بھارتی کشمیر میں ایک بار پھر دہشت گردوں کا حملہ

_92711440_036631179-2

عسکریت پسندوں نے ایک مرتبہ پھر ایک بھارتی فوجی بیس پر حملہ کیا ہے،جس کے نتیجے میں کم از کم سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک میجر بھی شامل ہے جبکہ ایک عہدیدار کی شناخت ابھی تک خفیہ رکھی گئی ہے۔

چار مشتبہ عسکریت پسندوں نے پیر کے روز بھارت کے زیر  انتظام کشمیر میں ایک فوجی کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ بھارتی فورسز اور حملہ آوروں کے مابین دن بھر فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

یہ گذشتہ دو ماہ کے دوران بھارتی فوج کے کسی ٹھکانے پر اپنی نوعیت کا یہ تیسرا بڑا حملہ ہے۔ قبل ازیں جنگجوؤں نے انیس ستمبر کو ایک بھارتی فوجی اڈے پر حملہ کرتے ہوئے انیس فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ بھارت نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے میں پاکستان کی حمایت یافتہ عسکریت پسند ملوث ہیں۔

بھارتی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور ابتدائی طور پر ان کی فائرنگ سے چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ جس وقت انہوں نے حملہ کیا تو وہ چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ دستی بم بھی پھینک رہے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے فوجی افسران کے اہلخانہ کے زیر استعمال دو عمارتوں میں سولہ افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ان کی رہائی کے آپریشن کے دوران بھی تین فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ یرغمالیوں میں دو بچے اور دو خواتین بھی شامل تھیں۔

جاری ہونے والے بیان کے مطابق تین حملہ آوروں کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ سورج غروب ہونے تک بیس میں آپریشن جاری تھا۔ اس سے قبل ایک مقامی پولیس افسر نے کہا تھا کہ تمام حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے فوجیوں میں ایک میجر بھی شامل ہے جبکہ ایک عہدیدار کی شناخت کو فی الحال عیاں نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ نگروٹہ میں ہی بھارتی فوج کی سب سے زیادہ سرگرم شمالی کمان کا ہیڈکوارٹر قائم ہے۔یہ حملہ 166 میڈیم ریجمنٹ آرٹلری کے کیمپ پر کیا گیا۔ اسی یونٹ میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر مبینہ دراندازی کے خلاف منصوبہ بندی بھی ہوتی ہے۔

اس دوران انڈین سرحدی حفاظتی فورس یا بی ایس ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جموں میں ہی سامبا ضلع کے رام نگر اور چملی یال سیکٹر کے قریب تین مسلح دراندازوں کو ایک تصادم کے دوران ہلاک کیا۔

ایک سکیورٹی افسر کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ اب احاطے کے اندر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ جس بیس کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس کا شمار علاقے کے چار بڑے کمانڈ سینٹروں میں ہوتا ہے اور وہاں ایک ہزار سے زائد افسران رہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر پاکستان اور بھارت کے مابین سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

نئی دہلی میں متبادل پالیسی سینٹر نامی تھینک ٹینک کے سربراہ موہن گورو سوامی کا کہنا تھا، ’’صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ مخصوص گروہ پاکستانی حکومت کی اس کوشش کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں جو وہ بظاہر امن کے لیے کر رہی ہے‘‘۔

DW/BBC

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *