داعش اور القاعدہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، العالمی کا دعویٰ

300325_14353235

آئی ایس پی آر کا دعویٰ ہے کہ ملک سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا گیا ہے


پاکستان میں فعال کالعدم جنگجو گروہ لشکر جھنگوی کے ایک ذیلی گروہ العالمی نے کہا ہے کہ وہ ملک میں حملوں کی خاطر داعش اور القاعدہ دونوں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

شدت پسند گروہ ’العالمی‘ کے ترجمان علی بن سفیان نے کہا ہے کہ وہ ہر اس گروہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں، ’’جو پاکستانی فوج کے خلاف حملوں میں ان کی مدد کرے گا‘۔ اس جنگجو نے مزید کہا ہے کہ وہ پاکستان میں حملوں کی خاطر انتہا پسند گروہ داعش اور دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

 پاکستان میں لشکر جھنگوی نامی کالعدم گروہ ماضی میں شیعہ کمیونٹی پر کیے گئے متعدد خونریز حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔ تاہم اب یہ شدت پسند گروہ پاکستانی حکومتی اہداف کو نشانہ بھی بنانے لگا ہے۔

علی بن سفیان کا دعویٰ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارگردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے جن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں۔ علی بن سفیان کا بیان آپریشن ضرب عضب کی اہلیت پر بھی بہت بڑا سوال ہے ۔ کوئٹہ میں ہو نے والے حالیہ بم دھماکوں کی ذمہ داری العالمی قبول کر چکی ہے۔

گزشتہ برس لشکر جھنگوی کی اہم قیادت کو پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ تاہم یہ گروہ ابھی تک حملے کرنے میں کامیاب ہے۔ اب العالمی کی طرف سے داعش اور القاعدہ کے اتحاد کی خبروں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے لیے ایک نئی پریشانی پیدا کر دی ہے۔

سکیورٹی تجزیہ نگار عامر رانا نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا ہے، ’’شام اور عراق میں داعش کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اس لیے یہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں چھوٹے جنگجو گروہوں کے ساتھ اتحاد بنا کر اپنی طاقت اور ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ ورانہ بنیادوں پر قائم ہونے والی تنظیم لشکر جھنگوی دراصل داعش کی ایک قدرتی اتحادی ہے۔

اسلام آباد حکومت ایسی خبروں کو مسترد کرتی ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود ہے۔ تاہم مشرق وسطی میں فعال اس جنگجو گروہ نے پاکستان بالخصوص بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران ہونے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

علی بن سفیان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا گروہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو تعاون فراہم کرتا ہے۔ اس شدت پسند رہنما نے تاہم واضح کیا کہ داعش جیسے گروہوں کے ساتھ تعاون کے تحت صرف پاکستان میں ہی کارروائیاں کی جائیں گی۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی حکومت دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کاروائی میں سنجیدہ ہے کے نہیں ؟ ابھی تک کے حالات و واقعات سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست نے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ نرم رویہ اپنا یا ہوا ہے۔

DW/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *