روسی فضائی حملوں میں اب تک ’دس ہزار سے زائد‘ ہلاکتیں

_91462988_d81dff12-743d-46e3-a786-82f1b0ba1463

شام میں روس کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ روس کا اصرار ہے کہ وہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری کے مطابق روسی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے تقریباً چار ہزار عام شہری تھے، جن میں بچوں کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ تھی۔

اس ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روسی فضائی حملوں میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے اٹھائیس سو جنگجو بھی مارے گئے جبکہ ہلاک ہونے والے اسد مخالف باغیوں کی تعداد بھی تقریباً اتنی ہی ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں بمباری کے دوران شہری علاقوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے روس پر تھرمائیٹ بم استعمال کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ تھرمائیٹ بم میں المونیم پاؤڈر اور آئرن آکسائیڈ ملا ہوا ہوتا ہے، جس سے جسم جل جاتا ہے۔

روس نے تیس ستمبر 2015ء کو شام میں فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا تاکہ اپنے پرانے حلیف اور شامی صدر بشارالاسد کے خلاف جاری مسلح تحریک کو کچلنے میں اس کی مدد کر سکے۔ تاہم روس کا موقف ہے کہ اس کی ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔

اس تناظر میں روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا سخارووا نے ایک بیان میں کہا، ’’آپ جتنی قیاس آرائیاں کرنا چاہتے ہیں، کر لیں۔ ہمارا ہدف بین الاقوامی دہشت گردی کا خاتمہ ہی ہے۔‘‘ ابھی ایک دن قبل ہی روسی حکام نے امریکا پر شام میں دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کا الزام عائد کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے ہی سیریئن آبزرویٹری نے ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ 2014 ء کے آغاز سے جاری امریکی سربراہی میں قائم اتحاد کے فضائی حملوں میں تقریباً چھ ہزار دو سو افراد مارے جا چکے ہیں اور ان میں عام شہریوں کی تعداد چھ سو گیارہ تھی، جن میں سے 163 بچے تھے۔ آبزرویٹری نے کہا ہے کہ وہ یہ اعداد و شمار جاری کر کے عالمی برادری کی توجہ اس عہد اور مصیبت کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہے، جس کا سامنا آج کل شامی شہریوں کو ہے۔

دوسری طرف روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکہ شام میں صدر بشار الاسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے لیے کی جانے والی مسلح کوشش میں ایک جہادی گروپ کو بچانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جبھۃ فتح الشام گروپ کو شام میں سرگرم باقی انتہا پسند اور اعتدال پسند گروپوں سے علیحدہ کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ النصرہ کو باقی مخالفین سے علیحدہ کرنے کی ذمہ داری ترجیحی بنیادوں پر ادا کرے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ متعدد وعدوں اور بار بار کی یاد دہانیوں کے باوجود وہ ابھی تک یا تو کر نہیں پائے یا کرنا ہی نہیں چاہتے اور ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ ابتدا ہی سے وہ النصرہ کو بچانا چاہتے تھے تاکہ اسے متبادل منصوبے کی صورت میں استعمال کیا جائے یا دوسرے مرحلے میں جب حکومت کو تبدیل کرنے کا وقت آئے تو اس کو آگے لایا جائے۔

لاوروف نے اصرار کیا کہ روس دہشت گردوں کے خلاف اسد حکومت کو مدد فراہم کر رہا ہے۔انھوں نے مغربی ملکوں پر الزام لگایا کہ حلب شہر میں شہری ہلاکتوں پر مغربی ممالک اس وقت بالکل خاموش رہے جب النصرہ کے جنگجو شہر پر چڑھائی کر رہے تھے اور انھوں نے شہر کو پہنچنے والی تمام امداد بند کر دی تھی۔

انھوں نے کہا کہ اس سال کئی مرتبہ جنگ روکی گئی۔ کبھی 48 گھنٹے کے لیے کبھی 72 گھنٹے کے لیے۔ روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہر مرتبہ یہ وقفے النصرہ فرنٹ نے کمک اور تازہ دم جنگجو حلب پہنچانے کے لیے استعمال کیے ہیں۔حلب میں روسی بنکر شکن ، فاسفورس بموں اور کلسٹر بموں کے استعمال کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو انھیں افسوس ہے۔

لیکن انھوں نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ان الزامات کا کوئی بامعنی ثبوت موجود نہیں اور ان کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایسا کوئی بارود استعمال نہیں کر رہے جو اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت ممنوعہ ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *