عارف کی کہانی دلال کی زبانی ۔2

سبطِ حسن

p1030066trek

آج کل میرے لیے صرف ایک ہی نعمت بچی ہے اور یہ نعمت ہے نیند۔ میر ی خواہش ہے کہ میں ہر وقت سویا رہوں۔ سوسو کر جب میرا بدن نڈھال ہو جاتا ہے تو میں بیدار ہو جاتا ہوں۔ میں جاگتا ہی اس لیے ہوں کہ دوبارہ سو سکوں۔ میں اس لیے نہیں سوتا کہ اپنے جسم کو آرام پہنچاؤں، بلکہ اس لیے سوتا ہوں کہ لوگوں کی جلی کٹی باتوں سے بچا رہوں۔ میں نے ساری زندگی کبھی کسی پر ظلم نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے ساری زندگی دوسروں کی خدمت کی۔ ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے کہ جونہی میں نے کسی کی مشکل حل کی اور میں نے معاوضہ مانگا تو لوگوں نے مجھے ظالم قرار دے دیا۔ اس دن بھی عادت کے مطابق میں سو رہا تھا اور وہی پرانے خواب دیکھ رہا تھا۔

یہ خواب دراصل میری زندگی کی مجبوریوں اور بے بسی کو کم از کم احساس کی حد تک کم کر دیتے ہیں۔ اس دن میں نے خواب میں دیکھا کہ ناظم اعلیٰ (شعبہ تعلیم) بہت سے لوگوں کے بیچ مجھ سے معافی مانگ رہا تھا اور التجا کر رہا تھا کہ میں بطور استاد واپس آکر بچوں کو پڑھانا شروع کر دوں۔ میں اس سے کہہ رہاتھا کہ عمر اور تجربے کو دیکھ کر مجھے کم از کم ہیڈ ماسٹر تو بنانا چاہیے۔ اس نے میری شرائط مان لیں تو میں نے اگلے روز سکول میں آنے کا وعدہ کر لیا۔ اسی دوران کار کے ہارن نے مجھے میٹھی نیند سے چونکا دیا۔ مجھے شدید غصہ آیا کیونکہ میں اس خواب میں کچھ اور وقت گزارنا چاہتا تھا۔ مجھے کار کے ہارن کی آواز سن کر تعجب بھی ہوا کیونکہ میرے مؤکل عام طور پر وہ لوگ نہیں جو کاروں کے مالک ہوں۔ جو شخص کار میں سفر کرتا ہو، اس کے تعلقات اونچے لوگوں سے ہوتے ہیں اور وہ اپنے تعلقات کی مدد سے اپنے معاملات سلجھا لیتا ہے۔ میرے پاس آنے والے غریب اور بے آسرا لوگ ہوتے ہیں، جن کے پاس اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔

میرے ایک بیٹے نے آکر بتایا کہ کوئی اجنبی مہمان آئے ہیں۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک گاؤں کے نمبردار بیٹھک میں بیٹھے میرا انتظار کر رہے تھے۔ مجھے نمبردار جیسے امیر شخص کا میرے پاس آنا عجیب سا لگا۔ یہ لوگ تو ناممکن کو ممکن بنانا جانتے ہیں۔ حکومت اور حکومتی طاقت دراصل تو انھی کی لونڈی ہے۔ مجھے سخت پیاس لگ رہی تھی۔ میں نے پانی پیا اور بیٹھک میں چلا آیا۔ مجھے پکا اندازہ تھا کہ کوئی مشکل اور سخت غیر قانونی کام ہے، جس کے لیے یہ نمبردار میرے پاس آیا ہو گا۔ مجھے فوراً اپنے معاوضے کی فکر ہوئی۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ مالدار لوگ ہی معاوضہ دینے میں ہچر مچر کرتے ہیں۔ غریب لوگ ایک لفظ بھی منہ سے نکالے بغیر ادائیگی کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ میں کبھی نہ جان سکا کہ وہ رقم کا بندوبست کہاں سے کرتے ہیں۔ 

میں سلام کرکے نمبردار کے پاس بیٹھ گیا۔ نمبردار کے منشی نے بتایا کہ نمبردار کو ان کی کھوئی ہوئی زمینیں عنقریب ملنے والی ہیں۔ ہر طرف جشن چل رہا ہے۔ بڑا جشن زمینوں کے ملنے کے بعد ہی ہو گا۔ اس میں میرا آنا بہت ضروری ہو گا۔ مجھے پتاتھا کہ منشی جھوٹ بول رہا تھا مگر مجھے معلوم ہو گیا کہ کوئی ایسا کام مجھ سے کروانے کی فرمائش کی جائے گی جو نہایت مشکل اور نمبردار کے لیے زندگی یا موت کا معاملہ ہو گا۔ چائے آئی۔ میں نے چائے کپ میں ڈال کر نمبردار کو پیش کی۔ نمبردار نے اپنی جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا۔ یہ برانڈ میرے لیے اجنبی تھا۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں یہ سگریٹ پیوں مگر میں سگریٹ لے کر اپنی کاروباری حیثیت کم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں اٹھا اور گھر سے اپنے برانڈ کے سگریٹ لے آیا۔ نمبردار نے مجھے سگریٹ پیش کیا۔ میں نے معذرت کر لی۔ میری خواہش تھی کہ اب اصل معاملے پر بات کی جائے۔ میں نے بات شروع کی اور پوچھا:
’’
سب خیریت تو ہے۔۔۔؟‘‘
نمبردار کے بولنے سے پہلے منشی نے جواب دیا:
’’
اﷲ کا شکر ہے، سب خیریت ہے۔۔۔!‘‘

اسی دوران نمبردار نے گلا صاف کیا اور کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی۔ میں فوراً اٹھا اور میں نے کمرے کی کھڑکیاں اور دروازے اچھی طرح بند کر دیے۔ واپس آکر میں نمبردار کے بالکل قریب بیٹھ گیا۔ نمبردار نے بات شروع کی۔ میں نے پوری بات نہایت خاموشی سے سنی۔ نمبردار کا مسئلہ مختصراً یہ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو لازمی فوجی خدمت کے لیے نہیں بھیجنا چاہتا تھا۔ میں نے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر اپنے ذہن میں غور کرنا شروع کر دیا۔ مجھے یہ معاملہ خاصا مشکل لگ رہا تھا۔ میرے ذہن میں فوری حل یہ آیا کہ نمبردار اپنی بیوی کو طلاق دے دے تاکہ اس کا بیٹا اپنی ماں کا تنہا سہارا ہونے کی وجہ سے لام بندی سے بچ جائے۔ نمبردار نے ہاتھ اٹھا کر قطعی لہجے میں کہا:۔

’’یہ ناممکن ہے۔۔۔‘‘
میں اس تجویز پر مزید دلائل دینا چاہتا تھا مگر نمبردار نے میری بات کاٹتے ہوئے ، کوئی اور تجویز دینے کی صلاح دی۔ میرے ذہن میں کوئی اور تجویز نہ تھی۔ میں نے معاملے پر غور کرنے کے لیے مہلت مانگی۔
نمبردار نے جواب میں کہا کہ مجھے خرچ کی کوئی فکر نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ اس کے پاس بہت دولت ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ یہ کام آسان نہیں اور اس میں بہت سی دشواریاں پیش آئیں گی۔ وہ رخصت ہونے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ بیٹھک سے نکلنے سے پہلے میرے قریب آیا اور گھبراہٹ میں اِدھر اُدھر دیکھ کر سرگوشی میں کہنے لگا کہ مجھے بے حد احتیاط سے کام کرنا ہو گا۔
میں بھرتی افسر سے ملنے کے لیے ضلعی صدر مقام گیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ نمبردار کے بیٹے کو فوجی خدمت سے استثنیٰ دلوانے کے لیے مختلف محکموں سے مدد لینا ہو گی۔ میں اس کی بات سمجھ گیا اور اس کا مطلب یہ تھا کہ اس معاملے میں اتنے لوگ ملوث ہوں گے کہ میرے لیے چند سکوں سے زیادہ کچھ نہ بچے گا۔ میں نے اسے صلاح دی کہ وہ اس معاملے کو زیادہ نہ پھیلائے بلکہ خود ہی سارے کام کا ذمہ لے کر زیادہ سے زیادہ رقم لے لے۔ آخر بھرتی آفسر نے یہ تجویز دی:۔

۔1۔ کوئی ایسا لڑکا ڈھونڈا جائے جو اسی گاؤں میں ٹھیک اسی دن پیدا ہوا ہو جس گاؤں میں اور جس دن نمبردار کا بیٹا پیدا ہوا تھا۔
۔2۔ وہ لڑکانمبردار کے بیٹے کی جگہ فوج میں بھرتی ہو گا، اور اسے اس بات پر آمادہ کرنا ہو گا۔ لڑکے کو فوجی بھرتی سے استثنیٰ حاصل ہو گا تاکہ اس کے اپنے نام سے فوجی خدمت انجام دینے کی نوبت نہ آئے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں تمام راز فاش ہو جانے کا خطرہ ہے۔
۔3۔ راز فاش ہوجانے کے خطرے کے پیش نظر، اس لڑکے کی تمام ذاتی دستاویزات مثلاً شناختی کارڈ، لام بندی کا کارڈ اور ایسے ہی دیگر کاغذات نہایت راز داری میں نمبردار کے پاس رہنے چاہییں۔
۔4۔ موت کی صورت میں اس لڑکے کی موت کا سر ٹیفکیٹ حاصل کرنا ہو گا، جس میں بتایا گیا ہو کہ اس کی موت فطری اسباب سے واقع ہوئی۔۔۔ لوگوں کو یہ تأثر دیا جائے کہ اس لڑکے کو کسی نامعلوم جگہ پر دفن کر دیا گیا تھا۔
۔5۔ لڑکے کے باپ کو خاموش رکھنے کے لیے اسے رقم دی جائے۔ اس کے بڑی رقم کے ایک جعلی چیک پر دستخط کرائے جائیں جنھیں مستقبل میں اس کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔
۔6۔ جو لڑکا، نمبردار کے بیٹے کی جگہ پر فوجی بھرتی کے لیے جائے گا، اسے سمجھایا جائے کہ اس کا باپ نمبردار ہے۔ نمبردار کے رشتے داروں اور دیگر بیٹوں کے ناموں وغیرہ سے اسے متعارف کروایا جائے۔
۔7۔ نمبردار کے بیٹے کو فوجی بھرتی کے دورانیے میں اپنے گاؤں سے کہیں دور جانا ہو گا۔

اگلے روز میں نمبردار سے ملنے گیا اور اسے منصوبے کی تمام تر تفصیلات بتائیں۔ نمبردار بڑی توجہ سے میری باتیں سنتا رہا۔ اس کا ردعمل مجھے عجیب سا لگا۔ وہ خوشی ظاہر کرنے کی بجائے حیرت زدہ اور مسلسل ایک کھڑکی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جب میں نے اپنی بات ختم کی تو نمبردار نے کہا کہ وہ منصوبے سے مجموعی طور پر مطمئن ہے۔ اس نے منصوبے پر دو بڑے اعتراضات کیے۔ ایک یہ کہ جس لڑکے کو اس کے بیٹے کی جگہ فوجی خدمت کے لیے بھجوانا ہے، اس کے باپ سے تحریری ضمانت نامہ لینا، اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے والی بات ہو گی۔ یہ تو ایک طرح کا اقرارِ جرم ہو گا۔ اس کا خیال تھا کہ اس معاہدے کو زبانی ہی رکھا جائے۔ دوسرا اعتراض یہ تھا کہ نمبردار اپنے بیٹے کو اپنے آپ سے جدا کرنے پر راضی نہ تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس طرح اس کا بیٹا نفسیاتی اور اخلاقی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ آخر میرے اصرار پر نمبردار اس بات پر راضی ہو گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو اس کی ماں کے ساتھ کہیں دور بھجوا دے گا۔

آخر میں معاملہ اخراجات اور میری فیس پر آن اٹکا۔ نمبردار کا خیال تھا کہ میں سب کام اپنے ہاتھ میں لے لوں اور منصوبے کی تکمیل پر وہ مجھے یکمشت ادائیگی کر دے گا۔ مگر میری مالی حالت ہرگز ایسی نہ تھی کہ میں اپنی جیب سے اخراجات کر لیتا اور پھر اس بات کی ضمانت بھی تو نہ تھی کہ نمبردار منصوبے کی تکمیل پر ادائیگی کر دے گا۔ میں نے نمبردار سے صاف صاف کہہ دیا کہ ابتدائی اخراجات کے لیے رقم نہ دی گئی تو کام شروع نہ ہو سکے گا۔ نمبردار اپنی جگہ پر منصوبے کی کامیابی کو لے کر پریشان تھا۔ اس کا یہ بھی خیال تھا کہ منصوبہ ضرورت سے زیادہ مہنگا ہے۔ 

مجھے اپنے تجربے کی بنیاد پر اندازہ ہو گیا تھا کہ نمبردار محض عادتاً اخراجات کی زیادتی کی شکایت کر رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں منصوبے پر خوش تھا مگر جیساکہ امیر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ایک ایک پیسے کے لیے مرتے ہیں۔ وہ اخراجات کم کرنے پر اصرار کر رہا تھا۔ آخر میں نے بات ختم کرنے کے لیے اسے جھوٹی تسلی دینے کے لیے وعدہ کیا کہ میں اخراجات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کروں گا۔ اس بات پر نمبردار خوش ہو گیا اور اس نے منصوبے پر عمل کرنے کی اجازت دے دی۔

پہلا حصہ

عارف کی کہانی نمبردار کی زبانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *