سی پیک،چین اور ایسٹ انڈیا کمپنی

شاہد اقبال خان

پاکستانی فوج ،مذہب اورکشمیر کے ساتھ ساتھ اب چین اور ترقی کے ساتھ تعلقات پر سوال اٹھانا بھی غداری اور کفر کے زمرے میں شامل ہو چکا ہے اور حکومت پاکستان کے کردار پر بات کرنا جمہوریت دشمنی بن چکا ہے اور ان سب پر بات کرتے یا سنتے ہوئے پر جلنے لگتے ہیں مگر آگے بڑھنے کے لیے ہمیں ان سوالوں کو پوچھنا اور اس کا جواب ڈھونڈنا ہو گا۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ کی ویب سائٹ دیکھ کر کچھ ایسے طبق روشن ہوئے کہ سوچا آپ کو بھی اس روشنی سے منور کرتا چلوں۔تو جناب سب سے پہلی تو یہ خوشخبری سنیں کہ پچھلے تین سال میں پاکستان میں سالانہ غیر ملکی سرمایہ کاری ۱۲۰۰ ملین ڈالر کے قریب رہی ہے۔سابق صدر آصف زرداری کے ناکام دور میں سالانہ غیر ملکی سرمایہ کاری ۱۹۵۰ ملین ڈالرکے قریب تھی جب کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور کے آخری اور بدترین سال یعنی ۲۰۰۷ میں ۵۴۰۰ ملیں ڈالر تھی۔ سوال یہ ہے کہ میاں صاحب کے تین سالوں میں اربوں روپے کے غیر ملکی دوروں سے پاکستان کو کیا ملا؟؟؟

ایک اور اہم معلومات جو انویسٹمنٹ بورڈ کی ویب سائٹ سے ملی ہے وہ یہ ہے کہ سال ۲۰۱۵ اور ۲۰۱٦ میں پاکستان میں ہونے والی بیرونی سرمایہ کاری میں سے ۴٦ فیصد صرف چین نے کی ہے۔یہ پڑھتے ہی اچانک سے خیال آیا کہ کیا دنیا کے کسی اور ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں کسی ایک ملک کا اتنا بڑا حصہ ہے؟ تمام ترقی یافتہ ممالک کے اعدادوشمار دیکھنے کے بعد پتا چلا کہ دوسرے ممالک میں کسی ایک ملک کی سرمایہ کاری ۱۵ فیصد سے زیادہ نہیں اور اگر کسی ملک میں اس شرح میں اضافہ ہونے لگتا ہے تو وہ ملک اس ملک پر سرمایہ کاری کی وقتی پابندی لگا دیتا ہے۔

اور تو اور امریکہ بھی اپنے قریبی دوست جاپان اور برطانیہ کے ساتھ چین پر مختلف ادوار میں صرف اسی وجہ سے پابندیاں لگا چکا ہے۔زیادہ دور نہیں جاتے ابھی ۲۰۱٦ میں امریکی پارلیمنٹ نے چین پر پابندی لگانے کی تجویز دی ہے کہ وہ کسی امریکی کمپنی کو نہیں خرید سکتے مگر اور ملک چاہے تو خرید لے۔

آخر سوچنے کی بات ہے کہ پوری دنیا ایسا کیوں کرتی ہے؟ ہمارے خیال میں تو اپنے ملک میں انویسٹمنٹ آنے کو روکنا اپنے پاوں پر کلہاڑی مارنا سمجھا جاتا ہے تو پھر یہ تمام عقلمند تھنک ٹینک سے مالا مال ممالک ایسی غلطی کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب ڈھونڈتے بہت دور تک جانا پڑا اور جیسے ہی ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ دیکھی تو ساری بات سمجھ میں آنے لگی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی جب انڈیا میں تجارت کے لیے آئی تو اس کے ساتھ بہت سی اور اقوام کے لوگ بھی شامل تھے جیسے پرتگیزی، فرانسیسی اور جرمن وغیرہ مگر مغلوں نے سب پر پابندی لگا دی۔کچھ عرصہ بعد اورنگزیب نے اپنے ذاتی معالج پر عنایت کرنے کے لیے صرف انگریزوں کو دوبارہ سے تجارت کی اجازت دے دی۔آہستہ آہستہ انگریز قدم جماتے رہے اور اس کے بعد جو ہوا وہ آپ سب کو معلوم ہے۔قصہ مختصر انگریزوں نے تجارت کرتے کرتے پہلے ہندوستاں کی معیشت سنبھالی اور پھر حکومت کیونکہ تاریخی سچ یہی ہے کہ جس کی معیشت اسی کی حکومت۔اگر فرانسیسیوں ،پرتگالیوں اور جرمنوں کو بھی تجارت کرنے دی جاتی تو انگریز یہاں کی واحد تجارتی قوت نہ بنتے اور نہ ہی انڈیاان کے قبضےمیں آتا۔

ہم نہ تو اپنی تاریخ سے سیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ترقی یافتہ ملکوں کی پالیسی سے۔ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی سڑکیں اور پل ہی نظر آتے ہیں ان کی پالیسی ،ویژن ،سٹریٹجی اور نظام دیکھنے والا لینز ہماری آنکھوں میں شاید لگا ہی نہیں ہوا۔ خدا نہ کرے ایسا ہو مگر محسوس یوں ہوتا ہے کہ اب وہی سب کچھ ہمارے برادر ملک چین کےہاتھوں ہونے جا رہا ہے جو کبھی ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیا۔

اگلے دو سال میں پاکستان کی بیرونی سرمایہ کاری کی شرح میں چین کا حصہ ٦۰ فیصد سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔چین پاکستان کی داخلہ سے خارجہ تمام پالیسوں میں پاکستان کو ڈکٹیٹ کرنے لگ جائے گا اور پاکستان کے پاس ماننے کے سوا اور راستہ نہیں بچے گا کیونکہ چین جب بھی چاہے گا پاکستان کو سڑک پر لانے کی پوزیشن میں ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصے تک جب پاکستانی انتظامیہ سی پیک کو سیکیورٹی نہ دے سکی تو چین پاکستان سے درخواست کرے کہ چینی افواج کو پاکستان میں آنے کی اجازت دی جائے اور پھر اس کے بعد۔۔۔اور جو لوگ سمجھتے ہیں کہ چین تو اپنا دوست ہے اس سے کیا خطرہ تو پرویز مشرف کے اس بیان کو سامنے ضرور رکھیے گا کہ انٹرنیشنل سیاست میں مفادات ہوتے ہیں دوستیاں نہیں۔سوچ رہا ہوں کہ آخر دنیا میں چین کے علاوہ کوئی اور انویسٹر میسر ہی نہیں؟؟ یا پھرکمیشن دینے والا انویسٹر میسر نہیں؟؟؟

۔(اور آخر میں ایک خبر کہ چین نے پاکستان کے سفیر سےصاف صاف کہا ہے کہ اب مسعود اظہر کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد کو چین ویٹو نہیں کرے گا)۔

محترم جناب شاہد صاحب آپ نے لکھا ہے کہ ۲۰۱٦ میں امریکی پارلیمنٹ نے چین پر پابندی لگانے کی تجویز دی ہے کہ وہ کسی امریکی کمپنی کو نہیں خرید سکتے مگر اور ملک چاہے تو خرید لے۔براہ مہربانی اس کا حوالہ کمنٹس میں لکھ دیں(ایڈیٹر)۔

4 Comments

  1. پانج سال پہلے کی بات ہے کوہیٹہ کے ایک ہوٹل میں ہم دوستوں کے ساتھ بہٹے ہوئے تھے وہاں ایک 75 سالہ شخص بھی چائے پی رہا تھا اس دوران چھوٹا بحصہ ہوٹل میں داخل ہیوا پنسل بھج رہا تھا اس 75 سالہ شخص نے کہا کہ آنے والے وقتوں یہ پپنسل چاہینز فروخت کررہا ہو گا کیونکہ پاکستان نے چائنہ کو بلینک چیک دیا ہے جو خطرناک عمل ہیں جو اس ملک کو ڈوبے گا اب بھی چاہینہ نے پوری پاکستان کی
    مآرکیٹ پر قبضہ کر دیا ہیں

  2. Muhammad Ans Hafeez says:

    Indeed, Great work Shahid Iqbal Khan.

  3. No tension.acha he chinese yahan aa jain.in haram khor pakistanio se to jaan choote je.chaina ko jalde aana cahaheay

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *