کریکلم سے متعلق اقتصادی معاملات کی سیاست

سبطِ حسن

A girl standing in for her teacher supervises a lesson while a boy recites from a book at a school in a slum on the outskirts of Islamabad October 11, 2013. REUTERS/Zohra Bensemra (PAKISTAN - Tags: EDUCATION SOCIETY POVERTY) - RTX14721

کریکلم کیا ہے ؟ حصہ دوم


قدیم دور میں تعلیم و آگہی کی لگن ، شوق اور انفرادی آئیڈیلزم سے وابستہ تھی۔ لوگ کسی بھی علم یا فن کو اس کی اقتصادی منفعت سے قطع نظر سیکھتے اور کمال حاصل کرنے میں مصروف رہتے تھے۔ معاشرے میں بھی ایسے لوگوں کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسی لگن کا مقصد ذہنی استعداد اور جسمانی محنت کی حدود کو پھلانگ کر انھیں وسعت دینا تھا۔

گذشتہ ایک صدی میں صارفانہ مزاج کے غلبے کے بعد انسان کی کوئی کاوش اساسی طور پر اقتصادی منفعت کی پذیرائی سے شروع ہوتی ہے۔ انسانوں نے علم و فن کو بہر طور منفعت اور اقتصادی مطلب براری سے منسلک کر دیا ہے۔ تعلیم بھی اس تناظر میں خرید و فروخت کے لائق جنس کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ آپ کا بچہ مستقبل میں کتنے روپے کمائے گا، اس کا انحصار اس تعلیم پر ہو گا جو آپ اس کے لیے خریدیں گے۔ یعنی یہ کہ جس طرح آپ اپنے دل کی حفاظت کے لیے گھر میں خوردنی تیل کا معیار طے کرتے ہیں اور اس معیار کو طے کرنے کے لیے آپ اتنے ہی روپے خرچ کرتے ہیں، اسی طرح آپ اپنے بچے یا بچی کی تعلیم کا معیار، اپنی جیب کے مطابق طے کر لیتے ہیں۔

تعلیمی معیار کا تعلق اس کریکلم سے ہے، جو اس معیار سے منسلک درس گاہوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے بچوں کو بین الاقوامی درجے کا پیشہ ور بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک بچے کے تعلیمی اخراجات پر اس قدر رقم خرچ کرنا پڑے گی جس سے 5افراد پر مشتمل ایک غریب خاندان ایک ماہ میں بخوبی گزارہ کر سکتا ہے۔ اگر آپ اپنے بچے کو قومی سطح پر ایک کامیاب ملازم یا پیشہ ور بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے الگ درس گاہیں ہیں۔ ان درس گاہوں کا کریکلم پڑھانے کے لیے آپ کو اس قدر رقم خرچ کرنا ہوگی کہ جس سے 3افراد کا ایک غریب خاندان بخوبی گزارہ کر سکتا ہے۔ ایسی دونوں درجات کی درس گاہیں نجی شعبے میں ہیں۔

اوّل الذکر درس گاہوں میں بین الاقوامی درجے کا کریکلم پڑھایا جاتا ہے۔ صرف تعلیم و آگہی ہی نہیں، شخصی رویوں کا معیار بھی آفاقی اقدار پر رکھا جاتا ہے۔ ایسی درس گاہوں کے فارغ التحصیل بچے بڑی آسانی سے جاری صارفانہ بین الاقوامی ثقافت میں جذب ہو جاتے ہیں۔ آخر الذکر ادارے تعلیم و آگہی کا کریکلم تو بظاہر بین الاقوامی درجے کا پڑھاتے ہیں مگر جن اقدار کو اس کریکلم کی اساس بنایا جاتا ہے ،ان کی وجہ سے، ان اداروں کے فارغ التحصیل بچے مقامی صارفانہ نظام کا حصہ تو ضرور بن جاتے ہیں مگر روایت پسندی اور مخصوص نظریاتی ڈھانچوں میں مقید رہتے ہیں۔

تعلیم و آگہی کی معاشی درجہ بندی میں تیسرے درجے پر حکومتی تعلیمی ادارے ہیں اور محلوں میں قائم وہ نجی ادارے ہیں جو غریب اور مفلوک الحال گھرانوں کے بچوں کو پڑھانے کا فرض ادا کر رہے ہیں۔ ان اداروں کا کریکلم ادنیٰ درجے کی تعلیمی مہارتوں اور معلومات مثلاً پڑھنا لکھنا، ابتدائی حساب وغیرہ سکھانے سے زیادہ کچھ نہیں۔ البتہ ان اداروں میں بالخصوص حکومتی درس گاہوں میں بچوں کو شخصی طور پر جبر اور استبداد میں زندگی گزارنے کے رویے سکھائے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ ادارے ملک کو تربیت اور غیر تربیت یافتہ مزدور، ادنیٰ ملازمتوں اور حکومت میں کام کرنے والے ادنیٰ درجے کے اہلکار فراہم کرتے ہیں۔ چونکہ ان لوگوں کو معاشرے کے محروم ترین لوگوں کے طور پر زندگی گزارنا ہے، اس لیے حکومتی سکولوں کا کریکلم نہایت کار آمد رہتا ہے۔ وہ ان پر جاری ذلتوں کو برداشت کرتے ہیں اور انھیں تقدیر مان لیتے ہیں۔

اس طرح مذکورہ حقائق کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کریکلم کی بنیاد مخصوص اقتصادیات پر ہوتی ہے۔ چونکہ اس اقتصادیات میں ذاتی یا اجتماعی منفعت وابستہ ہے، اس لیے اس سے منسلک مخصوص سیاست بھی کارفرما رہتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ غریب لوگ جو بین الاقوامی سطح کے کریکلم تک رسائی نہیں حاصل کر سکتے وہ لازماً اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجیں گے اور اس طرح ان کی زندگیوں میں تبدیلی نہ آسکے گی۔

ہمارے ملک میں ایسے افراد کی تعداد نصف سے بھی زیادہ ہے اور وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی زندگیوں میں ایسی تبدیلیاں ممکن نہیں جو اعلیٰ کریکلم کی تعلیم کے بعد ممکن ہوتی ہیں۔ دوسری جانب اعلیٰ کریکلم کے ادارے براہ راست انسانی وسائل کی بین الاقوامی منڈی سے منسلک ہیں اور دراصل وہ بین الاقوامی نظام معیشت کے مددگار ہیں۔ یہی کریکلم کی اقتصادی سیاست ہے۔

کریکلم کے اجزأ

آج کل کھانے پینے پر ضرورت سے کچھ زیادہ ہی توجہ دی جاتی ہے۔ پچھلے بیس پچیس سالوں میں جو لوگ مڈل کلاس میں شامل ہوئے، ان کے پاس روپیہ پیسہ تو ضرور آگیا مگر ذہنی بالیدگی نہ ہونے کے باعث ان کی زندگی کی رمک کھانے پینے اور چیزوں کی نمائش سے آگے نہ جا سکی۔ یہی وجہ ہے کہ کھانے پینے سے متعلق تجارتی شعبوں میں لوگوں کی دلچسپی بڑھنے لگی۔ مختلف انداز کے ریسٹورانٹ اورہوٹل کھلنے لگے۔

ہمارے ایک ملنے والے نے جائز، ناجائز گویا ہر طریقے سے اپنی ہوش سے کہیں زیادہ کمالیا ہے۔ انھوں نے ایک تجارتی یونیورسٹی کا کیمپس بھی خرید لیا ہے۔ 6کروڑ لگائے تھے اور اب اصل زر کما لینے کے بعد لاکھوں کما رہے ہیں۔ انھیں سمجھ نہیں آتی کہ اتنی ساری دولت کا کیا کریں۔ آخر انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک انسٹیٹیوٹ کھولیں گے جہاں شیف بنائے جائیں گے۔ انھوں نے اس سلسلے میں سب سے پہلے شیف بنانے کے لیے کریکلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے سوئزرلینڈ میں ہوٹل مینجمنٹ کے اداروں کا کریکلم انٹرنیٹ پر دیکھا ہے مگر وہ مقامی ضروریات کے مطابق اپنا کریکلم بنانا چاہتے ہیں۔

اس کام کے لیے انھوں نے مختلف ہوٹلوں میں کام کرنے والے شیف حضرات اور مینجمنٹ کے لوگوں پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ یہ ٹیم ہمارے دوست کے ساتھ بیٹھی اور انھوں نے ایک شیف کی وسیع تر خصوصیات کے بارے میں یہ باتیں طے کیں:۔

۔۱۔ شیف مقامی لوگوں کے ذائقوں کو سمجھتے ہوئے نت نئے کھانوں کا اہتمام کرنے کا اہل ہو۔
۔۲۔ شیف ، مڈل کلاس کے لوگوں میں جو کوئی جس قدر خرچ کرنے کا اہل، سب کے لیے ترغیب پیدا کرنے کا اہل ہوتا کہ زیادہ سے زیادہ کمایا جا سکے۔
۔۳۔ شیف، مقامی اور انٹرنیشنل کھانوں کا ماہر ہو۔
۔۴۔ شیف، کھانوں کی غذائی حیثیت کو سمجھنے کا اہل کار ہو اور شوگر، بلڈ پریشر و دیگر عوامی امراض کے مریضوں کے لیے خصوصی کھانوں کا اہتمام کر سکے۔
۔۵۔ شیف، کھانوں کی پیشکش اور کراکری کی سجاوٹ کو سمجھنے کا اہل ہو جائے۔

ان وسیع تر خصوصیات کو شیف کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک بنیادی پیمانہ کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے دوست کی اس ٹیم نے اسی پیمانے کو درپیش رکھتے ہوئے، ضروری مضامین کا انتخاب اس طرح کیا:۔

۔۱۔ مقامی و بین الاقوامی کھانوں کے اجزأ اور پکانے کا عمل
۔۲۔ مارکیٹنگ
۔۳۔ کھانوں کی غذائی اہمیت اور ان کے جسم پر اثرات
۔۴۔ کراکری کا استعمال اور کھانوں کی پیش کش کے اسلوب
۔۵۔ حفظان صحت کے طریقے
۔۶۔ انٹرنیٹ کا استعمال
۔۷۔ انگریزی زبان میں بو ل چال
مذکورہ مضامین کی تعلیم سے شیف کو ضروری معلومات مل جائیں گی جو اس کے کامیاب شیف بننے کے لیے ضروری ہے۔ ان کے علاوہ بہت سی مہارتیں (سکلز) سیکھنا بھی ضروری ہیں۔ مثال کے طور پر اس کے لمس، سونگھنے اور دیکھنے کی حسیات کسی بھی عام شخص سے بہت زیادہ تیز ہونی چاہئیں۔ کھانا پکانے میں ان تینوں حسیات کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے دوست کی ٹیم جو کریکلم بنائے گی، اس میں ان مہارتوں کی مشق اور تربیت کو بھی جگہ دی جائے گی۔

شیف بنانے کے لیے ہم نے ضروری علم کی فہرست بنالی اور ضروری مہارتوں کا بھی فیصلہ کر لیا۔ کیا ان دونوں کی موجودگی میں ایک اچھا اور کامیاب شیف بن جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ شیف میں ایسے رویے بھی ہوں کہ جن سے اس کی کھانے والوں سے محبت اور تعلق جھلکتا ہو۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے ماں کا پکا کھانا زیادہ لذیز لگتا ہے حالانکہ کھانے کے اجزا مختلف نہیں ہوتے۔ کھانے میں لذت اسی تعلق اور محبت سے پیدا ہو گی۔ کھانے کی پیشکش اور اس کا اندازہ بھی اسی جذبے کا مرہون ہوگا۔

ہمارے دوست کی ٹیم نے طے کیا ہے کہ شیف بنانے کا کورس ایک سال کے لیے ہو گا۔ انھوں نے یہ بھی طے کیا ہے کہ پانچ مضامین روزانہ پڑھائے جائیں گے۔ پورے سال میں 300دن پڑھائی ہو گی۔ روزانہ آٹھ گھنٹے پڑھائی ہو گی اور اس طرح کورس کے لیے مجموعی طور پر 2400گھنٹے میسر ہوں گے۔ 600گھنٹوں پر مشتمل ایک ٹرم ہوگی اور اس طرح یہ کورس 4ٹرموں پر مشتمل ہوگا۔ ہر ٹرم کے بعد جانچ کی جائے گی اور ہر ٹرم میں طلبہ نے جو سیکھنا ہے، اس کے الگ سے اہداف طے کر دیے جائیں گے۔ اس جانچ سے اساتذہ کو بھی معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس قدر کامیابی سے اس وسیع تر پیمانے کو حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس سے ان کے سکھانے اور طلبہ کے سیکھنے میں رونما ہونے والے خلا یا کمی کی نشاندہی بھی ہو جائے گی۔

ہر ٹرم میں 600گھنٹے ہیں۔ ان گھنٹوں میں ہر مضمون میں جزئیاتی سطح پر طلبہ کیا سیکھیں گے، اسے منٹوں کے حساب سے طے کر دیا جائے گا۔ اس عمل میں کیا معلومات دی جائیں، کون سی مہارتیں سکھائی جائیں گی اور کس طرح کے رویے پیدا کیے جائیں گے، تمام تر سرگرمیوں کو طے کر دیا جائے گا۔ یہ وہ اہداف ہیں جو طلبہ روزانہ سیکھنے چلے جائیں گے اور 2400 گھنٹوں کی پڑھائی مکمل ہو جانے کے بعد ہمارے وسیع تر پیمانے یا مقاصد کا حصول ممکن ہو جائے گا اور اس طرح ہم جس طرح کا شیف بنانا چاہتے ہیں، وہ بخوبی بن جائے گا۔

کریکلم کے اہداف ۔۔۔ قابل پیمائش ہوتے ہیں
کسی بھی کریکلم کے اہداف سوچ سمجھ کر اور تحقیق کے نتیجے میں تیار کیے جانے چاہئیں۔ یہ تحقیق اس گروہ کے ساتھ کرنی چاہیے، جس کے لیے کریکلم بنایا جاتا ہے۔ اس طرح اہداف حقیقت پسندانہ رہیں گے اور بچے جس طرح سیکھنا چاہتے ہیں، ان تقاضوں کا خیال رکھنا ممکن ہو گا۔ اس عمل کے نتیجے میں بننے والے اہداف کی پیمائش کرنا ممکن ہو گا۔ یہ جاننا بھی ممکن ہوگا کہ سیکھنے کے مجوزہ عمل کی تکمیل کے بعد کس قدر کامیابی سے وسیع تر مقاصد کا حصول ممکن ہوا اور کونسے اہداف جزوی یا کلی طور پر نظر انداز ہوگئے۔ اس طرح آئندہ منصوبہ بندی کرتے وقت ایسی کوتاہیوں کو درست کرنے کا موقع مل جائے گا۔

جب اہداف، قابل پیمائش ہوں گے تو انھیں کامیابی سے ایک عمل کے ذریعے نافذ کیا جانا ممکن ہو گا۔ سرسری یا ناقابل پیمائش اہداف کے نفاذ کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔

روایتی طور پرسیکھنے سیکھانے کو معلومات کو یاد کرنے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جاتا۔ اس نقطۂ نظر کو والدین، اساتذہ، تعلیمی مواد تیار کرنے والے مصنفین اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ وغیرہ سب لوگ حتمی نظریے کے طور پر مانتے ہیں۔ واضح رہے کہ روایتی طور پر جن نظریات کو عزیز سمجھا جاتا ہے وہ محض ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے رہتے ہیں اور ان کی سند کے لیے صرف یہ بات کافی سمجھی جاتی ہے کہ کسی کے والد یا خود استاد نے جس طریق پر تعلیم حاصل کی ، وہ سب سے زیادہ موثر تھا۔ یہ محض تاثر یا مصیبت سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ روایتی طریقوں پر تحقیق نہ ہونے کے باعث ان کی افادیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

یہ اسی طرح ہے کہ کچھ سال پہلے آپ کو کھانسی ہوئی اور آپ نے خود تجویز کردہ دوائی سے اپنا علاج کیا اور آپ ٹھیک ہوگئے۔ اس کے بعد آپ ہر کھانسنے والے کو یہ دوا تجویز کرنا شروع کر دیں۔ نہ صرف یہ ، بلکہ آپ اپنے آپ کو ایک ڈاکٹر کے طور پر بزعم خویش پیش کرنا شروع کر دیں۔ روایتی طور پر یہ سب رویے اور عمل نہایت غیر ذمے دارانہ ہے اور اس کی وجہ سے فی زمانہ ضروری اور موثر تعلیم کا بندوبست ممکن نہیں ہو رہا ۔ جس طرح ایک ڈاکٹر یا انجینئر یا سائنس دان کو بننے کے لیے خصوصی تعلیم اور خصوصی مزاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح تعلیم کے مختلف شعبہ جات کا ماہر بننے کے لیے محض عام سوجھ بوجھ ( کافی نہیں۔ علم آگہی کا یہ میدان منفرد ہے اور اس کا ماہر بننے کے لیے خصوصی تعلیم اور تجربے اور سب سے بڑھ کر تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جس طرح آپ نے سیکھا یا جس طرح آپ کو پڑھایا گیا، وہ طریقے بھی بلا سوچے سمجھے سب کے لیے کارآمد قرار نہیں دیے جاسکتے۔

سیکھنے سکھانے کا معاملہ محض معلومات کو رکوا دینے پر ختم نہیں ہو جاتا۔ یہ دراصل ایک مربوط عمل ہے اور اس کے تین عناصر ہوتے ہیں۔ معلومات، مہارتیں اور رویے۔ ان تینوں عناصر کا تذکرہ اس تحریر کے ابتدایے میں کیا گیا ہے۔ وہاں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک دکاندار کو مؤثر اور کامیاب دکانداری کے لیے صرف معلومات ہی نہیں اسے ضروری مہارتوں اور رویوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ بات دکانداری تک ہی محدود نہیں ایک شیف کے لیے بھی ان تینوں عناصر کی ضرورت ہے۔ اسی طرح مثال کے طور پر اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے ارد گرد ہریالی ہو تو آپ بچوں کو اس طرح سکھائیں گے:۔

معلومات
پودے کس طرح ہمارے ماحول میں آکسیجن کا توازن برقرار رکھتے ہیں؟
۔ پودوں سے ملنے والی ضروری ادویات، خوراک وغیرہ۔
۔ پودے کس طرح اگتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ

مہارتیں (Skills)
۔ سیکھنے کی مہارتیں مثلاً مشاہدہ، مفروضہ قائم کرنا، پیش گوئی کرنا، معلومات کو ایک تسلسل میں سمجھنا اور نتیجہ اخذ کرنا وغیرہ وغیرہ
۔ ہاتھ سے کام کرنے کے طریقے، جیسے زمین کھودنا، قلم بنانا، پانی دینا، بیج لگانا وغیرہ

رویے (Attitudes)
۔ پودوں سے پیار
(Conservation)
۔پودوں کا تحفظ
۔ ان کی نشوونما کے لیے خیال رکھنا

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *