عقل کا سفر حالات کے ساتھ-1

qazi-310x387

فرحت قاضی 

عقل کا
سفر حالات کے ساتھ
ساتھ جاری رہتا ہے 

ہر نئی دریافت اور ایجاد 
اگلی نئی ایجادکے لئے بنیاد کی پہلی اینٹ بن جاتی ہے ٹیلی فون نے ریڈیو اور ریڈیو نے ٹیلی ویژن بنانا آسان کردیا اور اب انسان کمپیوٹر کے دور میں ہے جس میں نئی سے نئی ایجا د اور ایجادات کا سلسلہ بڑھ رہا ہے اس کے ساتھ انسان کااٹھنا بیٹھنا،کھانا پینا،رہن سہن اور دیگر معمولات زندگی بھی بدل رہے ہیں۔ اسی مناسبت سے انسانی سوجھ بوجھ میں بھی اضافہ ہورہا ہے آگ کی دریافت اور پہیہ کی ایجاد سے انسانی ارتقاء کا جو عمل شروع ہوا تھا اب خلاؤں پر کمند تک پہنچ گیا ہے آج کا انسان فہم وفراست کے لحاظ سے جاگیردارانہ دور کے انسان سے کئی قدم آگے ہے۔

انسان کے ارتقاء کے بارے میں کئی نظریات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے انسان جانوروں کی مانند زندگی بسر کرتا تھا غاروں میں رہتا تھا اس کی خوراک پھل پھول اور جانوروں کا شکار تھا آگ کی دریافت نے اس کو گوشت پکاکر کھانا سکھایا اور پہیہ کی ایجاد نے اس کے لئے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میںآسانی پیدا کردی خوراک کی تلاش،جانوروں سے بچاؤ اورموسموں کی شدت اسے مسلسل سرگرم عمل رکھتی تھی جس نے اس کی جسمانی ساخت اور عقل وشعور بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ 

آج انسان ترقی کی جس معراج پر ہے اس میں معاشی کوششوں کا بڑا ہاتھ ہے اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لئے انسان کی جدوجہد جاری رہی پہلے اس کا بڑا مسئلہ صرف اپنا پیٹ بھرنا اور بقاء کے لئے بچے پیدا کرنا تھا جس کی خاطر وہ جانوروں کی طرح لڑتا تھا۔ رفتہ رفتہ معاش کے نئے ذرائع پیدا کرتا گیا۔ بڑے ذرائع میں محنت کرنا اور دوسرے انسانوں کی محنت ہتھیانا تھااس جستجو کے دوران اس کی عقل میں اضافہ ہوتا رہا چنانچہ جہاں جانوروں کو پکڑنے کے لئے نت نئے اوزار ایجاد کرتارہا وہاں دیگرانسانوں کی پیداواراور محنت ہتھیانے کی چالوں کے بارے میں بھی سوچتا رہتا تھا۔ آج کی ایجادات، علم اور ترقی انہی کوششوں کاثمراور تسلسل ہے۔

قدیم بالاد ست طبقہ کی سعی و کاوش رہی کہ اسی کے خیالات کوسماج میں تقدس کا مقام حاصل رہے اور وہ اس پر چھائے بھی رہیں اسی لئے اظہار خیال اور اختلاف رائے کو عرصہ دراز تک برا اور دشمنی تصور کیا جاتا رہا مگر آج کا انسان یہ جانتا ہے کہ انسانی ارتقاء میں آزادی اظہار اور اختلاف رائے نے کتنااہم کردار ادا کیا گلیلیواگر زمین کے کائنات کا مرکز ماننے کے خیال سے اختلاف نہ کرتا تو کائنات پر جستجو کا سلسلہ آگے نہ بڑھتامشین ایجاد نہ ہوتی تو انسان جاگیردارانہ نظام کے شکنجوں میں ہی کسا رہتا ۔کارخانہ اور اس سے سرمایہ دار پیدا نہ ہوتا تو پیداوار کو کھپانے کی ضرورت پیش نہ آتی اور انسان رنگ، ذات،نسل،مذہب،قوم اور سر حدوں میں ہی تقسیم اور مقید رہتا۔

جاگیرداری نظام کے پیٹ سے بادشاہت نے جنم لیا جہاں اب بھی قبائلی سردار اور جاگیردار حاوی ہیں وہاں بادشاہت اور آمریت ہے ۔تحقیق اور جستجو کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔ جہالت اور توہم پرستی ہے تنقید کرنے والوں کو باغی سمجھا جاتا ہے عوام کو بعض کاروبار کرنے سے بھی روکا جاتا ہے ہمارے دیہی علاقوں میں تاحال پیشہ وروں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

البتہ جہاں سرمایہ دارانہ نظام اور جمہوریت ہے وہاں دریافت اور ایجادات نے انسان کا انسان پر انحصار بھی کم کردیا ہے وہ مشینوں پر زیادہ زور دینے لگا ہے۔ چنانچہ جہاں سو محنت کشوں کی ضرورت پڑتی تھی اب وہاں دس محنت کش کام کررہے ہیں اسی طرح مالک اور نوکر کا رشتہ بھی بدل چکا ہے۔

روسو کو انسان ہر طرف زنجیروں میں جکڑا ہوا نظر آیا تھاکرۂ ارض پر اب بھی بعض ریاستوں اور علاقوں میں کم و بیش یہی صورت حال ہے مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک انسان دیگر انسانوں کے دکھ درد کو بھی محسوس کرنے لگا ہے۔ رنگ، نسل، ذات،قوم اور مذہب کے نام پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں تو ان کے خلاف جدوجہد بھی ہورہی ہے۔

ہر زمانے میں حکمران طبقوں نے مروجہ نظام کو قائم و دائم رکھنے کے لئے اخلاقی قدریں اور قوانین بنائے اور عوام کو ان کا پابند بنانے کے لئے طریقے نکالتے رہے چنانچہ ان نظریات کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کو ہمارے لئے دیوتاؤں نے چھوڑا ہے اور جو ان پر عمل نہیں کرتا ہے یا ان سے سرتابی کرتا ہے تو اس پر عذاب نازل ہوتا ہے بعد ازاں اس ایک انسان کے خلاف تمام برادری کو اکسانے کے لئے یہ پرچار کیا جانے لگا کہ ایک یا چند انسانوں کے دیوتاؤں سے بغاوت کی سزا پوری قوم یا برادری کو ملتی ہے اس خوف نے انسان کو اختلاف رائے اور جرائت اظہار سے صدیوں تک روکے رکھا۔

اس پروپیگنڈے کا نتیجہ یہ ہوا کہ قدرتی آفات کے ظہورکی صورت میں اُن کی وجوہات معلوم کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی تھی اسی لئے احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنے کے بارے میں نہیں سوچا جاتا تھا بلکہ تمام ملبہ دیوتاؤں کے احکامات پر عمل نہ کرنے والوں پر تھوپ دیا جاتا تھا ان کو ہدف تنقید بنایا جاتا اور عوام پر زور دیا جاتا تھا کہ وہ دیوتاؤں کو خوش کرنے کی خاطر نذرانے پیش کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اس نظریہ نے سماج کو جامداور انسانی فکر کو بلندیوں پر اُڑنے نہیں دیا۔

بالادست طبقات نے صرف اس پرچار پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کے لئے سزاؤں کا تصور بھی دیا چنانچہ مروجہ اخلاقی اور مذہبی تصورات کے برعکس خیالات پیش کرنے یا اس سے اختلاف کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دی جاتی تھیں اس میں زندہ جلانا بھی شامل تھا اس طرح انسانی سوچ پر قدغن لگانے کا سلسلہ قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے ۔

دہشت اور اذیت ناک سزاؤں کے تصورات نے ارتقاء کی رفتار کو سست رکھا بہرصورت وقتاً فوقتاً ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سچائی بیان کرنے سے باز نہیں رہے اور انہوں نے انسانی ترقی کے عمل کو آگے بڑھایا اس کش مکش میں بہترین ذہنوں کے کئی انسانوں کو قید و بند کی تکالیف برداشت کرنا پڑیں اور موت کو گلے لگانا پڑا جن کو اپنے زمانے میں معتوب قرار دیا گیا تھا آج وہ ہمارے محسن ہیں ۔

سقراط،برونو،کوپرنیکس اور گلیلیو کے نام ہمارے لئے نئے نہیں ہیں 
سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑا 
جن پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے دیوتاؤں کے احکامات سے نافرمانی کی تھی اور مروجہ اخلاقیات کو تنقیدی نقطہ نگاہ سے دیکھتے تھے ۔

برونو اور کوپرنیکس کو محض اس بناء پر زندہ جلا دیا گیا کہ انہوں نے زمین کو کائنات کا مرکز ماننے سے انکار کردیا تھا جبکہ گلیلیو کو اپنی جان بچانے کے لئے عدالت میں اپنے اس خیال کی تردید کرناپڑی ۔اسی طرح انسانی ارتقاء کا نظریہ پیش کرنے والا چارلس ڈارون سالہاسال تک مذہبی پیشواؤں کی دہشت سے اپنی معرکہ آرا کتاب’’دی اوریجنز آف سپیسز‘‘ نہیں چھاپ سکا تھا۔

انسانی اور عقلی ارتقاء میں جرائت اظہار نے بہت بڑا اور اہم کردار ادا کیا آج بھی جو لوگ اختلاف رائے یا تنقید کو غداری کے مترادف قرار دیتے ہیں بنیادی طور پر ارتقاء کے عمل کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حکمران طبقہ اس انسان کو زندہ آگ میں جھونک دیتا تھاجو کہ مروجہ روایات اور اخلاقیات سے اختلاف رکھتا تھا وہ آلات پیداوار،ایجادات اور سوجھ بوجھ کے رشتے سے بھی واقف تھا اور جانتا تھا کہ یہ معاشرے کی کایا پلٹ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس لئے ان کی مخالفت کا سلسلہ بھی چلتا رہانئے آلات سے معاشرہ کروٹ لیتا ہے نظام میں تبدیلی آتی ہے اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جب بجلی دریافت ہوئی اور پسماندہ دیہات میں لانے کی کوشش کی گئی تو اسے مذہب کے خلاف مشہور کرکے عوام کو اس کی مخالفت پر آمادہ کیا گیا غرضیکہ با اختیار طبقات نے محسوس کرلیا تھا کہ دریافت اور ایجادات ا س کے اقتدار اور اختیارات کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ہر نیا آلہ انسان کی سہولت کا باعث بنتا ہے اس لئے بھر پور مخالفت کے باوجود سماج میں اس کا استعمال شروع ہوتا رہا اور وقت کے ساتھ بڑھتا بھی رہا لاؤڈ سپیکر، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی مخالفت کرنے والا مکتبہ فکر اب سب سے زیادہ ان سے مستفید ہورہا ہے ان ہی ایجادات، دریافتوں اور آلات پیداوار نے نئے سرمایہ دار طبقہ کو جنم دیا اور یہ طبقہ اب پیداوار بڑھانے کے لئے نت نئے آلات اور اختراعات پر زور دیتا ہے اور اپنا مال کھپانے کے لئے نئی منڈیوں کی تلاش میں رہتا ہے۔

جب انسان زرعی سے صنعتی دور میں داخل ہوا تو اس کی سوجھ بوجھ میں بھی اضافہ ہو اس حقیقت کا ادراک دیہات اور شہر کے مابین پائے جانے والے فرق سے کیا جاسکتا ہے۔ دیہات میں کھیتی باڑی کا سیدھا سادا طریقہ ہوتا ہے جس میں مغز ماری کی ضرورت کم ہی ہوتی ہے لہٰذا دیہاتیوں کے اذہان بھی سیدھے سادے ہوتے ہیں۔ دیہاتی بچہ اپنے گھر اور اردگرد کے ماحول سے زراعت کے ساتھ یہ سیکھ لیتا ہے کہ کیا براا ور کیا اچھا ہے کس کام کوکرنا چاہئے اور کس سے بچنا چاہئے اور وہ عموماً اس غیر منطقی سوچ کا شکار رہتا ہے کہ جو کام لوگوں کی اکثریت کرتی ہے بس وہی درست ہے۔

شہر دیہہ کی نسبت نہ صرف بڑا ہوتا ہے بلکہ اس سے مختلف بھی ہوتا ہے صنعت ہوتی ہے روزگار کے کئی مواقع ہوتے ہیں آبادی بھی زیادہ ہوتی ہے شہر جتنا بڑا اور کارخانوں سے بھرا ہوتا ہے اتنا ہی وہ بڑا سکول ثابت ہوتا ہے یہاں انسان وہ کچھ سیکھتا ہے جو دیہاتوں میں ممکن نہیں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ شہری کسی سکول میں پڑھالکھا بھی نہ ہو تو بھی اس کا علم اور معلومات اپنے ماحول، ملک اور دنیا کے بارے میں ایک دیہاتی سے زیادہ ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *