جنابِ من، مہاجر احمق  ہرگز ِنہیں ہیں

Asif-Javaid4

آصف جاوید

اس ہفتے کینیڈا میں لانگ ویک اینڈ ہے۔  یعنی تین دن چھٹّی ہی چھٹّی ہے۔ اپنی کاروباری اور سماجی مصروفیات کے سبب  مجھے  کتب بینی ،    اخبارات اور رسائل کے مطالعے کے لئے   بہت محدود وقت دستیاب ہوتا ہے۔۔ مگر جب بھی وقت ملتا ہے، میں  اپنے گھر کے بیسمنٹ میں قائم اپنی جنّت یعنی اپنی لائبریری  میں وقت گزارنے کو اپنی زندگی کی بہترین عیّاشی تصوّر کرتا  ہوں۔  لانگ ویک اینڈکی وجہ سے مجھے مطالعے کے لئے  لامحدود وقت کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے، اور میں نے مختلف  بین القوامی اخبارات، رسائل، آن لائن میگزین، اور پاکستان کے سیاسی اور سماجی حالات کے تناظر میں لکھے گئے مضامین کا بھرپور مطالعہ جاری رکھا ہوا ہے۔۔

  آن لائن میگزین نیا زمانہ سے میں چونکہ خود بھی لکھتا ہوں، اس لئے اس میگزین  میں شائع ہونے والی تخلیقات کو میں روز ہی پڑھتا ہوں، آج نیا زمانہ میں مجھے محترم جناب  ایمل خٹک صاحب کے مضمون مہاجر علیحدگی پسندی اور پاکستانی ریاستکو بھی پڑھنے کا موقعہ ملا۔ مضمون پڑھنے کے بعد مجھ پر عجیب سی اضطرابی کیفیت طاری ہوگئی۔

میں چونکہ ایک انسانی حقوق کا عمل پرست بھی ہوں، اور اظہارِ رائے کی آزادی اور اور اختلافِ رائے کے حق کو تسلیم کرنے کا ایڈوکیٹ بھی  ہوں، لہذا ہر رائے، ہر نقطہِ نظر اور ہر تحریر کا احترام کرتا ہوں۔  اور کبھی بھی کسی کالم نگار کے مضمون پر جوابی کالم لکھنے سے اعتراض برتتا ہوں۔ کیونکہ اگر مجھے کسی سے کسی بھی مرحلے پر کوئی نظریاتی اختلاف ہو بھی جائے تومیں اسے ذاتی اختلاف بنانے سے پرہیز کرتا ہوں۔

نظریاتی اختلاف کو جوابی کالم لکھ کر ذاتی اختلاف بنا  نا ایک   گھٹیا حرکت ہے۔ مگر چونکہ میں جناب ایمل خٹک صاحب کی تحاریر کا قاری بھی  ہوں ، اور بحیثیت قاری میرا ایمل خٹک صاحب سے ایک روحانی تعلّق بھی ہے۔ لہذا  بحیثیت قاری میں نے  اپنا اختلافی نوٹ جناب ایمل خٹک صاحب کے مضمون کے نیچے دئے گئے کمنٹس میں درج کردیا ہے۔

اب بحیثیت کالم نگار   میں جو کچھ بھی لکھوں گا وہ کالم کے جواب میں کالم نہیں ہوگا، بلکہ وہ  بحیثیت کالم نگار میرا اپنا نقطہ ِ نظر یعنی میرا اپنا  کالم  ہوگا۔ اور امید رکھتا ہوں کہ جناب ایمل خٹک صاحب بھی اس کو میرا کالم ہی سمجھیں گے ،  ذاتی اختلاف، یا جوابی کالم  نہیں سمجھیں گے۔

مہاجر لبریشن آرمی یا مہاجر لبریشن موومنٹ کا شوشہ کوئی نیا شوشہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ہم نے  1992 میں مہاجر قومی موومنٹ کے خلاف ریاستی آپریشن کے دوران کراچی  کی سڑکوں پر اس قسم کی وال چاکنگز اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ مہاجر لبریشن آرمی یا مہاجر لبریشن موومنٹ کوئی غیر مرئی آرمی یا موومنٹ  تو ہو سکتی ہے۔ یا کسی کے  تخریبی ذہن کی اختراع تو ہو سکتی ہے۔ مگر ایسی کسی تنظیم کا کوئی حقیقی اور زمینی  وجود آج تک سامنے نہیں آیا ہے۔ 

سنہ  1992 میں جب  سندھ میں بڑی مچھلیوں کے خلاف کارروائی ، اور  ڈاکووں ، رسّہ گیروں، پتھاریداروں ، اغواکاروں کے خلاف آپریشن کی آڑ میں جب سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ سیاسی تنظیم مہاجر قومی موومنٹکے خلاف ، فوج کی سربراہی  میں ریاستی آپریشن کا آغاز ہوا تو، مہاجروں اور پوری قوم کو اس وقت بھی جناح پور کے نقشے برآمد کرکے حیران و ششدر  اور گمراہ کیا گیا تھا۔

مہاجر حیران و پریشان تھے کہ ہم نے تو  صوبہ سندھ میں قائم کئے گئے نا انصافی اور امتیاز پر مبنی شہری اور دیہی کوٹہ سسٹم اور مساوی شہری حقوق، وسائل و اقتدار میں مساوی شرکت کے لئے اپنی پر امن  سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا ہے، یہ جناح پور کے نقشے کہاں سے آگئے؟ مہاجر حیران و پریشان اپنی آپس کی گفتگو میں کہتے پھرتے تھے کہ ہم تو   پاکستان کی چار دیواری کے اندر شہری حقوق کی پرامن سیاسی جدوجہد میں مصروف ہیں، یہ پاکستان سے آزادی حاصل کرکے ایک نیا ملک جناح پور کا منصوبہ کہاں سے نازل ہوگیا؟

اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا الزام لگاتا رہا ، مہاجر صفائی دیتے رہے، کسی نے یقین کیا، کسی نے نہیں کیا۔ مگر بعد میں اس ہی ریاست کے کارندوں یعنی  اعلیفوجی افسران نے ٹی وی پر آکر اعلانیہ انکشاف کیا کہ تمام الزامات جھوٹے تھے، سب اسٹیبلشمنٹ کی کارستانی تھی۔  مگر مہاجر بدنام تو ہوگئے، ان  کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان تو لگ گیا۔

مہاجروں کی پر امن سیاسی جدوجہد کو دبانے کے لئے مہاجروں کی حب الوطنی پر 1992 سے لے کر آج تک الزامات لگ رہے ہیں، آج تک مہاجروں کی نمائندہ سیاسی جماعت بدترین ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔  اسٹیبلشمنٹ جب مہاجروں کی نمائندہ سیاسی جماعت کو سیاسی شکست دینے میں ناکام ہوجاتی ہے تو، پھر مہاجروں کی حب الوطنی کو ریاستی پروپیگنڈہ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جناح پور کے الزام کے بعد مہاجروں پر انڈیا کا ایجنٹ ہونے ، را کا ایجنٹ ہونے اور ملک دشمن ہونے کے الزامات بھی ایک تسلسل کے ساتھ  لگائےگئے ہیں۔ اب دوبارہ مہاجر لبریشن آرمی کا شوشہ  بھی ایک ریاستی پروپیگنڈہ ہے۔جو اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے چھوڑا ہے۔ مہاجروں کے آباواجداد نے پاکستان بنایا تھا، غیر منقسم ہندوستان کے اقلیّتی صوبوں میں پاکستان  کے قیام کی تحریکیں چلائی تھیں۔ جان و مال کی قربانی دے کر  پاکستان حاصل کیا تھا،  پاکستان کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑ کر  پاکستان ہجرت کی تھی۔

مہاجروں کو ہندوستان عزیز ہوتا تو ، پاکستان بنا تے ہی کیوں؟اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہندوستان سے  پاکستان   ہجرت کیوں کرتے؟ وقت آنے پر ان الزامات کےجوابات  بھی مل جائیں گے ۔ مگر  اس مرحلے پر دشنام طرازی کرنے والوں کہ یہ بتانا ضروری ہے کہ مہاجر محبِّ وطن ہیں، اور مہاجروں کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لئے کسی سے کوئی سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مہاجر شعور رکھتے ہیں۔

جس مہاجر لبریشن موومنٹ نامی سوشل میڈیا تنظیم کا  ذکر کیا جارہا ہے، اسکا صوبہ سندھ کے شہری علاقوں میں رہنے والے پرامن اور سچّے  محبِّ وطن مہاجر اردو اسپیکنگ عوام کی مساوی شہری حقوق کے حصول  کی سیاسی جدوجہد سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ مہاجر پاکستان کی جغرافیائی حدود میں سیاسی عمل کے زریعے مساوی شہری حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں۔

مہاجروں کی اس جدوجہد کو ریاستی عسکری اسٹیبلشمنٹ اپنی پوری طاقت اور بے رحمی کے ساتھ کچل رہی ہے۔ مہاجر لبریشن موومنٹ یا مہاجر لبریشن آرمی کا حقیقی وجودنہیں ہے۔ اگر ہے تو  الزام لگانے والوں پر لازم ہے کہ اس غیر مرئی تنظیم  کو تخلیق کرنے سے پہلے آپ مہاجر لبریشن موومنٹ نامی تنظیم کےحقیقی وجود کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش کر یں۔   قوم کو افسانوی کرداروں سے بدگمان نہ کریں۔

مہاجر بہت ذی ہوش اور محبِّ وطن پاکستانی ہیں۔ جو سندھ میں شہری اور دیہی،  ناجائز کوٹا سسٹم کے خاتمے اور یکساں شہری حقوق کے حصول کے لئے ایک سیاسی جماعت کے پرچم تلے اکھٹّے ہوئے  ہیں۔  مہاجر اپنا اچھاّ، برا سمجھنے والے ذی ہوش پاکستانی ہیں۔ مہاجروں کو اچھّی طرح معلوم ہے کہ ریاست سے مسلّح جنگ کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں،  ریاست کے جسم پر وردی اور ہاتھ میں ہتھیار ہوتا ہے۔ حقوق مانگنے والے نہتّے  ہوتے ہیں اور ریاست   مسلّح ہوتی ہے۔ نہتّے ہاتھوں سے  مسلّح ریاستی طاقت کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔

مہاجر احمق نہیں ہیں۔   مہاجر حقوق چاہتے ہیں۔  موت نہیں۔ مہاجر ریاست سے مسلّح جدوجہد کرکے خودکشی کرنا نہیں چاہتے ۔ مہاجر ریاست سے مسلّح جدوجہد کا راستہ کبھی بھی اختیار نہیں کریں گے۔ اگر کسی احمق مہاجر نے ریاست کے ساتھ مسلّح جنگ کی حماقت کی تو اسکا انجام  سری لنکا کی تامل لبریشن آرمی کے انجام جیسا ہی ہوگا،  پروپیگنڈے کا شکار ہونے والے پاکستانی یقین رکھیں  کہ کوئی محبِّ وطن مہاجر ریاست سے مسلّح جدوجہد کا تصوّر بھی نہیں کرسکتا ۔

مہاجروں کو اس امر کا احساس ہے۔ مہاجروں کے بزرگوں نے تو پاکستان بنایا تھا۔ کوئی اپنی بنائی ہوئی چیز کو کیسے برباد یا تباہ کرسکتا ہے۔ ہاں یہ بات علی الاعلان کہی جاسکتی ہے، کہ پاکستان کے تین صوبے اس وقت عملا” پنجاب کے غلام ہیں ۔ طاقت اور اقتدار کے سرچشمے یعنی افواج ِ پاکستان پر بھی پنجاب کا قبضہ ہے۔ 90 فیصد جرنلز، 85 فیصد افسران، اور 75 فیصد جوانوں کا تعلّق پنجاب سے ہے۔ یہ پنجابی فوج ہے، قومی فوج ہرگز نہیں ہے۔  52  فیصد آبادی کا صوبہ عملا”  80 فیصد سے زائد اقتدار اور وسائل پر قابض ہے۔

پنجاب  ایک عفریت بن گیا ہے، جس سے چھوٹے صوبے نالاں ہیں۔ ان مسائل سے  نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ ان مسائل پر کھل کر بات کی جائے۔  پنجاب کی غلامی سے نجات حاصل کی جائے، مگر یہ نجات ملک توڑ کر نہیں، بلکہ  آئینی    اصلاحات کے ذریعے حاصل کی جائے۔ پاکستان کی چار دیواری اور ملک کو سلامت رکھتے ہوئے، پنجاب کی غلامی سے نجات حاصل کی جائے۔   نئے صوبے بنا کر اور وسائل اور اقتدار کا نیا شراکتی فارمولا تشکیل دے کر نجات حاصل کی جائے۔

حقوق کی پر امن سیاسی جدوجہد کی راہ میں روڑے اٹکانے  والے اور جدوجہد کو گھٹیا  الزامات کا نشانہ بنانے والے قابلِ مذمّت ہیں۔ میں  بحیثیت قلم کار ، اور ایک درد مند پاکستانی ، مہاجر لبریشن موومنٹ یا مہاجر لبریشن آرمی نامی کسی بھی تنظیم یا گروہ جو کہ حقیقی وجود رکھتا ہو یا کوئی غیر مرئی سوشل میڈیا وجود رکھتا ہو  کی سخت مذمّت کرتا ہوں۔ اور   ایسے تمام پاکستان دشمن لوگوں کو جو مسلّح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کے لئے پر امن مہاجروں کو ورغلانہ یا اکسانا  چاہتے ہوں کی سخت مذمّت کرتا ہوں۔

میری مذمّت اور احتجاج ہر اس پاکستان دشمن تنظیم کے لئے ہے جو پرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ چھوڑ کر ریاست سے مسلّح جنگ کرنا چاہتا ہے۔ مگر میں ساتھ ساتھ پاکستان میں ریاستی دہشت گردی، زیرِ حراست تشدّد اور ماورائے عدالت قتل اور ریاست کی جانب سے سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے اور اپنے  ہی عوام کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے کی بھی سخت مذمّت کرتا ہوں۔ ریاستِ پاکستان کے ہاتھ اپنی ہی عوام   کے خون سے رنگے ہیں،  جس کی میں سخت مذمّت کرتا ہوں۔

پر امن سیاسی جدوجہد کو مسلّح خونی تصادم میں تبدیل  کرنے کی خواہش رکھنے والے ہی پاکستان کے اصل دشمن ہیں۔ جن کو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ پیارا وطن پاکستان ، عوام نے بنایا تھا۔ عوام ہی اس ملک کی تقدیر کے اصل مالک  ہیں۔ یہ پیارا وطن پاکستان مسلمانوں کے لئے ایک عوامی فلاحی ریاست کے طور پر وجود میں آیاتھا، جسے بدقسمتی سے عسکری فلاحی ریاست  میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ 

اب وقت آگیا ہے کہ  مذہب کو ریاست اور ریاست کو سیاست سے علیحدہ کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو عوامی جمہوریہ پاکستان بنا دیا جائے۔ تاکہ ریاست پاکستان کے تمام شہری بلا امتیاز مذہب، عقیدہ، فرقہ ، زبان، رنگ و نسل برابر ہوں اور وسائل اور اقتدار میں منصفانہ  شرکت کے اہل ہوں۔

سب ہی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹّی میں کسی  کے  باپ    کا   پاکستان  تھوڑی   ہے۔

8 Comments

  1. Aimal Khattak says:

    میں محترم آصف جاوید صاحب کی رائے اور خیالات کا احترام کرتا ھوں ۔ مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے نہایت سلیس اور بہتر انداز میں اپنا مدعا بیان کیا ۔ اور اگر ھم سب میں اس طرح ایک دوسرے کی رائے کے احترام اور مثبت انداز میں اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کا سلیقہ رہا تو اس سے علمی اور فکری مکالمے فروغ پاتے رینگے۔ دو قسم کے دانشور ھوتے ھیں ۔ ایک ریاستی اور دوسرے عوامی۔ ریاستی دانشوروں کا کام ریاست کی ھر جائیز اور ناجائیز کو صیح ثابت کرنا اور اس کے اقدامات اور پالیسیوں کیلئے جواز فراہم کرنا ھوتا ہے۔ جبکہ محترم آصف جاوید صاحب اور نیا زمانہ کے اکثر لکھاریوں کا شمار عوامی دانشورں میں ھوتا ہے ۔ جو عوام کی خواہشات ، ارمانوں اور مطالبات کو اجاگر کرتے ھیں۔ اور ریاست کی غلط پالیسیوں پر عوامی نکتہ نظر سے تنقید کرتے ھیں

  2. خورشید اقبال مرزا says:

    آصف جاوید صاحب: آپ کو جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ آپ کے بزرگوں نے پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کی ۔ مگر وقت نے یہ ثابت کیا کہ یہ جدوجہد غلط تھی۔ مولانا ابولاکلام آزادچیختے چلاتے رہے کہ باز آجائو وگرنہ پچھتاو گے اور وہی ہوا۔

    پاکستان ایک غیر حقیقی ریاست ہے اور بقول اقبال میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی

    لہذا دیانت داری کا تقاضا تو یہ ہے کہ آپ تسلیم کریں کہ پاکستان کا قیام ایک غیر حقیقی فیصلہ تھا اور وقت نے یہ درست ثابت کردیا۔ لہذا اگر یہ ٹوٹتا ہے تو ٹوٹنے دیں آپ مہاجروں کو اس غیر حقیقی ریاست کا قائم رکھنے کا اتنا درد کیوں ہے۔ یہی درد ہی تو پاکستان کے غیر حقیقی قیام کا کا باعث بنا تھا۔ اور اب آپ اس کو مسلسل قائم رکھنے پر تلے ہوئے ہیں تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی اسی طرح برباد ہوں جیسے آپ اور آپ کے بزرگ برباد ہوئے۔

  3. مجھے جناب ایمل خٹک صاحب کے کمنٹس سے نہایت مسرّت ہوئی ہے۔ میں خود ایک قلم کار ہوں، سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھتا ہوں، مگر اعلانیہ کہ رہا ہوں کہ میں بھی جناب ایمل خٹک کے کالموں کا ایک باقاعدہ قاری ہوں اور دلچسپی سے ایمل خٹک صاحب کے سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھے گئے کالموں کو پڑھتا ہوں۔ اپنی فکر اور معلومات کو تازگی دیتا ہوں ۔آن-لائن میگزین نیا زمانہ کا مشکور ہوں کہ نیازمانہ نے اتنے با شعور ایلَ علم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے علم کے پیاسوں کی پیاس بھجانے کا اہتمام کیا۔ آن لائن میگزین “نیا زمانہ” نئی منزلیں طے کررہا ہے۔ ایک ایک لکھاری اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر مادرِ وطن کی سمت کو درست راہ پر گامزن کرنے کے لئے اپنی اپنی اخلاقی زمّہ داریوں کو پورا کررہا ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ اآن لائن میگزین – نیا زمانہ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقّی کرے۔ آصف جاوید، ٹورونٹؤ

  4. میں محترم ایمل خٹک صاحب کے اپنے بارے میں دئے گئے کمنٹس پر خٹک صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ایمل خٹک صاحب اور آن لائن میگزین- نیا زمانہ کی خوشحالی اور ترقّی کے لئے دعاگو ہوں، امید رکھتا ہوں محبٗتوں اور احترام کا یہ رشتہ یوں ہی قائم رہے گا، آصف جاوید، ٹورونٹو

  5. Any one can tell me ? Baloch from Iran…pastoon from afghanistan… bihari from bihar….Kutchi from kutch ….punjabi from east punjab….sindhi memon from gujrat and rajhistan…somany fro kashmir….and sofar so on……… are muhajirs???????? if it is right then the whole pakistan will be muhajirs and the pakistan would be muhajiristan..??????????????. moreover would you think any one who speaks urdu is muhajir ????? THE ONLY QUESTION IS DEFINE MUHAJIR IN PAKISTAN IDEOLOGOCALLY ???????

  6. jameel ahmad paul says:

    punjab dushmani, column nigaar ka nafsiaati masla hae. punjab afreet bann gea hae, isse toRna zaroori hae. yeh cheez is likhaari ki hr doosri tehreer men nazar aa rehi hae. MAHAJIRON KI TARAH PARHNE VAALE BHI EHMAQ NAHEEN HAEN. baat chaahe aalu ki mehngaai ki ho rehi ho, column nigaar ke khayaal me punjab ko taqseem kr diaa jaaye to aalu saste ho jaaen ge………….

  7. Dear Mr. Javed, In reading your writing for the first time I can agree with your views 100%. We the Urdu-speaking minority of Sindh and Pakistan just want justice and nothing else. Unless that is forthcoming don’t expect to make the province of Sindh in to Utopia. Regardless of how carefully you chose the words and phrase the sentences some just want to find and allege something malicious in your writings.

  8. Iftikhar Bhutta says:

    New provinces should be formed in Punjab to split its political hegemony .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *