مہاجر علیحدگی پسندی اور پاکستانی ریاست 

aimal-250x300ایمل خٹک 

مہاجروں نے بھی الگ وطن بنانے کی تحریک کا آغاز کردیا ہے۔ اور مہاجرلبریشن موومنٹ ( ایم ایل ایم ) کے نام سے علیحدگی پسند مہاجروں نے سوشل میڈیا پر زبردست مہم شروع کردی ہے۔ مہاجر لبریشن موومنٹ کا دعوی ہے کہ گزشتہ پچیس سالوں میں فوجی آپریشنوں میں ان کے بیس ہزار جوان ہلاک جبکہ کراچی آپریشن میں بارہ ہزار کے قریب نوجوان گرفتار ہو چکے ہیں ۔ مہاجروں کے ساتھ امتیازی سلوک اور ان کی نسل کشی کی وجہ سے وہ اب مزید پنجاب کے زیر تسلط نہیں رہنا چاہتے اور آزادی چاہتے ہیں۔ ایم ایل ایم نے عالمی قوتوں سے پاکستان سے آزادی حاصل کرنے میں ان کی امداد کرنے کی اپیل کے ساتھ ساتھ ان سے مطالبہ کیا ہے کہ مذ ہبی دہشت گردی کی فروغ اور حمایت کرنے پر پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے۔ 

سرحدوں پر کشیدگی، بلوچستان کا نہ ختم ہونے والہ بحران ، کراچی میں آپریشن ، چین ۔پاکستان اقتصادی راھداری منصوبہ کے حوالے سے چھوٹے صوبوں کو دانستہ نظرانداز کرنے کی شکایات اور مغربی روٹ کے حوالے سے وزیراعظم کی مسلسل وعدہ خلافی اور عمران خان کی اسلام آباد کو بند کرنے کا اعلان وغیرہ سنگین داخلی اور خارجی چیلنجز ہیں جس کا حکومت وقت کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ایسے میں کراچی آپریشن کے پس منظر میں اٹھنے والا یہ طوفان آنے والے حالات کی سنگینی کی طرف اشارہ کر رہی ہے ۔  

ایم ایل ایم کی قیادت کون کر رہا ہے؟ اس کی تنظیمی ساخت کیا ہے؟ اس کا ہیڈ کوارٹر کہاں ہے ؟ آزادی حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کے کونسے کونسے طریقے اپنائے جائینگے؟ وغیرہ ایسے بہت سے سوالات کے جوابات ابھی واضح نہیں ہیں۔ تاہم ایم ایل ایم بنانے کا  شک تو الطاف حسین کے حامیوں پر کیا جا رہا ہے۔ اب آگے جا کر پتہ چلے گا کہ آیا یہ سودا بازی کیلئے دباؤ بڑھانے یا بلیک میلنگ کے حربے ہیں یا آزادی کے نعرے سنجیدہ نعرے ہیں ۔ اور اگر واقعی آزادی کی بات ہو رہی ہے تو پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ ان میں ریاست کی رٹ چیلنج کرنے اور اس کو ٹف ٹائم دینے کی کتنی صلاحیت، سکت اور دم ہے ؟ 

 ایم ایل ایم نے ایک قسم کے پیغامات پر مبنی کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس حال ہی میں فعال کیے ہیں ۔ جن میں ٹویٹر پر تحریک آزادی، مہاجر آزادی   وغیرہ وغیرہ اور فیس بک پر ایم ایل موومنٹ کے نام سے اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ یوٹیوب پر مہاجر لبریشن از اور ڈسٹینی کے نام سے ایک ویڈیو بھی وائرل ہے۔ جس میں مہاجروں کی قربانیوں اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والی زیادتیوں کا بھی ذکر ہے۔ 

ایم ایل ایم مہاجروں پر زور دے رہی ہے کہ وہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہو ں ۔ کیونکہ اب پنجابستان سے آزاد ہونے کا وقت آپہنچا ہے ۔ ایم ایل ایم کا موٹو اتحاد ، برابری اور آزادی ہے۔ اس طرح آزاد مہاجر ریاست ھماری منزل اور نسلوں کو بچائیں گے ، آزاد مہاجر وطن بنائیں گے ایم ایل ایم کے نعرے ہیں ۔  ایم ایل ایم کا دعوی ہے کہ وہ پانچ کروڑ مہاجروں کی آواز بن کر پاکستانی دہشت گرد ریاست سے آزادی چاہتے ہیں۔ مہاجروں کو پہلی پنجاب سے آزادی لینی چائیے ۔ ایم ایل ایم کے بقول بلوچ، سندھی اور پشتون بھی پنجاب کے ظلم وستم کے شکار ہیں۔  

ایم ایل ایم کے بقول ہم نے اپنا خون ، اپنے بچے اور اپنا ٹیلنٹ پاکستان کو دیا اب مزید نہیں دے سکتے اب ہمیں مذھبی دہشت گرد ملک پاکستان سے آزادی چاہیے۔ مہاجروں سے امتیازی سلوک روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ اتحاد ، ایمان اور ڈسپلن ایک خواب تھا جبکہ مہاجروں کی نسل کشی ایک حقیقت ۔ علیحدگی پسند مہاجروں کے مطابق ستر سال کی مسلسل زیادتیوں کے بعد اب مہاجر قوم پاکستان پر اعتماد کھو چکے ہیں۔ مہاجروں کی آزادی کی تحریک شروع ہوچکی ہے۔ وہ پنجابی فوج اور حکمرانوں کی غلامی نہیں چاہتے اور آزادی اب مہاجر قوم کا مقدر بن چکی ہے۔ 

ایم ایل ایم کے مطابق مہاجروں نے برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کیلئے ایک سو دس سال جہدوجہد کی اور پنجابستان سے آزادی حاصل کرنے کیلئے مزید سو سال تک لڑ نے کیلئے تیار ہیں ۔ ایم ایل ایم کے مطابق مہاجروں کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ ملک کو سیکولر دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ ریاستی ادارے مذ ہبی دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہی ہے ۔ 

پاکستانی سیاست کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرے لئے یہ امر باعث حیرت اور قابل تحقیق ہے کہ مہاجروں کی عمومی سوچ سخت قوم پرست سوچ تھی ۔ تحریک پاکستان میں سرگرم کردار اور بعد میں ملک بننے کے بعد گھر بار چھوڑ کر نئے ملک میں مہاجرت کی وجہ سے پاکستان کی ساتھ ان کی وابستگی قابل دید تھی ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ متحدہ ہندوستان کے دیگر علاقوں کی نسبت موجودہ پاکستان میں شامل علاقوں  میں تحریک پاکستان  بہت بعد میں شروع اور انتہائی کمزور رہی۔ اس وجہ سے ملک سے وابستگی کا اظہار انتہائی شدت سے کرنا مہاجروں کا خاصہ رہا ہے۔ 

مہاجروں نے ہمیشہ قومی حقوق کیلئے جہدوجہد کرنے والی دیگر قومیتوں کی حب الوطنی کو شک کی نظر سے دیکھا ہے لیکن آج ان کی صفوں سے علیحدگی اور آزادی کی صدائیں بلند ہو رہی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ مہاجروں کے اندر اس سوچ کو کتنی پزیرائی حاصل ہے یا ملے گی مگر وہ کونسی وجوہات اور عوامل ہیں جس سے بعض مہاجروں کی سوچ میں یہ یو ٹرن آیا۔  اور اس موضوع پر قلم اٹھانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اصلاح احوال کیلئے اس موضوع پر اہل علم کو بحث مباحثے کی دعوت دی جائے۔ 

اس عمل کے خارجی پہلو تو کسی حد تک واضح ہیں کہ علاقے میں جاری پراکسی وار اب مزید پیچیدہ اور نت نئی شکلیں اختیار کر رہی ہے۔ سٹرٹیجک شطرنج بچھ گئی ہے اور علاقائی اور عالمی قوتیں ایک دوسرے کو مات دینے کیلئے گھوڑے تیار اور میدان میں اتار رہی ہے ۔  ویسے بھی ایک دوسرے کے خلاف فوجیں اتارنے کی نسبت پراکسی وار میں گھوڑے اتارنا مہنگا سودا نہیں ۔ لگتا ہے لوہا لوہے کو کاٹنے کا محاورہ اب سفارت کاری کا ایک اہم اصول بنتا جا رہا ہے۔ 

مگر داخلی پہلوؤں کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کہیں نہ کہیں کوئی خامی یا کمزوری موجود ہے۔ اپنی صفوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسائل کو دیکھنے کا روایتی اور سہل پسند طریقہ کہ ہر چیز کو بیرونی عوامل کے کھاتے میں  ڈالو نہ پہلے کارگر تھا اور نہ اب ہوگا۔  سہل پسند اس وجہ سے کہ کوئی بھی مسئلہ یا تنازعہ بیرونی قوتوں کے کھاتے میں ڈالنے یا انہیں ذمہ دار ٹھہرانے سےانسان اپنی تمام ذمہ داریوں سے مبرا ہو جاتا ہے۔  بیرونی عوامل کا رول تب نکل آتا ہے یا شروع ہو تا ہے جب ہم معاملات کو حل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں یا بعض مصلحتوں اور مجبوریوں کی وجہ سے یا کسی کو خوش رکھنے یا کسی کی بیجا خوشنودی حاصل کرنے کیئے حالات کو بروقت کنٹرول نہیں کئے جاتے اور قابو  سے با ہر ہوجاتے ہیں۔  

الزامات لگانے، غداری کے تمغے بانٹنے اور جذباتیت کی بجائے اب سنجیدگی سے اس بات پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں تو فارسی کی اس مشہور ضرب المثل کہ تنگ آمد بجنگ آمد والی صورتحال تو نہیں بنی ہے کہ ہر کوئی الگ ہونے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ کیا بات ہے اور کس چیز کی کمی ہے کہ ایک ہی گھر کے باسی الگ ہونے پر تلے ہوئے ہیں۔  سارے بھائی بڑے بھائی کے رویے سے شاکی اور سوتیلے پن کا شکوہ کر رہے ہیں ۔ اگر ایک چھوٹے بھائی کی بات ہوتی تو پھر بھی ہم چھوٹے بھائی کو قصوروار ٹھہراتے مگر اب تو یکے بعد دیگرے باقی تمام بھائی ناانصافی اور اپنے ساتھ امتیازی سلوک کی بات کرتے ہیں ۔ بقول ایک مہاجر سیاسی کارکن کے کہ اب پنجاب کی سیاسی اور فوجی اشرافیہ کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ باقی تمام قومیں تو غلط نہیں ہو سکتی۔ 

دوسرا ایم ایل ایم کےپیچھے جو بھی داخلی قوت ہے اس نے سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھایا ہوگا مگر ایسے فیصلوں کے نتائج کمیونٹی کیلئے بڑے سنگین ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سیاسی قوتیں اور سیاسی عمل کمزور ہوجاتا ہے۔ سیاسی سپیس یعنی سیاسی کام کے مواقع کم ہوتے جاتے ہیں۔ شکوک وشبہات بڑھ جاتے ہیں۔ جائز اور ناجائز  پکڑ دھکڑ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ تحریر اور تقریر کا حق، اجتماع کا حق اور دیگر بنیادی حقوق پرزد پڑتی ہے۔ پابندیاں اور قدغنیں بڑھ جاتی ہیں۔ قانون نافذ کرنےوالے اداروں کا روزمرہ زندگی میں عمل دخل بڑھ جاتا ہے۔ تھوڑے سے بھی حالات خراب ہو جائیں تو اگر رسمی اعلان نہ بھی ہو تو غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ رہتی ہے۔ جس سے عام شہریوں کی مشکلات  بے پناہ بڑھ جاتی ہیں۔  

جب کوئی گروپ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے غیر سیاسی طریقے اپناتی ہے تو ریاست کو اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے سختی سے پیش آنے کا جواز مل جاتا ہے۔ پاکستانی ایجنسیاں اور  قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سلسلے میں پہلے سے بد نام ہیں۔  ایسے حالات میں انسانی حقوق کی پامالی اور غیر قانونی اور ماورائے عدالت کاروائیوں کے رحجان کو تقوی ملتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے انسانی حقوق کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں۔  جس کی جھلک ہمیں انسانی حقوق کی بین القوامی اداروں کی رپورٹوں میں بھی مل جاتی ہے۔

پاکستان کے بعض علاقوں جیسے فاٹا اور بلوچستان میں غیر اعلانیہ میڈیا بلیک آؤٹ کی وجہ سے بہت سے واقعات کا ملک کے اندر شاید مکمل پتہ نہیں چلتا مگر بیرون ملک رہ کر بہت کچھ پتہ چل جاتا ہے کہ سب اچھا نہیں ۔ مختلف سیاسی اور سماجی کارکن اس سلسلے میں بہت زیادہ سرگرم عمل ہیں اور چھوٹی سی چھوٹی خلاف وزری بھی متعلقہ اداروں کے نوٹس میں لا رہے ہیں۔ مسائل بہت زیادہ ہیں۔ زیادتیاں ہوئی بھی ہیں اور ہو بھی رہی ہے۔ اندرون اور بیرون ملک دباؤ کی وجہ سے انسانی حقوق کے حوالے سے حکومت پاکستان کی پریشانیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ 

جہاں تک مہاجر لبریشن موومنٹ کا تعلق ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کو کتنی عوامی حمایت حاصل ہے۔ اور وہ کس حد تک مہاجروں کو اپنی حمایت میں متحرک کرسکتے ہیں ۔ مگر اسٹبلشمنٹ کیلئے بیرون ملک سرگرم عمل بلوچوں اور سندھیوں کے علاوہ ناراض مہاجر کارکنوں کی صورت میں اب ایک نیا درد سر پیدا ہوگیا ہے۔  جو مغربی ممالک کے اہم شہروں اور عالمی انسانی حقوق اداروں کے باہر احتجاج کرتے ہوئے نظر آئیں گے ۔ مگر ابھی دیکھنا یہ ہے کہ ایم ایل ایم اپنے عمل میں کتنی سنجیدہ ہے اور اسٹبلشمنٹ اس کو کس حد تک سنجیدگی سے لے گی۔

3 Comments

  1. جناب من، بصد احترام عرض ہے کہ مہاجروں کی علیحدگی پسندی کے بارے میں آپ کی مندرجہ بالا تحریر صرف اور صرف قیاس، گمان، مفروضوں اور آپ کے زہنی اختراع پر مبنی ہے۔ جس مہاجر لبریشن موومنٹ نامی سوشل میڈیا تنظیم کا آپ نے زکر فرمایا ، اسکا صوبہ سندھ کے شہری علاقوں میں رہنے والے پرامن اور سچّے ، محبّ، وطن مہاجر اردو اسپیکنگ عوام کی مساوی شہری حقوق کی سیاسی جدوجہد سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ مہاجر پاکستان کی جغرافیائی حدود میں سیاسی عمل کے زریعے مساوی شہری حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں۔ مہاجروں کی اس جدوجہد کو ریاستی عسکری اسٹیبلشمنٹ اپنی پوری طاقت اور بے رحمی کے ساتھ کچل رہی ہے۔ مہاجر لبریشن موومنٹ یا مہاجر لبریشن آرمی کا حقیقی وجودنہیں ہے۔ اگر ہے تو آپ پر لازم ہے کہ اس افسانے کو تخلیق کرنے سے پہلے آپ مہاجر لبریشن موومنٹ نامی تنظیم کےحقیقی وجود کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرتے۔ مہاجر بہت زی ہوش اور محبِّ وطن پاکستانی ہیں۔ جو سندھ میں شہری اور دیہی ناجائز کوٹا سسٹم کے خاتمے اور یکساں شہری حقوق کے حصول کے لئے ایک سیاسی جماعت کے پرچم تلے اکھٹّے ہوئے تھے۔ مہاجر احمق نہیں ہیں۔ مہاجروں کے بزرگوں نے پاکستان بنایا تھا، ، مہاجروں کو اچھّی طورح معلوم ہے کہ ریاست سے مسلّح جنگ کے کیا نتائج ہونگے، مہاجر ریاست سے مسلّح جدوجہد کا راستہ کبھی بھی اختیار نہیں کریں گے۔ اگر کسی احمق مہاجر نے ریاست کے ساتھ مسلّح جنگ کی حماقت کی تو اسکا انجام تامل لبریشن آرمی کے انجام جیسا ہی ہوگا، یقین رکھیں کوئی محبّ، وطن مہاجر ریاست سے مسلّح جدوجہد کا تصوّر بھی نہیں کرتا ، کیوں کہ مہاجروں کے بزرگوں نے تو پاکستان بنایا تھا۔ کوئی اپنی بنائی ہوئی چیز کو کیسے برباد یا تباہ کرسکتا ہے۔ ہاں یہ بات علی الاعلان کہی جاسکتی ہے، کہ پاکستان کے تین صوبے اس وقت عملا” پنجاب کے غلام ہیں ۔ طاقت اور اقتدار کے سرچشمے یعنی افاواج پاکستان پر بھی پنجاب کا قبضہ ہے۔ 90 فیصد جرنلز، 85 فیصد افسران، اور 75 فیصد جوانوں کا تعلّق پنجاب سے ہے۔ 52 فیصد آبادی کا صوبہ 80 فیصد سے زائد اقتدار اور وسائل پر قابض ہے۔ پجاب کے علاوہ تینوں صوبے عملا” پنجاب کے غلام ہیں۔ لہزا ضروری ہے کہ ان مسائل پر کھل کر بات کی جائے۔ حقوق کی پر امن سیاسی جدوجہد کی راہ میں روڑے اٹکانے والا اگر کوئی ریاستی نمائندہ ہو، یا کوئی قلمکار ہو ، دونوں ہی قابلِ مزمّت ہیں، میں مہاجر لبریشن موومنٹ یا مہاجر لبریشن آرمی نامی کسی بھی تنظیم یا گروہ جو کہ حقیقی وجود رکھتا ہو یا کوئی غیر مرئی سوشل میڈیا وجود رکھتا ہو اور مسلّح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کے لئے مہاجروں کو ورغلانہ یا اکسانا چاہتا ہو، ایسے تمام مہاجر اور پاکستان دشمنوں کی سخت مزمّت کرتا ہوں۔ میری مزمّت اور احتجاج ہر اس پاکستان دشمن تنظیم کے لئے ہے۔ جو پرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ چھوڑ کر ریاست سے مسلّح جنگ کرنا چاہتا ہے۔ مگر میں ساتھ ساتھ پاکستان میں ریاستی دہشت گردی، زیرِ حراست تشدّد اور ماورائے عدالت قتل اور ریاست کی جانب سے سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے اور اپنی ہی عوام کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے کی بھی سخت مزمٗت کرتا ہوں۔ ریاستِ پاکستان کے ہاتھ اپنی ہی عوام کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ میں ریاستِ پاکستان کے تمام غیر آئینی، غیر قانونی
    اقدامات کی سخت مزمّت کرتا ہوں۔ آصف جاوید، ٹورونٹو

  2. محترم آصف جاوید صاحب! آپ کی بہت سی باتوں سے اتفاق کرتا ھوں اور مجھے اس بات پر معافی مانگنے میں کوئی حرج نہیں کہ اگر میری تحریر سے کسی کو دکھ یا تکلیف پہنچی ھو تو میں معذرت خواہ ھوں۔ اس کے ساتھ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ھوں کہ نہ تو ایم ایل ایم میری ذھن کی اختراع ہے اور نہ اس حوالے سے مجھے کوئی ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ثبوت میں کسی کو زیادہ دلچسپی ھو تو گزشتہ دو مہینوں کی دوران ایسے کئی ویڈیوز سامنے آئے ھیں جس میں اس کے قسم سوچ کے اشارے ملتے ہے ۔ ویسےاس آرٹیکل کا مقصد ایم ایل ایم کی جھوٹ اور سچ کو ثابت کرنا نہیں تھا ۔ آجکل سوشل میڈیا کا دور ہے اور سوشل میڈیا پر ایم ایل ایم کی پرچار کرنے والے درجنوں اکاؤنٹس موجود ھیں ۔ میں نے ایک دو کے نام بھی دئیے ھیں اور یوٹیوب پر ویڈیو بھی موجود ہے۔ اس کے پیچھے کون ہے کون نہیں اس سے میرا سروکار نہیں یہ فریقین جانے اور ان کا کام ۔ اس کو موضوع زیر بحث لانے کا مقصد واضح کرنے کیلئے آرٹکل سے ایک اقتباس نقل کرتا ھوں ” اس سے قطع نظر کہ مہاجروں کے اندر اس سوچ کو کتنی پزیرائی حاصل ہے یا ملے گی مگر وہ کونسی وجوہات اور عوامل ہیں جس سے بعض مہاجروں کی سوچ میں یہ یو ٹرن آیا۔ اور اس موضوع پر قلم اٹھانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اصلاح احوال کیلئے اس موضوع پر اہل علم کو بحث مباحثے کی دعوت دی جائے۔ ” آرٹیکل میں ایم ایل ایم یا اس قسم کی سوچ کو ایک سماجی مظہر ( فینومینن ) کے طور پر لیا گیا ہے ۔ اور بحث و مباحثے کی دعوت دینے کا مقصد بھی یہی تھا کہ حقائق سامنے لائے جائیں ۔ اور اگر اس میں حقیقت ہے تو حکمرانوں سے یہ سوال کیا گیا ہے کہ آخر کیوں لوگ ایسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ھوتے ھیں ۔ اور تنگ آمد بجنگ آمد کی مثال بھی دی گئی تھی۔ اسلئے اپ کی رائے کی نہ صرف میں قدر کرتا ھوں بلکہ ویلکم بھی کرتا ھوں۔ کیونکہ مقصد ہی آپ جیسے صاحب الرائے افراد کی رائے کو اس موضوع پر سامنے لانا تھا۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ جس بحث میں ھوش کی بجائے جوش زیادہ ھو وہ اکثر بے نتیجہ رہتی ہے۔

  3. محترم ایمل خٹک صاحب ، اپ کو کسی سے معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اپ نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے۔ آپ بطور قلم کار ایک موضوع کو زیرِ بحث لائے ہیں۔ اور اہلِ علم کو مباحثے کی دعوت دی ہے۔ میرا آپ سے کوئی بھی زاتی اختلاف نہیں ہے، میں تو خود اپ کا قاری ہوں۔ اور باقاعدگی سے آپ کے مضامین پڑھتا ہوں۔ مگر اظہارِ رائے اور اختلاف رائے کے حق کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے سب کی بات سننی ہوگی۔ میرا کالم شائع ہونے کے بعد آپ نے جو کمنٹس دئے ہیں اس پر میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جھے جناب کے کمنٹس سے نہایت مسرّت ہوئی ہے۔ میں خود ایک قلم کار ہوں، سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھتا ہوں، مگر اعلانیہ کہ رہا ہوں کہ میں بھی آپ کے کالموں کا ایک باقاعدہ قاری ہوں اور دلچسپی سے آپ کے سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھے گئے کالموں کو پڑھتا ہوں۔ اپنی فکر اور معلومات کو تازگی دیتا ہوں ۔آن-لائن میگزین نیا زمانہ کا مشکور ہوں کہ نیازمانہ نے اتنے با شعور ایلَ علم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے علم کے پیاسوں کی پیاس بھجانے کا اہتمام کیا۔ آن لائن میگزین “نیا زمانہ” نئی منزلیں طے کررہا ہے۔ ایک ایک لکھاری اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر مادرِ وطن کی سمت کو درست راہ پر گامزن کرنے کے لئے اپنی اپنی اخلاقی زمّہ داریوں کو پورا کررہا ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ اآن لائن میگزین – نیا زمانہ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقّی کرے۔ آصف جاوید، ٹورونٹو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *