پنجاب مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردوں کا گڑھ بن چکا ہے

15349655_1351541104877333_586943446595677558_n

پیغمبر اسلام کی یوم پیدائش کا جشن منانے والے ہزاروں سنی مسلمانوں نے پیر کے روز ایک احمدی مسجد پر حملہ کر دیا۔ اس واقعے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

مقامی حکام کے مطابق ہزاروں افراد نے احمدی مسجد پر حملہ کرتے ہوئے مسجد کے ایک حصے کو آگ لگا دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے وقت مسجد کے اندر درجنوں افراد موجود تھے۔

حکام کے مطابق پاکستانی صوبہٴ پنجاب کے ضلع چکوال میں پیش آنے والے اس واقعے میں مشتعل افراد نے ابتدا میں ڈنڈوں اور پتھروں سے اس مسجد پر حملہ کیا، جب کہ بعد میں مسلح افراد نے احمدیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔

مقامی پولیس افسر راشد احمد کے مطابق، اس مشتعل ہجوم نے مسجد کے ایک حصے کو آگ بھی لگا دی۔ دوسری جانب مسجد کے اندر موجود افراد نے بھی حملہ آوروں پر اینٹیں پھینکیں، جس کے نتیجے میں چند حملہ آور بھی زخمی ہو گئے۔

ایک اور پولیس افسر ملک نواز نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے جائے واقعہ پر پہنچ کر مشتعل ہجوم کو منشر کیا، جب کہ مسجد کو سِیل کر دیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ صورت حال اس قدر خراب تھی کہ مقامی حکام کو فوج اور نیم فوجی دستے طلب کرنا پڑے۔ احمدی برادری کے ترجمان سلیم الدین نے بتایا کہ مشتعل ہجوم نے مسجد کو چاروں جانب سے گھیر لیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں احمدیہ کمیونٹی کے 100 کے قریب گھرانے موجود ہیں۔

واقعے سے پہلے ہی علاقے کے مکینوں نے عبادت گاہ د پر قبضہ کرنے کی مہم چلا رکھی تھی کیونکہ ان کا موقف ہے کہ 1974 کے بعد احمدی غیر مسلم قرار دیے گئے تھے اس لیے وہ ’مسجد‘ کو چھوڑ دیں۔ حالانکہ 100سال پرانی عبادت گاہ احمدی فرقے نے ہی بنائی تھی۔

یہ بات اہم ہے کہ پاکستانی پارلیمان نے سن 1974ء میں احمدیوں کو غیرمسلم قرار دے دیا تھا، تب سے ہی شدت پسند اس اقلیتی برادری کے خلاف پُرتشدد حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شدت پسندوں کی جانب سے احمدی مسلمانوں کے خلاف توہین مذہب کے الزامات بھی تواتر سے سامنے آتے رہتے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان میں گو کہ تمام ہی اقلیتوں کے خلاف پُرتشدد واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، تاہم احمدی اقلیت کو بالخصوص شدید معاشرتی تفریق اور تشدد کا سامنا ہے۔ پاکستانی قانون کے مطابق اس برادری سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص نہ تو خود کو مسلمان کہہ سکتا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی نشان استعمال کر سکتا ہے، جس کا تعلق اسلام سے ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عبادت گاہوں پر حملے اور توہین رسالت کے نوے فیصد  سے زائد واقعات پنجاب میں ہورہے ہیں جو کہ پنجاب حکومت کی گڈ گورننس کی قلعی کھول رہے ہیں ۔پچھلی دو ہائیوں میں پنجاب میں شدت پسندی کے سنگین ترین واقعات ہوئے ہیں ۔یہ پنجاب ہی ہے جہاں مسیحی بستیاں جلائی جاتی ہیں، امام بارگاہوں پر حملے ہوتے ہیں اور  احمدیوں کی مساجد اور ان کی جائیدادوں  پر حملے کیے جاتے ہیں۔

پنجاب مذہبی انتہا پسندوں اوردہشت گردوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ جہاں مسجد اور منبر سے نفرت آمیز تعلیم کا پرچار کیا جارہا ہے جو پورے ملک بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کا سبب بنا ہوا ہے۔ لہذا جب تک ان مذہبی اور جہادی تنظیموں کو لگام نہ دی جائے گی ان واقعات میں اضافہ ہی ہو گا۔

DW/BBC/News desk

One Comment

  1. دولمیال (چکوال) میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملہ کوئی انہونا واقعہ نہیں ہے۔ اس پر اتنا سیخ پا ہونا کچھ غیر ضروری سا لگتا ہے۔ 1974میں دوسری آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد ایسا تو ہونا ہی تھا ۔کیا کسی ایک سیاسی رہنما نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے کسی ایک نے بھی نہیں حتی کہ ہمارے سوشل ڈیموکریٹ بلاول بھٹو نے بھی نہیں کیونکہ ایسا کرنے کا مطلب ہے مولویوں سے براہ راست ٹاکرا۔ہماری ریاست مولویوں کو خوش کرنے کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار رہتی ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ آیندہ یسے واقعات نہیں ہوں گے تو یہ اس کی خوش فہمی ہے۔ پاکستان میں فرقہ پرستی بڑھے گی کم نہیں ہوگی کیونکہ ہزاروں دینی مدرسوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا کا روزی روزگار فرقہ پرستی سے وابستہ ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان یا کوئی اور پلان یہ بیرون ملک بیٹھے ڈونرز کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *