بھولی بسریں یادیں۔ڈاکٹر عبد السلام

کے کے عزیز

abdus-salam-in-the-classroom


نامور ماہر تعلیم و تاریخ دان پروفیسر کے کے عزیز ( خورشید کمال عزیز) نے ’’ لاہورکافی ہاؤس‘‘ کے حوالہ سے1942 سے1975 تک کی اپنی یادیں مرتب کی ہیں جنہیں سنگ میل والوں نے 2008 میں لاہور سے شائع کیا ہے۔ اس کتاب کاا سلوب احوال الرجال کا اسلوب ہے اور پروفیسر کے کے عزیز اس حوالہ سے اپنے ساتھیوں دوستوں اور جان پہچان کے لوگوں کا حوال بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس کتاب سے پروفیسر ڈاکٹر عبد السلام کے بارہ میں لکھے گئے مضمون کو عام لوگوں کے استفادہ کیلئے پیش کیا جاتا ہے ۔ پروفیسرکے کے عزیز لاہور میں مقیم تھے اب ان کا انتقال ہو چکا ہے۔(انگریزی سے ترجمہ: ڈاکٹر پرویز پروازی)۔

گورنمنٹ کالج ،کافی ہاؤس اور دیگر جگہوں پر میرے ساتھیوں میں ایک ہی نابغہ تھا اور وہ عبد السلام تھا۔سلام، جھنگ کے ایک سکول ٹیچر چوہدری محمد حسین اورفیض اللہ چک نزد بٹالہ کی ہاجرہ کا بیٹا تھا۔محمد حسین جاٹ تھے مگر ہاجرہ ککے زئی تھیں۔ میں جانتا ہوں کہ پرانے وقتوں سے فیض اللہ چک ککے زئیوں کا گاؤں تھا میری نانی بھی وہیں کی تھیں۔ ککے زئی برادری بڑی پکی برادری تھی اور وہ آپس میں خوب مل جل کر رہتے تھے اور رشتے ناطے بھی اپنے قبیلہ ہی میں کرتے تھے ۔ہمارے ہاں یعنی ہندو مسلم دونوں قوموں میں، رشتہ داریوں برادریوں کا سراغ لگانا یوں بھی مشکل ہے کہ شجرہ ء نسب میں صرف مردوں ہی کا ذکر کیا جاتا ہے۔اس لئے میں اپنے کو حق بجانب سمجھوں گا اگر میں یہ کہوں کہ ہاجرہ ہماری برادری میں سے تھیں اور اس طرح سلام میرا دور کا چچیرا یا خلیرابھائی تھا اور دور کا رشتہ خواہ کتنا بھی دورکا ہورشتہ ہی ہوتا ہے۔

سلام 1926 میں پیدا ہوا اور گورنمنٹ ہائی سکول اور گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کالج جھنگ ،گورنمنٹ کالج لاہور اور سینٹ جان کالج کیمبرج میں تعلیم پائی۔ہر امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا اس کی عادت تھی۔1940 میں وہ پنجاب یونیورسٹی کے میٹرک کے امتحان میں اول آیااور دو سال بعد1942 میں ایف ایس سی کے امتحان میں بھی۔1942 میں وہ گورنمنٹ کالج میں حساب اے اور بی اور انگریزی آنرز میں داخل ہؤا ۱1944 میں وہ گریجوایٹ ہؤا تو تمام ممکنہ اعزازات اس کو حاصل تھے۔ اس نے حساب میں تین سو میں سے تین سو نمبر حاصل کئے تھے اور انگریزی آنرز میں ڈیڑھ سو میں سے ایک سو اکیس۔ وہ یونیورسٹی بھر میں اول تھا اور اس نے بی اے کے سارے ریکارڈ توڑ دئے تھے۔1946 میں اس نے حساب میں ایم اے کیا اور چھ سو میں سے پانچ سو تہتر نمبر حاصل کئے اور اول رہا۔ 

ستمبر1946میں وہ پنجاب دیہی ویلفیئر فنڈ کے وظیفہ پر حساب پڑھنے کے لئے سینٹ جان کالج میں انڈر گریجو ایٹ کے طور پر داخل ہؤا ۔ ہندوستان میں اس کا ریکارڈ شاندار تھا تو کیمبرج میں اس کا ریکارڈ حیران کن رہا۔اس نے1947 کے حصہ اول اور1948 کے حصہ دوم میں اول پوزیشن حاصل کی اور پھر حساب چھوڑ کر فزکس کی طرف متوجہ ہوا کیونکہ اس معیار پر پہنچ کر فزکس کے بغیر حساب سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس نے بے مثال کام کیا یعنی فزکس کے حصہ اول اور حصہ دوم دونوں کا یک جا امتحان1949میں یعنی ایک سال میں دیا اور اول رہااور اپنے اساتذہ کو حیران کر دیا۔پی ایچ ڈی کے لئے اس کے وظیفہ میں دو سال کی توسیع کی گئی حالانکہ تین سال کی توسیع ہونا چاہئے تھی ۔وہ پاکستان آیا، امتہ الحفیظ سے شادی کی اور کیمبرج واپس چلا گیا تاکہ نظریاتی طبعیات میں اپنا پی ایچ ڈی کا کام جا ری رکھ سکے۔

سنہ1951 کا سال اس کے لئے اپنی محنت کی فصل کاٹنے کا سال تھا ۔ اس نے اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کر لیا لیکن یونیورسٹی کے قواعد کے مطابق ضروری تھا کہ ہر امید وار کم از کم نو تعلیمی میعادوں تک یونیورسٹی میں حاضر ہوتا رہا ہو ( اور سلام کا قیام تو کہیں کم تھا)اس لئے سلام کام مکمل کر لینے کے باوجوداپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل نہ کر سکا۔ سلام کو سمتھ پرائز دیا گیااور اسے کالج کا فیلو منتخب کر لیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ اسے پرنسٹن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایڈ وانس سٹڈیز کا فیلو بنایا گیا۔ 

ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے انتظار میں سلام لاہور واپس آگیا اور گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی میں حساب کا پروفیسر اور صدر شعبہ بنا دیا گیا۔1952 میں سلام واپس کیمبرج گیا اور زبانی امتحان کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 

گورنمنٹ کالج میں مقرر ہوتے ہی اس کے مسائل شروع ہو گئے۔ اس کی قابلیت کی قدر و قیمت پہچاننے کی بجائے کالج اور محکمہ تعلیم نے اس کی ناقدر ی شروع کر دی۔اس کو اس کے حق کے مطابق رہنے کوسرکاری مکان نہ دیا گیا ۔وہ عارضی طور پر پروفیسرقاضی محمد اسلم صدر شعبہ فلسفہ کے مکان پر ٹھہرا رہااور مکان کے حصول میں کوشاں رہا۔ سرکاری افسروں کے سلوک سے بد دل ہو کر سلام نے وزیر تعلیم سردار عبد الحمید دستی سے ملنے کی اجازت مانگی۔ سلام نے انہیں بتایا کہ وہ شادی شدہ ہیں اور اپنے خاندان کی رہائش کے لئے انہیں مکان درکار ہے ۔ توسلام نے مجھے بتایا ، کہ وزیر تعلیم نے یہ سن کر پنجابی میں فرمایا کہ’’ پگدی اے تے رہو ورنہ جاؤ‘‘۔ یعنی ( اگر آپ رہنا چاہتے ہیں تو رہیں ورنہ جائیں)۔ سلام اتنا مایوس ہوا کہ وہ مستعفی ہونے کی سوچنے لگامگر جلد ہی مکان اسے مل گیا اور وہ ٹک گیا۔ مگر یہ تو ابھی ابتدا تھی۔

پرنسپل پروفیسر سراج الدین نے اس سے کہا کہ وہ پڑھنے لکھنے کے علاوہ بھی کالج کا کوئی کام سنبھالے۔ انہوں نے تین ممکنات کا ذکر کیا۔ کالج کے کواڈرینگل ہاسٹل کا سپرنٹنڈنٹ بن جائے، یا کالج کے حساب کتاب کا انچارج بن جائے یا فٹ بال ٹیم کا نگران بن جائے۔ سلام نے تیسرے امکان کو چن لیا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ یونیورسٹی گراؤنڈ میں فٹ بال کھلانے کے بعد سلام میرے پاس کافی ہاؤس میں آجاتا اور اپنی پریشانیوں کا دکھڑا روتا۔ وہ شخص جو کیمرج میں چودہ چودہ گھنٹے مسلسل کام کرنے کا عادی تھا اسے اپنے مضمون سے متعلق نیا لٹریچر پڑھنے کا موقع بھی نہیں ملتا تھاادھر کالج کی لیباریٹریوں کا یہ حال تھا کہ وہ کیمبرج کی کیونڈش لیباریٹریوں کے مقابلہ میں ، جہاں سلام نے انڈر گریجوایٹ اور پی ایچ ڈی کا کام کیا تھا،نری دھول اور مٹی لگتی تھیں۔ان باتوں سے سلام کی مایوسی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اسی سال کی کرسمس کی چھٹیوں میں ایک نیا گل کھلا۔1954 کے فزکس میں نوبل انعام یافتہ پروفیسر ولف گانگ پالی،انڈین سائنس سوسائٹی کی دعوت پر بمبئی آئے۔ انہوں نے سلام کو تار دیا کہ اگر ممکن ہو تو وہ بمبئی جا کر ان سے ملے۔ سلام جو اپنے مضمون کے کسی اہم آدمی سے ملنے کے لئے تڑپ رہا تھا فورا بمبئی پہنچا۔( اس زمانے میں ابھی ویزوں وغیرہ کا چکر نہیں تھا ) ۔ واپس آتے ہی سلام کی جواب طلبی ہو گئی کہ وہ بغیر پیشگی اجازت کے بمبئی کیوں گیا تھا۔ سلام کو بہت صدمہ ہؤا۔ وہ یورپ کے ماحول میں کام کرنے کا عادی تھا جہاںآنے جانے کی پوری آزادی میسر تھی ، اسے پاکستانی نوکر شاہی کا تجربہ نہیں تھااور یہاں کام کرتے ہوئے اسے تین مہینے ہی تو ہوئے تھے۔ پرنسپل نے ایسی مین میخ نکالی کہ سلام کو شبہ ہونے لگا کہ کہیں اسی نوکری سے برخواست ہی نہ کر دیا جائے۔ اس موقعہ پر ڈی پی آئی پروفیسر ایس ایم شریف آ ڑے آئے اور سفر کے اس عرصہ کورخصت بلا تنخواہ شمار کر لیا گیا۔

مارچ 1953 میں میں بھی سلام کا رفیق کار بن گیا۔ مجھے صدر شعبہ پولیٹیکل سائنس مقرر کیا گیا۔ ( یہ ملازمت اچانک میرے حصہ میں آئی۔ میں 1952میں ایمر سن کالج ملتان میں پڑھا رہا تھاکہ1953 کے آغاز میں پروفیسر عبد الحمید صاحب جو تاریخ اور سیاسیات کے صدر شعبہ تھے وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر ایک سال کے امریکہ تشریف لے گئے۔چونکہ طالب علم کے طور پر میرے پروفیسر سراج اور پروفسیر عبد الحمید سے اچھے تعلقات تھے اس لئے میرا تبادلہ لاہور ہوگیا اور چونکہ یہ شعبہ واحد استاد پر مشتمل تھا اس لئے میں صدر شعبہ بھی بن گیا اور صدور شعبہ کے درمیان کرسی کا مستحق قرار پایا

مجھے یاد پڑتا ہے کہ شاید اکتوبر 1953 میں پنجاب کے وزیر تعلیم چوہدری علی اکبر صاحب سرکاری دورے پر کالج میں تشریف لائے۔ کالج کے تمام صدور شعبہ اور پرنسپل اکٹھے ہوئے تاکہ وہ کالج کے سلیبس اور نتائج کا جائزہ لے سکیں۔ جب امتحان میں کامیابی کے تناسب کا ذکر ہؤا تووزیر صاحب نے یہ کہنے کے بعد کہ انہیں استاد وں کی اعلیٰ قابلیت اور ڈگریوں سے کوئی سروکار نہیں انہیں تو صرف یونیورسٹی کے امتحانوں کے اچھے نتائج سے سروکار ہے ۔اگر کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ استاد اچھے نتائج نہ دکھا سکا تو وہ اسے نہایت بری جگہ تبدیل کردیں گے۔یہ کہہ کر وہ اس طرف مڑے جدھرمیرے پہلو میں سلام بیٹھا تھا۔

سلام کی طرف دیکھتے ہوئے انہوں نے فرمایا ’’ مثلاً اگر پروفیسر سلام کے نتائج میرے معیار کے مطابق خوشکن نہ ہوئے تو میں انہیں جھنگ واپس بھیج دوں گا‘‘۔ صرف سلام کو نام لے کر مخاطب کیا گیا اور سلام سٹاف میں سب سے زیادہ روشن دماغ استاد تھا۔ جب ہم اس میٹنگ سے واپس سٹاف روم کی طرف آرہے تھے تو سلام نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ’’ میرا یہاں رہنا ممکن نہیں رہا مجھے باہر کوئی کام حاصل کرنا ہوگا‘‘۔ ایسی صورت حال میں کون سلام کو الزام دے سکتا ہے؟

جب سلام سینٹ جان کالج کا فیلو منتخب ہوا تھا تو اس نے یہ شرط لگائی تھی کہ اسے لاہور میں پڑھانے کی اجازت دی جائے گی اور وہ صرف لمبی تعطیلات کے زمانہ میں سینٹ جان میں آیا کرے گا۔ سینٹ جان کالج والے اسے لینے کے اتنے مشتاق تھے کہ انہوں نے اس کی یہ شرائط مان لیں تھیں۔اس سے سلام کی گورنمنٹ کالج سے محبت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اس کی خاطر سینٹ جان کالج کی فیلو شپ کو بھی تج دینے کو تیار تھا۔ اب اس کالج میں اس کی اہانت اور ناقدری کی جا رہی تھی۔ اب اسے اپنے مستقبل کی خاطر کسی اور طرف دیکھنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔

قسمت کی بات دیکھئے کہ اسی سال یعنی1953 کے وسط میں سینٹ جان کالج میں سٹوکس لیکچرر شپ کی جگہ خالی ہوئی۔ نکولس کیمر کو یونیورسٹی آف ایڈنبرا نے طبعی فلسفہ کی ٹایٹ پروفیسر شپ پیش کی۔ وہ سینٹ جان کالج میں سلام کے استاد رہ چکے تھے اور ٹرینیٹی کالج کے فیلو تھے ۔اپنی جگہ پر کرنے کے لئے وہ سلام کو بلانا چاہتے تھے۔ انہیں اس بات کااتنا خیال تھا کہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر میاں افضل حسین کو لکھا کہ وہ سلام کو ان کی جگہ آنے پر آمادہ کریں۔وائس چانسلر میاں افضل حسین کیمبرج سے واپس آنے کے بعدکے زمانہ یعنی 1946سے ہی سلام کے مداح تھے۔ میاں صاحب نے سلام کی پیدائش سے بھی کہیں پہلے کرائسٹ کالج میں طبعی سائنس میں اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ 

سلام میاں صاحب کا بہت مداح تھا جب اس نے ان سے راہنمائی چاہی تو انہوں نے اسے کیمبرج جانے اور لیکچر رشپ قبول کرنے کا مشورہ دیا۔سلام کو گورنمنٹ کالج اور پاکستان سے بے پناہ تعلق تھا۔ اس لئے وہ اپنی مادر علمی سے رابطہ منقطع کرنا نہیں چاہتا تھا۔ آخر ایس ایم شریف درمیان میں آئے اور ایسا حل پیش کیا جو سلام کے لئے قابل قبول تھا۔ انہیں سینٹ جان کالج میں غیر معینہ مدت کے لئے ڈیپوٹیشن پر بھیجا گیا اور انہیں اس دوران181 روپے ماہانہ ڈیپوٹیشن الاؤنس دیا گیا۔ 1945 کی پہلی جنوری کو سلام نے اپنی لیکچرر شپ کا چارج سنبھال لیا۔ اس طرح میرا ان سے روزانہ کا رابطہ ٹوٹ گیا مگر یہ انقطاع مستقل انقطاع نہیں تھا۔ سلام سینٹ جان کالج میں تین سال ٹھہرا اور یکم جنوری 1957 کو امپیریل کالج آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پروفیسر شپ پر فائز ہؤا۔ اس وقت سلام کی عمر اکتیس سال تھی اور وہ برٹش کامن ویلتھ کا سب سے کم عمر پروفیسر تھا۔اس پروفیسر شپ سے سلام 1993 میں عدم صحت کی بنا پر ریٹائر ہؤا۔

گورنمنٹ کالج سے جانے سے لے کر وفات کے وقت تک سلام نے حیرت انگیز علمی ترقیات حاصل کیں۔سینٹ جان کالج میں سلام نے بین الاقوامی معیار کے رسائل میں اپنے تحقیقاتی مضامین شائع کروائے ۔1955 میں اقوام متحدہ کے ایٹم برائے امن جنیوا کے ادارہ کے پہلے سائنٹیفک سکرٹری کے طور پر ان کے مضامین نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ امپیریل کالج میں ان کی تدریس اور تحقیق نے دنیا بھر کے چنندہ سائنسدانوں کی توجہ حاصل کی ۔1961 سے1974 تک وہ صدر پاکستان کے سائنسی مشیر رہے۔ 1964میں انہوں نے ٹریسٹےTrieste اٹلی میں انٹر نیشنل سنٹر فار تھیوریٹیکل فزکس قائم کیا اور1946 سے1994 تک اس کے ڈائریکٹراور1994سے1996 تک اس کے صدر رہے۔ وہ 1983سے1996 تک تھرڈ ورلڈ اکاڈمی آف سائنسز کے صدر رہے۔ انہیں1979 میں فزکس کا نوبل پرائز ملا ۔1975 میں انہیںیہ انعام ملتے ملتے رہ گیا تھا۔ ان کو نوبل پرائز ملنے کی اطلاع پاتے ہی انڈیا کی حکومت اور سائنسی اداروں نے انہیں اپنے ملک کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ حکومت پاکستان کو اس بات کا خیال تک نہ تھا تا آنکہ پاکستان کے ہائی کمشنر نے انہیں انڈیا کی دعوت کا بتایاتب جاکر پاکستان کی حکومت نے انہیں اپنے ہی ملک کادورہ کرنے دعوت دی ۔سلام نے انڈیا جانے سے پہلے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ 

دسمبر1979 میں جب وہ لاہور پشاور اسلام آباد پہنچے تو ان کی پذیرائی کے لئے صدر اور گورنرز کے ملٹری سکرٹری جیسے کم مرتبہ لوگ بھیجے گئے۔قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی کانووکیشن اس لئے یونیورسٹی میں منعقد نہ کی جا سکی کہ اسلامی جمعیت طلبا نے فنکشن میں گڑ بڑ کرنے کی دھمکی دی تھی ۔اس لئے اس کانووکیشن کا مقام نیشنل اسمبلی ہال کو بنایا گیا۔ لاہور میں بھی ان کا لیکچر جو نیوکمپس میں ہونا تھا اس لئے یونیورسٹی سینیٹ ہال میں منتقل کر دیا گیا کیونکہ ایک روز پہلے چند مخالف گروہوں نے مظاہرہ کیا تھا اور سلام کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔پنجاب یونیورسٹی نے انہیں کوئی ڈگری دینے سے انکار کر دیا۔ گورنمنٹ کالج نے انہیں اپنے ہاں مدعو تک نہ کیا۔ 

ایک سال بعد جب سلام انڈیا گئے تو پانچ یونیورسٹیوں نے انہیں ڈگریاں دیں۔25 جنوری 1981کو گورونانک دیو یونیورسٹی نے انہیں کانووکیشن سے خطاب کرنے کی دعوت دی جہاں سلام نے ٹھیٹھ پنجابی میں خطبہ دیا۔سلام کی درخواست پر ان کے جھنگ اور لاہور کے چار اساتذہ کو امرتسر بلایا گیا۔ وزیر اعظم اندرا گاندھی نے انہیں اپنے گھر بلایا ان کے لئے اپنے ہاتھ سے کافی بنائی اور سارا وقت ان کے چرنوں میں بیٹھی رہیں۔کہا کہ وہ عظیم مہمانوں کی اس طرح پذیرائی کیا کرتی ہیں۔ بعد میں جب سلام لاطینی امریکہ کے دورہ پر گئے تو برازیل سمیت ان ملکوں کے سربراہ ان کے استقبال کے لئے آتے رہے۔

یونیسکو کے ڈائر یکٹر کی جگہ1986 میں خالی ہوئی۔ سلام اس عہدہ کی تمنا رکھتے تھے مگر اس عہدہ کے لئے نامزدگی متعلقہ امیدوارکے وطن کی حکومتیں کرتی تھیں۔ پوری توقع تھی کہ سلام منتخب ہو جائیں گے مگر حکومت پاکستان نے ریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل یعقوب خاں کو نامزد کر دیا جنہیں صرف ایک ووٹ ملا۔برطانیہ اور اٹلی دونوں ملکوں نے سلام سے کہا کہ اگر وہ ان کی شہریت قبول کر لیں تو وہ انہیں نامزد کرنے کو تیار ہیں مگر سلام کو یہ گوارا نہ ہوا۔مجلس انتخاب کی ایک فرانسیسی رکن کو جب حکومت پاکستان کے نامزد فرد کو ووٹ دینے کو کہا گیا تو اس نے جواب دیا کہ کوئی جرنیل میری لاش پر سے گذر کر ہی یونیسکو کی سربراہی کر سکتا ہے۔

سلام 21 نومبر1996 کوآکسفرڈ کے مقام پر اعزازات سے لدا پھندا اس دنیا سے رخْصت ہؤا۔ ان کے بھائی نے جو لاہور میں مقیم تھے حکومت پاکستان سے استفسار کیا کہ کیا حکومت سلام صاحب کے جنازہ کو سرکاری پروٹوکول دے گی؟ مگر کوئی جواب نہ ملا۔ 25 نومبر 1996 کو دن کے گیارہ بجے انہیں ربوہ میں ان کی ماں کے قدموں میں دفن کر دیا گیا۔ 
میں نے سلام کی زندگی کی یہ تفاصیل اس لئے درج کر دی ہیں کہ ان کی کوئی سوانح میسر نہیں۔اور میرے چند قارئین ہی کو علم ہوگا کہ وہ کس طرح کام اور زندگی کرتے تھے۔اب میں اپنی یادداشتوں کی طرف لوٹتا ہوں۔ 

ڈاکٹر عبد الحمید صدیقی لاء کالج میں لیکچرر تھے اور میں انہیں شیخ خورشید کی وساطت سے جانتا تھا۔ اکتوبر1944 کی کسی تاریخ کو جب میں تیسرے سال میں اور سلام پانچویں سال میں تھاڈاکٹر صدیقی اپنے دوست پروفیسر گنگولی کے ساتھ کافی ہاؤس میں داخل ہوئے۔ پروفیسر گنگولی یونیورسٹی میں حساب کے استاد تھے اور میں پہلے ان سے مل چکا تھا۔ ان کے ساتھ ایک ڈبل بریسٹ سوٹ والاصحت مند نوجوان تھا جس نے گھنی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں۔صدیقی صاحب کے ساتھ وہ لوگ ہمارے میز کی طرف آگئے اور نئے نوجوان سے میرا تعارف کروایا ۔

یہ نوجوان سلام تھا۔ ہم سب نے اس کا نام سن رکھا تھا کیونکہ بی اے کے امتحان میں اس نے شاندار کارکردگی دکھائی تھی مگر چونکہ وہ یونیورسٹی میں حساب کا طالب علم تھا اور کالج کبھی کبھار ہی آتا تھا اس لئے میں نے اس سے قبل اسے نہیں دیکھا تھا۔ وہ میرے سائنسدانوں اور حساب دانوں کے روایتی تصور سے بالکل ہی مختلف نکلا کہ حساب دان خشک، سنجیدہ اور یبوست کے مارے ہوئے ہوتے ہیں اور انہیں اپنے مضمون کے علاوہ کسی چیز کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔پہلے آدھے گھنٹے ہی میں یہ سب تصورات دھؤاں بن کر اڑ گئے ۔ سلام نہ صرف مسکراتا بلکہ ہنسی مذاق بھی کرتا رہا اور ارد گرد کے ماحول کے بارہ میں دلچسپی سے باتیں کرتا رہا اور اس کی آنکھیں اس کے چشموں کے اندر سے چمکتی رہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ ملنسار، مخلص، گرمجوش اور ذہین اور جلد ہی گھل مل جانے والا اور دل کو موہ لینے والا شخص ہے۔

اگلے دوبرس تک ہم کالج میں کافی ہاؤس میں یونیورسٹی کی تقریبات میں اور دوسری جگہوں پر ایک دوسرے سے ملتے رہے ۔ایک روز اس نے مجھ سے میرے انگریزی آنرز کے کورس کے بارہ میں پوچھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ وہ میرے کورس میں کیا دلچسپی رکھتا ہے تو اس نے شریر مسکراہٹ سے مجھے بتایا کہ وہ بھی اس آزمائش سے گذر چکا ہے۔( مجھے بعد کو معلوم ہوا کہ انڈر گریجوایٹ کے طور پر وہ، وہ کتابیں پڑھ چکا تھا جو میں اب پڑھ رہا تھا اور یہ کہ اس نے انگریزی آنرز کے امتحان میںیونیورسٹی کا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔) اس مشترکہ رشتہ کی وجہ سے ہمارے تعلقات اور زیادہ گرمجوشی کے ہو گئے ۔

وہ انگریزی شاعری کے رومانوی حصوں پر خاص طور سے میری دلچسپی کو مہمیز کرتاتھا حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ انگریزی آنرز کے کورس میں صرف ما بعد الطبعیاتی شاعروں کے کلام پر زور دیا جاتا ہے۔ وہ میری بات کو بھانپ لیتا اور کہتا کہ اس نے اپنے نصاب کے علاوہ بھی شاعری پڑھی ہوئی ہے اور وہ مجھے بھی اس بات کی تلقین کرتا رہتا۔ رفتہ رفتہ مجھے اس کی اور دلچسپیوں کا بھی علم ہو گیا ۔ اسے اردو شاعری سے بہت دلچسپی تھی ۔وہ مختلف واقعات اور ان کے تاریخی عوامل کو جاننے کے لئے بھی بیتاب رہتا تھا ۔ اس کی طبیعت میں مزاح تھا اور مہذب مزاح کے بے شمار لطائف اسے یاد تھے اور ان گنت گدگداتی ہوئی کہانیاں بھی مگر میں نے کبھی اسے کسی کی غیبت یا برائی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ 

وہ کافی ہاؤس میں روزانہ آنے والوں میں سے نہیں تھانہ اس وقت نہ بعد میں 1953-54 میں جب وہ کالج اور یونیورسٹی میں پڑھانے لگا تھامگر وہ جب بھی آتا متانت ،بردباری اور سنجیدگی اس کے جلو میں آتی۔وہ شوخ رنگوں کی نکٹائی پسند کرتا تھا۔ سردیوں میں اسے ڈبل کریم والی کافی پسند تھی ۔ میں نے اس کے بیٹھنے میں ایک خاص بات محسوس کی کہ وہ ہمیشہ ایسی سیٹ پسند کرتا ہے جس کا رخ دیوار کی طرف ہو۔ایک دفعہ میں نے اس کو مناسب سیٹ کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دیکھا تو اپنی سیٹ اس کے لئے خالی کر دی جس کا رخ دیوار کی طرف تھا سلام بہت ہی ممنون ہؤا حالانکہ یہ کوئی ایسی بات تو نہ تھی۔ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے اسے بہت خوشی محسوس ہوتی تھی۔ 

خوش قسمتی سے1959-60 میں ہم ایک سال کے لئے لندن میں بھی یکجا ہو گئے۔ وہ امپیریل کالج میں پروفیسر تھا اور میں لندن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف کامن ویلتھ مین ریسرچ فیلو تھا۔مانچسٹر سے مئی1959 میں لندن آتے ہی میں کالج میں اس سے ملا اور ہم کوئی ایک گھنٹہ ساتھ رہے۔ وہ میری فیلو شپ پر بہت خوش تھا اور میری ریسرچ میں بہت دلچسپی لیتا تھا۔ اس کی ایک بات مجھے نہیں بھولتی۔ میں نے کہا کہ برطانوی یونیورسٹیوں کا معیار تعلیم ایسا اعلیٰ ہے کہ ہم شاید ہی اس معیار تک پہنچ سکیں۔

ادھر ادھر کی کچھ عمومی باتوں کے بعد سلام نے کہا کہ ’’ یہاں یہ ہوتا ہے کہ نئے آنے والوں کو اتنا زیادہ کام دے دیا جاتا ہے اور اس کی ایسی کڑی نگرانی کی جاتی ہے کہ طالب علم پار لگ جاتا ہے یا ڈوب جاتا ہے۔اس معاملہ میں کوئی رو رعایت روا نہیں رکھی جاتی۔ نہ لحاظ ملاحظہ چلتا ہے۔ اور ایسا پچھلے سو سال سے ہو رہا ہے۔ ہم لوگ فرسٹ ائر کے کئی طلبا کو نکال باہر کرتے ہیں۔ جو باقی رہ جاتے ہیں وہ وہی ہوتے ہیں جو تعلیم میں سنجیدہ اور اپنے مضمون سے دلچسپی رکھنے والے ہوتے ہیں اور ویسی ہی دلچسپی رکھنے والے ہوتے ہیں جیسے تم کافی ہاؤس میں کافی سے رکھتے تھے۔ اور اعلیٰ تعلیمی معیار کو اس کے علاوہ کسی اور طریق سے حاصل ہی نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے لاہور میں بھی اس طریق پر عمل کرنے کی کوشش کی مگر ہماری نوکر شاہی کو ضمنی امتحانات اور سفارشیں اور نتائج کی اوسط بھی بہت عزیز رہتی ہے۔ یہاں میں اپنے طلبا کو اپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہوں ڈھال سکتا ہوں کوئی روک ٹوک نہیں۔ تم بھی واپس جا کر ایسا ہی کرنے کی کوشش کرنا‘‘۔سلام نے یہ باتیں ۱۱ جون کو کہیں تھیں۔ میں اس کی باتوں کو بھولا نہیں مگر مجھے واپس آکر پڑھانے کا موقع ہی نہیں ملا۔

تین ہفتے بعد4جولائی کومیں نے اور میری بیوی نے سلام اور اس کے خاندان کے ساتھ ایک پورا دن اس کے پٹنی والے گھر میں گذارا۔سلام نے کیمبرج سے لندن آتے ہی پٹنی میں ( نمبر 8  کمپین روڈ  والا گھر خرید لیا تھا۔یہ گھر میری رہائش کی جگہ ’’ فلہم ‘‘ سے آنے والی بس کے رستہ پر واقع تھا۔ چونکہ سلام کے گھر میں پردہ کا رواج تھا اس لئے میری بیوی سیدھی اندر زنانے میں چلی گئیں اور میں مردانہ بیٹھک میں سلام اور اس کے ابا اور بھائی کے پاس بیٹھ گیا۔ 

مجھے سلام کے کیمبرج کے طالب علمی کے دنوں کے بارہ میں جاننے سے دلچسپی تھی اس لئے میں نے سینٹ جان میں اس کے قیام کے بارہ میں بہت سوال پوچھے۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس وقت کیمبرج آیا تھا جب دوسری جنگ عظیم کو ختم ہوئے کچھ وقت ہی گذرا تھا اس لئے یہاں کی زندگی خاصی سخت کوشی کی زندگی تھی۔ ضروریات زندگی کی ہر چیز یعنی گوشت، انڈے اور کپڑوں کا راشن تھا۔ گرم پانی نایاب تھا۔اور نہانا کارے دارد۔ کالج میں ہیٹنگ بھی کبھی کبھار ہی ہوتی تھی کیونکہ کوئلے اور بجلی کی کمی تھی۔ کلاس میں دستانے والے ہاتھوں سے نوٹس لینا ناممکن تھا اس لئے واپس آکر وہ دستانے والے ہاتھوں سے تیز لکھنے کی مشق کرتا تھا ۔ کلاسوں میں بھی پورے اوورکوٹ اور بھاری کپڑوں کے ساتھ جانا ہوتا تھا اس لئے سردیوں کا پہلا موسم تو بہت مشکل سے کٹا۔ کیمبرج میں اس کے ہمعصر وں جاوید اقبال اور داؤد رہبرکو اور آکسفرڈ میں اے ایچ کاردار اور فضل الرحمٰن کو بھی یہی دقتیں پیش آئیں۔ گرمیاں آئیں تو انہیں اندازہ ہؤا کہ انگریز لوگ گرمیوں اور بہار کو کیوں پسند کرتے ہیں اور انگریز شاعر کیوں بہار اور گرمی کے ترانے گاتے ہیں۔ اس نے مجھے یاد دلایا کہ میں اور میری بیوی خوش نصیب ہیں کہ جنگ عظیم کی لگائی ہوئی پابندیوں کے خاتمے کے بعد یہاں آئے ہیں۔ 

سلام نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے مانچسٹر میں ایم ایس سی ( اکنامکس) کرنے کے لئے کیا کچھ پڑھا ہے۔میں نے اسے بتایا مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اسے ہمعصر برطانوی سیاست اور سیاسی فلسفہ پر بے پناہ معلومات حاصل تھیں۔ اس نے بتایا کہ وہ سیاسی فلسفہ میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہاں سے ہماری گفتگو کا رخ مذہب اور سائنس کی طرف پھر گیا۔ اس موضوع پر گفتگومیں سلام عروج پر تھا اور اس نے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی کہ مذہب اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کے ممد و معاون ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کا علم اتنا وسیع تھا کہ میں بعض مقامات پر اس کی بات کو پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکا۔ میں اس کے دلائل و براہین سے بہت متاثر ہؤاوہ جس سہولت سے مدلل گفتگو کر رہا تھا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شاندار اور کامیاب استاد ہوگا۔

میں نے یہ بھی دیکھا کہ سلام اپنے ابا جان کا بے حد خدمِت گذار اور تابعدار تھا ان کی طرف سے کوئی بھی حکم ملتا تو سلام اپنے بھائی کے اٹھنے سے بھی پہلے گولی کی طرح اپنی جگہ سے اٹھتا اور ان کا حکم بجا لاتا۔

لندن کی بس نمبر41 پٹنی اور برٹش میوزیم کے مابین چلتی ہے۔رسل سکوئیر میں میری انسٹی ٹیوٹ وہاں سے کوئی دو منٹ کے رستے پر تھی۔رستہ میں یہ بس امپیریل کالج سے سٹاپ پر بھی رکتی تھی۔ کئی بار میں بس میں سوار ہؤا تو سلام کو پہلے سے سوار کالج کی طرف جاتے ہوئے پایا۔ اس حسن اتفاق سے مجھے کئی بار دس پندرہ منٹ کے لئے سلام کی معیت حاصل کرنے کا موقعہ ملتا رہایہ موقعہ مختصر ہی ہوتا مگر اس سے مجھے بہت مسرت ملتی۔ 

ہماری اگلی ملاقات اور افسوس ہے کہ آخری ملاقات، جنوری1983میں خرطوم میں ہوئی۔ اس وقت سلام نوبل پرائز جیت چکا تھا اور عظیم آدمی بن چکا تھا۔ مگر ہم ملے تو میں نے اسے اسی طرح ملنسار اور غریب الطبع اور مسکراتا ہؤا وسیع القلب اور بردبارپایا جیسا وہ طالب علمی کے زمانہ میں ہؤا کرتا تھا۔

سوڈان کے سائنسی اداروں نے اسے لیکچر کے لئے بلایا تھا اور درخواست کی تھی کہ وہ یونیورسٹی آف خرطوم سے اعزازی ڈگری قبول کرے۔ اس نے یہ دعوت قبول کر لی اور 8 جنوری کو خرطوم پہنچ گیا۔ تب ایک زبردست آزمائش راہ میں آئی مگر خرطوم یونیورسٹی اس میں سرخرو ہو کر نکلی۔ اس طرح مجھے اور میری بیوی کو کوئی دو گھنٹے تک سلام سے مل بیٹھنے کا موقعہ مل گیا۔

سوڈان بر اعظم افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے اور تیسری دنیا کا غریب ملک ہے مگر اس کی دوخصوصیات ہیں۔ ایک یہ کہ سوڈانی لوگ طبعاً نرم خو ،بردبار اور امن پسند ہیں۔ میں نے اپنے پندرہ سالہ قیام کے دوران کبھی کسی سوڈانی کو ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے ،گالی گلوچ کرتے یا گتھم گتھاہوتے نہیں دیکھا ۔ دوسرے کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے بڑے قدردان ہیں اور اس بارے میں یوروپین لوگوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ حتی کہ ملٹری حکومتوں کے دوران بھی جرنیلوں سفیروں اور نوکر شاہی کے کارندوں کے مقابلہ میں اہلِ علم کو فوقیت دی جاتی ہے۔

مگر غریب ہونے کی وجہ سے سوڈان سستے تیل کی فراہمی اور سوڈانی مزدوروں کی ملازمتوں کی وجہ سے سعودی عرب کا دست نگر تھا۔ جب سلام کے سوڈان آنے کی خبر عام ہوئی تو سعودی درمیان میں کود پڑے اور سلام کے اس سفر کو روکنے کی کوشش کی۔ مگر سلام کو دعوت دی جا چکی تھی اور اس نے قبول بھی کر لی تھی اور خرطوم آبھی چکا تھااور اس کے لیکچر کے سارے انتظامات بھی ہو چکے تھے۔ انہوں نے مایوس ہو کر سوڈان کے مطلق العنان حکمران فیلڈ مارشل نمیری سے کہا کہ وہ سلام کو مدعو نہ کرے۔ نمیری خرطوم یونیورسٹی کا چانسلر تھا ۔ ۷ جنوری کو سعودی سفیر نمیری سے ملا اور اپنا یہ مطالبہ پیش کیاکہ وہ یونیورسٹی کا وہ اجلاس منسوخ کر دے جس میں سلام کو ڈگری پیش کی جانی ہے۔ نمیری نے اسی روز وائس چانسلر کو طلب کیا اور سعودی اعتراض اس کے سامنے رکھا۔ 

وائس چانسلر نے اپنے موقف پر ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا اکیڈیمک سٹاف کی میٹنگ بلائی اور سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ اگر چانسلر نے یہ کانووکیشن منسوخ کی تو سب سٹاف مستعفی ہو جائے گا۔ اگلے روز تمام صدور شعبہ اور دوسرے سربراہ وائس چانسلر کے ہمراہ چانسلر کے پاس گئے اور سعودی حکم کو نظر انداز کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ سعودی مطالبہ تسلیم کرنے کی صورت میں تمام کے تمام مقامی غیر مقامی ملکی غیر ملکی پروفیسر مستعفی ہو جائیں گے۔ نمیری نے سٹاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور سعودی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ نمیری نے کانووکیشن کی صدارت کی سلام کو ڈگری دی اور اپنے سٹاف کی عزت رکھ لی۔نمیری کو داد دینی چاہئے کہ اس نے یونورسٹی کے اساتذہ کا ساتھ دیا۔ مجھے صرف یونیورسٹی والے حصہ کا علم ہے مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ نمیری نے سعودی سفیر اور سعودی حکام کو کیا جواب دیا ہوگا۔

نوجنوری کو سلام نے یونیورسٹی لیکچر ہال میں سلام نے لیکچر دیا۔نفیس نام کے کوئی صاحب جو سعودی تھے یا عراقی تھے صدارت کر رہے تھے۔ انہوں نے دو دفعہ لیکچر کے دوران ایسی بات کی کہ سائنسدان بڑے مغرور ہوتے ہیں ، سلام نے ایک بار تو بڑی نرمی اور تحمل سے اس کو جواب دیا مگر جب اس شخص نے دوسری بار ایسی ہی حرکت کی تو سٹاف میں سے ایک صاحب نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم سلام کا لیکچر سننے آئے ہیں ہمیں آپ کی خرافات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس پر سارے حاضرین نے بآوازِ بلند اس کی تائید کی اور وہ صاحب چپ ہو گئے۔ 
دس جنوری کو سپیشل کانووکیشن ہوئی ۔ یہ بڑی پر وقار تقریب تھی۔ نمیری نے سلام سے آتے ہوئے بھی معانقہ کیا اور ڈگری دیتے ہوئے بھی معانقہ کیا۔ یونیورسٹی کی رونقیں اسی طرح قائم و دائم رہیں اس طرح نہیں ہؤا جیسا1979 مین قائد اعظم یونیورسٹی کی کانووکیشن کے موقعہ پر یا پنجاب یونیورسٹی میں ہؤا تھا۔

پاکستانی سفیر نے سلام کے اعزاز میں دریائے نیل کے بائیں کنارے پر واقع ہلٹن ہوٹل میں عشائیہ دیا۔یہ صرف مردانہ دعوت تھی اس لئے میں نے اپنی بیوی کو جو میرے ساتھ تھیں برآمدہ میں چھوڑا کہ (وہ جرمن زبان سے نبر آزما ہوتی رہیں ۔ ہم ہائیڈل برگ جانے کی تیاریوں میں تھے اور جرمن زبان سیکھنے کی کوشش کر رہے تھے) اور خود دعوت میں چلا گیا۔ اتنے لوگوں کی موجودگی میں سلام کو تلاش کرنا ہی مشکل تھا مگر اس نے مجھے دیکھ لیا اور میرے پاس آیا اور میرے کان میں کہنے لگا بھاگ نہ جانا ہم لوگوں کے جانے کے بعد باتیں کریں گے۔ میں زرینہ کو بھی اندر لے آیا اور ہوٹل کے لوگ پلیٹیں چمچے اکٹھے کر رہے تھے اور ہم صوفے پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔

سلام نے گورنمنٹ کالج کو بہت یاد کیا اس نے بتایا کہ اسے پروفیسر سراج اور محکمہ تعلیم کے افسروں کے ہاتھوں کیا کیا اذیتیں اٹھانا پڑیں۔میں نے پوچھا کیا یہ سب کچھ اس کے احمدی ہونے کی وجہ سے تھا؟ اس نے کہا نہیں احمدی تو پروفیسر قاضی محمد اسلم بھی تھے وہ کالج کے پرنسپل بھی ہوئے۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں تھا۔ اس نے مجھے ضیا ء الحق کی کج خلقی کی بات بھی بتائی کہ اسلام آباد میں سلام کے اعزاز میں تقریب تھی۔ مغرب کا نماز کا وقت ہؤا تو ضیا ء نے بلند آواز میں سلام سے کہا آپ نماز علیحدہ پڑھیں گے یا ہمارے ساتھ پڑھیں گے؟ سلام اس وقت اس کے پہلو میں کھڑا تھا آواز کو بلند کرنے کا مقصد صرف دوسروں کو جتانا مقصود تھا کہ ہمارا مہمان خصوصی ان جیسا مسلمان نہیں ہے سلام نے بہت سے یوروپین سفرا کو مسکراتے دیکھاجو صدر کی ہاں میں ہاں ملانے کے انداز میں سر ہلا رہے تھے۔

میں نے سلام کو بتایا کہ کس طرح ضیاء نے ہمارے لے پالک بچوں کو قانوناً ہم سے جدا کر دیا اور ہماری زندگی تباہ کر دی۔ سلام نے بہت افسوس کیا۔ جلد ہی روایتی باتوں سے نکل کر بات ہمارے ہائیڈل برگ کے سفر اور اس کے پروگرام کی طرف چل پڑی اور ہم اپنے مشترکہ ماضی کے ہنسی مذاق اور مزاحیہ ہلکی پھلکی باتوں میں کھو گئے ۔ سلام اپنے دوستوں ساتھیوں کو یاد کرتا رہا گورنمنٹ کالج اور کافی ہاؤس کی باتیں ہوتی رہیں سلام ان کمروں کے نمبر بھی یاد کرتا رہا جن میں وہ پڑھا کرتا تھا اور بعد کو پڑھایا کرتا تھا۔ اس کی گفتگو سے پتہ چلتا تھا کہ سلام کو اپنے کالج سے کتنی محبت تھی۔ سینٹ جان کالج سے بھی کہیں زیادہ۔ 

سلام نے بڑا طویل دن گذارا تھا اور مجھے بھی اگلے روز ہائیڈل برگ کی طرف روانہ ہونا تھا اس لئے ہم ساڑھے گیارہ بجے کے قریب رخصت ہوئے ۔ سلام برآمدہ میں اور پھر سیڑھیوں تک اتر کر ہمیں ہماری کار تک چھوڑنے آیا۔ اپنے دور کے اس عظیم آدمی سے میری یہ آخری ملاقات تھی۔ 
میں1996-99مین کیمبرج میں رہ رہا تھا مجھے 14 ستمبر 1999کو سینٹ جان کالج کے ماسٹر پروفیسر گاڈرڈ سے کسی ذاتی معاملہ ملنے کا موقعہ ملا ۔ گفتگو کا رخ سلام کی طرف پھر گیا۔ میں نے ان سے پوچھا کیا سلام کی یاد میں کوئی یادگاری فنڈ قائم کیا گیا ہے؟ ان کا جواب نفی میں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سلام کے شاگرد رہے ہیں۔اور اب وہ اس کلاس کو پڑھا رہے ہیں جس میں سلام کا بیٹا عمر بھی ان کا طالب علم ہے۔

پروفیسر گاڈرڈ کی بات نے مجھے اداس اور غمگین کیا ۔ میں نے خدا معلوم کیوں یہ مفروضہ قائم کر لیا تھا کہ حکومت پاکستان یا جماعت احمدیہ ( جس کا ہیڈ کوارٹر لندن میں ہے) سلام کے نام پراگر کوئی لیکچر یا پروفیسر شپ نہیں تو کم از کم ایک انعام یا وظیفہ ضرور قائم کریں گے اور یہی انگلستان والوں کا دستور ہے مگر ایساکچھ نہیں ہوا۔میں نے یہ بھی معلوم کیا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے بھی حکومت پاکستان کو ایسی کوئی تجویز سرے سے بھیجی ہی نہیں گئی۔ 

لاہور آنے کے بعد میں نے ایک ممتاز اور بااثر احمدی دوست سے درخواست کی کہ وہ جماعت سے کہیں کہ جماعت کو سینٹ جان کالج میں شعبہ ریاضی یا فزکس میں سلام کے نام کا کوئی وظیفہ یا انعام جاری کرنا چاہئے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ مناسب لوگوں سے یہ بات کریں گے مگر کچھ نہیں ہوا ۔ میں نے اسے دو تین دفعہ یاد بھی دلایا ۔ پھر میں نے محسوس کیا کہ وہ دوست اس بات کا ذکر کرنے سے گھبراتے ہیں تو میں نے بھی خاموشی اختیار کرلی۔

وہ ٹھیک تھے میں ہی غلط تھا۔ مُردوں کو یاد کرنے سے فائدہ؟ انہیں اپنی قبروں میں آرام سے سونے دو۔ یہ ہماری پاکستانی روایت ہے اور ہم اس روایت کے وفادار ہیں۔ میرے ایک سائنسدان دوست نے کیاا چھی بات کہی ۔ میں نے اپنی مایوسی کا اظہار ان سے کیا تو انہوں نے کہا ’’ تم کہتے ہو احمدیوں نے سلام کی یاد میں کچھ نہیں کیا؟ ہاں نہیں کیا۔ آخر وہ بھی تو پاکستانی ہی ہیں ‘۔

The Coffee House of Lahore, Chapter 7, by K.K. Aziz

Published by Sang e Meal Publications, Lower Mall, Lahore

3 Comments

  1. When Babus of this country were tormenting Dr. Salam, he was not a Nobel laureate but he did show promise to get it. British universities did recognise his talent. This is the difference between forward looking humanitarian societies and the ones frozen in the tradition of tormenting learned people.
    sibte

  2. Ahmadi koe specual nahe hain.pakistani hain . Muslims ya ahmadis ka knowledge se kia matlab bas har kise ne mazhab ke dukan saja rakhe he.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *