پاکستان کی تباہی و بربادی میں جرنیلوں کا حصہ

img_0056-230x300ارشدمحمود

کسی ریاست کی آرمی کا کام اس ملک کی سلامتی، اور بیرونی خطرات سے محفوظ بنانا ہوتا ہے۔ تاکہ اس ریاست کے بسنے والوں کو ایک محفوظ اور پرامن معاشرہ ملے۔ تاکہ وہ ملک اور قوم ترقی کی منزلیں طے کرسکے۔ پاکستان میں جرنیلوں نے اس کے بالکل الٹ کیا ہے۔ ملک کا داخلی امن تباہ کروانے کے انتظامات کئے۔ اور بیرونی خطرات کے مزید امکانات پیدا کرنے والی پالیسیاں بنائی۔ان سب حرکتوں کے پیچھے ان کے ذاتی مفادات تھے یا ہمالیہ سے اونچی انائیں اور تکبر تھا۔

جنرلوں کو کئی طرح کے استثناحاصل ہیں۔ ایک تو انہوں نے اپنے نام کا لاحقہ پاکرکھ لیا ہوا۔ پتا نہیں اس ملک کی پولیس کو پاک پولیس، پاک عدلیہ ، پاک بیوروکریسی کیوں نہیں کہا جاتا۔ پاکچونکہ مخصوص معنی رکھتا ہے۔ اس میں ایک پاکیزگی اور تقدس ہے۔ جنرلوں نے اس لفظ کا فائدہ اٹھایا۔ چنانچہ پہلے مرحلے میں ہی آپ ان کو پاک سمجھ لیتے ہیں۔ خواہ حقیقی صورت حال کچھ بھی ہو۔ یحییٰ خان جس کی شہرت ہی شراب اور زنا تھی، وہ بھی پاک جنرل تھا۔

ہمارے جنرلوں نے آئینی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے الٹ کام کئے، لیکن ریاست کے محافظ کے نام پر ان کی جواب دہی کبھی نہ ہوسکی۔ انہوں نے اپنے پیشے اور فرض کو ڈھال بنا لیا۔ قوم ان کے لاڈ دیکھتی رہے۔ واہ واہ کرتی رہے، سیلوٹ مارتی رہے۔ اپنے محدود خزانے کا منہ ان کے لئے کھلا رکھتی ہے۔ دفاع اپنی فطرت میں ایک سیکرٹ سرگرمی ہوتی ہے۔ اس کا بھی انہوں نے فائدہ اٹھا لیا۔ یہ جو چاہیں کریں۔ ریاستی راز ہے۔ ریاست کا دفاع ہورہا ہے۔

فرض کی ادائیگی اور ایکٹویٹی کا اپنے نتائج سے پتا چلتا ہے۔ کہ کوئی اپنا فرض کیا واقعی دیانت داری سے کررہا ہے۔ یہاں نتائج کے حوالے سے معاملہ الٹ ہے۔ یہ خود ہی ہمیں کہتے ہیں ملک کو خطرات درپیش ہیں۔ اور 70 سال سے خطرات سے ہماری جان نہیں چھوٹی۔ اس کا مطلب ہے، ہمارے جنرل اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام ہیں۔ بجائے ناکامی پر ان کا احتساب کیا جائے، انہیں جواب دہ کیا جائے، خطرات کے نام پر الٹا یہ قوم پر رعب ڈالتے ہیں۔ یہ خود ہی دشمنتخلیق کرتے ہیں۔ انہیں پالتے پوستے ہیں۔ پھر جنرلوں کی مرضی کے بغیر دشمنسے مذاکرات بھی کرنے نہیں دیتے۔ کوئی صلح بھی نہیں ہونے دیتے۔

گویا ریاست اور قوم جنرل بنائے، اور پھر ریاست اور قوم خود ہی ان کی یرغمال بن جائے۔ چلین ان کی سرگرمیاں اگر اپنے شعبے دفاع تک محدود رہتی، یہ اسلحہ اور دفاعی سامان لیتے رہتے۔ لیکن ہوا یہ دفاع کے نام پر ڈی ایچ اے بننے شروع ہوگئے۔ ملک کے سب سے بڑے اور مہنگےپراپرٹی ڈیلر بن گئے۔ملک کے ایک تہائی کاپوریٹ، بزنس، صنعت، کے حجم پر حاوی ہوگے۔اگر یہ بھی ہوتا کہ فوج کاروبار کرکے دفاع کا خرچہ خود ہی نکال لیتی۔۔یہ بھی نہیں ہے۔ یہ کھاتہ شیطان کی آنت کی طرح ہر سال طویل سے طویل تک ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان میں جہاں کہین خوبصورت، دل کشا زمین ہے۔ وہ جنرلوں کے اختیار میں ہے۔ سویلین کا داخلہ منع ہے۔ عام تاثر کے مطابق فوجی زندگی رف اور ٹف ہونی چاہئے۔ جب کہ ہمارے جنرل جنت نظیر ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

جنرلوں نے 40 سال تک جب اقتدار پر قبضہ کئے رکھا، تو ستاروں بھری خاکی وردی کی سویلین اداروں پر دھاک بیٹھ گئی۔ سویلین بیوروکریسی وردی والوں سے ڈرنا شروع ہوگئی۔ ان کے آگے کوئی کھل کربول نہیں سکتا۔ یہ اسے دشمنسمجھ لیں گے۔ہر طرح کا میڈیا جنرلوں کے مفادات،ان کی خواہشات، فیصلوں اور مرضی کا ترجمان بن گیا۔ ملک کا چیف ایگزیکٹو وزیراعظم ، صدر، پارلیمنٹ کوئی ایسی حرکت نہیں کرسکتی جس سے جنرل ناراض ہوجائیں۔

انڈیا، افغانستان، بنگلادیش، ایران، یورپ ، امریکا سے کیسے تعلقات رکھنے ہیں، وہ جنرلوں کی مرضی اور ڈکٹیشن پر۔ ورنہ سب کو غداری، را کے ایجنٹ، مودی کے یار۔۔کے لیبل لگا دیئے جائیں گے۔ ان کے تجارتی، پراپرٹی اور صنعتی اداروں کے تمام کام ترجیحی بنیادوں پر منظور ہو جاتے ہیں۔ کون مائی کا لال رکاوٹ ڈال نہیں سکتا ۔ کسی بھی سویلین افسر کے لیت ولعل کرنے پر فوجی پلٹن سے پھینٹی لگائی جاسکتی ہے۔ اسے چھاونی میں اٹھا کر لے جایا جاسکتا ہے۔

اگر جنرلوں کے کنٹرول میں کوئی کاروباری ادارہ خسارےمیں جارہا ہے۔ تو حکومت سے اربوں کے امدادی فنڈ منظور کرا لیے جاتے ہیں۔ سویلین اداروں اور پرائیویٹ کمپنیوں نے ریٹائرڈ، میجر، کرنل، بریگیڈئر ملازم رکھنے شروع کردیئے۔۔۔کہ یہ لوگ محکموں سے اپنے فوجی ہونے کی وجہ سے کام نکلوا لیتے ہیں۔ اور کوئی بندہ پھڈے بازی کرنے کی جرات نہیں کرتا۔ گویا فوجی افسر اس ملک میں رعب اور دبدبے کی علامت بن چکا ہے۔ جہادی اور شدت پسند تنظیموں کو پولیس اور سویلین انتظامی ادارے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ ان کے عسکری ایجنسیوں سے تعلقات ہوتے ہیں۔ وہ ہماری ریاستی پراکسیاں ہیں۔

دفاع پاکسان کونسلکے نام سے یہ امن دشمن افراد ریاست کے پرائیویٹ اثاثے ہیں۔ اور سلامتی کے اداروں کے غیرریاستی دست و بازو۔ ان کے کیا فائدے ہیں، صرف اعلیٰ دماغ جنرل ہی جانتے ہیں۔ ان کی وجہ سے ملک خون ریز فرقہ پرستی اور دہشت گردی کا شکار ہوتا ہے۔ دنیا میں بدنام اور تنہا ہوتا ہے۔ لیکن جنرلوں کا مطالبہ ہے، حب الوطنی کے نام پر حکومت وقت اور عوام دنیا سے جھوٹ بولیں۔ ملک کے نیچے سے لے کر اعلیٰ ترین حکومتی ادارے فالج زدہ ہوچکے ہیں۔ صرف جرنیلوں کا ادارہ ہی صحت مندرہ گیا ہے۔

بے پناہ وسائل اور طاقت ان کے ہاتھ میں ہے۔ قوم کو دفاع اور سلامتی کی یقین دہانیاں کرانے والے یہ کیوں نہیں سوچتے، کہ قوم کو 70 سال نہ سیکورٹی ملی ہے، بے کار کی جنگیں ملیں، نہ امن۔ دہشت گردی ہے، فرقہ پرستی اور انتہاپسندی ہے۔ کرپشن اور لوٹ مارہے۔ بے روزگاری ہے۔ عوام کا برا حال ہے۔ نہ مستقبل کی کوئی امید۔ عوام کی حالت زار پر ہمارے جنرل خاموش ہیں۔ اور آنکھیں بند کئے رکھتے ہیں۔

پاکستان ہر بدترین اشاریئے میں دوسرے تیسرے درجے پر آتا ہے۔ ان کی جنگی اور مذہبی جنونیت کی پسندیدگی کم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ اس ملک میں سمگلنگ کبھی بند نہیں ہوئی۔ حالانکہ پاکستان کی ساری سرحدوں کا کنٹرول ان کے پاس ہے۔ دنیابھر کے دہشت گرد پاکستان میں آ کرکیسے مقیم ہوئے تھے۔فوج کے ہوتے طالبان نے پاکستان کے علاقوں پر کیسے قبضہ کرلیا تھا؟ ان کو اس وقت پاکستان کی خودمختاری کا خیال کیوں نہ آیا۔ انتہا پسند جماعتوں کے ہزاروں لاکھوں مدرسے بنواتے وقت کیوں نہ خیال آیا۔۔کہ پاکستانی عوام کی اس سے ذہنی تباہی ہوجائے گی۔ ایک وسیع رقبے پر 10، 15 سال تک ریاست کی رٹ ختم ہو کررہ گئی۔

جنرلوں کا کام دشمنوں کو ختم کرنا ہوتا ہے یا پالنا اور بنانا۔۔ واہگہ بارڈر کی نفرت خیز پریڈ سے اندازہ ہوجاتا ہے۔ کہ ہمارے جنرلوں کو ہندوستان کے ساتھ نفرت اور محاز آرائی کتنی عزیز ہے۔ نفرت اور پاگل پن کے اس مظاہرے کو حب الوطنی سے جوڑدیا گیا۔ کہتے ہیں، انڈیا نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے ہم نے انڈیا کو کب دل سے قبول کیا تھا۔ ہم تو پیدا ہوتی ہر نسل میں انڈیا سے نفرت بھر دیتے ہیں۔ ان حالات میں ملک کو امن کیسے نصیب ہوسکتا ہے۔ امن نہ ہوگا، تو ترقی کیسے ہوگی۔ کرپشن میں سیاست دان، بیوروکریسی، بڑے بزنس، علمائے دین اور عدلیہ بھی شامل ہے۔ جنرلوں کا کرپشن میں حصہ کم نہیں ہے۔

جنرلوں نے قوم کو خطرات کے منحوس چکر میں ڈالا ہوا ہے۔ ان خطرات کے سیاسی اور سفارتی حل میں بھی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ ملک کے وزیراعظم کو سیکورٹی رسک قرار دے دیتے ہیں۔ کہہ دیتے ہیں وہ انڈیا کا ایجنٹ ہوگیا ہے۔ بک گیا ہے۔ جب کہ اس کے پاس عوامی اور آئینی مینڈیٹ ہے خارجہ اور اندرونی پالیسیوں کو وضع کرنے کا۔ یہ کسی سیاسی قیادت کا وژن بننے ہی نہیں دیتے۔ جنرلوں کو سیاسی استحکام سے ڈر لگتا ہے کہ ان کی اہمیت اور طاقت ختم ہوجائے گی اس لیے ہر سیاسی حکومت کے ساتھ مستقل نفسیاتی جنگ شروع کئے رکھتے ہیں۔

پاکستانی میڈیا ملٹرائز ہو چکا ہے جنرل اپنی قوم کی دگرگوں حالت دیکھ لیں اور اپنی سوچ کو تبدیل کرلیں۔ پاکستان کو صرف اسی صورت بچایا جاسکتاجب پاکستان کی فوج کا سائزکم کیاجائے اوراسے بیرکوں تک محدود کیا جائے ورنہ یہ تباہی و بربادی جاری رہے گی۔

One Comment

  1. Muhammad Umar says:

    ارشد محمود کی بہت عرصے بعد کوئی اچھی تحریر پڑھنے کو ملی ہے۔ اس سے پہلے تو صرف کام چلایا جا رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *