لشکر طیبہ نے اڑی حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

uri-identity-759

پاکستان کے شہر گوجرانوالہ کے درو دیوار پر لگے لشکر طیبہ کے ایک پوسٹر میں اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ اڑی حملےمیں شہید ہونے والے چار مجاہدوں میں سے ایک مجاہد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی جنہوں نے اڑی کے مقام پر تعینات بھارتی فوج کے 12بریگیڈ پر حملہ کرکے اٹھارہ سپاہیوںکو ہلاک کر دیا تھا۔ اس حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔

یہ پوسٹر اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ حملے پاکستان سے تعلق رکھنے والے جہادی تنظیم نے کیے ہیں ۔۔۔ جس سے حکومت پاکستان اب تک انکار کرتی چلی آرہی تھی۔

اس پوسٹر میں ایک دہشت گرد یعنی مجاہد محمد انس عرف ابو سراقہ کا نام اور تصویر دی گئی ہے جو کہ گوجرانوالہ کا رہائشی تھا۔پوسٹر میں مقامی لوگوں کو نماز جنازہ میں یا شرکت کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ پوسٹر میں بتایا گیا ہے کہ شیر دل مجاہد نے اُڑی بریگیڈ کیمپ پر حملہ کرکے 177ہندوسپاہیوں کو جہنم واصل کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ہے۔ (لشکر طیبہ کے لٹریچر میں عموماً ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مبالغہ آرائی کی جاتی ہے تاکہ لوگوں پر اس کا رعب ڈالا جاسکے)۔

پوسٹرپر جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی تصویر بھی دی گئی ہے جس کے مطابق حافظ سعید بڑا نالہ گرجاکھ، گوجرانوالا میں نماز جنازہ ادا کریں گے۔

گو کہ بھارتی حکام نے اُڑی پر حملے کا ذمہ دار جیش محمدکو ٹھہرایا تھا ۔ انڈین ایکسپریس نے سب سے پہلے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انوسٹی گیٹرز کو یقین تھا کہ یہ کاروائی لشکر طیبہ کی ہی ہو سکتی ہےکیونکہ حملہ آوروں کے درمیان گفتگو میں جو کوڈ ورڈز استعمال ہورہے تھے وہ عموماً لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے کمانڈرز ہی استعمال کرتے آئے ہیں۔

حملہ آوروں سے جلی ہوئی حالت میں دو گرامین ساختہ جی پی ایس بھی برآمد ہوئے تھے جن میں ایک تو بالکل تباہ ہوچکا تھا جبکہ دوسرا کچھ بہتر حالت میں تھا جس کا فورسینک ماہرین نے ڈیٹا ری کور کیا ہے۔ اس کے علاوہ حملہ آوروں کے کپڑوں سے پاکستانی اداروں کی تیار کردہ کھانے کی اشیا اور دوسرا سامان بھی برآمد ہوا تھا،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے۔

بھارتی ذرائع کے مطابق حکومت نے دو مقامی افراد، احسن خورشید اور فیصل اعوان کو دہشت گردوں کو گائیڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جو کہ مسلسل متضاد بیان دیتے چلے آرہے تھے اور انہیں حملے کے متعلق بھی کوئی خاص معلومات نہیں تھیں۔

ماضی میں بھی لشکر طیبہ نے بھارتی افواج پر کئی حملے کیے ہیں ۔ جس میں پچھلے سال اڑی میں ہی 24 پنجاب رجمنٹ اور 31 فیلڈ رجمنٹ پر حملے بھی شامل ہیں جس میں آٹھ فوجی اور تین سپاہی ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے میں جی پی ایس کے ڈیٹا سے معلوم ہوا تھا کہ حملہ آور لائن آف کنٹرول کے پار کے قصبے چاہم سے آئے تھے مگر ان کی شناخت نہ ہو سکی تھی۔انٹیلی جنس ایجنسیوں اور کشمیر پولیس نے اسی طرح کے حملے کرنے کے الزام میں دو پاکستانیوں محمد نوید اور بہادر علی کو گرفتار کیا تھاجنہیں حملے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

جبکہ جیش محمد کے حملوں کا فوکس کشمیر کی بجائے دوسرےعلاقے ہیں جس میں پٹھان کوٹ اور گورداسپور پر حملے شامل ہیں۔

بشکریہ انڈین ایکسپریس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *