مسلمان سب سے افضل قوم ہے

6421295a-8074-4623-affe-65103935357c-250x300

نعمان عالم

میرے مسلمان بھائی ، بہنیں اور احباب اس بات پر تو متفق ہیں کہ مسلمان ساری دنیا میں زوال کا شکار ہیں لیکن جب اس زوال کے اسباب بیان کیے جاتے ہیں تو کوئی بھی مسلمان ان وجوہات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور من گھڑت یا بے بنیاد و لا منطق دلائل دینے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں ، اور جب منطقی بنیاد پر انکی بات کو رد کر دیا جاتا ہے تو پھر مسلمان طیش میں آ کر اسلام دشمنی ، بغض علی ، کافر ، اسلامو فوبک اور بے انتہا دوسرے القابات سے نوازنے میں ذرا دیر نہیں کرتے۔

اصل میں یہ جو مسلمان ہونے کو افضل و غیر معمولی انسان ہونے سے تشبیہ دی جاتی ہے ، یہ وہ غلط سوچہے جو بچپن سے ہی ہمارے ذہنوں میں ڈال دی جاتی  ہے ، یعنی ہر مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ وہ باقی کی دنیا میں رہنے والے انسانوں سے افضل ہے اور اس بڑے پن کی بنیاد صرف ایک ہے اور وہ ہے مسلمان ہونا ۔

اپنے آپ کو مسلمان کہنا اور دوسروں پر صرف اپنے عقیدے کی بنیاد پر اپنے اپ کو افضل گرداننا ایسی حماقت ہے جو مسلمان سرزد کرتے وقت فخر محسوس کرتا ہے اور زوال کی راہ کو جانے کا سب سے پہلا قدم بھی یہی ہے علم نفسیات کی رو سے جو شخص اپنی ذات کا گرویدہ ہو ، اور دوسروں پر خود کو فوقیت دے وہ نفسیاتی کم ظرفی کا شکار کہلاتا ہے ، یعنی وہ اپنی ذات کے تمام منفی پہلوؤں کے لئے ایک چھتری مانگتا ہے ، تاکہ لوگوں سے اپنے یہ منفی پہلو اس چھتری کی مدد سے ڈھانپ سکے ، اور مسلمانوں کے لئے اس چھتری کا نام اسلام ہے ۔

آج کا مسلمان اس کشمکش کا شکار ہے کہ وہ کہیں چاکلیٹ میں سور کی جیلیٹن نہ کھا لے ، البتہ ہمسائے کا حق ، بہنوں بھائیوں اور رشتہ داروں کا حق کھانے میں اسے کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی ، آج کی مسلمان عورت اس کشمکش کا شکار ہے کہ اسکے ہونٹ رنگنے والی لپ اسٹک میں کہیں سور کی چربی نہ ہو ، ۔لیکن مسلمان قوم اپنے بہن انسانوں کے خون سے رنگے ہاتھوں والے بھیڑیوں کو مجاہد کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی۔

مسلمانوں کو انفرادی طور پر سوچنا ہے کہ انکی ترجیحات کیا ہیں ، اور کیا وہ درست ہیں ، یا پھر انکو درست کرنے یا بدلنے کی کوئی ضرورت ہے ، لیکن یاں کوئی ایسا کرنے کو گناہ سمجھنے لگتا ہے۔

مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں بقول انکے مغرب حائل ہے لیکن ذرا سوچئے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک میں تیل نکالنے اور صاف کرنے کی ریفائنریاں کس کی ایجاد ہیں ؟ مغرب کا عالمی سیاست میں بھیانک کردار اپنی جگہ قابل مذمت ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مغرب سے ناراضگی کا ڈھول پیٹنے والے مسلمانوں کو مغربی ممالک میں ہی وہ آزادی میسر ہے جسکا یہ اپنے وطن میں گماں تک نہیں کر سکتے۔

مسلمانوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ اپنے زوال کا سبب خود ہیں ، واقعہ کربلا میں کیا یہودی اور مسلمانوں کے درمیان جنگ ہوئی تھی ؟ عباسی خلفاکے مابین جنگیں دو مسلمان گروہوں کے درمیان ہی تھیں ، یہی مسلمان تخت و تاراج کی خاطر اپنے باپ اور بھائیوں تک کو قتل کرنے سے نہیں کتراتے ، فارس و عرب کی نفرتیں کس کے خلاف ہیں ؟ پاکستانی مسلمانوں کو ہی لے لیجئے ، پاکستان میں کون سے یہودی ہیں جو انکو آپس میں پنجہ آزمائی اور قتل و غارت پر مجبور کر رہے ہیں ؟

یہ یہودی سازش والی گردان اپنی کج فہمی اور غلطیوں سے فرار کا راستہ ہے جو ہمارے ذہنوں میں پانچ سال سے بھی کم عمر میں ایسے فٹ کر دیا جاتا ہے جیسے مچھر مار سپرے ، یعنی جہاں اپنی غلطیوں کی بدبو آنے لگے ، فوری یہودی سازش کا لیبل داغ دیا جا ئے۔

آج کے مسلمان کے لئے پستی سے بچنے کا صرف ایک راستہ باقی ہے ،اور وہ ہے ٹھنڈے دماغ سے دعوت فکر کی قبولیت ، یہ اس یکجہتی سے بھی زیادہ ضروری ہے جس کا بیان ہر پہلا مسلمان کرتا نظر آتا ہے ، علم و فکر ہی وہی واحد راستہ ہے جو ہر مسلمان کو انفرادی لحاظ سے پستی کے گڑھوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے ، وگرنہ جو سب جیسے چل رہا ہے ، ایسے ہی چلتا رہے گا اور مسلمان مزید زوال ، بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک سبق بننے سے دور نہیں۔

One Comment

  1. نعمان عالم صاحب، مسلمانوں کی اجتماعی سوچ کے بارے میں آپ کا تجزیہ بہت مدلّل ہے، سلامت رہیں
    آصف جاوید، ٹورونٹو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *