مولانا مسعود اظہر کو ملزم نامزد کر دیا گیا


بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس سال جنوری میں انڈین ایئر فورس کے پٹھان کوٹ میں واقع اڈے پر عسکریت پسندوں کا خونریز حملہ بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں شدید کشیدگی کی وجہ بنا تھا اور اسی حملے کے نتیجے میں دونوں ہمسایہ لیکن حریف ایٹمی طاقتوں کے باہمی تعلقات میں تعطل اور کشیدگی پیدا ہو گئے تھے، جو ابھی تک جاری ہیں۔

مبینہ طور پر اس حملے کا مرکزی منصوبہ ساز ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے اب نئی دہلی نے پاکستانی عسکریت پسند رہنما مولانا مسعود اظہر کو اس واقعے میں باقاعدہ طور پر ملزم نامزد کر دیا ہے۔ پٹھان کوٹ ایئر بیس حملے میں سات بھارتی فوجی مارے گئے تھے اور نئی دہلی حکومت کہہ چکی ہے کہ بظاہر صرف عسکریت پسندوں کی طرف سے کیا جانے والا یہ حملہ اسلام آباد حکومت کی مبینہ مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔

بھارتی حکومت اس حملے کا براہ راست الزام پاکستان میں موجود لیکن ممنوع قرار دی جا چکی عسکریت پسند تنظیم جیش محمد پر عائد کرتی ہے، جس کی بنیاد مولانا مسعود اظہر نے رکھی تھی۔ مسعود اظہر کو 1999ء میں ہائی جیک کیے جانے والے انڈین ایئر لائنز کے ایک طیارے کے مسافروں کے بدلے ایک بھارتی جیل سے رہا کروایا گیا تھا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی طرف سے پیر 19 دسمبر کے روز مولانا مسعود اظہر پر باقاعدہ طور پر پٹھان کوٹ حملے کا مرکزی ملزم ہونے کا الزام عائد کر دیا گیا۔ این آئی اے نے اس حملے سے متعلق اپنی طویل اور بہت مفصل چھان بین پوری کرنے کے بعد پیر کے روز مولانا مسعود اظہر کے علاوہ ان کے بھائی رؤف اصغر اور جیش محمد کے دو دیگر ارکان کو بھی ملزم نامزد کرتے ہوئے ان پر باقاعدہ الزامات عائد کر دیے ہیں۔

این آئی اے کے ایک اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم نے ان ملزمان پر عائد کردہ الزامات سے متعلق چارج شیٹ جمع کرا دی ہے اور اس سلسلے میں مزید چھان بین جاری رہے گی۔‘‘ بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اس اہلکار نے مزید کہا، ’’ہمارے پاس ان ملزمان کے خلاف مادی شواہد موجود ہیں‘‘۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے متنازعہ خطے سے باہر بھارتی مسلح افواج میں سے ملکی فضائیہ کے ایک اہم اڈے پر یہ خونریز حملہ ایک ایسا واقعہ تھا، جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت ہی کم نظر آنے والے واقعات میں سے ایک تھا۔ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس حملے کے تمام ملزم ’پاکستان میں‘ ہیں۔

پاکستان نے عسکریت پسند گروپ جیش محمد کو 2002ء میں ممنوع قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی تھی۔ اسلام آباد حکومت نے یہ قدم اس واقعے کے ایک سال بعد اٹھایا تھا، جب 2001ء میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمان پر ایک مسلح حملہ کیا گیا تھا۔ بھارتی حکام نے اس حملے کا ذمے دار جیش محمد کو قرار دیا تھا اور انڈین پارلیمنٹ پر اس حملے کےنتیجے میں دونوں ہمسایہ ملک تب ایک نئی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔

اے ایف پی نے مزید لکھا ہے کہ پاکستانی حکام نے ممبئی میں 2008ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس ممنوعہ گروپ کے رہنما مسعود اظہر کو گرفتار کر لیا تھا لیکن بعد میں اسے رہا کر دیا گیا تھا۔

این آئی اے کے تفتیشی ماہرین کے مطابق مسعود اظہر کے بھائی رؤف اصغر نے پٹھان کوٹ حملے کے بعد پوسٹ کیے گئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی تھی۔ این آئی اے نے اپنی چھان بین کے بعد اب کہا ہے کہ دو جنوری کو کیے گئے اس حملے میں شریک چاروں ’پاکستانی عسکریت پسند‘ مارے گئے تھے۔ اس کے برعکس اس حملے کے فوری بعد بھارتی حکام نے ان حملہ آوروں کی مجموعی تعداد چھ بتائی تھی۔

لشکر طیبہ (جماعت الدعوۃ)، جیش محمد اور حزب اسلامی تین بڑی دہشت گرد تنظیمیں ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے اور ان کی قیادت پاکستان کے مختلف شہروں میں  عوامی اجتماعات منعقد کرتی ہیں  ۔ بین الاقوامی دباو کے باوجود ان تنظیموں کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرنا پاکستانی ریاست پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

حزب اختلاف کے رہنما اعتزاز احسن نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلواسطہ طور پر پٹھان کوٹ حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا جن کی سرپرستی ریاست پاکستان کر رہی ہے۔

دو ماہ پہلے ڈان اخبار میں شائع ہونے والی سرل المائدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سیکرٹری خارجہ نے اس حقیقت کا اعتراف کیا تھا کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرنے کی وجہ سے سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ حکومت پاکستان ان کے خلاف کاروائی کرنا چاہتی ہے مگر پاک فوج کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی ان تنظیموں کے خلاف کاروائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔

DW/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *