کچھ کاسترو کے بارے میں

4212_109624585991_3851843_nبیرسٹر حمید باشانی۔ ٹورنٹو

فیڈل کاسترو کی موت پر کئی لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ان لوگوں میں ایک انتہائی اہم ترین شخص ہمارے اپنے وزیر اعظم جناب جسٹن ٹرودو بھی ہیں۔انہوں نے کاسترو کی موت پر اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ

۔’’ مجھے کاسترو کی موت پر سخت افسوس ہوا ہے۔کاسترو زندگی سے بھی بڑا کردار تھا جس نے نصف صدی تک اپنے عوام کی خدمت کی۔وہ ایک دیو مالائی کردار، عظیم انقلابی اور شعلہ بیان مقرر تھے۔ انہوں نے اپنے عوام کی تعلیم اور صحت کے شعبے میں قابل ستائش بہتری لائی۔کاسترو ایک متنازعہ شخصیت تھے، مگر کیوبا کے عوام کے ساتھ ان کی گہری محبت اور وابستگی کو ان کے حامی اور مخالفین دونوں تسلیم کرتے ہیں۔میرے والد بڑے فخر سے کاسترو کو اپنا دوست کہتے تھے۔میرے والد کی وفات پر مجھے ان سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔میرے حالیہ دورہ کیوباکے دوران مجھے ان کے دو بیٹوں اور بھائی راہول کاسترو سے ملنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔میں تمام کنیڈین کی ایما پر اپنی اہلیہ صوفی اور اپنی طرف سے کاسترو کے خاندان، دوستوں اور پیروکاروں سے اظہار افسوس کرتا ہوں۔اور ہم کیوباکے لوگوں کے ساتھ مل کر اس عظیم لیڈر کی موت پر ماتم کرتے ہیں‘‘۔

ہمارے پیارے وزیر اعظم کے اس بیان پر کینیڈا اور امریکہ میں کئی لوگوں نے ناک بھوئیں چڑائی ہیں۔دائیں بازوں کے اخبارات نے اس پر ادارئیے تک لکھ مارے۔کچھ دائیں بازوں کے سیاست کاروں نے اس پر کڑی نقطہ چینی کی ہے۔مگر سچی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی مجھے وزیر اعظم کے لیے اس موقع پر تعزیتی بیان لکھنے کو کہتا تو میں اس سے زیادہ مناسب اور خوبصورت الفاظ نہ ڈھونڈ سکتا۔مجھے ہمیشہ اپنے وزیر اعظم پر فخر رہا ہے۔ مگر آج میرا دل خوشی سے بھر گیا۔

کینیڈا کے لوگ خوش قسمت ہیں کہ ان کو ایسا وزیر اعظم میسر ہے۔اور ان کو اس بات کا شائد احساس نہیں ہے کہ دنیا میں بعض ملکوں پر کیسے کیسے وزیر اعظم مسلط ہوتے ہیں۔اور وہ ایسے موقعوں پر کیسے کیسے بے معنی اور متعصب بیانات جاری کرتے ہیں۔مجھے جب کبھی سفر کے دوران کسی غیر ملکی خصوصاً نوجوانوں سے گفتگوکا موقع ملتا ہے تو وہ کینیڈا کا نام سنتے ہی جسٹں ٹرودو کا نام لیتے ہیں اور ان کی آنکھوں میں ایک خاص خوشی اور چمک آ جاتی ہے۔خیر یہ کالم جسٹں ٹروڈو نہیں کاسترو کے بارے میں تھا مگر بات کئی سے کئی نکل گئی۔

میں خوش قسمتی سے کئی بار کاسترو کے کیوبا جا چکا ہوں، یہاں مطالعہ اور مشاہدہ کر چکا ہوں اور اس پر اپنے سلسلہ وار کالموں میں کئی قسطوں پر اظہار کر چکا ہوں۔ مکرر عرض ہے کہ میں نے وہاں پر دودھ یا شہد کی کوئی نہر تو نہیں بہتے دیکھی مگر جو کچھ میں نے وہاں دیکھا اس کا کسی تیسری دنیا کے ترقی پزیر ملک میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔کاسترو جس سیاسی فلسفے پر یقین رکھتا تھا اس کو اس نے اپنی تمام جزئیات سمیت بروئے کار لایا۔

یہ اس کی بے پناہ انتطامی صلاحیتوں اور عوام میں اس کی بے پناہ مقبولیت کا ثبوت تھا۔میں نہ تو وہاں کوئی طبقاتی تقسیم دیکھی اور نہ ہی سڑکوں پر غربت اور بدحالی کے وہ مناظر جو تیسری دنیا کے تقریباً ہر ملک میں دکھائی دیتے ہیں۔اس نے اس چھوٹے سے جزیرے پر ایک ایسا نظام تشکیل دیا جس پر پیدا ہونے والے ہر بچے کو مناسب خوراک کی ضمانت تھی۔تعلیم تک رسائی تھی۔یہاں رہنے والے ہر شخص کو مفت اور مکمل علاج کی ضمانت تھی۔ہر شخص کو رہائش اور روزگارکی ضمانت تھی۔

میں یہ نہیں کہتا کہ میری جتنے بھی لوگوں سے بات ہوئی وہ سب خوش اور مطمئن تھے مگر مجھے یہ کہنے میں کوئی باق نہیں کہ ان کی ایک بڑی اکثریت اپنے نظام سے خوش اور آسودہ تھی۔اس عظیم شخص کی شاندار اور تاریخی کامیابیوں کے باوجود بہت ساری ایسی باتیں بھی ہیں جن پر کھل کر اختلاف اور تنقید کی گنجائش ہے۔ان میں سب سے اہم اظہار رائے کے حق پر پابندیاں ہیں۔

میں نے پہلے بھی یہ لکھا تھا اگر کبھی کیوبا کے نظام میں کوئی توڑ پھوڑ ہو گی تو اس کے پیچھے اظہار رائے پر پابندی ایک فیکٹر ہو گا۔یہاں ذرائع ابلاغ پر مکمل طور پر ریاست کا کنٹرول ہے جو آج کے اس ڈیجیٹل اور سائبر دور میں ایک غیر فطری سا عمل لگتا ہے جس کو زیادہ دیر تک برقرار رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کے حوالے سے میں نے عرض کیا تھا کہ اگر کیوباکے اندر کبھی رد انقلاب ہو گا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہو گی کہ لوگوں کو اپنے معاشی نظام سے کوئی تکلیف ہے بلکہ اگر یہاں کبھی ایسا ہو گا تو اس کی بنیادی وجہ انسانی اور جمہوری حقوق پر پابندیاں ہیں۔

میں نے عرض کیا تھا کہ کیوبا نے سماجی ترقی کے میدان میں حیرت انگیز کارنامہ سر انجام دیا ہے۔تعلیم اور صحت کے میدان میں معجزے دکھائے ہیں۔اپنے جیسے دوسر ے اور پڑوسی ملکوں کے مقابلے میں یہاں پر کوئی ایسی کمی یا برائی نہیں ہے جس کو چھپانے کے لیے یہاں کسی آ ہنی پردے کی ضرورت ہو۔اس کے بر عکس یہاں پر دکھانے کے لیے اتنا کچھ ہے، اور بتانے کے لیے ایسے کارنامے ہیں کہ ان کو کھلی بحث کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔اور ایک کھلا جمہوری معاشر ہی دراصل اس موجودہ نظام کی ضمانت ہو سکتا ہے۔

اور یہ بات ایک بار پھر دہرانے میں کوئی حرج نہیں کہ ہمارے اس دور میں سوشلزم سمیت کوئی بھی نظام مکمل انسانی حقوق، بنیادی جمہوری حقوق اور شہری آزادیوں کے بغیر زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *