معلومات ، مہارتوں اور رویوں پر مشتمل سماجی سیاست

سبطِ حسن

532d3afc8e2e7

کریکلم کیا ہے؟ تیسرا و آخری حصہ


معلومات، مہارتیں اور رویے جب باہم مل جائیں تو ان سب کو سیکھنے والا بچہ اپنے ارد گرد کی زندگی سے منسلک ہو جاتا ہے۔ جب زندگی سے منسلک ہو جائے تو وہ زندگی پر سوال اٹھائے گا۔ مثال کے طور پر جو بچہ پودوں کے بارے میں ان تینوں عناصر کو سیکھ جائے گا تو وہ کسی کو پودوں کو کاٹتے دیکھ کر ایسے ہی بیٹھا نہ رہے گا۔ اسے تکلیف ہو گی اور وہ پودوں کی حفاظت کے سلسلے میں احتجاج کرے گا۔ جب مفاد پرست لوگ جنگلات سے درخت کاٹیں گے تو اس پر ان تین عناصر پر تربیت یافتہ بچے احتجاج کریں گے کیونکہ وہ درخت کاٹنے کے اثرات کو بخوبی سمجھتے ہوں گے۔

ان تین عناصر پر مبنی تعلیم و تربیت محض ایک دفعہ رونما ہونے والا عمل نہیں، یہ اپنے اندر مسلسل نشوونما اور ارتقأ کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس طرح بچہ اپنے طور پر سیکھتا چلا جاتا ہے۔

اگر سیکھنے کے عمل کو صرف معلومات کو یاد کروانے تک محدود کر دیا جائے تو ایسی صورت میں سرے سے سیکھنے کا عمل شروع ہی نہیں ہوتا۔ بچہ معلومات کو یاد کرنے کے بعد امتحان میں اُگل دیتا ہے اور پھر ان معلومات کو بھول جاتا ہے۔ اگر معلومات کو سمجھا دیا جائے اور اس کے بعد سیکھنے کے اعلیٰ مدارج یعنی معلومات کے اطلاق ، تجزیہ اور تخلیق تک لے جایا جائے مگر مہارتوں اور رویوں سے اسے بے گانہ رکھا جائے تو پھر بھی زندگی سے عاری ایسا مزاج پیدا ہو گا جس کے پاس علم تو ہو گا مگر وہ اسے زندگی کے ساتھ منسلک نہیں کر سکے گا۔ 

جیساکہ اوپر پودوں سے متعلق مثال سے ظاہر ہوتا ہے، اگر بچوں کو صرف معلومات دے دی جائیں تو کیا وہ ایک ہرے بھرے ماحول کو بنانے میں ممد ہوں گے۔ اسی طرح اگر معلومات کے مدارج کو سیکھنے کی مہارتوں سے منسلک کر دیا جائے تو اعلیٰ علم تو پیدا ہو گا۔ اس علم کا مادی دنیا سے تعلق بھی قائم ہو جائے گا۔ جیساکہ پودوں کی مثال سے ظاہرہوتا ہے۔۔۔ بچے معلومات اور مہارتیں سیکھ کر پودوں کی افادیت اور ان کو اگانے کے معاملات کو بخوبی سمجھ جائیں گے مگر اس صورتحال میں اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ پودے نشوونما پائیں گے کیونکہ جب تک پودوں کے تحفظ اور ان سے پیار کا رویہ نہ ہوگا، پودے پھول پھل نہیں پائیں گے۔ یہ اسی طرح ہے کہ کسی عورت کو بچے کی نشوونما سے متعلق معلومات حاصل ہیں، وہ بچے کو سنبھالنے کی مہارتیں بھی جانتی ہے مگر اس میں ممتا کے رویے نہیں تو بچہ پل نہیں سکے گا۔ بچے کی وقت اور بے وقت ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ممتا ہونا لازم ہے۔

صرف معلومات اور مہارتوں کے حصول کے بعد ایک ماہر پیشہ ور سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر یا مینجر تو ضرور بن سکتا ہے مگر وہ انسانوں میں کام کرنے کا اہل نہ ہو گا۔ جب تک اس میں انسانی احساس سے متعلق رویے نہ ہوں گے، وہ انسانوں کے لیے آسانیوں پیدا کرنے سے قاصر رہے گا۔

سیکھنے کے تین عناصر اور ان کے مدارج
سیکھنے کے عمل کو مربوط بنانے کے لیے، سیکھنے سکھانے سے متعلق کام کرنے والے اور دانشوروں نے مل بیٹھ کر بات چیت کی اور جو نتائج نکالے ان کو 1956ء میں ایک کتاب کی صورت میں شائع کیا گیا۔ چونکہ اس سرگرمی کی قیادت بینجمن بلوم کر رہے تھے، اس لیے سیکھنے کے اس عمل کو انھی کے نام پر پیش کیا گیا ۔ بعد ازاں وقت کی ضروریات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے اس عمل پر 2001ء میں نظرثانی کی گئی۔ اسی نظر ثانی شدہ عمل کو یہاں پیش کیا جاتا ہے۔

 (Cognitive Domain)جاننے اور سمجھنے کی قلمرو 

 (Remebering)۔1۔ یاد رکھنا
حافظے میں محفوظ معلومات کی پہچان کرنا یا انھیں یاد کرنا۔ جیسے حافظے میں محفوظ کسی بات کی تعریف ، کسی بات سے متعلق حقائق کو بیان کرنا، ان کی فہرست بنانا، انھیں پڑھنا یا حافظے کی گہرائیوں سے نکال کر پیش کرنا۔

 (Understanding) ۔2۔ سمجھنا
مختلف طریقوں کی مدد سے دیے گئے مواد سے معانی استوار کرنا یہ طریقے، زبانی، تحریری یا تصویری صورتوں میں ہو سکتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں سمجھنے کے بغیر ممکن نہیں جیسے تاویل کرنا ، مثالوں سے وضاحت کرنا ، مختلف خصوصیات کی بنیاد پر گروہ بندی کرنا ، کسی صورتحال ، معاملے یا کیفیت کو مختصر نویسی ، نتیجہ اخذ کرنا یا تقابل کرنا ۔

  ( Applying) ۔3۔ اطلاق کرنا
پہلے سے سیکھے ہوئے مواد کو کسی کارروائی یا طریق عمل میں استعمال کرنا یا نئے سرے سے کسی کارروائی یا طریق عمل کو بنانا۔ درج ذیل امور کی تیاری میں سیکھے ہوئے مواد کا حوالہ دینا یا اس کا اطلاق کرنا، مثلاً کوئی ماڈل ، کسی مضمون کی پریزنٹیشن ، انٹرویو یا تربیت یا مشق کے لیے نقلی عمل کرنا۔

  (Analyzing) ۔4۔ تجزیہ کرنا
کسی بھی تصور، تعلیمی مواد یا مواد کو اس کے اجزأ میں تقسیم کرنا۔ یہ جاننے کے لیے تقسیم کرنا کہ اجزأ کے مابین کیا تعلق ہے، وہ کسی طرح مجموعی طور پر بننے والی شکل یا کیفیت کو بنانے میں معاون بنتے ہیں۔ ایسا کرتے وقت جو ذہنی طریق عمل ممدومعاون ہوتے ہیں ان میں امتیاز و تفریق کرنا ، تربیت دینا ، نسبت دینا شامل ہیں۔ یہ بھی کہ اجزأ اور کلیت کے درمیان تفریق کرنے کے قابل ہونا۔ یہ بھی کہ تجزیہ کرتے وقت جو ذہنی سمجھ بوجھ کا طریق چل رہا ہو، اس کو تقابلی میزانیے، سروے، چارٹ، ڈایا گرام یا گرافکس میں ظاہر کرنا۔

 (Evaluating) ۔5۔ جائزہ لینا
کسی پیمانے یا معیار کی بنیاد پر پڑتال کر کے یا نا قدانہ سرگرمیوں کے بعد محاکمہ دینا ۔ جائزہ لینے کے اس عمل کے نتیجے میں ناقدانہ رپورٹ، سفارشات اور جائزہ رپورٹ حاصل کی جا سکتی ہیں۔

  (Creating) ۔6۔ تخلیق کرنا۔
اجزأ کو یکجا کر کے منظم اور متحرک نظام تخلیق کرنا۔ مختلف اجزأ کو نئی ترتیب دے کر نیا ڈھانچہ یا اسلوب تیار کرنا۔ اس کے نتیجے میں ترسیل، منصوبہ بندی اور پیداوار کے نئے امکان پیدا ہوتے ہیں۔ ذہنی سمجھ بوجھ کے عمل میں تخلیق کرنے کا درجہ سب سے مشکل ہے۔

(Affective Domain) ۔۔ رویوں کی قلمرو
اس قلمرو میں رویوں سے متعلق درجات شامل ہیں۔ جیساکہ جذبات، احساسات، اقدار، حساس تفہیم یا ردّعمل ، جوش و ولولہ، مقاصد اور مختلف نوعیت کے رویے۔ ان کی آسان سے مشکل کی طرف ترتیب یہ ہے۔

  (Reveiving Phenomenon) ۔1۔ کسی معاملے کو وصول کرنا
آگاہی حاصل کرنے کے لیے توجہ دینا۔ دھیان سے کسی بات کو سننا۔ دوسروں کی رائے یا بات کی اہمیت دیتے ہوئے اسے غور سے سننا۔

 (Responding to Phenomenon) ۔2۔ کسی معاملے پر اپنی رائے یا ردعمل ظاہر کرنا
کسی کی بات یا رائے کو سننے کے بعد اس پر یا معنی تنقید یا ردّعمل دینا۔ اس ضمن میں بحث مباحثے میں حصہ لینا۔ ناقدانہ انداز میں سوال اٹھانا تاکہ کسی تصور کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

  (Valuing) ۔3۔ قدر کرنا
ہر اس فرد کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا جو کسی خیال، ایجاد، رویے یا چیز سے وابستہ ہو۔ اس طرح ان رویوں کے پیچھے موجزن اقدار کو سمجھنے اور ان کو ہمیشہ کے لیے اپنی شخصی رویوں کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایسے رویے باہمی میل جول میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
اس رویے کی عمومی مثال اس سے دی جا سکتی ہے کہ سب لوگوں کو برابری کی بنیاد پر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق ہے۔ اس طرح اختلاف رائے ایک بنیادی رویہ بن سکتا ہے۔ اختلاف رائے انفرادی سوچ یا ثقافتی تنوع کے باعث بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح بچہ مذہبی، فکری اور ثقافتی رنگارنگی کی وقعت کو اہمیت دے گا۔ اسی رنگارنگی کے باعث اٹھنے والے تنازعات اور اختلافات کو مذکورہ اقدار کے تناظر میں رکھتے ہوئے سب کو ساتھ لیتے ہوئے حل کرنا۔ جس بات کو بچہ درست اور اہم سمجھے، اس کو دلائل کے ساتھ پورے زور شور سے پیش کرنا۔

 (Organization & Values/Attitudes)۔4۔ رویوں یا اقدار کی تنظیم
تجربے میں آنے والی متصادم اقدار کو تنقیدی شعور کی بنیاد پر سمجھنا اور پھر جن اقدار یا رویوں کو بہتر سمجھا جائے ان کو تشکیل نو کرنا۔ اس بات کا مقصد یہ ہے کہ آزادی اور ذمے دارانہ رویوں کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔ ہر شخص اپنے کردار اور رویوں کی ذمے داری قبول کرے۔ زندگی میں در پیش مسائل کو حل کرنے کے لیے وسیع تر اور مربوط بندوبست کی اہلیت رکھتا ہو۔ پیشہ ورانہ معیار اور اس کے اخلاقی جواز کو سمجھتا ہو۔ سب سے اہم یہ کہ ہر شخص اپنے عقائد، قابلیتوں اور مفادات کے درمیان توازن پیدا کرنے کی اہلیت رکھتا ہو اور کسی کے ساتھ تصادم کی صورت پیدا کیے بغیر اپنی زندگی اچھے طریقے سے گزار سکے۔ 

  (Internalizing Values)۔5۔ اقدار کی قبولیت
اقدار کو اس طرح قبولیت مل جائے کہ وہ کسی کے شخصی کردار کی بنیاد کا کام کرنے لگیں۔ جب اقدار کو بہت گہرائی سے قبولیت مل جائے گی تو کردار میں استحکام آجائے گا اور اس کے بارے میں پورے یقین سے پیش گوئی کرنا ممکن ہو جائے گی۔ اس طرح شخصی رویوں میں پختگی کے باعث سماجی طور پر اعتبار کی فضا پیدا ہو جائے گی۔ ایسے فرد میں خود اعتمادی اور خود انحصاری ہو گی اور وہ کوئی بھی کام آزادانہ طور پر اور کسی گروہ میں خوش اسلوبی سے انجام دینے کا اہل ہو گا۔ ایسا شخص، تنگ نظری اور تنگ نظر خیالات کی بجائے وسیع تر آفاقی اقدار کی بنیاد پر مسائل کے حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر نئے حقائق سامنے آجائیں تو وہ شخص فوری طور پر اپنے خیالات اور رویوں کو تبدیل کر لیتا ہے۔ وہ لوگوں کی ان کے کا م کے حساب سے قدر کرتا ہے تاکہ یہ کہ وہ دیکھنے میں کیسے نظر آرہے ہیں۔ لوگ ایسے شخص کی شناخت اُس کی ظاہری رویوں کی بنیاد پر کرتے ہیں۔

اقدار اور رویے۔۔۔ تجریدی یا ٹھوس زندگی سے وابستہ
عام طور پر رویوں اور اقدار کو زندگی سے الگ تھلگ مجرد سطح پر کسی کے اچھا یا بُرا ہونے کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ اس میں مخصوص روایت اور روایت کے پردے کے پیچھے چھپے مخصوص سماجی مقاصد کو حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ’اچھا‘ بچہ وہ ہے جو خاموشی سے اپنے والدین کے جبر کو قبول کرتا رہے۔ بچے کو یہ بھی سمجھایا جاتا ہے کہ اگر وہ اس جبر کو قبول نہیں کرے گا تو وہ والدین کے ’پیار‘ سے محروم ہو جائے گا۔ صاف ظاہر ہے کہ بچہ کسی صورت والدین کے ’پیار‘ سے محروم نہیں ہونا چاہتا اور وہ خاموشی سے جبر سہتا رہتا ہے۔ اس طرح جو جبر بچے کے والدین نے اپنے بچپن میں سہا وہ ’اچھائی‘ کے نام پر بچے میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اگر بچے کو جیتا جاگتا انسان سمجھا جائے تو پھر اس کی حقیقی ضروریات کی طرف دھیان دیا جائے گا۔ اگر اسے ’اچھے بچے‘ کے تجریدی معیار پر پرکھا جائے گا تو پھر اسے روایتی ’اچھی تربیت‘ کے نام پر قربان کر دیا جائے گا۔
ہر رویے کا جیتی جاگتی زندگی اور جیتے جاگتے انسانوں پر اثر ہوتا ہے۔ کسی رویے یا قدر کو محض روایتی طور پر ’اچھا‘ سمجھتے ہوئے انسانوں پر نافذ کر دینا مناسب نہیں۔ ہر رویے کی ناقدانہ پرکھ لازم ہے۔

 (Psychomotor Domain)مہارتوں کی قلمرو
اس قلمرو میں جسمانی حرکات، جسمانی حرکات کے درمیان توازن اور حرکی مہارتیں شامل ہیں ان مہارتوں کو سیکھنے اور ان کی مہارت حاصل کرنے کے لیے مشق اور ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مہارت کا اندازہ ، کسی بھی ہنر کو ٹھیک طور پر کرنے، بغیر رکے کرنے اور تکنیکی طور پر ٹھیک کرنے سے ہوتا ہے۔

 (Perception Awareness)۔1۔ قوت ادراک
اپنی قوت ادراک کی مدد سے ارد گرد ہونے والے واقعات کا پیشگی اندازہ کرکے جسمانی حرکات کرنے کی اہلیت کو استعمال میں لانا۔ مثلاً کسی شخص کے چہرے سے اس کے ارادوں کو بھانپنا۔ کرکٹ کھیلتے ہوئے اگر آپ فیلڈنگ کر رہے ہیں تو بیسٹمین کی ہٹ کے بعد گیند کس طرف اور کس جگہ پر گرے گا۔ اس بات کا اندازہ کرنا اور اس جگہ پر دوڑ کر پوزیشن لینا تاکہ آپ اسے کیچ کر سکیں۔ کھانا پکاتے وقت آنچ کی ضرورت کے مطابق تیز یا آہستہ کرنا۔

  (Set)۔2۔ پیشگی رجحان
مختلف صورتحال میں کچھ کرنے کے لیے داخلی طور پر ارادہ یا تحریک محسوس کرنا۔ اس میں فکری و ذہنی ، جسمانی اور جذبات سے متعلق پیشگی رجحانات شامل ہیں۔ مثال کے طور پر کسی چیز کو بنانے کے عمل میں مختلف مرحلوں کو جاننا اور جہاں ضرورت ہو، اس مرحلے میں عملی مداخلت کرنا۔ کسی صورتحال میں اپنی ذہنی یا جسمانی اہلیت اور حدود کا اندازہ کرنا یا کوئی نیا عمل سیکھنے کی خواہش یا ارادہ ظاہر کرنا، اس کی مثالیں ہیں۔

 (Guided Response)۔3۔ کسی کی رہنمائی میں سیکھنا
کسی مشکل یا پیچیدہ عمل یا ہنر کو سیکھنے کے ابتدائی مرحلے پر کسی کی رہنمائی میں اس عمل یا ہنر کرتے وقت نقل کرنا یا غلطیوں سے سیکھنا۔ کسی عمل یا ہنر کو مہارت سے کرنے کے لیے مشق یا ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس درجے کی مہارتوں میں کوئی ماڈل بھی بنانا ہے جسے دی گئی ہدایات کے مطابق بنایا جا سکتا ہو۔ بچوں کو لکھنا سکھانے کے لیے ورک بکس بنائی جاتی ہیں جس میں نقطے لگے ہوتے ہیں تاکہ بچہ اُن کے اوپر لکھ کر لکھائی سیکھ سکے۔

 (Mechanism Basic Proficinecy) ۔4۔ کسی کام کو خوداعتمادی سے کرنا
جو مہارت یا طریقہ سیکھا گیا تھا،اُس کو صحیح طریقے سے کر سکنا ، مثلاً کمپیوٹر یا گاڑی چلانا۔

 (Complex Overt Response Expert)۔5۔ پوری مہارت سے پیچیدہ سے پیچیدہ کام کرنا
بڑے سہل طریقے سے پیچیدہ سے پیچیدہ مہارتوں کو کر لینا۔ مثلاً بہت کم میسر جگہ پر گاڑی پارک کر لینا، کمپیوٹر کو بہت سرعت سے مگر درست طور پر استعمال کرنا۔ موسیقی کے کسی آلے کو بہت مہارت سے بجانا۔

 (Adaptation)۔6۔ ضرورت کے مطابق تبدیلی کرنے کی اہلیت
کسی بھی کام یا ہنر میں اس قدر مہارت ہو جائے کہ جب بھی ضرورت پڑے آپ اپنی پرفارمنس یا کام کو تبدیل کر لیں۔ مثلاً ایک استاد ، پڑھانے کے دوران بچوں کی ضرورت کے مطابق اپنے طے کردہ طریقے یا مثالوں کو تبدیل کر لے۔ کسی بھی مشین مثلاً سائیکل پر ایسے کرتب دکھانا جو عام طور پر اس مشین سے نہ کیے جاتے ہوں۔

  (Origination)۔7۔ جدت طرازی
کسی صورتحال میں نیا انداز، نیا طریقہ یا نیا اسلوب پیش کرنا۔ مثلاً کوئی تربیتی پروگرام تیار کرنا، ڈانس یا جمناسٹک کا کوئی نیا انداز یا اسلوب تیار کرنا۔ کیلی گرافی ، موسیقی میں ۔

درجہ بدرجہ سیکھنا
سیکھنے کا عمل درجہ بدرجہ رونما ہوتا ہے۔ جو باتیں بچے کو معلوم ہوتی ہیں، انھی کو بنیاد بنا کر اسے ایسی باتیں سکھائی جاتی ہیں جو اسے معلوم نہیں ہوتیں۔ کریکلم کو بنانے اور اس کا کمرہ جماعت میں اطلاق کرنے والوں کو یہ بات بہت گہرائی سے معلوم ہونی چاہیے۔

قدیم دور سے ہی سیکھنے سیکھانے کو سدھانے کا مترادف سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایت طور پر جس طرح جانوروں کو سدھانے کے لیے تشدد کا سہارا لیا جاتا ہے، اسی طرح بچے کو ’سکھانے‘ کے لیے بھی تشدد کے استعمال کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح جانوروں کو سدھانے لیے لیے سزا اور جزا کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بچوں کو سزا کے خوف یا جزا کا لالچ دے کر ان کو ’سکھانے‘ کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان تمام طریقوں کے استعمال کرنے سے بچہ سیکھتاہو یا نہ سیکھتا ہو، یہ بات طے ہے کہ وہ ساری زندگی کے لیے اپنی ذات سے باہر کسی دوسرے کی ستائیش یا کسی دوسرے کی طرف سے متوقع اذیت کے خوف سے بچنے کی اذیت میں مبتلا رہنے لگتا ہے۔ وہ کسی کام کو اپنی خوشی یا لطف اندوزی سے کرنے کا اہل نہیں رہتا۔ ایسے لوگ اعلیٰ تخلیقی مدارج تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں کیونکہ اعلیٰ تخلیقی عمل کسی جزا یا سزا سے قطع نظر ایک ذاتی ولولے کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔

اگرچہ سیکھنے کے عمل کو سدھانے سے منسلک کر دیا جائے تو سکھانے والے کی بچے سے توقعات نہ صرف غیر حقیقی بلکہ غیر انسانی بھی ہو سکتی ہیں۔ وہ اس لیے کہ سکھانے والا تشدد کی مدد سے بچے کو بار بار مشق کرنے پر مجبور کرے گا۔ وہ دراصل بچے کو ایک بالغ ہی سمجھتا ہے۔ ایسا بالغ جو جسمانی طور پر بڑا نہیں ہو سکا۔ روایتی طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ بچے کا ذہن ایک خالی تختی ہے اور آپ جو چاہیں، اس پر لکھ دیں۔اس نظریے کے تحت سیکھنے میں درجہ بندی کے خیال کی پرواہ نہیں کی جاتی۔

جدید تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ انسانی دماغ، پیدائش کے وقت اپنی استعداد کے حساب سے مکمل نہیں ہوتا۔ انسانی دماغ کی سمجھنے سمجھانے کی استعداد درجہ بدرجہ تکمیل کی طرف جاتی ہے اور بلوغت تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہر درجے پر بچے میں اس درجے سے وابستہ ذہنی مہارتیں سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ درجہ وار نمو، آسان سے پیچیدہ درجات کی جانب سفر کرتی ہے۔ تشدد والے روایتی طریقوں میں بچے کے سیکھنے کے ان درجات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اگر بچہ اپنی ذہنی نشوونما کے اعتبار سے دوسرے درجے پر ہے تو اس درجے پر پانچویں درجے کی ذہنی استعداد کی سرگرمی کرنے کی توقع درست نہیں۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر اس صورتحال میں بچہ مطلوبہ سرگرمی سرا نجام نہ دے رہا ہو اور اس پر تشدد کیا جائے تو دراصل آپ بچے پر ظلم کر رہے ہیں۔ والدین، اساتذہ اور کریکلم سے جڑے ماہرین کے لیے لازم ہے کہ وہ بچے کی اس درجہ وار ذہنی نشوونما کا خیال رکھتے ہوئے سرگرمیاں اور سیکھنے کا منصوبہ طے کریں۔

بچوں کے درجہ بدرجہ سیکھنے اور انسانی دماغ کی نشوونما کے بارے میں سب سے بنیادی کام سوئزرلینڈ کے ایک بائیولوجسٹ پیاجے نے کیا۔ واضح رہے کہ وہ ماہر نفسیات نہ تھے۔ انھوں نے بچوں کی ذہنی استعداد کی نشوونما کے درجات معین کیے۔ ان کی تحقیق اور تحقیق سے اخذ شدہ نتائج کے باعث سیکھنے سکھانے سے متعلق مندرجہ ذیل اہم تبدیلیاں ممکن ہوئیں:۔

۔1۔ عام طور پر اگر بچے امتحان میں دیے گئے سوالات کے جوابات درست طور پر دے دیں تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ سیکھنے کا مقصد پورا ہو گیا۔ ایسی صورت میں عام طور پربچے سوالوں کے جواب رٹ لیتے ہیں اور امتحان میں انھیں لکھنے کے بعد بھول جاتے ہیں۔ اس طرح کوئی ایسی بات ، ہنر یا رویہ سیکھنے کی گنجائش نہیں ملتی جو دیرپا ہو اور بچے کے سیکھنے کے عمل میں جذب ہو سکے۔ پیاجے نے سیکھنے سکھانے سے متعلق جو باتیں سمجھائیں، ان پر عمل کریں تو سیکھنے میں سوالات کے درست جوابات دینا کافی نہیں، سیکھنے کا عمل اپنے طور پر زیادہ اہم ہے۔ اس ضمن میں استاد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پڑھاتے وقت ایسی سرگرمیوں کو فروغ دے جن کی بدولت سیکھنے کا عمل رو پذیر ہو۔ ایسے طریقۂ تدریس کی بدولت بچے بیک وقت معلومات کے ساتھ ساتھ مہارتیں اور رویے بھی سیکھنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔

۔2۔ چونکہ سیکھنے کا عمل بچوں کی بلاواسطہ شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ہوتا، اس لیے بچے اپنے طور پر، اپنی ضروریات اور ترجیحات کے لحاظ سے نئی نئی معلومات اور مہارتیں سیکھنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔ وہ گھڑے گھڑائے کتابی علم سے قطع نظر اپنے طور پر نیا علم اور نئے پیرائے تخلیق کرنے کی قابلیت حاصل کر لیتے ہیں۔ ایسا علم اور مہارتیں نامیاتی طور پر نشوونما کی صلاحیت رکھتی ہیں اور بچہ کسی محتاجی کے بغیر خود مختاری سے سیکھتا چلا جاتا ہے۔

۔3۔ بچوں کو کیا پڑھنا ہے اور کس طرح پڑھنا ہے، اس کا فیصلہ بڑے کرتے ہیں۔ بڑوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بچے فوراً ان کی طرح نہ صرف سوچنا شروع کر دیں بلکہ ان کے اعمال بھی ان جیسے ہو جائیں۔ پیاجے نے بچوں کے سیکھنے سے متعلق جو انقلابی بات سمجھائی کہ بچے، بڑوں کی طرح نہ تو سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے سیکھنے کے عمل کو میکانکی طور پر تیز کیا جا سکتا ہے۔ بچہ درجہ بدرجہ سیکھتا ہے اور ان درجات کو نظر انداز کر کے سیکھنے کے عمل کو آگے بڑھانے سے بہتر ہے کہ بچوں کو سرے سے پڑھایا ہی نہ جائے۔

۔4۔ پیاجے نے سیکھنے کے جو درجات معین کیے ہیں، ان درجات سے ہر بچہ، ایک ایک کر کے گزرتا ہے۔ یہ ایک لازمی امر ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر بچے کے لیے ہر درجے کا دورانیہ یکساں ہو یا ایک کلاس میں سارے بچے بیک وقت سیکھنے کے کسی خاص درجے پر کھڑے ہوں۔ اس طرح سیکھنے کے مختلف درجات پر کھڑے، مختلف بچوں کے سیکھنے کے لیے ایک جیسے طریقے اور نفس مضمون مؤثر نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ استاد مختلف سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کے سیکھنے کے درجات کی شناخت کر کے گروہ بندی کر لے۔ پھر ہر گروہ کی تعلیمی ضروریات کے مطابق سکھانے کی حکمت عملی اور سرگرمیاں تجویز کرے۔

اس ضمن میں ضروری ہے کہ بچوں کی زندگی اور ان کے تجربات سے منسلک ٹھوس واقعات اور مثالیں دی جائیں۔ بچوں سے ایسی سرگرمیاں کروائی جائیں جن کی مدد سے بچے تصویری خاکے، ماڈل یا دیگر معلومات اکٹھی کرسکیں۔ مشکل تصورات کی وضاحت کے لیے کہانیوں یا معلومات عامہ سے مدد لی جائے۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ معلومات یا تجربات کے مختلف مراحل کو معنوی ترتیب دے کر ان سے نتیجہ اخذ کریں۔ اپنے نتائج کو درست ثابت کرنے کے لیے دلائل اور شہادت دیں۔ بچوں کو ایسے مسائل حل کرنے کے لیے دیے جائیں جن کے لیے ناقدانہ سوچ اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کی ضرورت ہو۔ اس عمل میں یہ بات مدنظر رکھنی ضروری ہے کہ مختلف درجات پر موجود بچوں کے تجربات اور اُن کے نتائج مختلف ہوں گے۔ 

ختم شد

پہلا حصہ

کریکلم کیا ہے؟۔ پہلا حصہ

دوسرا حصہ

کریکلم سے متعلق اقتصادی معاملات کی سیاست

2 Comments

  1. Abdur.rehman shah says:

    ye bat darusat h polo fraray nay ye he kaha k taleem ya to ghulami ki mashq h ya azadi ki jidojehd h hmary han ratta lagana aik ravia ban chuka h

  2. Paind Khan Kharoti says:

    Excellent!
    This ‘ll lead us towards creativity and relevancy. We must stop our opinion leaders from becoming mere info-dump. Creative application or interpretation is need of time. Let’s encourage creativity under the sun.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *