عارف کی کہانی ایک دوست کی زبانی-4

سبط حسن

میں ایک تابوت گاڑی کے پچھلے حصے میں بیٹھا ہوا ہوں۔۔۔ اس گاڑی کا رنگ سیاہ ہے لیکن پینٹ پر پڑتی ہوئی سورج کی کرنوں کے باعث یہ مٹیالا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے باہر لگی ہوئی نمبر پلیٹوں کا رنگ صحرا کی ریت جیسا ہے، جن پر تیر کا نشان اور ہلال احمر کا نشان ہے۔ گاڑی کے فرش پر میرے سامنے ایک چوبی تابوت رکھا ہے، جس میں عارف کی لاش ہے۔ سامنے کی سیٹ پر ایک فوجی ڈرائیور اور ایک طبی معاون (Male Nurse) کے درمیان ایک زخمی سپاہی بیٹھا ہے جو ہمیں راستے میں پڑاملا تھا۔ ہم بہت سے شہروں اور قصبوں میں سے گزرتے ہوئے ایک ضلعی صدر مقام کی طرف جا رہے ہیں۔ ہمارا کام عارف کے گاؤں جا کر اس کی لاش کو اس کے ورثا کے حوالے کرنا ہے اور دواؤں کا ذخیرہ لے کر واپس محاذ جنگ تک آنا ہے۔
میں تابوت پر سے نظر نہیں ہٹا پاتا۔ گاڑی کے دائیں بائیں گھومنے پر اسے فرش پر اِدھر اُدھر سرکنے سے باز رکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ میرے سامنے ایک چھوٹی سی کھڑکی ہے اس لیے میں جان سکتا ہوں کہ ہم کس سمت میں اور کس رفتار سے جار ہے ہیں۔ گاڑی میں ایک ریڈیو بھی ہے، جس میں زیادہ تر صرف کھڑکھڑاہٹ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ کبھی کبھی پروگرام صاف سنائی دینے لگتا ہے، لیکن جب گاڑی کوئی موڑ کاٹتی ہے تو آواز پھر سے غائب ہو جاتی ہے۔
عارف کل جنگ کے دوران زخمی ہوا تھا اور آج صبح چل بسا۔ لیکن مجھے اب بھی یوں لگتا ہے جیسے وہ گہری نیند میں ہو، جیسے وہ ابھی زندہ ہو اور اس کے جسم میں گرمی باقی ہو اور یہ تابوت کی درزوں میں سے مجھ تک پہنچ رہی ہو۔ جب ہم نے اسے تابوت میں لٹایا تو اس کا جسم ابھی اکڑا نہیں تھا۔ وہ ابھی تک لچکدار تھا اور لگتا تھا کہ رگوں میں خون ابھی تک گردش کر رہا ہے۔ دل دھڑک رہا ہے۔ میں نے خود سے کہا کہ اسے جو کچھ بھگتنا پڑا ہے اس کے باعث وہ بے ہوش ہو گیا ہے اور کچھ نہیں۔ جلد ہی ہوش میں آکر چلنے پھرنے لگے گا۔
وقت سست رفتاری اور تھکن کے ساتھ گزر رہا ہے۔ میں عارف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ واقعی لڑائی میں مارا گیا، لیکن تابوت سختی سے بند ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں پہلی دفعہ عارف سے ملا۔ اس دن وہ ہمارے یونٹ میں آیا تھا۔ جب آپ کسی شخص سے ملتے ہیں تو آواز ہی پہلی چیز ہوتی ہے جو آپ کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اس کی آواز میں شرم اور جھجک تھی، جیسے مدد کی التجا، ہاتھ بڑھانے اور دوستی کرنے کی درخواست۔میں اس کی آواز سنتے ہی اس التجا کو سمجھ گیا تھا۔ جب میں نے اس پر نظر ڈالی تو مجھے اس کی آنکھوں میں جلتی ہوئی شدت دکھائی دی۔ اس شام ایک دوسرے کے سامنے آنے پر ہم نے ایک دوسرے کو سلام کیا۔ نئے بھرتی ہونے والوں کا ایک گروپ اس روز یونٹ میں پہنچا تھا اور میری ڈیوٹی کمپنی آفس میں تھی۔ میرا کام ان کے کوائف نوٹ کرنا تھا اور میں نے ان سب سے وہی معمول کے سوال کیے: نام ، پیدائش کا مقام، سویلین پیشہ، فوجی خدمت سے فارغ ہونے کے بعد اختیار کرنے کے لیے پسندیدہ پیشہ اور حاصل کردہ فوجی تربیت۔ میں نے جب اسے دیکھا تو مجھے لگا اسے فوج میں ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی ہر بات سے شائستگی عیاں تھی۔ میں نے اس پر ایک اور نظر ڈالی۔ وہ کسان تھا۔۔۔ یہ بات اس کے ہاتھوں اور کلائیوں سے ظاہر تھی۔۔۔ اور میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ ناخوش ہے۔ وہ بے بس دکھائی دیتا تھا، مدد کی التجا کرتا ہوا اور کسی اندرونی خلجان میں گرفتار۔ اس کا چہرہ مٹیالا تھا، زمین کی مٹی جیسا۔۔۔

اس نے اپنا نام بتایا، لیکن باپ یا خاندان کا نام نہیں بتایا۔ میں نے دوبارہ پوچھا اور اس بار اس نے اپنا پورا نام بتایا۔ اس کے کوائف اس طرح تھے: ایک گاؤں کا رہنے والا، مڈل سکول پاس، ایک ضلعی صدر مقام کے بھرتی دفتر میں بھرتی ہوا، طبی خدمات کے شعبے میں تعیناتی۔ ضلعی صدر مقام میں اس کے پاس کوئی پتا نہ تھا۔ اس نے مجھے اپنے گاؤں کا نام لکھوایا۔ بھرتی کے لیے طلب کیے جانے سے پہلے کے پیشے کے خانے میں ’’طالب علم‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اس بات نے مجھے شک میں ڈال دیا۔ طالب علم تھا تو پھر اسے کیسے طلب کر لیا گیا؟ لمحے بھر کے لیے مجھے خیال آیا کہ اس سے پوچھوں کہ اس نے اپنا فوجی خدمت ملتوی کیے جانے کا حق کیوں استعمال نہیں کیا۔ لیکن مجھے بہت سا کام کرنا تھا۔ باقی تفصیلات میں نے عام انداز سے درج کیں۔ جب مجھے بتایا گیا کہ وہ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے، میں اس پر چلّانے ہی والا تھا کہ وہ فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہے۔
لیکن اس سے پہلے کہ میں اپنا منہ کھول سکوں، اس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور چلایا ’’اوہ! میں کیسے بھول گیا!‘‘ اب اس نے بتایا کہ وہ بہت سارے بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے، اور لکنت زدہ آواز میں اپنے پہلے بیان کی غیر اطمینان بخش وضاحت کرنے لگا۔ اس کی وضاحت کے باوجود مجھے تعجب تھا کہ وہ طالب علم ہوتے ہوئے بھی بھرتی ہو گیا اور اپنے بھائیوں کی تعداد تک یاد نہیں رکھ سکتا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ عارف کسی اذیت سے گزر رہا تھا اور کسی ایسے فرد کی تلاش میں تھا جس سے وہ اپنے دل کا راز کہہ سکے۔ ہر صبح ڈیوٹی افسر حاضری لینے کے لیے سب کا نام پکارتا، اور ہم سب نے محسوس کیا کہ وہ اپنا کاغذی نام پکارے جانے پر شاذ ہی جواب دیتا تھا۔ اس کا نام کئی بار پکارا جاتا اور ڈیوٹی افسر اس کی غیر حاضری لگانے ہی کو ہوتا، تب اس کے پاس کھڑا کوئی نہ کوئی ساتھی اسے ٹہوکا دیتا کہ اس کا نام پکارا جا رہا ہے۔

مجھے اس بات کا بہت قوی احساس تھا کہ وہ ایک عجیب قسم کی زندگی گزار رہا تھا۔۔۔ جب وہ مارچ کرنے والوں کی قطار میں سب کے ساتھ قدم اٹھاتا تو یہ اس کا قدم نہ ہوتا۔ جب بات کرتا تو اس کی زبان وہ باتیں ادا کر رہی ہوتی جو اسے مجبوری میں ادا کرنی پڑتی تھیں۔ اس کے وجود کے اندر سے پھوٹنے والی چیزوں میں نمایاں اس کی کتراتی ہوئی نظریں، عجیب طرح کی بے قراری، جذبات میں ہلچل، ایک خاص قسم کی دھڑکن۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ ان کو لفظوں میں کیوں کر بیان کروں۔
ایک شام ہم باتیں کر رہے تھے اور وہ دیر تک اُن لوگوں کی باتیں کرتا رہا جو بھوکے سوتے اور بڑی مشکل سے گزر بسر کرتے ہیں۔ مجھے اس کی باتیں سن کر تعجب ہوا۔۔۔ وہ اس طرح یہ سب بیان کر رہا تھا کہ جیسے یہ سب اس کے ساتھ بیتا ہو۔ میں نے اس کے کاغذات میں پڑھا تھا کہ اس کا باپ ایک نمبردار ہے۔ جب میں نے کہا کہ میں غریبوں اور محتاجوں کے لیے اس کی فکر مندی پر کس قدر حیران ہوں تو وہ اچانک بول پڑا۔۔۔ ’’مگر میں بھی تو۔۔۔‘‘ پھر وہ رُک گیا ، اور میں نے وہ سوال نہیں پوچھا جو میرے چہرے پر صاف جھلک رہا ہو گا۔ سردی کے باوجود اس کا چہرہ اچانک پسینے سے جھلملا گیا اور مجھے یہ سوال کرنے کی خواہش نہ ہوئی کہ کسی نمبردار کا بیٹا کیسے خود کو غریبوں میں شامل کر سکتا ہے۔
ایک اور رات کی بات ہے ہم دونوں ڈیوٹی پر تھے۔ عارف کو یونٹ کی چوکیداری کا کام کرنا تھا۔ اس سلسلے میں اسے دس بجے رات کو اور پھر صبح چار بجے مجھے رپورٹ کرنا تھی۔ پہلی رپورٹ تو معمول کے مطابق ہوئی لیکن دوسری رپورٹ کے وقت وہ بیک وقت پُر جوش مگر تھکا تھکا نظر آرہا تھا۔ میں نے اس سے رائفل اور گولیوں کے راؤنڈ واپس لے کر ان کا معائنہ کیا۔ پھر وہ بیرک میں واپس جانے کے لیے مڑ رہا تھا کہ اس نے اچانک کہا:
۔’’آج مجھے معلوم ہوا کہ میرا باپ زندگی بھر کس تجربے سے گزرتا رہا۔۔۔‘‘۔
۔’’تمھارا باپ۔۔۔؟‘‘۔
۔’’وہ بھی چوکیداری کرتا رہا ہے۔۔۔‘‘ وہ الجھے ہوئے لہجے میں بڑبڑایا۔
بڑی کوشش کرکے میں نے اپنی حیرت کو چھپایا اور یوں ظاہر کیا جیسے کوئی بات ہی نہیں ہوئی ہے۔ مجھے محسوس ہو گیا کہ اس معاملے میں کوئی راز ہے، اور سوچنے لگا کہ وہ کیا ہو سکتا ہے۔ اگلے چند روز اس کے لیے بہت دشوار تھے۔ ہم متواتر باتیں کرتے اور اس موضوع پر آنے سے کتراتے رہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ سیسے کی طرح بھاری اور لوہے کی طرح ٹھنڈے ، کسی بوجھ کو اٹھاتے اٹھاتے تھک گیا ہے، لیکن میں اسے اپنا راز کھولنے پر مجبور نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ایک روز ہمیں اوپر سے حکم موصول ہوا کہ دھات کے شناختی بلّے سب رنگروٹوں کو مہیا کر دیے جائیں۔ ان بلّوں کا مقصد یہ تھا کہ کسی رنگروٹ کے مارے جانے کی صورت میں اس کی شناخت ہو سکے۔ بلّوں کی تقسیم کے ساتھ ساتھ ’جنگ میں کام آنے کا فارم‘ بھی بھروایا گیا۔ اس فارم پر ہر رنگروٹ کو اپنے وارث کا نام بھرنا تھا تاکہ وہ مرنے کی صورت میں واجبات وصول کر سکے۔ جب عارف کو دھات کا بلّا دیا گیا تو وہ سخت تناؤ کے عالم میں اسے ہاتھ میں لے کر گھورنے لگا۔ پھر اس نے پوچھا کہ کس کام کے لیے ہے۔ افسر نے جواب دیا کہ ہر بلّے پر ہر سپاہی کا نام، شناختی نمبر اور خون کا گروپ کھدا ہوا ہے اور اسے گردن میں دھات کی زنجیر سے لٹکایا جاتا ہے۔ یہ شناخت کے لیے ہے، کیونکہ محاذِ جنگ پر سپاہی کے کام آجانے کی صورت میں اگر اس کی لاش جل کر کوئلہ بھی ہو جائے تو یہ بلّا سلامت رہتا ہے۔ یہ سپاہی کی شناخت میں مدد دیتا ہے۔
پھر ’جنگ میں کام آنے کا فارم‘ بھرنے کا مرحلہ آیا۔ عارف اس فارم کو پُر کرنے سے عجیب طور پر انکار کرتا رہا۔ اس نے وارث کا نام لکھے بغیر فارم پر دستخط کردیے تھے۔ جب افسر نے اس سے وضاحت طلب کی تو اس نے وضاحت کرنے سے انکار کر دیا۔
’’
اچھا تو کم از کم رشتہ ہی لکھ دو۔۔۔ ماں یا باپ یا بہن، کوئی بھی۔۔۔‘‘ افسر نے تجویز پیش کی۔ وہ اس پر بھی راضی نہ ہوا لیکن دو دِن کے بعد اس نے صرف دو الفاظ لکھنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ ’’قانونی وارث‘‘ سب نے فرض کر لیا کہ شاید عارف کے خاندان میں اندرونی جھگڑوں کے باعث وہ ایسا لکھ رہا ہے۔
مجھے اس بات کا شدید احساس ہو رہا تھا کہ عارف کوئی بڑی بات چھپا رہا ہے۔ مجھے اس بات کا اندازہ تو ہو رہا تھا مگر میں بڑی احتیاط سے چپ سادھے بیٹھا رہا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ عارف جو پہلے ی ایک دبدبا میں پھنسا ہوا تھا، کو مزید پریشان کروں۔ آخر ایک دن عارف نے خود ہی سب بوجھ اتار پھینکا۔ اس نے مجھ سے یہ باتیں کیں:۔

’’مجھے نمبردار کے بیٹے کی جگہ فوجی خدمت کے لیے بھیجا گیا تاکہ میرا خاندان محفوظ رہ سکے۔۔۔ بلکہ میرے گھر والوں نے خود اصرار کر کے مجھے بھیجا۔ میں بھرتی ہو گیا لیکن عجیب بات ہے کہ ان کو اس کا معاوضہ ابھی تک نہیں ملا ہے۔ میں دوبار چھٹی پر گھر گیا اور ہر شخص کو بتا دیا کہ فوج میں باقاعدہ ملازمت کروں گا کیوں کہ میں نے جان لیا ہے کہ میں اپنی تعلیم مکمل نہیں کر سکتا۔ میں فوج کے شام کے سکول میں پڑھ سکتا ہوں۔ ایک بار اعلیٰ تعلیم حاصل کر لینے کے بعد مجھے ترقی پر ترقی پانے سے کوئی نہیں روک سکتا‘‘۔
’’
میرے فوج میں بھرتی ہو جانے کے بعد نمبردار نے میرے باپ کو زمین نہیں دی۔ پہلے اس نے یہ زمین عدالت کے فیصلے کے تحت اس سے واپس لے لی۔ پھر اس کا کچھ حصہ بٹائی پر کاشت کے لیے اس کے سپرد کر دیا۔اس نے اس بندوبست کے سلسلے میں کسی قسم کا باقاعدہ معاہدہ کرے سے صاف انکار کر دیا۔ مجھے نمبردار کے برتاؤ پر سخت غصہ آیا۔ میں اس سے مل کر احتجاج کرنا چاہتا تھا لیکن میرے باپ نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔۔۔ میں کمانڈنٹ سے ملاقات کر کے اسے سب کچھ بتادوں گا‘‘۔
۔’’۔۔۔ لیکن اس پوری سازش میں تم خود بھی تو شریک ہو اور وہ لوگ تمھیں اس کی سزا دیں گے۔‘‘ میں نے اعتراض کیا۔
۔’’اگر میں نے پوری بات ظاہر نہ کی تو مجھے کبھی سکون نہیں ملے گا‘‘۔
۔’’لیکن تمھارے گھر والوں کے مستقبل کا کیا ہو گا۔۔۔؟‘‘۔
۔’’ہم نئے سرے سے زندگی شروع کریں گے اور میں مرتے دم تک ان کا خیال رکھوں گا۔۔۔‘‘۔
۔’’کیا تمھیں نمبردار سے اور گاؤں میں اس کی طاقت سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔؟‘‘ میں نے پوچھا۔
وہ کچھ ہچکچایا، پھر بولا، ’’ڈر اور احتیاط سب جہنم میں جائیں!‘‘ وہ اچانک بہت سنجیدہ دکھائی دینے لگا۔
۔’’آج کے بعد میں کسی سے نہیں ڈروں گا‘‘۔
مجھے خوشی ہے کہ عارف نے مجھ سے بات کی، مگر اس کی ایک بات نے مجھے چونکا دیا ۔۔۔ ’’ذرا سوچو کہ اگر میں مر جاؤں تو کیا ہو گا؟‘‘۔

عارف نے کمانڈنٹ سے تنہائی میں ملاقات کی درخواست دے دی۔ یہ ملاقات ایک دو روز نہ ہو سکی کیونکہ کمانڈنٹ کو کسی اہم اجلاس کے لیے ہیڈ کوارٹر بلوایا گیا تھا۔ تیسرے روز کمانڈنٹ واپس آیا۔ اس نے فوراً عارف کو ملاقات کے لیے بلوا لیا۔ کمانڈنٹ سے ملنے کے لیے جاتے وقت عارف بہت زیادہ پریشان نہیں معلوم ہو رہا تھا۔ وہ چند منٹ کی ملاقات کے بعد واپس لوٹ آیا۔ وہ بڑا خوش دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے مجھے ملاقات کی کوئی تفصیل نہ بتائی۔ وہ سیدھا بیرک کی طرف چلا گیا تاکہ اپنا سامان لے سکے۔ وہ مجھے بڑا مصروف اور عجلت میں معلوم ہو رہا تھا۔ آخر میں نے اس کا بازو پکڑ لیا اور اس سے عجلت کی وجہ دریافت کی۔ وہ کہنے لگا:
۔’’میں محاذ پر جارہا ہوں۔۔۔‘‘۔
۔’’ہوا کیا؟‘‘۔
۔’’کچھ نہیں، میں نے شکایت درج کرانے کی بجائے محاذ پر بھیجے جانے کی درخواست کی، کسی بھی حیثیت سے ، جلد سے جلد۔۔۔‘‘۔
۔’اور اس مشکل کا کیا بنا، جس کا تم نے مجھ سے ذکر کیا تھا؟‘‘۔
۔’’تمام مشکلیں کچھ دنوں کے لیے ملتوی کی جا سکتی ہیں۔۔۔‘‘۔

عارف کی باتوں سے کئی سوال بے جواب رہ گئے۔ کیا وہ واقعی محاذ جنگ پر جا کر جان دے دینے کا خواہش مند تھا؟ وہ کس جذبے کے تحت محاذ پر جارہا تھا؟ کیا یہ احتجاج کا اظہار تھا یا جان بوجھ کر، دی جانے والی قربانی۔۔۔ ! میں اپنی پوری زندگی میں عارف جیسے کسی نوجوان سے نہیں ملا۔ ہم فوجیوں میں سے اکثر کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی جوڑ توڑ سے محاذ پر جانے کے معاملے کو ٹال دیا جائے۔
محاذ پر جب کمانڈر نے حملہ کرنے والی ٹولی کا انتخاب کیا تو عارف ان میں سب سے آگے تھا۔ اس نے بڑی جرأت سے کمانڈر سے کہا کہ وہ لڑائی میں شامل ہونے والا پہلا شخص ہونا چاہتا ہے۔ کمانڈر اس بات پر خوش ہوا اور اس نے فہرست میں سب سے اوپر عارف کا نام لکھ دیا۔
میں نے عارف کو آخری بار اس وقت دیکھا جب حملہ کرنے والی ٹولی کا انتخاب ہو چکا تھا۔ اس ٹولی کا لیڈر عارف تھا۔ جب وہ اپنی ٹولی کے ساتھ رخصت ہوا تو مجھے یاد ہے، سردی کے باوجود اس کی پیشانی پر پسینے کے چند قطرے چمک رہے تھے۔ اس کے پندرہ روز بعد میں نے عارف کو اس رات، نصف شب سے کچھ پہلے دیکھا تھا۔ عارف کو ایک سٹریچر پر لایا گیا۔ اس کی گردن پر گولے کا تیز دھار ٹکڑا لگا تھا۔ پیٹ میں بھی زخم آیا تھا اور بایاں پیر چکناچور ہو چکا تھا۔ جب وہ ہمارے پاس لایا گیا تو اس وقت قریباً بے ہوش تھا۔ اس کے جسم کا بہت سا خون ضائع ہو چکا تھا اور زخم میں زہر پھیلنے لگا تھا۔
جس لمحے اسے ہسپتال پہنچایا گیا ، میں نے اپنا کام جہاں کا تہاں چھوڑ دیا۔ میں نے اس کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں کے چہرے دیکھ کر جان لیا کہ اس کے بچنے کی امید نہیں ہے۔ مگر ڈاکٹر بدستور اسے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ میں اس کے ہذیانی بخار کے دوران اس کے سرہانے بیٹھا رہا۔ اس کیفیت میں وہ صرف ایک بات کی تکرار کرتا رہا کہ میں جا کر اس کے گھر والوں سے ملوں اور انھیں انصاف دلواؤں۔ اس نے مجھے تاکید کی کہ میں سب کو بتا دوں کہ اس نے عارف کی حیثیت سے جان دی، نمبردار کے بیٹے کے طور پر نہیں۔

کاش ہم اسے محاذ پر کیمپ ہسپتال سے کسی اچھے ضلعی ہسپتال میں منتقل کر پاتے۔ رات کے بیشتر حصے میں اس پر ہذیان طاری رہا۔ اسی دوران حکم ملا کہ میں ضلعی صدر مقام جا کر مرکزی ڈپو سے دواؤں کا ذخیرہ لے آؤں۔ میں نے سوچا کہ کوئی عذر کر کے جانے کا معاملہ ٹال دوں تاکہ عارف کے ساتھ رہ سکوں۔ میں بددلی سے تیاری میں مصروف ہو گیا۔ اسی شام مجھے خبر ملی کہ عارف تیزی سے مر رہا ہے۔ میں خیمے کی طرف بھاگا۔ سب کچھ چند منٹ کے اندر اندر ہو گیا۔ میں نے اس کی ٹانگیں سیدھی کیں، بازو پہلو میں رکھے اور آنکھیں بند کر دیں۔ جب کمانڈر کو اطلاع دی گئی تو اس نے ہمیں لاش کو بھی اپنے ساتھ لے جانے اور عارف کی تدفین کے لیے اس کے گاؤں پہنچانے کی ہدایت کی۔ میں نے جلدی جلدی میّت کو تیار کیا اور لڑائی میں کام آنے کی تفصیلات قلم بند کیں۔
ہم اگلے دن شام کے وقت ضلعی صدر مقام پہنچ گئے۔ ہم ہسپتال پہنچے۔ ہسپتال کے پچھلے دروازے سے ہم عارف کا تابوت پوسٹ ماٹم کے لیے اندر لے گئے۔ اس کا تابوت کھولا۔ بلیک آؤٹ کی وجہ سے ہم اندھیرے میں ٹٹول رہے تھے اور میں عارف کے چہرے کے نقوش کو محسوس نہ کرسکا۔ لاش کے ارد گرد برف کے ٹکڑے بھر دیے گئے۔
مجھے بتایا گیا کہ دواؤں کا ذخیرہ پہلے ہی روانہ کیا جا چکا ہے اور اگلا ذخیرہ تین دن کے بعد بھیجا جائے گا۔ چنانچہ میرے پاس اتنا وقت تھا کہ میں اپنے عزیز دوست کے ساتھ اس کے گاؤں جا سکوں۔ میں عارف کے گھر والوں سے ملنے کے لیے بے تاب تھا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں انھیں پہلے سے جانتا ہوں۔ جب میں اس کے باپ سے سچ مچ ملا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں اسے دوسری بار مل رہا ہوں۔۔۔ ایک بار عارف کی باتوں میں اور دوسری بار اب۔ میں نہیں جانتا کہ اس کی ماں مجھے اپنی ماں کیوں لگ رہی تھی۔ جب وہ بولی تو اس کے الفاظ آنسوؤں میں گندھے ہوئے تھے۔ ہر لفظ اس کی آنکھ سے ایک آنسو اور اس کے غمزدہ دل سے ایک سسکی کھینچ لاتا تھا۔ وہ میرے سامنے آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھی مگر اس کے کرچی کرچی دل سے سسکیاں یوں نکل رہی تھیں جیسے کونجیں کُرلا رہی ہوں۔ وہ آنسو پینے کی کوشش کر رہی تھی اور اسی کوشش میں اس کا چہرہ تن گیا کہ اس سے اس کا رنج بالکل صاف جھلکنے لگا۔

میں نمبردار کی حویلی کے باہر بیٹھا تھا۔ میرا دل پگھل رہا تھا اور میرا دل چاہتا تھا کہ میں دھاڑیں مار مار کر رولوں۔ سب کو بتادوں کہ عارف مر گیا ہے۔۔۔نمبردار کا نہیں، چوکیدار کا بیٹا عارف۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *