ہر دِل نِراش ۔ تاج محمدسوزؔ کی شاعری

javed-250x300

جاوید اختر بھٹی 

سولہوی صدی کے انگلستان میں شاعری پر عام طور پر چند اعتراضات کئے جاتے تھے 
۔1 ۔ شاعری کا مطالعہ تضیع اوقات ہے ۔ اس لئے کہ اس کے علاوہ اور بہت سے مفید علوم موجود ہیں۔ 
۔2 ۔ شاعری جھوٹ کی ماں ہے اور ہر قسم کے دروغ کا ماخذ ہے۔ 
۔3 ۔ شاعری کردار کے لئے مضر ہے ، یہ کردار کو بیمار خواہشات کے ذریعہ کمزور کرتی اور نوجوانوں کے ناپختہ ذہنوں کو واہموں سے بھر دیتی ہے ۔
۔4 ۔ افلاطون کی سند موجود ہے کہ اس نے اپنی مثالی ریاست سے شاعروں کو نکال دیا تھا۔

ہمارے سماج میں یہ اعتراضات اکیسویں صدی میں بھی موجود ہیں اور نہایت تر و تازہ ہیں ۔جس گھر میں شاعر پیدا ہوتا ہے وہاں ایک بار صف ماتم ضرور بچھتی ہے ۔ ہمارے ہاں شاعر بے چارے سماج کے غیر فعال فرد کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں ، اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ ہم ابھی تک انگلستان کے سولہویں صدی کی دانش میں سانس لے رہے ہیں اور اگر افلاطون کی دانش کو مرکزی حیثیت دی جائے ،تو ہماری دانش ماضی میں 250 قبل مسیح میں سفر کرتی ہوئی نظر آئے گی ۔

گویا ہمارے سماج نے آج تک شاعروں کو قبول نہیں کیا ، جس طرح عربوں اور ایرانیوں کے ہاں تسلیم کیا جاتا ہے یا بعد ازاں یورپ میں اعتراف کیا گیا ۔اس کے باوجود برصغیر میں ہزاروں شاعر موجود ہیں اور ان کی موجودگی ہمارے سماج کے اس ’’ نظریہ بے چارگی ‘‘ کی نفی کرتی ہے ۔ اور یہ ’’ غیر فعال شاعر ‘‘ ہمیشہ اسی سماج کے لئے شاعری کرتے رہے ۔ مظلوموں کے لئے آواز اٹھاتے رہے ، اپنے زمانے کی خوب صورتی کو موضوع بناتے رہے ، زندگی میں خیر کے لئے راستے تلاش کرتے رہے اور شر کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ۔

انہوں نے کبھی اپنی حیثیت سے اعتراف کی جنگ نہیں لڑی ، یہ نہیں کہا کہ ان کا جائز حق انہیں دیا جائے ۔ جو شاعر سرکار دربار سے وابستہ ہو جاتے ہیں ، انہیں اعزازات اور سرکاری عہدے ملتے ہیں ، ایسے شاعر اپنے پاؤں کے گھنگھرو کبھی ٹوٹنے نہیں دیتے اور وہ ہمیشہ سرکاری موسیقی پر مسرور رہتے ہیں وہ اپنی گردن میں مستقل خم لے آتے ہیں اور اس خم کو وہ اپنی شخصیت کا حسن تصور کرتے ہیں ، سرکار دربار سے فن کاروں کی وابستگی کی تاریخ بہت پرانی ہے ، یہاں اس تاریخ کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

اب ہم آگے بڑھتے ہیں ، اپنے برزگ دوست تاج محمد سوز کی طرف ان کا مجموعۂ کلام’’ہردِل نراش‘‘ اس وقت ہمارے سامنے ہے تاج محمد سوز میرے محترم دوست ہیں ، ان کا شمار ایسے شاعروں میں نہیں ہوتا کہ جنہیں رب کائنات صرف شاعری کے لئے پیدا کرتا ہے ، انہوں نے تمام بشری تقاضے پورے کئے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ شاعری بھی کرتے رہے انہوں نے اپنے شاعر ہونے کا کبھی دعویٰ نہیں کیا ، لیکن دعویٰ نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خود کو شاعر نہیں سمجھتے ، دراصل یہ سب کچھ ایک انکسار اور نیاز مندی کے ساتھ ہے ۔

taj-sozسوز صاحب نے ساری زندگی روشن خیالی کی خوش عقیدگی میں بسر کی ، ہمارے سماج میں روشن خیالی ہمیشہ زیرِ عتاب رہی ہے ، یوں سمجھئے کہ انہوں نے سماج کی دو تہمتیں (شاعری اور روشن خیالی ) اپنے ذمے لے لی ہیں وہ ان دونوں کو ساتھ لے کر چلتے رہے ، اتنا چلے کہ اب ان کا شعری مجموعہ تیار ہو گیا ۔

سوز صاحب کی شاعری کا اپنے سماج کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، سیاست ہو یا شاعری ، وہ اپنے سماج کے پس ماندہ طبقے کی بات کرتے ہیں ، وہ مزدوروں اور محنت کشوں کے گیت گاتے ہیں ، وہ ایک بڑے انقلاب کے خواہاں ہیں اور میرے محبوب ، ذوالفقار علی بھٹو سے شدید اختلاف رکھتے ہیں ، لیکن وہ بھٹو ازم کے مفاد پرست حامیوں سے کہیں زیادہ بہتر ہیں ۔

میر صاحب نے کہا تھا

اندوہِ وصل و ہجر نے عالم کھپا دیا 
ان دوہی منزلوں میں بہت یار تھک گئے 

ہمارے سوز صاحب بھی ان دوہی منزلوں کے مسافر ہیں ، میرا خیال ہے کہ وہ بھی تھک گئے ہیں اس لئے انہوں نے سیاست سے بہت حد تک کنارہ کشی اختیار کر لی ہے اور شاعری کو یکجا کر دیا ، دوسراکام انہوں نے اچھا کیا ۔ 

ان کی شاعری میں زمانے کا درد ہے ، انہوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے جسے ہمارے سماج کے کمزور اور بے بس لوگ بسر کرتے ہیں ، انہوں نے درد مندی کے ساتھ شاعری کی ہے ، یوں ان کی سیاست اور شاعری کا ایک ہی رخ ہے 

سوز صاحب لکھتے ہیں
’’
اپنے بارے میں مجھے شاعر ہونے کا نہ کوئی زعم ہے اور نہ کوئی دعویٰ ۔ ‘‘ 

شاعری میں کوئی دعویٰ ممکن ہی نہیں، کسی بڑے شاعر کے لئے بھی نہیں ، ان شاعروں کے لئے بھی ممکن نہیں کہ جنہیں زمانے نے تسلیم کیا ہے ، کسی فن اور ہنر میں دعویٰ نہیں کیا جا سکتا ۔ قدرت ایک سے بڑھ کر ایک فن کار پیدا کرتی ہے ، فن کار کی خوب صورتی اس کا انکسار ہے ، فیض صاحب ایسے با کمال شاعر نے اپنے بارے میں کہا تھا ۔

۔’’ ہماری تمنا تھی کہ ہم شاعری میں درجۂ کمال کو پہنچتے ، مثلاً ناظم حکمت ، پابلو نرودا، لورکا وغیرہ ہمارے عہد کے شاعر ہیں ، ظاہر ہے ہم ان جیسے بڑے شاعر تو نہیں ہیں ، ہماری مثال تو عربی کے اس محاورے کے مطابق ہے کہ ہم بڑے نہیں تھے ، بڑوں کے اٹھ جانے نے ہمیں بڑا بنا دیا ہے،‘‘۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ فیض صاحب کے اٹھ جانے کے بعد کوئی ان کے برابر نہیں آیا ، احمد فراز اور احمد ندیم قاسمی شعوری کوشش کے باوجود ان کے بعد ان کی مسند پر نہ بیٹھ سکے ۔ فیض صاحب کا مقام آج بھی ان کے لئے مخصوص ہے ۔

سوز صاحب کی شاعری کے حوالے سے ایک بات کہی جا سکتی ہے کہ اس میں ان کا اخلاص کار فرما ہے زندگی کو جس طرح انہوں نے دیکھا ، ویسے بیان کیا ، ان کی شاعری ہمیں اس بات کا احساس دلانے میں کامیاب ہوتی ہے کہ دنیا دکھوں سے بھری ہوئی ہے ، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں ، ان کی فلاح کے لئے کچھ کیا جائے ، وہ نظر انداز کئے گئے طبقے کی ترجمانی کرتے ہیں اور ان کے لئے آواز بلند کرتے ہیں ، یہ آواز کہاں تک جاتی ہے ؟ اور کب سنی جائے گی ؟ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگ کب ان کی طرف متوجہ ہوں گے ؟ اس بارے میں کہنا قبل از وقت ہے۔

اقتدار کے ایوانوں میں نا انصافی کی حکومت ہے ، اس نا انصافی کے لئے ایک بڑے انقلاب کی ضرورت ہے ، ہم جس دور سے گزر رہے ہی ، اس میں بے چینی اور اضطراب اپنے عروج پر ہے ، غریب آدمی کی زندگی بے معنی ہو گئی ہے ، فیض صاحب کو یاد کیجئے ، انہوں نے کہا تھا 

تیرگی ہے کہ امنڈتی ہی چلی آتی ہے 
شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسے 

چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبضِ ہستی 
دونوں عالم کا نشہ ٹوٹ رہا ہو جیسے 

رات کا گرم لہو اور بھی بہہ جانے دو 
یہی تاریکی تو ہے غازۂ رخسارِ سحر 

صبح ہونے ہی کو ہے اے دلِ بے تاب ٹھہر 
ابھی زنجیر چھنکتی ہے پسِ پردۂ ساز 


فیض صاحب چلے گئے لیکن یہ طویل سیاہ رات آج بھی باقی ہے ، ان کی زندگی میں انقلاب کا خواب کسی تعبیر کے بغیر گزر گیا ، بہت سی نسلیں گزر گئیں ، اندھیرے میں زنجیر چھنکتی رہی اور ہمیں اسی ساز پر اپنی زندگیوں کو بسر کرنا ہے ۔


سوز صاحب نے اپنی شاعری کے ذریعہ اپنے عہد کا سچ بیان کر دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا ، خوشی کی بات ہے کہ سوز صاحب ستر برس میں مایوس نہیں ہیں ، وہ ان لوگوں سے بہتر ہیں جنہوں نے شکست کو تسلیم کر لیا اور تاریکی کی حاکمیت کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں ۔ 

ان کے چند اشعار پیش کرتا ہوں :۔

بھوک کے مارے بلک رہے ہیں محنت کش انسان یہاں 
خونِ غریباں ارزاں ہے ان دولت کے کاشانوں میں 

شہرِ بے مہر کے اپنے ہی تقاضے ہیں یہاں 
بے گناہوں کو گناہ گار سزا دیتے ہیں 

بے سبب کوئی کسی کے ساتھ چلتا ہے کہاں 
اپنا سایہ بھی مجھے اب ہم سفر لگتا نہیں 

دکھ میں پوچھا ہے کہاں کس نے ہمیں 
دی ہیں یاروں کو صدائیں کیا کیا 

تیری چوکھٹ سے ہی اٹھے ہوں گے 
دربدر جن کو ادھر دیکھا ہے 

زندگی جبر ہے ، میں نے تو نہیں مانگی تھی 
لوگ کہتے ہیں کہ ملتی ہے عطاء کی صورت 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *