود ہے۔ جبکہ اس کی تحویل میں جو لاش ہے وہ کسی اور آدمی کی ہے جو اس نام کے آدمی کی جگہ فوج میں لازمی خدمت کے لیے بھرتی ہوا۔‘‘ افسر بہت تھکا ہوا تھا اور اس کے چہرے پر تھکن اور پسینے کی لکیریں تھیں۔ مجھے اس کی سنائی ہوئی کہانی کے مشکوک ہونے کا بھی احساس تھا۔ میں نے اس سے سوالات پوچھے۔ پھر ان لوگوں کے ناموں کا جائزہ لیا جو اس کے ساتھ آئے تھے۔
میں نے مرنے والے کے دوست سے بات چیت کا آغاز کیا۔ اس نے مجھے ساری کہانی سنائی جسے سنتے ہوئے میں حیرت اور بے یقینی کے درمیان ڈولتا رہا۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ آیا اس کے پاس مرنے والے کے ایسے کاغذات ہیں، جن کا تعلق اس وقت سے ہو جب وہ چوکیدار کے بیٹے سے نمبردار کا بیٹا نہیں بنا تھا۔ اس نے مرنے والے کے سامان کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے یہ سامان اس کے سامنے رکھ دیا۔ اس نے فوجی شناختی کارڈ نکالا۔ اس میں ایک کاغذ احتیاط سے تہہ کیا ہوا رکھا تھا۔ اسے باہر نکالا اوربڑی احتیاط کے ساتھ کھول کر میرے سامنے پھیلا دیا۔ یہ ابتدائی سکول کا سرٹیفیکیٹ تھا۔ شناختی کارڈ، نمبردار کا بیٹا ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا اور سرٹیفیکیٹ یہ بتاتا تھا کہ فوج میں نمبردار کا بیٹا بن کر بھرتی ہونے والا دراصل چوکیدار کا بیٹا تھا۔
میں نے اگلے روز ضروری دستاویزات کی سرکاری تصدیق ایک دوسرے افسر کے ذمے لگائی اور خود گواہوں سے بیان لینے لگا۔ کچھ گواہوں نے حقیقتِ حال فوراً ہی بیان کر دی۔ مرنے والے کے حقیقی باپ نے آنسوؤں کے درمیان جو کچھ کہا وہ نہایت درد نا ک تھا۔ تاہم نمبردار نے اعترافِ جرم نہ کیا۔ میں اس سے اس معاملے میں اس کے ملوث ہونے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ اُگلوا سکا۔ بعض موقعوں پر اسے کوئی جواب نہ سوجھتا، لیکن پھر بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ نہ ہی اس کی آنکھوں میں کسی طرح کے پچھتاوے کی جھلک دکھائی دی۔ اس کی آواز پُرسکون تھی۔
تفتیش کے دوران ایک سوال مجھے متواتر پریشان کرتا رہا۔۔۔ اس منصوبے کو اس کی نازک تفصیلات سمیت تیار کیا گیا تھا۔ اس میں کچھ نقائص تو ضرور تھے مگر محض معمولی نوعیت کے۔ آخر مجھے ’دلال‘ کے بارے میں بتایا گیا۔ بعد میں اسے میرے سامنے لایا گیا۔ وہ کسی ایسے آدمی کی مانند تھا جو ہر امید سے دستبردار ہو چکا ہو۔ اس نے مجھے کسی مشکل میں نہیں ڈالا۔ اس نے جو کچھ کیا تھا، اس کا پورا پورا اعتراف کر لیا۔
مقدمے کے تمام عناصر میرے سامنے تھے۔ میں نے تمام حقائق ، پرانے اور نئے، نمبردار کے سامنے رکھ دیے لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس نے اعتراف کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر میں نے دلال اور نمبردار کے بیٹے کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔ اس امید پر کہ نمبردار پر دباؤ بڑھے گا اور وہ اعتراف کرنے پر رضا مند ہو جائے گا۔ وہ اپنے بیٹے کی گرفتاری پر سخت طیش میں آگیا لیکن پھر بھی اعتراف کرنے پر راضی نہ ہوا۔ مجھے ایک بار پھر احساس ہوا کہ وہ کسی بات کے انتظار میں ہے جو اسے مصیبت سے نکلنے کا رستہ فراہم کر دے گی۔
اچانک مجھے اس معاملے کی تفتیش بند کرنے، بلکہ پورے معاملے کو فراموش کرنے اور لاش کو دفن کرنے کے احکام وصول ہوئے۔ لاش، تفتیش کے دوران سرد خانے میں رکھی ہوئی تھی۔
عارف کو مرنے والے چوکیدار کے بیٹے کے طور پر نہیں بلکہ نمبردار کے بیٹے کی حیثیت سے دفنا دیا گیا۔ نمبردار کے بیٹے کے طور پر دفن کیا جانا عجیب نہیں مضحکہ خیز تھا کیونکہ اس نام اور حلیے کا حامل شخص زندہ اور بخیریت موجود تھا۔ اس کا مطلب یہ نکلتا تھا کہ ایک ہی نام کے دو اشخاص تھے، ایک مرچکا تھا اور ایک اب تک زندہ تھا۔ اس صورت حال میں، مستقبل میں یہ طے کرنا مشکل ہو گا کہ کون سا شخص اصلی تھا اور کون سا متبادل کے طور پر جنگ میں مارا گیا۔
میں نے اس معاملے کی تفتیش کے بند کیے جانے پر اعتراض کیا۔ میرے لیے یہ بات سمجھنا محال تھا کہ میں کس طرح فرض کر لوں کہ یہ وقوعہ کبھی پیش ہی نہیں آیا تھا۔ میں تفتیش کار ہوں اور میرا کام حقیقت تک پہنچنا ہے۔ اسی دوران مجھے ایک اعلیٰ افسر نے طلب کر لیا۔ مجھے اس پر بڑی خوشی ہوئی کہ آخر اس معاملے کی اعلیٰ افسران کو خبر ہو ہی گئی۔
میں اس اعلیٰ افسر کے دفتر میں پہنچا۔ میں چپ چاپ بیٹھا رہا۔ میں اس کی طرف سے سوالات کا منتظر تھا تاکہ میں تفتیش سے متعلق جوابات دے سکوں۔ اعلیٰ افسر میری طرف دیکھ کر مسکرایا او رپھر پوچھنے لگا:
’’
اس وقت تمھارے ذمے جو کام ہے ، اسے کب تک پورا کر لو گے؟‘‘
میں سیدھا ہو بیٹھا، گہرا سانس لیا اور تھوک نگلا۔ میرا جواب سننے سے پہلے ہی وہ پھر بولا:۔
۔’’تقریر کرنے کی ضرورت نہیں، بس میرے سوال کا جواب دو۔ پہلی بات، کیا تمھاری تفتیش مکمل ہو گئی؟‘‘۔
۔’’صرف ایک آخری کام باقی ہے‘‘ میں نے صورت حال کا تناؤ کم کرنے کی کوشش میں کہا، ’’ملزم کا اعتراف، اصل آدمی جس نے جرم کیا ہے، لیکن وہ آج حاصل ہو جائے گا یا زیادہ سے زیادہ کل تک۔۔۔‘‘۔
۔’’کیا وجہ ہے کہ وہ اعترافی بیان نہیں دے رہا۔۔۔‘‘۔
۔’’وہ مسلسل انکار کر رہا ہے، حالانکہ تمام گواہوں کے بیانات اسی کو مجرم ثابت کرتے ہیں۔ ۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ عدالت میں مقدمے کا چالان اس طرح پیش کروں کہ کوئی کمی نہ رہے۔۔۔‘‘۔
۔’’کون سا مقدمہ۔۔۔؟‘‘۔
۔’’وہی جس کی میں تفتیش کر رہا ہوں، وہ لڑکا جو جنگ میں مارا گیا ۔۔۔‘‘۔
۔’’جنگ میں کون مارا گیا۔۔۔؟‘‘۔
۔’’عارف، چوکیدار کا بیٹا۔۔۔‘‘۔
۔’’کس چوکیدار کا بیٹا۔۔۔‘‘۔
۔’’وہی جو نمبردار کے بیٹے کی جگہ فوج میں بھرتی ہوا۔۔۔‘‘۔
’’
نمبردار کون۔۔۔؟‘‘
۔’’وہی اصل مجرم ہے۔۔۔‘‘۔
۔’’اصل مجرم۔۔۔؟ کیسے۔۔۔ تم کیا باتیں کر رہے ہو۔۔۔؟‘‘۔
میں نے جواب نہ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ پوری بات مضحکہ خیز ہوتی جا رہی تھی۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ یہ اعلیٰ افسر کس قسم کے سوالات کر رہا ہے اور ان کا مطلب کیا ہے۔ اچانک مجھے اپنی بے بسی کا احساس ہونے لگا۔ اعلیٰ افسر نے میری طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا:۔
۔’’سنو، کوئی مقدمہ نہیں ہے، کچھ نہیں ہوا۔ یہ سب گاؤں کے کسانوں کا گھڑا ہوا قصہ ہے۔ چوکیدار کا بیٹا فوج میں بھرتی ہوا۔ وہ اپنا رشتہ کسی اعلیٰ نسل کے خاندان سے جوڑنا چاہتا تھا۔ اس نے پہلے دن سے جھوٹے بیانات دیے اور خود کو نمبردار کا بیٹا ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ وہ مارا گیا۔ وہ اس نام کے ساتھ شہید ہوا جو اس نے آزادانہ مرضی سے اختیار کیا تھا۔۔۔ اور بس، قصہ ختم۔۔۔ کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ ایک نوجوان شہادت کے رتبے پر پہنچا۔ بہت خوب ہوا۔ اگر شہادت سے پہلے اس سے کوئی غلطی ہوگئی تو اس کی وجہ سے اس کا رتبہ کم کرنا مناسب نہیں۔۔۔‘‘۔
اچانک ایک دن مرنے والے کا حقیقی باپ کہیں سے میرے سامنے آگیا۔ اس نے مجھے دو باتوں کی التجا کی۔ ایک یہ کہ مرنے والے کے حقیقی باپ کی حیثیت سے وہ اس بات کا حقدار ہے کہ لاش اس کے حوالے کی جائے تاکہ وہ اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے دفن کر سکے۔ دوسری بات یہ کہ وہ رقم جو مرنے والے کے وارث کو ملنے والی ہے، اسے دلوائی جائے۔ وہ اس کے علاوہ کسی بات کا خواہاں نہ تھا۔۔۔ نہ نمبردار کو سزا دلوانے ، نہ کسی قسم کا انصاف مانگنے کا۔۔۔
مجھے مرنے والے سے مکمل ہمدردی تھی مگر میں لاش کس کے حوالے کرتا۔ اگر نمبردار کے حوالے کریں تو چوکیدار احتجاج کرے گا۔ اس کے پاس ثبوت ہے کہ مرنے والا اس کا بیٹا تھا۔ وہ اکیلا نہیں، پورا گاؤں اس کے ساتھ احتجاج میں اٹھ کھڑا ہو گا۔ دوسری طرف اگر ہم لاش کو چوکیدار کے حوالے کر دیں تو پھر نمبردار اور اس کے بیٹے کے خلاف اقدام کرنا ضروری ہو جائے گا۔ اس سے وہ معاملہ پھر سے کھل جائے گا جسے اب داخل دفتر کیا جا چکا تھا۔ اس صورت حال میں صرف ایک راستہ بچا ہے کہ لاش کو کسی محفوظ مقام پر ہماری تحویل میں دفن کر دیا جائے۔ اور یہ کام پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔
میں نے چوکیدار کو معاوضہ دلانے کی بات ایک اعلیٰ افسر کے سامنے رکھی۔ اس نے جواب دیا:۔
۔’’چوکیدار کو اس وقت تک اس کی رقم میں سے ایک پائی بھی نہیں مل سکتی جب تک نمبردار اس کے لیے تیار نہ ہو۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق نمبردار ہی مرنے والے کا باپ تھا اور انعامی رقم کا وہی وارث ہے۔ اگر وہ چاہے تو چوکیدار کو رقم میں سے کچھ مل سکتا ہے۔۔۔‘‘۔
میں نے بحث کی، لیکن اس نے کہا یہ اوپر سے آنے والے احکام ہیں اور ان پر فوری اور بلاچون و چرا عمل کیا جائے گا۔ ہم نے نمبردار سے رابطہ کیا اس نے معاوضے کی رقم کی بابت دریافت کیا۔ اس نے رقم سے چوکیدار کے حق میں دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔ یہ بہت معمولی سی رقم تھی مگر وہ اس سے دستبردار ہو کر یہ اشارہ نہیں دینا چاہتا تھا کہ اس نے جرم کا ارتکاب کر لیا ہے۔ البتہ اس نے یقین دلایا کہ جب رقم مل جائے گی تو وہ خیرات کے طور پر چوکیدار کو کچھ نہ کچھ ضرور دے دے گا۔
جب میں اپنے دفتر واپس پہنچا تو میں نے اپنے دفتر کے دروازے کے پاس چوکیدار کو کھڑا دیکھا۔ اس نے مجھ سے قسم کھا کر یقین دلانے کا کہا کہ اس کے بیٹے کی لاش محفوظ مقام پر ہے۔ میں نے اسے یہ کہہ کر تسلی دی کہ حالات ٹھیک ہو جانے پر لاش اس کے حوالے کر دی جائے گی۔ یہ سب کچھ کہتے ہوئے، مجھے ذرا بھی اندازہ نہ تھا کہ لاش کہاں دفن کی گئی ہے۔ اس نے مجھے دعائیں دیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے اسے تسکین پہنچائی جبکہ مجھے یہ وعدہ پورا کرنے کی اپنی صلاحیت پر ذرا بھی اعتماد نہ تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *