کیا بلوچستان اگلا میدان جنگ بننے والا ہے؟

زبرین بلوچ

Pakistani family members of victims visit a police training center in Quetta, Pakistan, on Tuesday, after gunmen opened fire and detonated explosive vests in an hourslong siege of the academy. Scores of people were killed, mostly young police cadets.

ایک بار پھر کوئٹہ لہو لہان ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پہ ایک طوفان بپا ہے۔ ہر کوئی اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آخر اس سفاکانہ حملے کے لئے کوئٹہ اور پولیس ٹریننگ سنٹر کا انتخاب کیوں کیا گیا۔ شاید اس لیے کہ ٹریننگ سنٹر میں اکثریت مقامی کیڈٹس کی ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری لشکر جھنگوی العالمی اور داعش نے بیک وقت قبول کی ہے ۔

اس سے قبل آٹھ اگست کے سانحہ میں وکلا کی بڑی تعداد کو نشانہ بنایا گیا، جسے سی پیک پر حملہ کا نام دیا گیا۔ تازہ حملے کے متعلق کہا جارہاہے کہ یہ اسلام آباد کے دھرنے اور نواز شریف حکومت کو بچانے کے لئے کیا گیا ہے۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ بدھ 26 اکتوبر کو اے این پی کے جلسے کو سبو تاژ کرنے کے لئے کیا گیا، جس سے آٹھ سال بعد اسفند یار ولی نے خطاب کرنا ہے۔ جبکہ بلوچ قوم پرست اسے بلوچ نسل کشی کا نام دے رہے ہیں، کیونکہ اس سفاکانہ حملے میں زیادہ تر بلوچ کیڈس ہی نشانہ بنے ہیں۔

وجہ جو بھی ہو، ایک بات طے ہے کہ لشکر جھنگوی ہو یا داعش ، ان میں شدت پسندوں کی بھرتی، اس امر کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ پاور پالیٹکس میں اندرونی اختلاف اور ریاست کی طالبان پالیسی کا ناگزیر نتیجہ نظر آتی ہے ۔ اس پر دو رائے نہیں کہ بلوچستان میں بلوچ قومی آزادی جنگ کو کاونٹر کرنے کے لئے مذہبی عسکریت پسندوں کو کھلی چھٹی دی گئی، جنہوں نے ہزارہ برادری کو مسلسل نشانے پر رکھا، رئیسانی دور حکومت میں لشکر جھنگوی نے وہ کارنامے دکھائے کہ عالمی رائے عامہ بلوچ قومی جنگ آزادی سے ہٹ کر ہزارہ ماس کلنگ پر مرکوز ہو گئی۔

اس عرصے میں جماعت اہلسنت جو دراصل سپاہ صحابہ کا تبدیل شدہ نام ہے، کے راہنما جیسے کہ مولانا رمضان مینگل اور رفیق مینگل خاصے متحرک تھے۔ اسی عرصے میں بلوچ سیاسی و غیر سیاسی لوگوں کے قتل عام کے لئے ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دئے گئے۔ جس کے ایک سربراہ شفیق مینگل تھے، اور انھیں فوج کے بریگیڈیر رینک کے اختیارات اور مراعات حاصل تھے۔

اس کے علاوہ ملا برکت، کوہی مینگل، راشد پٹھان، اور کئی دوسرے آزادانہ طور پر ایف سی کی معاونت سے بلوچ نوجوانوں کے اغواء اور انکی مسخ شدہ لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے کے انسانیت دشمن عمل میں شریک تھے۔ شفیق مینگل نے خضدار کو لبنان بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن جب ڈاکٹر مالک کی حکومت آئی تو اچانک یہ سارے گدھے کی سینگ کی طرح غائب ہو گئے۔ ڈاکٹر مالک کا کہنا تھا کہ انکی حکومت نے ڈیتھ اسکواڈ اور اغوا برائے تاوان کے 72 گروہوں کو ختم کر دیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیسے، اور یہ 72 گروپس کون سے تھے، ان کے سربراہ کون تھے، کتنوں کو گرفتار کیا گیا ۔ اور خاص طور پر شفیق اور کوہی کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ۔

بعد ازاں ڈیلی ڈان نے اپنی ایک رپورٹ میں شفیق مینگل کو مذہبی عسکریت پسندی کے حوالے سے بہت بڑا خطرہ قرار دیا ۔ بہت سے نیشنلسٹ راہنماوں نے انکشاف کیا کہ زہری کے علاقے میں داعش کے کیمپ موجود ہیں۔ اغلب خیال یہ ہے کہ انڈر گراونڈ ہونے والے شفیق مینگل نے داعش سے روابط قائم کر رکھے ہیں ۔ تاہم حکومت مسلسل پاکستان میں داعش کی موجودگی سے انکار کرتی رہی۔

اس بڑے واقعہ سے قبل بھی پولیس پر حملوں اور انھیں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، جن میں اکثریت بلوچوں کی تھی۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مختلف واقعات میں بلوچ کاروباری، مذہبی راہنماوں، ڈاکٹر، افسران، وکلاء اور ٹیچروں کو بھی قتل کیا گیا۔ اور اب بڑے پیمانے پر بلوچ پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہندوستان کی جانب سے بلوچ انسانی حقوق کے مسئلہ کو اٹھانے کے بعد یہ پہلا بڑا واقعہ ہے۔ جس نے تمام بلوچ علاقوں میں صف ماتم بچھا دیا ہے۔

ہر سانحہ کے بعد وہی سوالات پھر اٹھائے جارہے ہیں، جن کا نہ پہلے جواب دیا گیا اور نہ اب، بلکہ کبھی بھی ان سوالات کا جواب نہیں ملے گا۔ اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ سیکورٹی اہلکار اور ان کے ناکے کوئٹہ میں ہیں، ایف سی کی لاتعداد چیک پوسٹ گلی گلی میں ہیں، ان کی موجودگی میں یہ حملہ آور اتنے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع کیسے ممکن ہے۔ کیا یہ ایک خاص سیاسی مقصد کے حصول کا شاخسانہ ہے۔ یا ہندوستان کی جانب سے بلوچ مسئلہ کو اٹھانے کا ری ایکشن ہے۔

اس پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ نواز لیگ کے شدت پسند مذہبی گروہوں خاص طور پر لشکر جھنگوی سے اتحاد اور ملاوں سے وفاقی وزیر داخلہ کی حالیہ ملاقاتیں۔۔۔ یہ سارے سوالات اپنی جگہ۔۔۔سب سے اہم، خوفناک اور تشویش کی بات بلوچستان میں داعش کی موجودگی اور شفیق مینگل جیسے بدنام زمانہ ٹیررسٹ کی عدم گرفتاری اور جھالاوان میں داعش کیمپوں کی موجودگی کی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہو نہ ہو سیکورٹی فورسز کا ایک مضبوط دھڑا انکو سپورٹ کررہا ہے۔

حالیہ سانحہ کوئٹہ اس کا ایک ٹریلر بھی ہو سکتا ہے اور بلوچ معاملہ پر ہندوستان کی حسیت اور سی پیک کے پس منظر میں شفیق مینگل جیسے کرداروں کو ایک مرتبہ پھر داعش کے نام کے تحت پوری قوت سے میدان میں اتارنے کا عندیہ ملتا ہے، تاکہ بلوچ نیشنلسٹوں کو ہندوستان حمایت پر ان کو کافر دیکر مذہبی عسکریت پسندوں کے ذریعے بلوچ نسل کشی میں تیزی لانا بھی مقصود ہو سکتا ہے۔

اگر ایسا نہیں ہے، تب پاکستانی فوج اور جاسوسی کے اداروں کی ناکامی واضح ہے اور ایسی صورت میں پاکستان کو داعش سے مقابلہ اور ایک نئی خون ریزی کا سامنا ہے۔ جس کامیدان جنگ اب کہیں اور نہیں، بلوچستان ہے۔

One Comment

  1. کوئٹہ دھماکوں کے بارے میں سیکیورٹی حکام کی بات سن کر ہنسی آ جاتی ہے ۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ، ہم نے دہشت گردوں کو فون پر افغانستان سے بات کرتے ہوئے سنا۔ وہ باتیں ریکارڈ ہیں۔ ملزمان افغانستان سے ہدایتیں لے رہے تھے۔ ایسے جھوٹے پنجابی حکام ملک کو نہیں بچا سکتے۔ بلکہ ڈبو دینگے۔ اسکی شکل بتا رہی تھی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *