بخدمت جناب حضرت رئیس امروہوی

javed-250x300جاویداختربھٹی

سید انیس شاہ جیلانی اردو اور سرائیکی کے معروف ادیب ہیں اور اس کے ساتھ ان کی وجہ شہرت مبارک اردو لائبریری ہے۔ جس میں ہزاروں نایاب کتب ، رسائل اور اخبارات موجود ہیں۔ شاہ صاحب کا رئیس امروہوی مرحوم کے خاندان کے ساتھ خاص تعلق رہا ہے۔ احترام کا یہ رشتہ اس قدر مضبوط ہوا کہ رئیس مرحوم نے اپنی تمام تحریروں کے مسودے ان کے سپرد کردیئے اور ان کے نام آئے ہوئے تمام خطوط بھی انیس شاہ جیلانی کے پاس محفوظ ہیں۔

سید انیس شاہ جیلانی نے پچاس ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں کے خطوط کو یکجا کیا ہے جو کہ رئیس امروہوی کے نام آئے اور اس کتاب کا نام ’’بخدمت جناب حضرت رئیس امروہوی‘‘ رکھا ہے۔ یہ شاہ صاحب کی عقیدت ہے ورنہ یہ درخواست کا عنوان تو عام طور پر ہوتا ہے ، خطوط کا نہیں۔ اس میں کچھ لوگ رئیس امروہوی سے عمر میں بڑے تھے۔ خیر یہ تو ایک معمولی سا محبت بھرا اعتراض ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ خطوط کا یہ مجموعہ بہت اہم ہے۔ اس میں امیر حمزہ شنواری ، احمر رفاعی ، ابن انشاء ، احسان دانش ، ایم اسلم ، پطرس بخاری ، تحسین سروری ، جلیل قدوائی ، جوش ملیح آبادی ، حفیظ جالندھری ، حامد حسن قادری ، حضور احمد سلیم ، رشید احمد صدیقی ، راغب مراد آبادی ، زیڈ اے بخاری ، زیب عثمانیہ لدھیانوی ، سید ہاشم رضا ، سر رضا علی ، سید احتشام حسین ، عبدالحمید عدم ، ضمیر جعفری ، الطاف علی بریلوی ، شورش کاشمیری ، عبدالسلام خورشید ، عبادت بریلوی ، عبیداللہ علیم ، غلام رسول مہر ، کمال امروہوی ، گل بادشاہ ، مشتاق احمد خان ، مصطفےٰ زیدی ، مینا کماری ، ممتاز حسن احسن ، ممتاز احمد عباسی ، ماہر القادری ، محمد صلاح الدین ، ماجد الباقری ، محمد مسلم عظیم آبادی ، نیاز فتح پوری ، نظیر صدیقی ، نثار احمد صدیقی ، نیر واسطی ، وارث سرہندی اور ڈاکٹر وزیر آغا کے خطوط شامل ہیں۔

اس میں زیادہ خطوط امیر حمزہ شنواری کے ہیں۔ یہ صفحہ نمبر 15 سے شروع ہوتے ہیں اور 156 تک جاتے ہیں۔ اس میں بعض نہایت اہم مقامات بھی آتے ہیں۔ چند اقتباسات پیش کرتا ہوں۔ ان کا تعلق رئیس امروہوی کے مذہبی عقائد سے ہے۔ 

’’آپ نے اپنے آبائی عقائد سے توبہ کیوں کی۔ اس کا تعلق تو زیادہ تر نفسیات ہی سے ہے اور اس سلسلے میں ممکن ہے کبھی آپ نے اپنی تحلیل نفسی کی ہو۔‘‘
’’
ہاں یہ ناممکن ہے کہ کبھی کبھی شدید سے شدید ملحد کو بھی وجودِ خداوندی کا خیال نہ آیا ہو۔ آپ کو بھی ضرور آتا ہوگا۔ اس کا سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چونکہ آباؤ اجداد سے عقیدہ چلا آرہا ہے۔ اس لئے ہم میں منتقل ہوکر آیا۔‘‘(31-8-64) 

۔۔۔o ۔۔۔

۔’’آپ نے اپنے آبائی مذہب (شیعیت) سے بغاوت کی اور آج تک اس بغاوت کے مضمرات آپ کے نفس میں سرگرم عمل ہیں اور آپ نے الحاد کو اپنا مسلک بنادیا اور تمام محرکات شرعی کا دیدہ و دانستہ ارتکاب کیا لیکن اس کے باوجود آپ غیر شعوری طور پر ایک منزل کی طرف گامزن ہے‘‘۔

’’میں خود پانچ سال تک ان موجود میں بہتا رہا ہوں۔ میں وجودِ خداوندی کے خلاف عجیب و غریب دلائل اختراع کیا کرتا تھا۔ مگر جب بھی امام مظلوم علیہ السلام کا ذکر ہوتا میرا جذبۂ الحاد مفقود ہوجاتا ۔اسی نسبت و محبت نے مجھے ان اندھیروں سے نکال باہر کیا جن سے بظاہر نکلنے کی کوئی امید نہ تھی۔ پھر یہ بھی تو تھا کہ مجھے لڑکپن ہی سے جناب امیر علیہ السلام کی نسبت سے محبت حاصل تھی۔ جب میں بچہ تھا اور گاؤں میں جنگ نامے وغیرہ پڑھے جایا کرتے تھے تو میں جناب امیر کے حالات سن کر فرط محبت سے بے خود ہوجایا کرتا اور کئی بار لڑکپن میں جناب امیر کو خواب میں دیکھا اور ویسے بھی پختون جناب امیر سے ان کی شجاعت کے سبب محبت کرتے ہیں۔‘‘(11-9-64)۔
’’
میں صرف دعا کرتا رہوں گا۔ آپ کے آباء و اجداد سے زاری کروں گا کہ اپنے بیٹے کو زیادہ دیر تک اس اندھیرے میں نہ رہنے دیں۔ میں آپ کے خاندان کا غلام اور نمک خوار ہوں۔ حق نمک ادا کرتا رہوں گا۔‘‘18-10-64۔

۔۔۔o ۔۔۔

ان خطوط میں آئی آئی قاضی کی خودکشی کا ذکر بھی آتا ہے۔
’’
جنگ راولپنڈی مجریہ 28 مئی 1968ء میں آپ کا مضمون ’’چند اہم انکشافات‘‘ پڑھا۔ گو مذکورہ تاریخ کا پرچہ میری نظروں سے نہیں گزرا تھا لیکن لوگوں میں امداد علی قاضی (سندھی ادب کے مشہور فاضل علامہ آئی آئی قاضی) کی خودکشی کے متعلق چہ میگوئیاں ہورہی تھیں اس لئے مجھے اس مضمون کے پڑھنے کی خواہش پیدا ہوئی‘‘۔

’’ڈاکٹر غلام مصطفےٰ صدر شعبہ اردو سندھ یونیورسٹی پر جناب قاضی صاحب کی روح کا ظہور اور دونوں کا مراقبہ محض وہم ہے اور چونکہ ان لوگوں نے (میرے خیال میں) بغیر کسی صحیح تصوفی سلسلہ کے اور بغیر پیرومرشد کے روحانیت میں قدم رکھا ہے اس لئے بمصداق من لاشیخ لہ ، نشیی الشیطان کے مصداق ڈاکٹر صاحب کا یہ کشف یا اپنا وہم و خیال ہے یا شیطانی واردات ہے‘‘۔

’’ڈاکٹر غلام مصطفےٰ صاحب کا یہ فرمانا کہ قاضی صاحب کی روح خودکشی کرنے پر قدرے نادم ہوئی تھی۔ یہ ایک نفسیاتی دھوکا ہے اور وہ یوں کہ خود ڈاکٹر صاحب خودکشی کو مذموم حرکت سمجھتے ہیں اور چونکہ انہوں نے قاضی صاحب کو عالم خیال میں دیکھا۔ پھر ان کے ساتھ مل کر مراقبہ کیا۔ اس لئے یہ بھی ان کا اپنا ہی احساس تھا۔ صاحب اقدام خودکشی پر ندامت محسوس کرتے تھے۔‘‘ 31-5-68 ۔

۔۔۔o ۔۔۔

سید محمد تقی اور جون ایلیا کے بارے میں حمزہ شنواری لکھتے ہیں۔ یہ دراصل ان دونوں کے خاندانی اختلاف کی طرف اشارہ ہے۔
’’
آپ کو یاد ہوگا کہ تقی کے متعلق آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا تھا اور میں نے جواب میں عرض کیا تھا۔ ’’محض دنیادار‘‘ لیکن جون ایلیا کو کیا ہوگیا۔ وہ تو چھوٹے ہیں۔ ان کی سعادت تو اسی میں ہے کہ دونوں بھائیوں سے بزرگانہ عقیدت رکھیں۔‘‘16-8-68۔
۔۔۔o ۔۔۔
امیر حمزہ شنواری ایک صاحب علم شخصیت ہونے کی وجہ سے شیعہ سنی اختلاف کا ذکر اپنے خطوں میں اکثر کرتے ہیں۔ مذہبی بحث اور تصوف ان کے مستقل موضوعات تھے۔ ایک خط سے اقتباس پیش کیا جاسکتا ہے۔ 
’’
جبرو قدر کے متعلق شہودیوں کا وہی عقیدہ جو عام اہلسنّت و الجماعت کا ہے یعنی افعال کا خا لق اللہ تعالیٰ ہے۔ انسان صرف ان کا افعال کا سبب ہے اور کسب کی وجہ سے سزا و جزا کا مستوجب۔
وجودیوں کا نظریہ جبر و قدر اگرچہ بظاہر جبریہ کا نظریہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس فرق ہے کیونکہ جبریہ کا خیال ہے کہ اشیاء پہلے سے متعین نہ تھیں۔ خدا نے جسے چاہا بنایا اور اب اشیاء مجبور ہیں کہ اپنی تخلیق کے مطابق اعمال و صفات کا مظاہرہ کریں۔‘‘30-7-69 

۔۔۔o ۔۔۔

حمزہ شنواری نے حفیظ جالندھری کے ساتھ ایک دلچسپ مکالمہ اپنے خط میں لکھا ہے۔ حفیظ جالندھری قومی ترانے کے خالق ہیں۔ انہوں نے ’’شاہنامہ اسلام‘‘ بھی لکھا۔ 
شنواری صاحب لکھتے ہیں۔
’’
کنونشن رائٹرز گلڈ کے موقع پر مجھے جناب حفیظ جالندھری نے فرمایا کہ خان صاحب آپ پٹھانوں نے ہمیں مسلمان بناکر بہت برا کیا۔ میں نے جواب دیا۔ حفیظ صاحب یہ ظلم ہم پر عربوں نے کیا تھا۔ جس کا بدلہ ہم نے آپ سے لیا۔ بہرحال حالات ایسے ہیں کہ ون یونٹ کے خاتمہ کا اعلان ہوتے ہی بچارے حواس باختہ ہوگئے ہیں اور اوٹ پٹانگ بکنے لگ گئے ہیں اور جیسے کہ پٹیل آنجہانی کی ذہنیت نے پاکستان بنانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ ان لوگوں کی ذہنیت نے پختونستان بنائے جانے کی بنیاد رکھ دی۔‘‘26-4-70 ۔

۔۔۔o۔۔۔

سنہ1970ء کے الیکشن میں پاکستان پیپلزپارٹی نے مغربی پاکستان میں کامیابی حاصل کی۔ حمزہ شنواری پیپلزپارٹی کے خلاف تھے۔ اس کا اظہار وہ اپنے ایک خط میں کرتے ہیں۔

’’پیپلزپارٹی کے متعلق میرا خیال ہے کہ سوشلزم کو پورے طرز پر نافذ نہ کرسکے گی کیونکہ اس کے اکثر و بیشتر کامیاب امیدوار سرمایہ دار ہیں اور خود بھٹو بہت بڑے زمیندار ہیں لیکن میں حیران ہوا تو پنجابیوں کے کردار پر۔ یہی پنجاب ہے جس نے ہمیشہ ہندوستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور یہی لوگ ہیں جو اپنے دو بتوں ’’اسلام اور اقبال‘‘ کے ذریعے بے چارے سرحدیوں ، سندھیوں اور بلوچیوں کا استحصال کیا۔ اسلام اسلام کے نعرے سب سے زیادہ یہی لگایا کرتے تھے۔ یہی لوگ سوشلزم کو کفر بتاتے تھے مگر انہی لوگوں نے سوشلزم کو ووٹ دے کر کامیاب بنایا۔ خدا کی قسم! یہ قوم ضرور غلام بنے گی لیکن یہ تو قوم ہے ہی نہیں۔ مختلف اقوام کا ملغوبہ ہے۔ صرف پنجابی زبان نے ان کی قومیت کو سنبھالا دیا گو پنجابی زبان بھی دس دس میل کے فاصلے پر بدلی ہوئی صورت میں پائی جاتی ہے۔ بہرحال جو کچھ ہوا انشاء اللہ اب پختون دوست دشمن کو پہچان گئے ہیں اور پانچ سال کے بعد وہ من حیث القوم غالب آجائیں گے۔‘‘25-12-70 ۔

حمزہ شنواری کی پنجابیوں سے نفرت اپنی جگہ لیکن وہ پختون قوم کا جو اتحاد دیکھ رہے تھے وہ افغان وار میں نظر آرہا ہے۔ اس جنگ میں انہوں نے (ایک پنجابی)ضیاء الحق کا ساتھ دیا اور جہاد اور اسلام کے نام پر سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔ 1970ء کے اس الیکشن کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان ، بنگلہ دیش بن گیا۔ اس بارے میں حمزہ شنواری لکھتے ہیں۔
’’
میرے ایک شاگرد کا خط مشرقی پاکستان سے آیا ہے اس نے لکھا ہے کہ مجیب نے اپنی حکومت بنائی ہے۔ مہاجروں اور پنجابیوں کے خلاف فضاء بن گئی ہے اور اگرچہ بنگالی کہتے ہیں کہ پٹھان بنگالی بھائی بھائی لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے پٹھانوں کو نہیں بخشا۔ عذر یہ کرتے ہیں کہ ہم پنجابی کے دھوکہ میں پٹھان پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔‘‘
اوپر کی عبارت میں حمزہ شنواری کی پنجابیوں سے نفرت اور سفاکی دیکھی جاسکتی ہے اور ذیل کی عبارت میں ان کی امید دیکھئے کتنی سادہ ہے۔ وہ تاریخ کے طالب علم ہوتے ہوئے کیسی بات کررہے ہیں۔ 
’’
انشاء اللہ بنگالی عوام میں مجیب کے خلاف فضا بن جائے گی کیونکہ وہاں اکثریت سچے مسلمانوں کی ہے اور مجیب نے انہیں دام فریب میں گرفتار کیا تھا۔ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ ہندو سے مل کر جائیں اور اب جب کہ انہیں معلوم ہوگیا کہ مجیب انہیں ہندو اکثریت میں جذب کرنا چاہتا ہے تو وہ ضرور اس کی مخالفت کریں گے۔‘‘21-3-71 ۔

۔۔۔o۔۔۔

شرابی کے بارے میں ان کی رائے بھی خوب ہے۔ (پٹھان شرابی اور سندھی شرابی میں کوئی فرق ہونا چاہئے)
’’
صرف شرابی ہونا بھی شخصیت کے منافی نہیں کیونکہ صدر ایوب بھی تو شراب سے شغل فرمایا کرتے تھے مگر کہاں ان کی شخصیت اور کہاں بھٹو ۔۔۔ اصل شئے تو اصول ہی ہیں۔ ایک موقع پرست خوشامدی انسان ہرگز روشن شخصیت کا مالک نہیں بن سکتا۔ آخر بھٹو اکیلے ہی رہ جائیں گے۔‘‘
غفار خان کے بارے میں ان کی رائے اچھی نہیں ۔۔۔ وہ لکھتے ہیں۔
’’
غفار خان بڑا آدمی سہی لیکن سیاسی شعور سے بالکل عاری ہے اور ہندو تہذیب سے اس قدر متاثر ہیں کہ خدا کی پناہ لیکن اس کے باوجود بھی ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے انگریز سامراج کے خلاف کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔‘‘19-7-71 
عبدالصمد اچکزئی کے بارے میں ایسی رائے اس سے پہلے کبھی نظر سے نہیں گزری اور یہ ان خطوط سے آخری اقتباس ہے۔
’’
وہاں (کوئٹہ) کے تمام نوجوان عبدالصمد اچکزئی کے شدید مخالف ہوگئے ہیں۔ وہاں معلوم ہوا کہ سابق گورنر ریاض حسین صاحب نے عبدالصمد اچکزئی کو قابو میں لانے کے لئے پرمٹوں کا سلسلہ چلایا۔ انہیں لاکھوں روپے کے پرمٹ دیئے اور ویسے بھی اچکزئی صاحب باقاعدگی سے سمگلنگ کا کاروبار کررہے ہیں۔ وہاں کے تمام لوگ یہی کہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اچکزئی صاحب افغانستان سے بھی لیتے ہیں مگر اب ایران سے بھی لے رہے ہیں اور ہمیشہ ایرانی قونصلیٹ کے پاس جایا کرتے ہیں۔ دونوں میں گاڑی چھنتی ہے چنانچہ صادق کے قتل کا الزام بھی افغانستان قونصلیٹ کے ساتھ ہی ساتھ اچکزئی پر بھی لگاتے ہیں۔ وہ بھی اس سازش میں شریک تھے۔‘‘ (صادق بلوچ لیڈر تھے) 3-7-72۔

۔۔۔o۔۔۔

اور یہ امیر حمزہ شنواری ہی تھے جنہوں نے 11-7-72 کو ایک خط میں لکھا کہ ’’اور اب مغربی پاکستان میں اگر چار قومیں بودوباش رکھتی ہی جو اپنی اپنی زبانوں کے اجراء پر بضد ہیں تو ایک پانچویں قوم بھی موجود ہے جسے مہاجر کہتے ہیں۔‘‘ 
رئیس امروہوی کے خط موجود نہیں لیکن حقیقت ہے کہ یہ تاثر ان کے ہی خطوط سے لیا گیا ہے۔ رئیس مرحوم کو ایم کیو ایم کا خالق کہا جاتا ہے اور الطاف حسین ان کے شاگرد تھے۔ خیال ہے کہ رئیس ان دنوں مہاجروں کا ذکر اپنے خطوط میں اکثر کرتے ہوں گے کیونکہ مہاجر سندھی جاگیرداروں کے خلاف تھے اور یہ جاگیردار پیپلزپارٹی کا حصہ تھے۔
امیر حمزہ شنواری کے خطوط میں ایسی بہت سی باتیں ہیں جن کا تعلق پاکستان کی سیاست سے ہے۔ وہ جگہ جگہ اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ان سے اتفاق کیا جائے لیکن ان خطوط سے واقعات کاپتہ چلتا ہے۔
’’
جہانِ دانش‘‘ احسان دانش کی خودنوشت سوانح حیات ہے۔ وہ اس کی اشاعت پر اہم واقعہ بیان کرتے ہیں۔
’’
جہانِ دانش‘‘ میں بہت سے واقعات ضخامت کے باعث نکال دیئے۔ موجودہ صورت میں بھی جو کتاب چھپی ہے اس کے لئے مجھے اپنا مکان بینک میں گروی رکھنا پڑا اور پھر بھی پوت پورا نہ ہوا۔ یہی سبب ہے کہ جلد بندی خاطر خواہ نہ ہوسکی اور نہ ہی تصویر شامل کرسکا۔ اب انجام خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘اس کتاب کا دوسرا حصہ ان کی وفات کے برسوں بعد ’’جہانِ دگر‘‘ کے نام سے شائع ہوا جس میں احسان دانش نے اپنے احباب کا ذکر کیا ہے۔)

۔۔۔o۔۔۔

اپنے زمانے کے معروف ناول نگار ایم سلیم لکھتے ہیں۔
’’
میں نے جو کچھ لکھا ہے وقت کاٹنے کے لئے لکھا ہے۔ اپنی تنہائی کی اداسی سے نجات پانے کے لئے لکھا ہے۔ سکون قلب کے لکھتا ہوں۔ میں چونکہ اصلی زندگی کی عکاسی کرتا ہوں۔ مجھے زندگی کے ہر موڑ پر لکھنے کے لئے موضوع مل جاتا ہے۔ میں ایک شجر بے ثمر ہوں یعنی اولاد سے محروم ہوں۔‘‘21 جون 1973ء 

۔۔۔o۔۔۔

ضیاء محی الدین شو میں ایم اسلم کو بلواکر ان کا مذاق اڑایا گیا جس سے وہ کافی پریشان تھے۔ اپنی اداسی کا اظہار انہوں نے رئیس امروہوی کو ایک خط میں کیا۔
’’12
فروری کا ضیاء محی الدین شو تو میرے لئے درد سر بن گیا ہے۔ دعا فرمائیں ، یہ قصہ اب ختم ہی ہوجائے۔ میں نے ہی غلطی کی جو اس شو میں چلا گیا۔ ضیاء محی الدین کے والد پروفیسر محی الدین ایک بڑے شریف اور علم دوست بزرگ تھے۔ میرے ان سے گہرے مراسم تھے۔ مجھے صرف اتنا افسوس ہے ضیاء محی الدین نے مجھے میرے مخالف کی باتوں کا جواب دینے کی مہلت نہیں دی میں تو صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ بقول حضرت اقبال ۔۔۔
وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی
23
فروری 1972ء 
قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری اپنی درد بھری کہانی پیش کرتے ہیں۔
’’
جانِ برادر! میرے حالات لکھنے کے قابل نہیں اور ایسے پیچیدہ اور پستی و بلندی کے بیک وقت شاہکار روزگار ہیں کہ اب میں خود ان کو بھولتا جارہا ہوں۔ سات میں سے میری ایک بیٹی اپنے شوہر کی بدسلوکی یا حسن سلوک کے سبب 1952ء سے مطلقہ ہے۔ ایک بچہ چھ ماہ کا تھا ، دوسرا پونے دو برس کا۔ وہ اس بچی نے رکھ لئے۔ شوہر کو مہر چھوڑ کر اور مجھ سے ادھار لے کر دیا ہوا سات ہزار مہر چھوڑ کر زیور ارو وہ نقد جو میں نے نکاح کے وقت جہیز میں دیا تھا۔ سب اڑواکر ایک ناپاک حرکت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر طلاق لے لی۔ بچے میں نے پالے۔ لڑکی مسلم راجپوت چوہان حفیظ جالندھری کی تھی۔ باغ اور بنگلے اور کشمیر کے سبزہ زاروں میں پلی بڑھی تھی۔ غیرت مند تھی۔ کچھ لوگ نکاح کے لئے آئے کہ جن کی نظر اس عفیفہ پر نہیں ، اس کی کوٹھی پر تھی۔ جو میری نہیں ساتوں لڑکیوں کی میرے بعد ملکیت تھی اور وہ لوگ یہ دیکھ کر غیرت مند سے گزرممکن نہیں ، دغادے گئے۔ رفتہ رفتہ اس کے دماغ نے جواب دے دیا ۔۔۔ کہانی لمبی ہے ۔۔۔ دو مرتبہ بہ حیل مینٹل ہسپتالوں میں لے جایا گیا۔ بچے بڑے ہوگئے۔ میٹرک پاس کرگئے تو کالج میں داخل کئے گئے لیکن باپ جس نے اتنی مدت کبھی بات بھی نہ پوچھی تھی ، بھگاکر ورغلاکر لے گیا۔ بمشکل ان میں سے ایک کو واپس لایا اور یہ لڑکی یہاں آج کل راولپنڈی میں ہے۔ وہ مجھے پاگل سمجھتی ہے اور میں نے نفسیات کے مطالعہ میں یہ پایا ہے کہ اپنے اصل خیر طلب ہی کو دماغ باختہ اپنا دشمن جانتا ہے (بات لمبی ہوئی جاتی ہے پس منظر ضروری سے بھی کم لکھ دیا ہے)۔

جولائی 1968ء کی 2 تاریخ کو میرا ملازم تین دن سے چھٹی پر گیا ہوا تھا (میری ملازمت ختم ہے) یہ اور قصہ ہے۔ فقط جھگڑے کی وجہ سے یہاں ہوں ورنہ کہیں کا نہیں۔ میں نے اس لڑکے کو گھر کے مہینے بھر کے خرچ کے لئے روپیہ دیا اور خود دو بجے کچھ نگل کر نیند کی دوائی کھاکر لیٹا ، چار بجے اٹھا۔۔۔ لڑکا نہ تھا ۔۔۔ وہ یوں بھی غائب رہتا اور نئے طرز کے لڑکوں سے ، میری نرم اور مشفقانہ تلقین کے باوجود نظر سے خفی ہونے کا عادی اور گھنّا تھا۔باپ سے خفیہ خط و کتابت بھی مجھے معلوم تھی لیکن لڑکی کے سبب گوارا تھا۔ شام کوبھی نہیں آیا۔ بیٹی نے شور مچایا ، رونا پیٹنا ، مجھے اور ساری دنیا کو سکھانے پڑھانے کے الزامات، رات اسی حالت میں گزری۔ دوسرا دن گزرا ملازم کو تار دیا۔ چار کی صبح آیا۔ اب مزے کی بات سنئے کہ عدالت عالیہ (مغربی پاکستان) کے رجسٹرار کی طرف سے ٹیلی فون آیا کہ عدالت عالیہ حفیظ جالندھری کو ترانہ پاکستان لکھنے اور خدمات ملیہ دیگرہ کی تحسین کے سبب ایک قلمدان 6جولائی کی صبح ایک خاص اور الخاص تقریب میں (جس کے حضار اونچے پائے کے جسٹس صاحبان ہی ہوں گے) پیش کرے گی۔ اس لئے حفیظ اس کو قبول کرنے کے لئے آنے کا وعدہ فرمائیں۔

مخبوط بیٹی اکیلی ، بیٹا روپیہ لے کر بھاگا ہوا اور ساتھ ہی ملازم سے معلوم ہوا کہ مدت سے جو روپیہ گھر کے خرچ کے لئے ماں کو دیا جاتا تھا ، وہ رنگ رلیاں منانے کے کام میں لاتا رہا اور میرا نام لے کر بہت سے دکانداروں سے سینکڑوں روپے ادھار لے کر بھی اپنے دورِ موجود کے نوجوان دوستوں اور دوستیوں میں اڑتا رہا۔ اب تک ایک دوست کے 550/- بھی دینے ہیں اور مارپیٹ سے بھی زیادہ پر آمادہ تھا۔ اس لئے میرے نواسے صاحب بھاگ گئے ہیں اور سارا سامان اور روپیہ جو بھی میرے پاس تھا ، لے گئے ہیں۔ اسی شام اطلاع ملی کہ لاہور میں لاہور ہوٹل میں ہیں۔ میں پانچ کی شام لاہور گیا۔ اسی ہوٹل میں ٹھہرا۔ وہ وہاں سے جاچکے تھے۔ چھ کی صبح وہ تقریب ہوئی۔ حفیظ جالندھری کو نقرئی قلمدان نقرئی طشتری اور نقرئی قلم اور نقرئی ڈھکنے کی دوات عطا فرمائی گئی۔ تحسین کی گئی۔ تصویریں چھپیں ، حفیظ نے شکریہ ادا کیا۔

مگر حفیظ کا جو حال تھا آپ اندازہ نہیں کرسکتے۔ آپ سے زیادہ رئیس جی ایسے عالم کا اندازہ کرنے والا اور کون ہے؟ رئیس بھائی میرا کوئیء بھائی نہیں ، کوئی چچا تایا، یا ایسا عزیز مرد نہیں کہ ایک ساعت کے لئے اتنا بھی پوچھے کہ کیا دوا میں لاکر دوں۔ ایک بیوی اور بچی لاہور میں تنہا ہیں۔‘‘23 جولائی 1968ء 

۔۔۔o۔۔۔

کمال امروہوی کا خط پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ رئیس کے بغیر خود کو تنہا محسوس کرتے رہے۔
’’
تمہیں دیکھے ہوئے اک زمانہ گزرگیا اور واقعی اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زمانہ گزر جائے گا اور ہم ایک دوسرے کو نہیں دیکھ پائیں گے۔ کم از کم میں پاکستان کا تصور صرف تمہارے لئے ہی کرتا ہوں اور سارے پاکستان میں محض تمہارے باعث دلچسپی ہے چونکہ تم پاکستان میں ہو لہٰذا میں ایک بار تمہیں دیکھنے کی خاطر پاکستان آنا چاہتا ہوں اور ضرور آؤں گا لیکن اگر تم کسی طرح چھبن کے ساتھ آسکتے ہو تو کم از کم میری ہی خاطر چلے آؤ۔ میں ہر حال میں امروہا پہنچوں گا۔ تمہارا ہندوستان آنا سرسری کوئی واقعہ نہیں ہے۔ یہ بار بار پیش نہیں آئے گا۔ لہٰذا یہاں آنے کا کوئی ذرا سا موقع بھی نہ چھوڑو اور ضرور آؤ۔ یہاں بہت سے لوگ تمہیں دیکھنے کے ترستے ہیں۔ چچاجی کا برا حال ہے۔ چچا جی اور تایاجی بہت اداس رہتے ہیں اور ہمارے وہ سنسان گھر ، وہ اداس اداس گلیاں ، وہ درگاہ شاہ ولایت کی سڑک ، وہ دادا ابدال محلہ کی چھوٹی سی مسجد ، وہ ہمارے بہت سے بزرگ جو چراغ سحر کی طرح ٹمٹمارہے ہیں ، تمہارے منتظر ہیں۔ تمہارے آنے سے وہ ایک بار پھر جگمگا اٹھیں گے کیونکہ تمہارے چلے جانے سے وہ کافی متاثر ہوئے ہیں۔ اب ایک ایسے ملک سے جہاں کے تم باشندے ہو۔ اس ملک میں آنا جس میں تمہارا پچھلا وطن واقع ہے ، تمہارا آنا سہل نہیں رہا۔

ایک نسل کے بعد غالباً وہ بات نہیں رہے گی مگر اپنی زندگی میں وطن سے ہمیشہ کے لئے چھوٹ جانا پڑا ہی صبر آزماہے۔ تمہاری نسلوں کو تمہارے پچھلے عزیز جو یہاں رہ گئے۔ تمہارا وطن جو تم سے چھوٹ گیا اپنی طرف اس شدت سے نہیں کھینچے گا مگر نہیں، میرے وہاں آنے میں وہ بات کہاں جو تمہارے یہاں آنے میں ہے۔ ایک جشن ایک تقریب کی طرح تمہارے آنے کی خوشی منائی جائے گی اور تمہارے جانے کے بعد پھر برسوں تمہارے آنے کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات بھی دہرائی جاتی رہیں گی۔29 دسمبر 1950ء۔ 

۔۔۔o۔۔۔

شکیب جلالی کے حوالے سے ماجد الباقری کا خط بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں احمد ندیم قاسمی صاحب کا ذکر آتا ہے۔
’’
احمد ندیم قاسمی صاحب نے ان (شکیب جلالی) کے انتقال کے بعد ایک فیچر لکھا تھا جو امروز اور جنگ میں شائع ہوا تھا۔ اس میں انہوں نے یہ غلط بیانی کی کہ ’’شکیب جلالی بنارس سے سیدھا لاہور آیا اور وہیں کا ہورہا۔‘‘ اس کے بعد ندیم صاحب نے شکیب نمبر کے لئے لوگوں سے مضامین مانگے۔ ایک مضمون میں نے بھی لکھ بھیجا اور اس میں سچے سچے واقعات لکھ دیئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پھر شکیب نمبر شائع نہ ہوسکا۔ غالباً ان کے ساتھی سیف زلفی ، خلیل رام پوری وغیرہ یہ چاہتے ہیں کہ شکیب کے لہجے کو احمد ندیم قاسمی کی پیروی قرار دینے میں کامیاب ہوجائیں یا یہ کہ ندیم نے جس لہجے کو پسند کیا وہ شکیب کی طرف منتقل کردیا۔ یہ درست ہے کہ آخری دنوں میں وہ ذہنی اختلال میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اسباب روپے پیسے کی کمی ، صحت کی خرابی اور بھکر اور لاہور کے دوستوں کی سازشیں وغیرہ تھیں۔‘‘20 مئی 1969ء۔ 
اور آخر میں وارث سرہندی (ماہر لسانیات) کے ایک خط سے اقتباس دیکھئے۔ آپ کو اندازہ ہوگا کہ وہ اپنی والدہ سے کتنی محبت کرتے تھے۔
’’
میرے مشاغل لکھنا پڑھنا ہی رہے ہیں۔ جنگ سے پہلے تک اتنا کام مل جاتا تھا کہ گزر بسر ہوسکے۔ تین لغت کی کتابیں تالیف کرچکا ہوں۔ ضرب الامثال اور تلمیحات پر بھی دو کتابیں لکھ چکا ہوں۔ ترقی اردو بورڈ کے سیکرٹری شان الحق حقی صاحب اور ماہر القادری صاحب نے بہت زور دیا کہ میں ترقی اردو بورڈ میں مدیر لغت کی حیثیت سے چلا آؤں۔ مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر اشفاق احمد صاحب بھی مجھے بورڈ میں لینے پر تیار تھے۔ 
ڈاکٹر وحید قریشی نے پنجاب یونیورسٹی میں جگہ دلوانے کا وعدہ کیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر حمید احمد خان صاحب میرے کرم فرما ہیں۔ اب حمید احمد خان صاحب مجلس ترقی ادب لاہور کے سربراہ ہیں۔ مجلس میں بھی میرے لئے جگہ نکل سکتی تھی مگر میں کنجروڑ نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میری والدہ محترمہ جو ضعیف العمر اور دائمی بیمار ہیں۔ میرے کہیں جانے کے خلاف ہیں۔ وہ اس قابل بھی نہیں کہ میرے ساتھ جاکر کہیں اور رہ سکیں اور اگر میں یہاں نہ رہوں تو بھی اکیلے ان کا گزارہ نہیں ہوسکتا‘‘۔

ادیب ، شاعر ، نقاد ، دانشور ، صحافی اور دیگر تمام شعبوں کے لوگ رئیس امروہوی کو اپنا ہمدرد خیال کرتے تھے۔ ان پر اعتماد کرے تھے۔ اس کا اندازہ آپ کو خطوط کے ان اقتباسات سے ضرور ہوا ہوگا۔ آج مکتوب نویسی کی روایت ختم ہوچکی ہے لیکن انسان کے دکھ کم نہیں ہوئے۔ اب وہ خط نہیں لکھتے لیکن اپنی پریشانیوں کا اظہار ضرور کرتے ہیں۔ آدھی ملاقات کا دور گزرگیا۔ فون کی سہولت نے آواز کو کان کے بہت قریب کردیا اور تصویر آنکھوں کے سامنے آگئی ہے۔

میں ذاتی طور پر محسوس کرتا ہوں کہ ہم نے مکتوب نویسی کو ترک کرنے میں جلدی کی ہے۔ ادیبوں میں اس روایت کو زندہ رہنا چاہئے تھا کیونکہ ان کے خطوط بھی ادب کا حصہ تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *