پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش دوبارہ شروع

بھارتی فلمیں نہ دکھانے کے بلندو بانگ دعووں کو پس پشت ڈال کر ایک بار پھر پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش شروع ہو گئی ہے۔

پاکستانی سینما گھروں کے مالکان نے پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے باعث پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کی گیارہ ہفتوں تک بندش کے بعد آج سے ان کی نمائش کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ایسٹیبلشمنٹ کی جنگجویانہ پالیسیوں کی سزا پاکستانی عوام پچھلی کئی دہائیوں سے بھگت رہی ہے ۔پاکستان جہاں پہلے ہی تفریحی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں وہاں فلموں پر پابندی سے انتہا پسند رویے جنم لیتے ہیں۔اس طرح کی پابندیوں سے معاشرے میں کسی بہتری کی بجائے منافقانہ رویے جنم لیتے ہیں۔

نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق کچھ سینما مالکان کے مطابق انہوں نے بھارتی فلموں کی نمائش کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کیوں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی آرہی ہے۔ کچھ تھیٹر مالکان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ لوگوں کی سینما گھروں میں آمد میں کمی کے باعث کیا گیا ہے۔

کراچی کے ایٹریم سینما نے آج بھارتی فلموں کی نمائش کا آغاز بھارتی فلم ’فریکی علی‘ کی نمائش سے کیا۔ روئٹرز کے مطابق بھارتی فلموں کی نمائش کا فیصلہ تو کر لیا گیا ہے لیکن فی الحال اس عمل کی پوسٹرز اور دیگر طریقوں سے تشہیر نہیں کی جا رہی۔

دونوں جوہری ممالک کے درمیان تناؤ میں زیادہ اضافہ اس برس بھارت کی جانب سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور مظاہرین کے خلاف بڑھتے ہوئے کریک ڈاؤن کے بعد دیکھنے میں آیا تھا۔ 

اس برس ستمبر میں عسکریت پسندوں کی جانب سے 18 بھارتی فوجی ہلاک کر دیے گئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا تھا۔ دونوں ممالک میں جب حالات زیادہ کشیدہ ہوئے تو پاکستان میں سینما مالکان نے بھارتی فلموں کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔

پاکستانی ریاست کی جانب سے تمام ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ’سپر سینما‘ گھروں کے جنرل مینیجر خرم گل طیب نے رائٹرز کو بتایا،’’بالی وڈ کی فلموں کے بغیر ہمیں اسی فیصد گاہکوں کو کھونا پڑا ہے۔‘‘ خرم کہتے ہیں اگر بھارتی فلموں کی نمائش شروع نہ کی گئی تو سینما گھروں کو بند کرنے کی نوبت آ جائے گی۔

ندیم مانڈی والا کی کمپنی ’مانڈی والا انٹرٹینمنٹ‘ کراچی اور اسلام آباد میں آٹھ سینما گھروں کو چلا رہی ہے۔ مانڈی والا کا کہنا ہے کہ کسی کو تو تعلقات کی بحالی کے لیے قدم اٹھانا ہو گا۔

دوسری جانب پاکستانی انگریزی اخبار ڈان کے مطابق پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین سید نور بھارتی فلموں کی نمائش کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’بھارتی فلموں کو پاکستان میں دکھانا ایک کمرشل فیصلہ ہے جس میں ملک سے محبت کا عنصر شامل نہیں ہے، جب حکومت نے بھارتی مواد نشر کرنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے تو پھر سینما مالکان کیوں یہ فلمیں دکھانے پر بضد ہیں‘‘۔

پاکستان کی فلم انڈسٹری گزشتہ کچھ برسوں سے اچھے مواد پر مبنی دلچسپ فلمیں تو بنا رہی ہے لیکن ابھی بالی وڈ کے سامنے یہ ایک بہت چھوٹی انڈسٹری ہے۔

One Comment

  1. Allow indian films and let our film industry revive itself. If the industry doesn’t doesn’t start again at least it expands public choices of entertainment. Indians are making some movies about social issues that appear on both sides of the border. Our actors are working in their industry. This is is one more connection between India and Pakistan. Indian movies tend to have more nudity or carry chauvinistic content so all importers have to do is be selective in what they offer for viewing public. No doubt molvis and chest beating patriots may fuss about it.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *