کیوبا میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہتی ہیں۔3

asif-javaid4-252x300

آصف جاوید

کیوبا پر امریکہ کے 56 سالہ معاشی  مقاطعے  اور پڑوسی ممالک سے سماجی پابندیوں  کے باوجود اشتراکی نظام کی برکت سے تعلیم، صحت اور رہائشِ  کی فری سہولتیں حکومت کی جانب سے عوام کو مہیّا ہیں۔  جِس کا کریڈٹ فیڈرل کاسٹرو کی حکومت کو نہ دینا ، بددیانتی ہوگا۔  اقوامِ متّحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق کیوبا ، نومولود بچّوں کی  محفوظ جنّت ہے۔   کوئی بچّہ کم خوراکی کا شکار نہیں ہے۔  اقوامِ متّحدہ کے ہیومن  ڈیولپمنٹ انڈیکس کے مطابق تعلیم ، صحت کی  بہترین  سہولتیں، کیوبن عوام کو میسّر ہیں۔ دس بچّوں کے لئے ایک استاد اور ایک کروڑ کی آبادی  کے لئے  ایک لاکھ  تیس ہزار ڈاکٹر موجود ہیں۔ 

بایو ٹیکنالوجی   میں کیوبا دنیا میں بہت آگے ہے، اب تک کینسر کی چار ویکسین ایجاد  و تیّار کرچکا ہے۔  ریاست کا کوئی باشندہ بے گھر نہیں ہے۔  ( یہ الگ بات کہ گھروں کی حالت کیا ہے؟)۔قومی آمدنی کا 54 فیصد برہِ راست سوشل سروسز پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اور  قومی آمدنی کا سوشل سروسز پر  اتنا خرچ دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ہوتا ہے۔  مگر پھر بھی کہیں نہ کہیں کوئی گڑ بڑ ضرور ہے۔  کیوبا میں اشتراکی نظام سے بیزاریت بڑھتی ہی جارہی ہے۔

کیوبا میں   90 کی دہائی کے وسط تک عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔اگر چہ انقلاب سے  پہلے لوگ سیاسی اور معاشی وجوہات کی وجہ سے اسیری کی زندگی کی جانب مائل ہو گئے تھے۔  مگر  اب انقلاب کے  56  سال بعد ہزاروں ایسے بھی  ہیں  جو ایک اچھی زندگی کا خواب آنکھوں میں سجائے سمندری راستے سے امریکی ریاست فلوریڈا کی جانب  چوری چھپے بھاگتے ہیں۔ کیونکہ کریبئین جزائر کے قریب ترین خوشحال  اور آزاد  ملک صرف امریکہ ہی ہے۔ اِن کوششوں میں  بہت سے ایسے  بھی  ہیں جو دوران سفر اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے   ہیں ۔ لیکن ایسا کرنا ان کی جانب سے کاسترو کے لیے عدم اعتماد کا ووٹ  اور اشتراکی نظام سے نفرت ہے۔

 کیوبا سے فرار ہونے  والے خاندانوں میں  سے ایک مثال نو عمر بچے ایلین گونزالز کی ہے جس کی  ماں فلوریڈافرار ہونے کے دوران  سمندری  سفر  میں فوت ہوگئی تھی۔ کیوبا اور میامی میں اس کے خاندان کے درمیان طویل تنازعے کے بعد وہ  بچّہ ہوانا واپس آ گیا تھا۔

 کیوبا کے عوام کی اکثریت ، امریکہ  کو اپنی ترقّی کی رکاوٹ اور  اپنے حالات کا ذمّہ دار سمجھتی ہے۔ کیوبن عوام امریکی معاشی مقاطعہ کو  پچھلے 56 سال سے  جھیل رہے ہیں۔  

ہمار ی ناقِص رائے میں ،سوویت یونین کے خاتمے اور چین میں فری اکنامی کا چلن عام ہونے کے بعد، کیوبا  کے اشترا کی نظام  میں توڑ پھوڑ  کا  فطری عمل شروع ہو گیا تھا۔ اور کیوبا میں ٹوراِزم کے فروغ  نے اس عمل میں عمل انگیختہکا کام انجام دیا ہے۔ اب  پڑوسی ملک امریکہ کے عوام کے رہن سہن کو دیکھ کر یا ان کی کہانیاں سن کر اور یورپ، روس، کینیڈا سے آنے وا لے  سیّاحوں کی لَش پَش دیکھ کر، محدود پیمانے پر انٹرنیٹ کے استعمال ، اظہارِ رائے کی  بندِش کا احساس ہونے اور دنیا کے گلوبل ولیج بن جانے کے بعد کیوبا کے عوام کو اپنی  جمود زدہ زندگی  اجیرن لگنے لگی ہے۔

 کیوبا میں ذرئع ابلاغ  پر ریاست کا  مکمّل کنٹرول ہے ۔ جو  میڈیا کی آزادی اور سائبر ورلڈ کا چلن عام ہونے کے بعد ایک غیر فطری سا عمل لگتا ہے ۔ اخبارات اور ریڈیو ، ٹی وی  سٹیٹ  کے کنٹرول  میں ہیں۔  ذہن آزاد نہیں، پوری کیوبن قوم ایک تابع دارانہ قسم کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہے۔

کیوبا میں جب بھی حکومت یا نظامِ حکومت سے بیزاری کی تحریک چلے گی، وہ پیٹ بھوکا ہونے، یا سر پر چھت نہ ہونے کی وجہ سے نہیں چلے گی۔  جب بھی چلے گی، آزاد معاشرے اور فری اکنامی کے حصول کے لئے چلے گی۔ ، بہتر طرزِ زندگی، بلند معیارِ زندگی اور ذہنی و فکری آزادی حاصل کرنے کے لئے چلے گی۔سماجی ڈھانچے پر طاری جمود کو توڑنے کے لئے چلے گی۔ اظہارِ رائے کی آزادی  کے حصول اور  اشتراکی نظام کے خاتمے کے لئے چلے گی۔

فیڈل کاسترو ایک عظیم محبّ، وطن  اور قومی خدمت گار تھا، 56 سال امریکی نفرت اور بدترین معاشی مقاطعہ ،  اور سماجی بے اعتنائی کا مقابلہ  کرتا رہا، مگر اپنے عوام کو اپنی بساط کے مطابق  سماجی خدمات فراہم کرتا رہا۔  اگر امریکہ اپنی ذلالت اور کمینگی سے باز رہتا، اور کیوبا  پر قبضے کی ناجائز خواہش کو ترک کرکے کیوبا کو آزادانہ طور پر پھلنے پھولنے کا موقعہ دیتا تو کیوبا کبھی اشتراکی نظام کی جانب مائل نہیں ہوتا ، اور آج کیوبا بھی کریبئین جزائر میں طاقتور معیشت  کے ساتھ ایک جدید ترقّی یافتہ ملک کی صورت میں کھڑا ہوتا۔ دنیا کی تاریخ امریکہ کی ویتنام سے جنگ، دوسری جنگِ عظیم میں ہیروشیما ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے اور کیوبا کے غیر انسانی معاشی مقاطعہ کو کبھی بھی نہیں بھولے گی۔ عالمی ضمیر اِس صورتحال پر امریکہ کو ہمیشہ لعن طعن کرتا رہے گا۔

کیوبا کے بارے میں یہ تمام باتیں میں قصّے کہانیاں سن کر بیان، نہیں کررہا ہوں۔ بلکہ  سب کچھ میری اپنی ذاتی معلومات، تاریخ کے مطالعے اور  گذشتہ  10 سالوں میں کیوبا کے  پانچ تفریحی دوروں کے  مجموعی مشاہدات  کی بناء پر میرا ذاتی تجزیہ ہے۔ میں کینیڈا کا شہری ہوں،  تقریباگذشتہ دس سال سے ، ہر سال چھٹّیاں گزارنے کریبین ممالک   جاتا ہوں،  میامی فلوریڈا،  بہاماس، جمائیکا، ڈومینیکن ریپبلک، پوئیرٹو ریکو، اروبا، یہ سب تفریحی مقامات کینیڈین سیّاحوں کے لئے بہت پرکشش،  یوں ہیں کہ آپ فی آدمی ہزار  بارہ سو ڈالر میں پانچ سے سات دن ، فائیو اسٹار ریزورٹس میں قیام پذیر ہوسکتے ہیں ، اور دنیا کی بہترین  تفریحات کا لطف اٹھاسکتے ہیں۔

میں دعاگو ہوں کہ امریکہ کیوبا پر اپنے معاشی مقاطعہ کو ختم کردے، گوانتانامو بے سے اپنے بحری اڈّے ختم کردے، کیوبا کی قیادت  چین کی طرز پر فری اکنامی مارکیٹ کا چلن عام کردے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو  سرمایہ کاری کی دعوت عام دے ۔ انفراسٹرکچر کی تعمیرپر توجّہ دے،نئے ہاوسنگ پروجیکٹ شروع کرے۔ بایوٹیکنالوجی اور زرعی صنعتوں کو فرغ دے۔  دنیا سے  آزادانہ تجارت شروع کرے۔ اپنے ہیومن ریسورس (ٹیچرز، ڈاکٹرز،   آئی ٹی فروفیشنلز) کو مزید قابل اور ترقّی یافتہ بنا کر دنیا کی معیشت میں ایک پروڈکٹ کی شکل میں  فروخت کرے، اپنے سروسز سیکٹر کو   فری اکنامی مارکیٹ کا حصّہ بننے دے۔

 انٹرنیٹ اور دیگر جدید ذرائع مواصلات  کا جال بچھائے، اپنے عوام کو ذہنی ، فکری اور شعوری آزادی دے۔  اظہار رائے پر عائد تمام پابندیوں کو خاتمہ کردے۔ میڈیا کو آزاد کردے۔ انسانی فطرت اور جبلّت کے مطابق آنر شِپ (مالکانہ حق)  کا احسا س ، ترقّی کرنے   کے   جذبے  کو مہمیز عطا کرتا ہے۔ کیوبا کی قیادت کو  مالکانہ حقوق سے متعلّق انسانی جبلّت کے اس پہلو پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔  اور  کیوبا کے  مسائل کا حل یہیں کہیں موجود ہے۔  فیڈرل کاسٹرو کے بعد کیوبا کی قیادت کو  عظیم ترین قومی مفاد میں اپنی پالیسیاں بدلنی ہونگی۔

کیونکہ میرے سامنے مثال موجود ہے۔ میرے  ملک کینیڈا نے دنیا کی بہترین ملکوں کی صفوں میں کھڑا ہونے کے لئے  عوامی فلاحی ریاست  اور فری اکنامی مارکیٹ کا نظریہ اپنا یا تھا۔ اور آج میں ایک قابلِ فخر کینڈین شہری کی حیثیت سے  دنیا کی بڑی فلاحی ریاست کے ثمرات سے لطف اندوز ہورہا ہوں۔

آنر شِپ کا احساس  ہر کینیڈین  کو مزید کچھ حاصل کرنے کی جستجو میں مبتلا رکھتا ہے،  پوری قوم متحرّک  رہتی ہے۔ حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لئے نت نئے انتظامات کرتی رہتی ہے۔ عوام خوشحال ، ملک خوشحال رہتا ہے۔ ۔  کیوبا بھی اس مرحلے پر کینیڈا کو رول ماڈل بنا کر عوامی فلاحی ریاست اور فری اکنامی کے حسین امتزاج سے  ترقّی حاصل کرنے کا سبق سیکھ سکتا ہے۔  کینیڈا نے پہلے بھی کیوبا کی بہت مدد کی ہے۔

ختم شد

پہلا حصہ

1کیوبا میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہتی ہیں۔

دوسرا حصہ

2کیوبا میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *