فیدل کاسترو۔۔۔ایک عہد کا خاتمہ

36532514_303-1

کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسترو 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔فیدل کاسترو کی یک جماعتی حکومت نے کیوبا پر تقریباً نصف صدی تک حکومت کی۔کاسترو کا دعویٰ تھا کہ ان کے نظریے میں سب سے مقدم حیثیت کیوبا کے عوام کی ہے۔ لیکن 2008 میں اقتدار کسی پارٹی عہدیدار کی بجائے اپنے بھائی راؤل کاسترو کو منتقل کر دیا۔

فیڈل کاسترو کیوبا میں کمیونسٹ انقلاب کے رہنما تھے۔ انہیں آمر حکمران فَلگینسیو باتیستا نے قید کر دیا تھا، پھر وہ میکسیکو میں جلا وطنی بھی کاٹتے رہے تھے مگر سن 1959ء میں وہ 32 برس کی عمر میں کیوبا میں اقتدار پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ انقلاب کے فوراً بعد1959 میں کاسترو نے امریکہ کا دورہ کیا۔ واشنگٹن میں کئی روز تک ٹھہرنے کے باوجود امریکی صدر آئزن ہاور نے انہیں کوئی لفٹ نہ کرائی جس پر مجبوراً انہیں روس کی طرف ہاتھ بڑھانا پڑا۔

نوے برس کی عمر میں انتقال کر جانے والے فیڈل کاسترو نے اپنی قیادت میں انقلاب کے بعد فتح کا اعلان کرتے ہوئے وہ نعرہ لگایا تھا، جو تاریخی طور پر ان کی پہچان کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، اور وہ نعرہ تھا: ’’ہمیشہ فتح کی جانب‘‘،۔امریکی ریاست فلوریڈا سے صرف 90 کلومیٹر کی دوری پر واقع کیوبا نے ایک طویل مدت تک اشتراکی نظام کا ساتھ دیا۔ فیڈل کاسترو بھی دنیا بھر میں اشتراکی نظام کے لیے اٹھنے والی آوازوں کا ساتھ دیتے رہے۔ لیکن اپنے آخری دور میں وہ مجبور ہو گئے کہ مغربی سے تعلقات قائم کریں۔

آخری دور میں وہ کافی حد تک بالغ نظر ہو چکے تھے ۔سنہ1998 میں پوپ جان پال دوم نے کیوبا کا غیر معمولی دورہ کیا جس کا  پانچ سال قبل تک سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اس موقعے پر پوپ نےانسانی حقوق کی پامالی کی وجہ سے کیوبا پر کڑی تنقید کی۔ عالمی میڈیا کے سامنے کاسترو کے لیے یہ سب باعث شرمندگی تھا۔ اپنے انقلاب کو بچانے کے لیے کاسترو سرمایہ کارانہ نظام فری مارکیٹکی اصلاحات کو اپنانے اور آہستہ آہستہ متعارف کروانے کے لیے مجبو ر ہو گئے۔

ایک ڈکیٹٹر کے طور پر ان کا اقتدار سے علیحدہ  ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن خراب صحت کی وجہ سے انہیں مجبوراً اقتدار سےچھوڑنا پڑا ۔ لیکن جاتے جاتے اقتدار اپنے بھائی کو منتقل کر گئے اور یہ ان کے بھائی ہی ہیں جنہوں نے کاسترو کی موجودگی میں ان کے نمبر ایک دشمن  امریکہ سے اپنے تعلقات بحال کیے۔ لیکن اس ہٹ دھرمی کی قیمت کیوبا کے عوام کو ادا کرنی پڑی۔

فیدل الیہاندرو کاسترو تین اگست 1926 میں کیوبا کے ایک امیر خاندان میں پیدا ہوئے جو پیشے کے اعتبار سے جاگیردار تھے لیکن اپنی آرام دہ طرز زندگی لیکن اردگرد پھیلی اذیت ناک مفلسی کی صورت میں سماجی تفریق اور دیگر مصائب ان کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں تھے اور اسی نے انھیں انقلابی بناڈالا۔

اس وقت کیوبا پر فلجینسیو بتیستا کی حکومت تھی جن کا اقتدار بدعنوانی، تنزلی اور عدم مساوات کی علامت تھا۔ کاسترو اس کے خاتمے کے لیے پرعزم تھے۔اس زمانے کا کیوبا کسی کھلنڈرے شخص کے لیے جنت کی مانند تھا لیکن درحقیقت وہ منظم مجرموں کی پناہ گاہ کی مانند تھا۔ وہاں جسم فروشی، جوئے بازی اور منشیات کی سمگلنگ عام تھی۔

کاسترو اور اس کے انقلابی گروہ نے موجودہ گوانتاناموبے کے جنوب میں واقع سیراما اسٹیا نامی پہاڑوں میں موجود اپنے اڈے سے بڑے پیمانے پر گوریلا مہم شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی۔دو جولائی کو 1959 کو کیوبا کے صدر مقام ہوانا میں یہی باغی فوج داخل ہو گئی۔ نتیجتاً کاسترو فتحیاب ہوئے، بتیستا کو راہِ فرار اختیار کرنا پڑی اور کیوبا کو نئی حکومت مل گئی۔ یہ کامیابی ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے انقلابی ارنسٹ چی گویرا کو بھی ملی تھی جنھوں نے کاسترو کی انقلابی تحریک میں حصہ لیا تھا اور بعد میں حکومت کا حصہ بھی بنے۔

کیوبا کے نئے حکمرانوں نے لوگوں کی زمینیں واپس کرنے اور غربا کے حقوق کے تحفظ کا وعدہ کیا۔ لیکن جلد ہی منظر نامہ بدل گیا۔ عوام کے نام پر حاصل کیا گیا اقتدار ڈکٹیٹر شپ میں تبدیل ہو گیا ۔حکومت نے ملک میں یک جماعتی نظام مسلط کر دیا جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو جیل کی ہوا کھلائی گئی اور مزدوروں کے کیمپ سیاسی قیدیوں سے بھر گئے۔ صرف یہی نہیں ہزاروں لوگوں کو جلاء وطنی اختیار کرنی پڑی۔

سنہ1960 میں فیدل کاسترو نے کیوبا میں موجود ان تمام کاروباروں کو قومی ملکیت میں لے لیا جو دراصل امریکہ کی ملکیت تھے۔ جواباً امریکہ نے کیوبا پر تجارتی پابندیاں عائد کر دیں جو حالیہ برسوں میں صدر براک اوباما کے دور میں کہیں جا کر اٹھنا شروع ہوئیں۔اپریل 1961 میں امریکہ نے کیوبا سے کاسترو کے اقتدار کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے کے لیے اسیری کی زندگی گزارنے والے کیوبا کے باشندوں کو غیر سرکاری فوج میں بھرتی کرنا شروع کر دیا۔

کیوبا کے ساحل بے آف پگز میں امریکی معاونت میں تربیت حاصل کرنے والے کیوبن باشندوں نے حملہ کیا لیکن کیوبا کے فوجی دستوں نے اسے ناکام بنا دیا۔ اس لڑائی میں لاتعداد حملہ آور مارے گئے جبکہ ایک ہزار کے قریب گرفتار ہوئے۔فیدل کاسترونے اس حملے کو ناکام بنا کے امریکہ کو ناکوں چنے چبوا دیے، جسے امریکہ ایک عرصے تک نہیں بھلا سکا۔

اگلے برس یعنی 1962 میں امریکہ کے جاسوس طیاروں نے کیوبا کے مختلف مقامات پر سوویت یونین کے میزائلوں کی موجودگی کا پتہ لگایا۔ اس کے بعد اچانک دنیا بھر پر ایٹمی جنگ کے سیاہ بادل چھا گئے۔

دو عالمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہو گئیں۔ لیکن پلک جھپکنے کی پہل روس کے صدر نیکیتا کروشیف نے کیوبا سے میزائل نکالنے کی صورت میں کی۔ اس کے بدلے میں ترکی سے امریکی ہتھیاروں کو نکالنے کا خفیہ معاہدہ طے ہوا۔کاسترو امریکہ کے دشمنوں کی فہرست میں اول نمبر پر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے انھیں آپریشن مونگوس میں قتل کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ بچ نکلے۔

دوسری جانب سوویت یونین کیوبا میں پیسہ انڈیل رہا تھا۔ اس نے جزیرے کی گنے کی کاشت کا وسیع رقبہ خرید لیا۔ بدلے میں ہوانا کی بندرگاہ پر اس کے ساز و سامان سے لدے جہاز اترتے تھے۔ امریکہ کی جانب سے تجارتی بندشوں کی وجہ سے کیوبا میں ان اشیائے ضرورت کی شدید قلت تھی۔

سوویت یونین پر انحصار کے باوجود کاسترو نے کیوبا کو غیر وابستہ تحریک میں شامل کیا جو اس وقت نوزائیدہ تھی۔ لیکن دوسری جانب کاسترو اتحادوں کا حصہ بھی بنے خاص طور پر انھوں نے افریقہ کی معاونت کی۔ انھوں نے اپنے فوجی دستے انگولا اور موزمبیق میں مارکسٹ گوریلوں کی مدد کے لیے بھیجے۔

سنہ80 کی دہائی کے نصف تک عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی منظر نامہ بدل رہا تھا۔ یہ میخائل گورباچوف، گلاس نوسٹ اور پیرسٹروئکا کا زمانہ تھا اور یہی کاسترو کے انقلاب کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ روس نے کیوبا کی معاشی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا اور اس سے مزید چینی لینے سے انکار کر دیا۔ امریکی تجارت کی بندش اور سویت یونین کی مدد نہ ملنے کی وجہ سے کیوبا میں بڑے پیمانے پر ضروری اشیا کی قلت پیدا ہو گئی۔ جب خوراک کے حصول کے لیے قطاریں طویل ہونے لگیں تو عوامی ضبط بھی مزید کم ہوتا چلا گیا۔

وہ ملک جس کے لیے کاسترو نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک ہے، درحقیقت واپس ہل جوتنے کے زمانے میں پہنچ چکا تھا۔سنہ90 کی دہائی کے وسط تک کیوبا کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ اگر پہلے لوگ سیاسی اور معاشی وجوہات کی وجہ سے اسیری کی زندگی کی جانب مائل ہوئے تھے تو اب ہزاروں ایسے تھے جو ایک اچھی زندگی کا خواب آنکھوں میں سجائے سمندری راستے سے امریکی ریاست فلوریڈا ہجرت کر گئے۔اور آج یہی لوگ امریکہ میں فیدل کاسترو کی موت کا جشن منانے سڑکو ں پر نکل آئے ہیں۔

لیکن کاسترو کی حکومت نے اندرونی سطح پر چند قابل توجہ اہداف حاصل کیے۔ ان میں تمام عوام کے لیے بہتر طبی سہولیات کی فراہمی نمایاں تھی، اسی کی بدولت کیوبا میں بچوں کی اموات ترقی پذیر ممالک سے کم ہو گئی۔

BBC/DW/ News desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *