عارف کی کہانی، چوکیدار کی زبانی۔3

سبطِ حسن

photos-of-pakistani-villages-farmers-relaxing-and-smoking-huqqa-pictures-of-pakistani-villages-pakistani-village-life

مجھے یاد ہے کہ یہ کہانی دروازے پر ہونے والی دستک سے شروع ہوئی۔ جب دستک ہوئی تو اس وقت رات کا پہلا پہر تھا اور میں نمبردار کے گوداموں کی چوکیداری کا کام ختم کرکے کھانے کے لیے ابھی ابھی گھر لوٹا تھا۔ لوگ اس وقت جاگ رہے تھے۔ اس کام سے پہلے میں ضلع میں چوکیدارکی ملازمت کیا کرتا تھا۔ ایک دن مجھے چٹھی ملی۔ اس چٹھی کے مطابق مجھے جبری طور پر ریٹائرڈ کر دیا گیا۔

ریٹائرڈ ہونے کے بعد میری آمدنی بھی اچانک کم ہو گئی۔ پہلے مجھے تقریباً تین ہزار روپے مل جایا کرتے تھے۔ اب یہ رقم کم ہو کر اٹھارہ سوروپے رہ گئی۔ اس کمی سے ہماری زندگی کا سب کچھ بدل گیا۔ میں کیا خرید سکتا ہوں اور کیا نہیں، بس سارا دن اسی گومگوں میں لگا رہتا۔ دکاندار نے اب مجھے ادھار دینا بند کر دیا تھا۔ اب سارا دن اپنے کھیت پر گزارنے لگا ہوں، چاہے کوئی کام ہو یا نہ ہو۔ میں تو رات کو بھی وہیں سو جاتا، لیکن گھر اور کھیت پر الگ الگ کھانا پکانا مہنگا پڑتا تھا، اس لیے چاہے کتنی بھی دیر ہو جائے، میں کھانا گھر آکر ہی کھاتا ہوں۔

جاڑے کے ایک دن میں نمبردار کی حویلی کے پاس سورج کی نرم اور گرم دھوپ میں بیٹھا تھا۔ نمبردار کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے میری اور بچوں کی خیریت دریافت کی۔ جب اسے میرے حالات کی خرابی کا اندازہ ہوا تو اس نے مجھے اپنے گوداموں اور باغ کی چوکیداری پر رکھ لیا۔ اگلے دن سے میں نے اپنا نیا کام سنبھال لیا۔ میں نمبردار کے گھر والوں کے لیے اجنبی نہ تھا تاہم اب میری حیثیت ان کے ملازم سی تھی۔ اجرت کے سلسلے میں ہمارے درمیان کوئی بات چیت نہ ہوئی تھی۔۔۔ بس میں نے نمبردار کے کہنے پر کام شروع کر دیا تھا۔ نمبردار کی چھوٹی بیوی میرا بڑا خیال رکھتی تھی۔ وہ ناشتا، کھانا اور چائے وغیرہ بھجوا دیتی تھی۔

اس رات جب میرا بیٹا گھر پہنچا تو اس کے چہرے پر ایسی تشویش تھی جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ میرے بیٹے کا نام عارف ہے۔ وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے، پانچ بہنوں کا اکیلا بھائی۔ وہ پڑھا لکھا ہے۔۔۔ گاؤں کے مڈل اسکول سے اس نے امتحان پاس کر رکھا ہے۔ وہ اس سے آگے نہیں پڑھ سکا کیونکہ میں اسے شہر میں تعلیم کے لیے نہیں بھجواسکتا ۔ یہ خرچہ میرے بس سے باہر ہے۔ عارف حالات کی تنگی کے باوجود مزید پڑھنا چاہتا ہے۔ وہ اب بھی ضلعی صدر مقام جا کر بڑے سکول میں پڑھنے والے لڑکوں سے روزانہ سبق لیتا ہے۔

جب وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کے چہرے سے پریشانی عیاں تھی۔ میں نے اس سے پریشانی کی وجہ پوچھی۔ وہ کہنے لگا۔

۔’’آج ایک عدالتی حکم جاری ہوا ہے، جس کے تحت وہ زمین جو زرعی اصلاحات کے نتیجے میں کسانوں میں بانٹ دی گئی تھی، نمبردار کو واپس مل گئی ہے۔‘‘ عارف نے یہ بھی بتایا کہ نمبردار کے ہاں جشن چل رہا ہے اور نمبردار ارد گرد بیٹھے لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی زمین کا ایک ایک چپہ کسانوں سے واپس لے لے گا۔ وہ اب خود کاشت کرے گا۔ یہ سن کر میرے پاؤں کے نیچے سے زمین غائب ہونے لگی مگر عارف کے سامنے اپنا خوف ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں نے عارف کو حوصلہ دینے کے لیے اس سے کہا کہ ہم سے ہماری زمین کوئی نہیں لے سکتا۔ میں حیران تھا کہ عدالت نے کسانوں کی بات سنے بغیر ان کی بے دخلی کا فیصلہ کیسے کر دیا۔ میں دل ہی دل میں عدالت کے فیصلے کے خلاف تمام کسانوں کی مشترکہ اپیل کے بارے میں سو چنے لگا۔

تیسرے دن ایک پولیس افسر، تین سپاہیوں کے ساتھ ہمارے گاؤں میں آیا۔ پولیس والوں کی اس طرح اچانک آمد پر ہم گاؤں والے ہمیشہ ڈر جاتے ہیں۔ پولیس افسر نے ان تمام کسانوں کو طلب کیا جو ان زمینوں پر کام کرتے تھے جو نمبردار کو لوٹائی جانی تھیں۔ جب ہم سب کسان جمع ہو گئے تو ہمیں نمبردار کی حویلی کے اندر کھلے میدان میں لایا گیا۔ پولیس افسر نے ہمیں بتایا کہ عدالت کے حکم کے مطابق جس زمین پر ہم کھیتی باڑی کرتے ہیں، وہ نمبردار کو لوٹائی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زمین اصلاحات سے پہلے نمبردار کی ہی تھی۔ اس نے سمجھانے کے انداز میں دھمکی دی کہ اگر ہم خوشی خوشی زمین واپس کر دیں تو یہ بہت اچھی بات ہو گی۔ دوسری صورت میں طاقت کا استعمال کیا جائے گا جو ایسی اچھی بات نہ ہو گی۔ ہم میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر پولیس افسر سے پوچھا:۔

’’ہمارا اور ہمارے بال بچوں کا کیا ہو گا۔۔۔؟‘‘
افسر نے جواب دیا، ’’اﷲ سب کا مالک اور رازق ہے۔ وہ خودبخود بندوبست کر دے گا۔ تمھیں نمبردار پر بھی بھروسہ کرنا چاہیے۔ وہ اچھا انسان ہے۔۔۔‘‘۔
ایک کسان نے کہا، ’’یہ سراسر ظلم ہے۔۔۔‘‘۔
پولیس افسر نے جواب دیا، ’’یہ عدالتی حکم ہے اور اس کا نافذ کیا جانا لازمی ہے۔ رہا یہ سوال کہ یہ حکم ظلم ہے یا انصاف، تم بڑی عدالت میں اپیل کر سکتے ہو‘‘۔
پولیس افسر سے ملاقات دوپہر کے وقت ہوئی تھی۔ اس وقت عارف کھیتوں پر تھا۔ میں نے اﷲ کا شکر ادا کیا کہ وہ اس ملاقات میں موجود نہ تھا۔ اگر وہ یہاں ہوتا تو وہ پولیس افسر کے گلے پڑ جاتا۔ میں شام ہونے تک غم میں پریشان اِدھر اُدھر بھٹکتا رہا۔ میری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کروں۔ آخر خود کو سمجھایا کہ جو کچھ دوسروں پر بیتے گی وہی مجھ پر بیتے گی۔ میں نمبردار کا ذاتی ملازم تھا ، ہو سکتا ہے کہ وہ مجھ سے زمین نہ چھینے۔

اس رات جب دستک ہوئی۔ اس وقت دروازے کے ساتھ لگا، ہمارا کتا سو رہا تھا۔ کتا چونک کر جاگا اور زور زور سے بھونکنے لگا۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ باہر نمبردار کا منشی کھڑا تھا۔ اس نے مجھے فوری طور پر نمبردار کے پاس چلے آنے کا کہا۔ جب میں نمبردار کی حویلی میں آیا تو دیکھا نمبردار ایک طرف اکیلا بیٹھا تھا۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ تھوڑی دیر میں مجھے چائے کا کپ پیش کیا گیا۔ مجھے یہ سب کچھ عجیب اور اَن ہونا سا لگ رہا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ آج جو کچھ ہونے والا ہے، وہ پہلے کبھی نہ ہوا ہو گا۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

اتنے میں نمبردار نے بات شروع کی: ’’تم دوسرے گاؤں والوں کی طرح نہیں ہو، اس لیے تمھیں آج رات یہاں بلوایا ہے۔۔۔ایک چھوٹا سا کام ہے۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے کہ تم یہ کام کر دو گے۔۔۔‘‘ پریشان تو پہلے ہی تھا، یہ سن کر میں بوکھلا اٹھا۔ وہ عجیب طرح کی گول مول باتیں کررہا تھا۔ عجیب اس لیے کہ ہمیں تو صرف حکم سننے کی عادت تھی۔ وہ ہاتھ سے بھی اشارہ کر دیتا تو ہم اس کا حکم بجا لانے کے لیے دوڑ پڑتے۔ پھر مجھے انہونی سی خوشی محسوس ہونے لگی۔ میں نے سوچا کہ شاید حکومت نے زمین لوٹانے کا حکم منسوخ کر دیا ہو۔

نمبردار نے اچانک اپنا ہاتھ میری کمر پر رکھا۔ اس کے نرم و نازک ہاتھ، مجھے لگا کہیں میری کمر کے کیلوں جیسے ابھرے مہروں سے زخمی نہ ہو جائیں یا یہ کہ میری میلی کچیلی قمیص سے گندے نہ ہو جائیں۔ نمبردار نے اپنے لباس کو اپنے زانوؤں پر درست کیا اور وہ تھوڑا سا کھانسا۔ اس وقت تک منشی نے ارد گرد کام کرتے ملازموں کو حویلی سے باہر نکال دیا۔ آخر نمبردار نے بات شروع کی۔ اس نے زمین کی بابت میرا ارادہ جاننا چاہا۔ میں نے اسے بتایا کہ ہم کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکے کہ کیا کیا جائے۔

۔ ’’ہم‘‘ کے لفظ نے اسے چونکا دیا اور وہ بولا، ’’یہ ہم کون ہے؟‘‘ میں نے اسے بتایا کہ ہم وہ کسان ہیں جنھیں زمین سے بیدخل کیا جا رہا ہے۔ نمبردار کو میرے حساب سے غصہ آجانا چاہیے تھا۔ مگر خلاف توقع وہ ہنسا اور کہنے لگا،’’دوسروں کی بات چھوڑو۔ تمھارا معاملہ میرے لیے خاص ہے۔‘‘ پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا، ’’تمھارے معاملے کو خاص معاملہ سمجھتا ہوں، صرف تم پر مہربانی کرنے کے لیے نہیں، بلکہ مجھے تم سے ایک کام لینا ہے۔

میں تم سے جو طلب کر رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ عارف، میرے سب سے چھوٹے بیٹے کی جگہ ایک معمولی سا کام کر دے۔ وہ میری سب سے چھوٹی بیوی کا بیٹا ہے، وہی جو تمھیں چائے اور کھانا بھجواتی تھی۔ تم اسے اپنی بیٹی کی طرح عزیز جانتے ہو۔ اگر عارف یہ کام کر دے تو بہت اچھا ہو گا۔۔۔‘‘ اب منشی بھی بات چیت میں شامل ہو گیا۔ اس نے کام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں عارف کو اس کام کے لیے انھیں سونپ دوں اور اس کے بدلے میں مجھے معاوضہ مل جائے گا۔ وہ دونوں بولتے رہے مگر مجھے کافی دیر گزرنے کے بعد بھی کام کی نوعیت کا اندازہ نہ ہو سکا۔ آخر منشی کہنے لگا:۔

’’عارف سے ہم چاہتے ہیں کہ وہ نمبردار کے چھوٹے بیٹے کی جگہ ضلع انتظامیہ کے دفتر جا کر کچھ کاغذات حاصل کر لے۔ نمبردار، عارف کو آنے جانے کا کرایہ بھی دے گا۔۔۔‘‘ میرے ذہن میں مسلسل ایک سوال بھڑّ کی طرح چکر لگارہا تھا۔۔۔ جس کام کے لیے عارف کو بھیجنا مقصود ہے، وہ کام خود نمبردار کا بیٹا کیوں نہیں کر لیتا۔ منشی کو شاید اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا۔ کہنے لگا:۔

’’عارف کو نمبردار کا بیٹا بن کر، بھرتی کے دفتر میں کاغذات جمع کروانے ہوں گے۔۔۔!‘‘
یہ سن کر میں سارے معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔ میرے دماغ میں چکر لگانے والا بھڑ اب مسلسل کاٹنے لگا۔ منشی مسلسل بول رہا تھا:۔

’’دو دن پہلے نمبردار صاحب کے بیٹے کے نام، جو عارف کا ہم عمر ہے، فوجی خدمت کے لیے حاضری کا حکم نامہ موصول ہوا۔ نمبردار صاحب نہیں چاہتے کہ ان کا بیٹا فوجی خدمت انجام دے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کا خاندان، اپنے بیٹے کی جدائی میں غم زدہ ہو۔ آخر انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس کی جگہ کسی اور کو بھیج دیا جائے۔۔۔ عارف بھی اپنا ہی بیٹا ہے۔۔۔ تم جو مانگو گے تمھیں مل سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم اپنے بیٹے کو اس بات کے لیے راضی کر لو۔۔۔ تم کیا کہتے ہو۔۔۔؟‘‘ گہری خاموشی چھا گئی۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ میرا دماغ جیسے شل ہو چکا تھا۔ میں نے کہا، ’’میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ آپ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہو۔۔۔؟‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ نمبردار کے چہرے پر غصے کا ایک نشان ابھرا مگر منشی نے نمبردار کو اپنے آپ پر قابو رکھنے کی صلاح دی۔

’’اگر تم کسی سے مشورہ مانگنے کا سوچ رہے ہو، تو اسے بھول جاؤ۔ یہ نمبردار صاحب کے لیے بہت خطرناک ہو گا۔ہم تم سے ہاں یا ناں میں جواب مانگ رہے ہیں اور دونوں صورتوں میں یہ بات راز میں رہے گی۔۔۔‘‘ منشی نے کہا۔
’’
مگر مجھے عارف سے پوچھنا ہی ہو گا۔۔۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’
عارف کو ساری بات بتانے کی کیا ضرورت ہے، آہستہ آہستہ وہ سارا معاملہ سمجھ جائے گا۔ ‘‘منشی نے کہا۔
’’
اگر مجھے کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دیا جائے تو میں کچھ سوچ بچار کر لوں۔۔۔‘‘ میں نے کہا۔
انھوں نے پہلے حویلی میں ہی رہنے کی تجویز دی مگر میرے اصرار پر مجھے گھر جانے کی اجازت دے دی۔ جب میں جانے کے لیے اٹھا تو نمبردار نے میرا بازو تھام لیا۔ کہنے لگا:۔
’’
دنیا لین دین پر ہی چلتی ہے اور آدمی جو کام کرتا ہے ، اسے اس کا معاوضہ ملتا ہے۔ لیکن تم راضی ہو یا نہ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ میں دونوں صورتوں میں تمھیں معاوضہ دوں گا۔ اب یہ تمھارے ضمیر پر ہے کہ تم ہاں کہتے ہو یا ناں۔۔۔ تمھیں زرعی اصلاحات کے محکمے سے کتنی زمین ملی تھی۔۔۔؟‘‘
’’
تین ایکڑ۔۔۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’
عارف اگر میرے بیٹے کی جگہ پر (میرا بیٹا بن کر) فوجی عدالت کے لیے جاتا ہے تو ایک طرح سے وہ میرا خون ہی ٹھہرا۔ اس لحاظ سے میرے اور اس کے خاندان کا خون ایک ہو گیا۔‘‘نمبردار نے کہا۔

اس خوشامدانہ جھوٹ پر میں اندر ہی اندر ہنس پڑا۔ مجھے بچپن سے ہی معلوم ہے کہ نمبردار کے خون کا رنگ نیلا ہے۔ اس کا خون ہم جیسے لوگوں کے گاڑھے سرخ خون جیسا نہیں۔
’’
کچھ بھی ہو جائے، تمھیں زمین سے کبھی بے دخل نہیں کیا جائے گا۔۔۔‘‘ نمبردار نے بار بار یہ بات کی۔ اس نے قرآن اٹھانے کا بھی کہا مگر میں نے اسے قرآن پر قسم اٹھانے سے باز رکھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *