عارف کی کہانی، ایک افسر کی زبانی-5

سبط حسن

میرا کام جنگ میں کام آنے والوں کی لاشیں ان کے ورثا کے سپرد کرنا ہے۔ اس دن جب لاش آئی تو میں نے مرنے والے کا پتا پڑھا۔ وہ ایک گاؤں کا رہنے والا تھا۔ میرے سٹاف نے مرنے والے کے ضروری کاغذات تیار کیے۔ مجھے لاش کے ساتھ جانا تھا۔ میں نے مرنے والے کے دوست کو بھی ساتھ لے جانا مناسب خیال کیا۔ یہی دوست مرنے والے کا تابوت ہمارے پاس لے کر آیا تھا۔
سہ پہر ڈھل رہی تھی۔ ہم نے تابوت گاڑی میں رکھا۔ مکینک، مرنے والے کا دوست اور میرے ساتھ جانے پر مامور ایک سپاہی تابوت کے پاس بیٹھ گئے۔ دوسرا سپاہی میرے اور ڈرائیور کے بیچ بیٹھ گیا۔ شہر سے نکلنے سے پہلے ہم نے اندازہ لگایا کہ ہم شام تک گاؤں نہیں پہنچ پائیں گے۔ واقعی یہی ہوا۔ ہم شام تک اس جگہ تک پہنچے جہاں بڑی سڑک سے اتر کر ایک کچے راستے پر مڑنا تھا۔ اس کچے راستے پر آتے ہی ہم نے خود کو گھپ اندھیرے میں گھرا ہوا پایا۔ ہم رک گئے۔ مرنے والے کا دوست اتر کر ریلوے کراسنگ کی طرف گیا۔ وہاں روشنی کا ایک چھوٹا سا نقطہ دکھائی دے رہا تھا جو اصل میں اس چولھے کی آگ تھی جس پر کراسنگ کا چوکیدار چائے بنا رہا تھا۔ اس نے چوکیدار سے پتا پوچھا تو اس نے پتا بتانے کی بجائے اپنے برابر میں بیٹھے ہوئے ایک کسان کی طرف اشارہ کیا۔ وہ کسان اسی گاؤں کا تھا اور اس وقت کسی سواری کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ کسان کو ساتھ چلنے کی دعوت دی گئی تو وہ فوراً شکریہ ادا کرتا ہوا ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو گیا۔ کسان اپنی بے تحاشا ممنونیت کا اظہار کرتا ہوا ہمارے ساتھ آبیٹھا۔ وہ کہنے لگا کہ اگر ہم لوگ نہ آتے تو وہ ساری رات کراسنگ پر بیٹھا رہتا۔
۔’’کیا گاؤں بہت دور ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
۔’’نہیں، پیدل دور نہیں، پیدل دو گھنٹے کا راستہ ہے۔۔۔‘‘۔
۔’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ گاڑی پر پندرہ منٹ لگیں گے‘‘۔
۔’’آپ کو گاؤں میں کس سے ملنا ہے؟‘‘ کسان نے پوچھا۔
میں نے مرنے والے کے باپ کا نام بتایا جو کاغذات میں درج تھا۔
۔’’وہ گاؤں کا نمبردار ہے، اس وقت گاؤں میں ہی ہے‘‘۔
ہماری گاڑی کا ڈرائیور ضرورت سے زیادہ ہی بولتا تھا۔ گاڑی کے پچھلے حصے کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا:
۔’’شہید کو لے جانا، بڑا درد ناک کام ہے۔۔۔‘‘۔
کسان نے چونک کر اپنے ہاتھ سینے پر رکھے اور پوچھنے لگا:۔
۔’’کون ہے یہ ؟۔۔۔ نمبردار کا بیٹا۔۔۔!‘‘۔
۔’’جی، نمبردار کا بیٹا۔۔۔‘‘۔
۔’’۔۔۔ لیکن نمبردار کا کوئی بیٹا شہر میں زیر علاج نہیں تھا۔۔۔ یا کوئی حادثہ ہوا ہے؟‘‘۔
۔’’حادثے کا کیا مطلب۔۔۔؟‘‘ ڈرائیور غصے سے چلّایا، ’’یہ محاذ پر شہید ہوا ہے۔۔۔‘‘۔
۔’’جنگ میں۔۔۔؟‘‘ کسان نے پوچھا۔
کسان کچھ دیر سوچتا رہا۔ اس کے چہرے پر گہری فکر مندی کا تأثر تھا۔ اچانک اس نے اپنا ہاتھ ہوا میں بلند کیا۔۔۔ ’’لیکن نمبردار کا کوئی بیٹا فوج میں نہیں ہے۔۔۔‘‘ اس نے کہا۔
۔’’یہ تمھیں کس نے بتایا۔۔۔؟‘‘ مرنے والے کے دوست نے پہلی بار زبان کھولی۔
۔’’مجھے اس کا پورا یقین ہے۔۔۔‘‘۔
۔’’ہمیں بھی اس بارے میں پورا یقین ہے۔۔۔‘‘۔
اس کے بعد خاموشی کا ایک مختصر سا وقفہ آیا۔ اس کے دوران ہم میں سے ہر کوئی بے قرار سا رہا۔ کسان بھی بہت مضطرب تھا۔ اس سے چین سے بیٹھنا ممکن نہ تھا۔ وہ اپنی دھن میں بولتا جا رہا تھا:
۔’’نمبردار کے سارے بیٹوں کو بھرتی سے استثنیٰ حاصل ہو گیا تھا اور ویسے بھی وہ اب اس عمر سے نکل چکے ہیں۔ صرف سب سے چھوٹا اس عمر کا ہے کہ اسے فوج میں بھرتی ہونا چاہیے تھا لیکن وہ تو گاؤں میں موجود ہے‘‘۔
۔’’تم نے اسے آخری بار کب دیکھا تھا؟‘‘۔
۔’’آج صبح۔ میں نے اسے سلام بھی کیا تھا۔۔۔‘‘۔
۔’’شاید نمبردار کا کوئی اور بھی بیٹا ہو، جس کا تمھیں علم نہ ہو۔۔۔‘‘ مرنے والے کا دوست تلخ لہجے میں بولا۔ کسان کو یہ تلخی اچھی نہ لگی اور اس نے اور زیادہ طنزیہ لہجے میں جواب دیا۔
۔’’ہو سکتا ہے کہ نمبردار کا بیٹا ایک جگہ پر ہو اور اس کا بھوت کسی دوسری جگہ پر بھی نظر آجاتا ہو۔۔۔‘‘۔
مجھے کسان کی گفتگو سن کر بے قراری سی ہونے لگی۔ میں سوچ رہا تھا کہ مجھے جو کام کرنا ہے، اس میں دقّت آسکتی ہے۔ میں نے اپنے بڑھتے ہوئے اضطراب پر قابو پانے کے لیے پھر سے مرنے والے کا نام لیا۔ کسان کی آواز میں پہلی بار غصے کی جھلک نظر آئی:
۔’’وہ زنخا، وہی نمبردار کا سب سے چھوٹا بیٹا۔۔۔ وہ زنخا ہے اور آپ اس کے بارے میں گاؤں میں کسی سے بھی پوچھ کر دیکھو۔۔۔‘‘۔
۔’’کیااسی سے آج صبح تمھاری ملاقات ہوئی تھی؟‘‘۔
۔’’جی، بالکل۔۔۔‘‘ کسان نے کہا مگر خود ہی سوال کرنے لگا، ’’۔۔۔ لیکن جب وہ گاؤں میں تھا تو پھر محاذ پر کس طرح کام آگیا؟‘‘۔
۔’’شاید اس کی جگہ پر کوئی اور محاذ پر چلا گیا ہو۔۔۔‘‘ مرنے والے کے دوست نے آہستگی سے کہا۔
میں نے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کا کہا اور بتیاں نہ بجھانے کی ہدایت کی۔ پھر میں کسان کو ساتھ لے کر نیچے اتر آیا۔ میں نے روشنی میں جا کر جیب سے کاغذات نکالے اور مرنے والے کے بارے میں درج تمام تفصیلات کو ایک بار پھر غور سے پڑھا۔ کسان نے تمام تفصیلات کو بالکل درست قرار دیا سوائے اس نوجوان کے جو محاذ پر کام آگیا، وہ گاؤں میں زندہ موجود ہے۔ میں گاڑی میں آبیٹھا۔ گاڑی میں بیٹھا ہر شخص مضطرب تھا اور طرح طرح کے اندیشوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ میں نے آخری بار کسان سے دریافت کیا کہ آیا وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اسے اس پر پورا یقین ہے۔ اس نے جواب دیا کہ ہم صبر سے کام لیں تو وہ مرنے والے کو ہمارے سامنے لاکھڑا کرے گا۔ میں نے ڈرائیور کو گاڑی کی رفتار تیز کرنے کا کہا۔
میرے اعصاب جواب دے گئے۔ میں تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ جس شخص کی لاش لے جانے کا کام مجھے سونپا گیا ہے، وہ زندہ نکلے۔ میں نے گاڑی رکوا کر تابوت کا معائنہ کیا۔ اس بات کی تسلی کی کہ تابوت میں واقعی لاش ہے۔ پھر مجھے مرنے والے کے شناختی کارڈ کا خیال آیا۔ میں نے کاغذات کے لفافے میں ہاتھ ڈال کر ٹٹول کر اسے باہر نکالا۔ گاڑی کی بتیوں کی روشنی میں اسے کسان کو دکھایا۔ اس نے کارڈ پر لگی فوٹو کو اپنی آنکھوں کے بہت قریب کر کے دیکھا۔ کہنے لگا:
۔’’یہ تو عارف کا فوٹو ہے۔۔۔ نمبردار کے چوکیدار کے بیٹے کا۔۔۔‘‘۔
میں نے کارڈ پر نام پڑھا۔ کسان کہنے لگا:
۔’’نام نمبردار کے بیٹے کا اور فوٹو چوکیدار کے بیٹے کی۔۔۔‘‘۔
ہماری گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی اور نمبردار کی حویلی کے سامنے جا رُکی۔ گاڑی رکتے ہی کسان غائب ہو گیا۔ ہم نمبردار کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ نمبردار اور اس کا بڑا بیٹا نماز پڑھ رہے ہیں۔ اسی دوران کسان پھر لوٹ آیا۔ اس نے سرگوشی میں مجھے اطلاع دی کہ نمبردار کا سب سے چھوٹا بیٹا گھر میں موجود ہے۔ میں نے اس سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو ایک لاڈلا سا دکھائی دینے والا نوعمر لڑکا نمودار ہوا۔ میں نے اس سے اس کا نام اور دوسری تفصیلات پوچھیں۔ اس کے جواب ہو بہو ان تفصیلات کے مطابق تھے جو میرے پاس موجود تھیں۔
اسی وقت نمبردار حویلی سے نمودار ہوا اور ہم سے علیک سلیک کرنے لگا۔ اس کے پیچھے پیچھے اس کے بیٹے اور کئی محافظ تھے۔ میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ وہ خبر سن کر چونکا تک نہیں۔ وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ میں کاغذات، مرنے والے کی چیزیں اور لاش اس کے حوالے کر دوں اور اپنے آدمیوں سمیت فوراً وہاں سے واپس چل دوں۔ میں نے اپنے آپ کو قابو میں رکھا۔
’’
کیا مرنے والا واقعی آپ کا بیٹا تھا؟‘‘ میں نے دریافت کیا۔ اس نے میرے سوال کا کوئی سیدھا جواب نہ دیا۔ مجھے سخت طیش آرہا تھا۔ مرنے والے کے دوست نے مجھے ٹھنڈا کیا۔ اہم بات یہ تھی کہ اس غیر معمولی صورت حال سے کیسے نمٹا جائے۔ اس نے مجھے نمبردار کی طاقت اور جبر سے خبر دار کیا۔ نمبردار اب چوکنا ہو گیا تھا، ایسے شخص کی طرح جو میدان میں اترنے کی تیاری کر رہا ہو۔ تاہم صورت حال اس وقت بدل گئی جب ہڈیا لے چہرے والا چوکیدار کندھے پر بندوق لٹکائے اندر داخل ہوا۔ ہمارے قریب آکر روتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔’’ شہید کا باپ میں ہوں۔۔۔‘‘
نمبردار اب قریباً ڈھیر سا ہو گیا تھا۔ یہ سب گاؤں کے رہنے والوں کے سامنے پیش آرہا تھا۔ نمبردار نے مجھے اپنے گھر چلنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے انکار کر دیا۔ پھر اس نے مطالبہ کیا کہ میں گاڑی کو فوراً قبرستان کی طرف چلنے کا حکم دوں۔ میں نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ اس نے مجھے دھمکی دی کہ اگر مجمع اکٹھا ہو گیا اور دنگا فساد ہونے لگا تو اس کا ذمے دار میں ہوں گا۔
میں اپنی کمزوری اور بے چینی سے عاجز آگیا تھا۔ میں نے اس صورت حال کو یکسر ختم کرنے کے لیے کاغذات، مرنے والے کا سامان اور لاش نمبردار کے حوالے کر دینے کا فیصلہ کر لیا۔ میں یہ سب کرنے ہی والا تھا کہ مرنے والے کے دوست نے مداخلت کی۔ اس نے مجھے درخواست کی کہ میں ضلعی افسر کے پاس چلا جاؤں۔ اس پر نمبردار غضبناک ہو گیا۔ کہنے لگا کہ گاؤں میں وہی حکومت کا نمائندہ ہے۔ اسی دوران چوکیدار نمبردار کی حویلی سے باہر جا چکا تھا۔ حویلی کے باہر گاؤں والے جمع ہو گئے تھے۔ سب سخت غصے میں تھے۔ وہ پہلے ہی نمبردار کے ستائے ہوئے تھے۔ سب کھول رہے تھے مگر ابتدا کرنے سے سب کترا رہے تھے۔ اگر اس وقت کوئی شخص بلند آواز میں نمبردار کو صرف ایک گالی دے دیتا تو پورا گاؤں اس کی حویلی پر چڑھ دوڑتا۔ وہ حویلی اور اس کے مکینوں کو تہس نہس کر دیتے۔ میں لوگوں میں سے راستہ بناتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ میرے لیے گاڑی تک پہنچنا دشوار ہو رہا تھا۔ لوگ مجھے نمبردار کے خلاف مقدمہ درج کروانے کی صلاح دے رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ نمبردار پہلی دفعہ قانون کے شکنجے میں پھنسا ہے۔۔۔ مجھے واقعی ان باتوں پر یقین آرہا تھا۔ مجھے لگا کہ ایک عجیب مگر گھناؤنی واردات ہوئی ہے۔
نمبردار کے آدمی نکل آئے اور مجھے ان کی بندوقیں اور لاٹھیاں صاف دکھائی دینے لگیں ، لیکن لوگوں کے ہجوم نے انھیں مجھ تک پہنچنے سے روک دیا۔ مرنے والے کا دوست اس کے باپ کے پاس آپہنچا۔ ہم تینوں ڈرائیور کے برابر والی سیٹ میں کسی طرح سما گئے۔ باپ کا بے آواز رونا مسلسل جاری تھا۔ مرنے والے کے دوست نے اسے حوصلہ دیا کہ ہم اس کے ساتھ ہیں اور اسے تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اس پر اس بوڑھے کو کچھ تسکین ہوئی۔ اگرچہ اس کے بعد بھی مجھے آنسوؤں کے بہنے سے بننے والے چمکدار راستے دکھائی دیتے رہے جو اس کے ہڈیالے چہرے کی جھڑیوں اور گڑھوں میں سے گزر رہے تھے۔
ضلعی پولیس کے دفتر پہنچ کر میں نے اس سنگین معاملے کی رپورٹ درج کروا دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *