ٹرمپ کا الیکشن نتائج ماننے سے انکار،میڈیا کرپٹ اور بددیانت ہے

mw-ey255_debate_zh_20161019222220

امريکی صدراتی اميدواروں ہليری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مابين ٹيلی وژن پر تيسرا اور آخری مباحثہ گزشتہ روز لاس ويگاس ميں منعقد ہوا جس ميں ڈيموکريٹک پارٹی کی کلنٹن فاتح رہيں۔

ری پبلکن جماعت کے صدارتی اميدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نومبر ميں ہونے والے اليکشن کے نتائج کو تسليم کرنے يا نہ کرنے کے حوالے سے اپنا فيصلہ فی الحال بيان نہيں کرنا چاہتے ہيں اور وہ اس سلسلے ميں ’تجسس‘ برقرار رکھيں گے۔ انہوں نے يہ بات لاس ويگاس ميں انيس اکتوبر کے روز منعقدہ تيسرے اور آخری مباحثے کے دوران کہی۔

اس سے پہلے ری پبللکن پارٹی کے امیدوار ، ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں اس بات کا کئی بار اظہار کر چکے ہیں کہ ان انتخابات میں دھاندلی متوقع ہے اور اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے میڈیا پر بھی سخت تنقید کی ہے کہ میڈیا کرپٹ اور بددیانت ہے جو میرے خلاف جھوٹی کہانیوں کا پراپیگنڈہ کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ اب تک نو خواتین  سامنے آئی ہیں جنہوں نے ٹرمپ پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں جس کو ٹرمپ اپنے خلاف پراپیگنڈہ قراردیتے ہیں۔ ٹرمپ نے پہلے بیان دیا کہ وہ نیویارک ٹائمز کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کریں گے مگر بعد میں وہ خاموش ہوگئے۔ نیو یارک ٹائمز نے کہا تھا کہ وہ اپنا شوق پورا کر لیں۔

سياسی مبصرين کے مطابق ٹرمپ کی يہ بات کليدی اہميت کی حامل ہے۔ مخالف ڈيموکريٹک پارٹی کی اميدوار ہليری کلنٹن نے ٹرمپ کے اس موقف کو ’ڈرا دينے والا‘ قرار ديا۔ کلنٹن نے کہا، ’’جمہوريت اس طرح نہيں چلتی‘‘۔

سابق امريکی وزير خارجہ کلنٹن کا مزيد کہنا تھا کہ ماضی ميں صدارتی اميدواروں نے اليکشن کے نتائج تسليم کيے ہيں، خواہ وہ انہيں پسند ہوں يا نا پسند۔ ان کے مطابق صدارتی اليکشن ميں کھڑے ہونے والے کسی بھی اميدوار سے يہی توقع کی جانی چاہيے۔

امريکی صدارتی اليکشن ميں ڈيموکريٹک اور ری پبلکن جماعت کے حتمی اميدواروں کے مابين ٹيلی وژن پر تين مباحثوں کا انعقاد ہوتا ہے، جن ميں يہ اميدوار قومی و بين الاقوامی سطح کے مختلف امور پر اپنی اپنی پاليساں وضع کرتے ہيں۔

صحت کے محکمے اور سوشل سکيورٹی کے موضوعات پر بحث کے دوران ايک موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کلنٹن کو ’بہت خراب عورت‘ بھی کہا۔ ٹرمپ نے يہ بات عين اس وقت کہی جب کلنٹن اپنی پاليسياں بيان کرتے ہوئے کہہ رہی تھيں کہ وہ امرا پر ٹيکس بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہيں۔

ٹيلی وژن پر براہ راست نشر  ہونے اور عالمی سطح پر کئی ملين افراد کی توجہ کا مرکز بننے والے امریکی صدارتی امیدواروں کے اس تيسرے اور آخری مقابلے  کے دوران ڈيموکريٹک پارٹی کی صدارتی اميدوار کلنٹن نے ٹرمپ کو روسی صدر ولاديمير پوٹن کا ’پتلا‘ قرار ديتے ہوئے کہا کہ وہ اس روايتی حريف ملک کی جانب سے امريکيوں کی مبينہ جاسوسی کی مذمت کريں۔

جواباً ٹرمپ نے بھی کلنٹن کو ’پتلی‘ کہتے ہوئے کہا کہ وہ امريکی اليکشن ميں مبينہ مداخلت کی مذمت کرتے ہيں۔ تاہم ان کا مزيد کہنا تھا کہ وہ نہيں مانتے کہ کلنٹن کی ہيک ہونے والی ای ميلز ميں روس ملوث تھا۔ ٹرمپ کے بقول کلنٹن کو پوٹن اس ليے ناپسند ہيں کيونکہ پوٹن نے ہر موقع پر کلنٹن سے زيادہ چالاکی کا مظاہرہ کيا ہے۔

مباحثے کے دوران ٹرمپ نے يہ بھی کہا، ’’ميں خراب ہومبرز کو نکال بھگاؤں گا۔‘‘ ’ہومبر‘ دراصل ہسپانوی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب شخص ہے۔ بظاہر ٹرمپ نے اپنے اس جملے ميں امريکا ميں مقيم لاطينی امريکی شہريوں کو نشانہ بنايا۔ بعد ازاں ٹوئٹر پر یہ لفظ ٹرينڈ کرتا رہا اور ان گنت افراد نے رد عمل ميں طنزيہ جملے کسے۔

کلنٹن نے ٹرمپ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ چین پر تنقید کرتےہیں کہ وہ اپنا مال امریکہ میں ڈمپ کررہا ہے اور امریکی بے روزگار ہیں جبکہ یہی ٹرمپ اپنے کاروبار میں امریکیوں کی بجائے غیر قانونی ورکرز کو استعمال کرکے ان کا معاشی استحصال کرتے ہیں اورچین کا سٹیل اپنی عمارتوں میں استعمال کرتے ہیں۔

مباحثے کے فوری بعد ايک امريکی نشرياتی ادارے کے عوامی جائزے کے مطابق باون فيصد افراد کا ماننا ہے کہ تيسرے اور آخری مباحثے ميں ہليری کلنٹن کا پلڑا بھاری رہا جبکہ انتاليس فيصد کے مطابق ٹرمپ فاتح رہے۔

DW/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *