قومی دھارے کی تلاش

dr-barkat-267x300

  ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

ریاست پاکستان کی بنیادسیکولر اصولوں رکھی جانی چاہیے یا مذہبی ایقان و عقائد پر؟۔

قائد اعظم کی کونسی تقریرسے ریاست سیکولر ثابت ہوتی ہے اور کونسی تقریر اسے تجربہ گاہ اسلام  ہونے کا شرف بخشتی ہے  یہ ایک ایسی  بحث ہے ، جوکئی دھائیوں سے  متحارب گروہوں کے بیچ چل نکلتی، سر اٹھاتی ہے ، زور پکڑتی ہے، اور پھر یکایک منظر عام سے غائب ہوجاتی ہے۔

جو لوگ اس کی بقا کو سیکولر اصولوں سے جوڑتے ہیں وہ شدید انداز میں زیر عتاب آتے ہیں۔لیکن اس ساری بحث میں ملک کے ثقافتی  اور تعلیمی ادارے جو تصویر  پیش کرتے ہیں اسکی رُو  سے تویہ  کرہ ارض  پر پہلی عظیم قومی ریاست ہے جواسلام کے نام پر وجود میں آئی ۔ چند لوگ اسے بیسویں صدی کا معجزہ بھی گردانتے ہیں۔

اگر اسے منشا ئے ایزدی مان بھی لیں،تو پھر یہ سوال سر اٹھا لیتا ہے کہ اس عظیم اسلامی ریاست کا کاروبار کن اصولوں کے تحت چلے گا؟ سماجی انصاف، معاشی برابری، خود کفالت، اور مساوات کے قیام کیلئے کن امور کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا؟۔ ایسے بےشمار بنیادی سوالات ہیں جو تقسیم ہند سے لے کر اب تک بے چین روحوں کی طرح ہمارا پیچھا کر رہے ہیں۔ ماہرین تعلیم معاشرتی علوم کی کتابوں میں جو بھی منتر لکھ ڈالیں، ہم سے رٹوا لیں پر اس سے کچھ عرصے تک نظر بندی کا مقصد پورا ہوجاتا ہے لیکن سچائی کاغذ کے نادیدہ مساموں میں گھس کر جھوٹی تاریخ کے اوراق  پر کسمسا تی ہے، رقصاں ہوتی ہے اور ہمیں اپنے ہونے کا یقین دلاتی ہے ۔  

دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملیاں ہوں یا  ترقیاتی منصوبوں اور معاشی خودکفالت کے اہداف تک رسائی، کالاباغ ڈیم جیسے غیر محتاط  اور غیر منصفانہ میگا پروجیکٹ پر اسرار ہو یا سی پیک کے معاملے میں پیوستہ غلط بیانی ، کذب و  جھوٹ ،ان تمام تر امور کے حوالے سے  محکوم اور نظرانداز قومیتیں اپنا ٹھوس موقف رکھتی ہیں جس سے  پنجاب کی یک گونہ بالادستی کا رونا رویا جاتا ہے ۔کوئی زیر لب شکوہ شکایت کر جاتے ہیں اور کوئی طیش میں آکر  ڈنکے کی چوٹ پر کچھ کہہ جاتا ہے اور پھر جان ، مال اور آبرو کی اماں لئے پھر رہا ہوتا ہے۔

اسی تناظر ہم ایک بار پھر پاکستان کے وجودی سوال کی طرف رجوع کرتے ہیں ، جس میں سب سے بنیادی سوال یہی بنتا ہے کہ کیا پاکستان قومی ریاست ہے یا قوموں کی ریاست ؟۔ یہاں پہنچ کر بحث ایک اوربند گلی میں جا پہنچتی ہے۔ اب اسکی پرتیں کیسے کھلیں؟ ارباب اختیار سے کون بحث کرے؟ یہ ایک ایسا مشکل مرحلہ جسے زبان زدعام میں چھوٹی (نظرانداز) قومیتوں کے گنے چنے نمائندے اٹھاتے رہے ہیں،  پر نقارخانے میں طوطی کی کون سُنتا ہے۔

محمود اچکزئی کو اگر بلوچستان کے تمام ممبران کی کلی جزوی اختیار حاصل ہوں تب بھی پارلیمانی جمہوریت کی بساط پر انکی وقعت اکیلےلاہور کے ممبران سے تعداد امیں کم  پڑتی ہے۔ اس بحث میں تو ہم پڑتے ہی نہیں کہ جب احسن اقبال کو جنرل ضیاالحق بیرون ملک اعلی تعلیم کیلئے بھیج رہے تھے اس وقت بلوچستان  اور پشتونخوا کے ممبران یا تو مدارس میں عہد وسطی کے منطق رٹ رہے تھے، بٹیر لڑا رہے تھے، مارخور کا شکار  کر رہے تھے ، سگوانی سے شغف حاصل کررہے تھے،  نان نفقے کیلئے  پردیس میں وقت کاٹ رہے تھے  یا پھر قبائلی دشمنی سے نمٹنے کی سعی میں تھے۔

  اب جب اسمبلی میں آ بھی گئے ہیں تو ان میں چند ہی انگریزی کی قراءت کرسکتے ہوں گے، جن کو  اسمبلی کی کارروائی میں کچھ پلے پڑتا ہے وہ اپنی شکستہ گلابی اردو سے ہی صحیح کچھ نہ کچھ کہہ ڈالتے ہیں، جس کا اثر البتہ نہیں ہوتا۔اس پر لاکھ سوال کئے جائیں کہ بجلی پیدا ہوپشتونخوا میں اور واپڈا کا مرکزی دفتر بنے لاہور میں، گیس بلوچستان سے نکلے اور ہیدکوارٹر لاہور میں رہے، یہاں تک کہ اب سٹیٹ بینک کو بھی بتدریج پنجاب منتقل کیا جارہا ہے۔

اس کے علاہ  سی پیک میں خصوصا پشتونوں کو جس طرح ماموں بنایا گیاوہ  قومی یکجہتی کے پیشانی پر ایک کلنک کی طرح ہر وقت آویزاں رہے گا۔ وارٹن سکول آف اکنامکس کے گریجویٹ نے شریعت کے داعیوں ، اور جدلیاتی مادیت کے غیر تنقیدی  قوم پرستوں سے ایسی روٹ کیلئے دعائیں  کروائیں جو کبھی کسی پلان کا حصہ ہی نہیں ، صد حیف اس دعا پرجو کاغذ کی کشتی کی مانند اپنے وجود کے سوال سے نبردآزما ہے۔

دوسری جانب ٹی وی چینلوں پر جب اس نامساوی واحدانیت اور یکانگت کے داخلی تضادات پر سوال اٹھتا ہے تو پرانی چال کے کچھ تبصرہ نگار، چند کاغذی جہادی مبصرین،اور دائیں بازو کے مصلحت روش لکھاری اسے ہمسایئوں کی سازش اور بدنیتی قراردیتے ہیں۔وہ  دھڑام سے قومی غداروں کے نام گننا شروع ہوجاتے ہیں، ولاحول کا ورد کرتے ہوئے  مولانا بھاشانی اورجی ایم سید سے لیکر، باچاخان، خان شہید عبدالصمدخان، ولی خان، بابابزنجو تک ایک ایک کو بتان رنگ و بو کا بتا کر گرادیتے ہیں۔

ظاہر ہے یہ سارے وہ لوگ تھے جنہوں نے یکانگت  کے اس ایزدی علامت میں کذب وریا کی پیوند کاری کی بدعت کو محسوس کیا تھا اور اس پر سوال اٹھایا تھا۔ اب انہیں کون بتائے کہ جو خطہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان کی جغرافیائی حدود میں آیا یہاں پر پہلے سے بھی لوگ رہتے تھے، جن کی اپنی زبان، تاریخ، روایات، ثقافت، ایقان اور مذاہب رہے ہیں۔ ریاست کی عملداری اس سے متاثر نہیں ہوتی اگر ایک خطے کے رہنے والے مقامی لوگ اپنی بولی میں تعلیم کے بنیادی حق کا تقاضا کریں، اپنے گھر سے نکلنے والے میٹھے پانی کے چشمے سے خودمحرومی پراحتجاج کریں، پیاس کی شدت سے کراہتے ہوئے اپنے بچے کے قصور پر شکوہ شکایت کریں۔

ریاست پاکستان کی یکانگت اور یکجہتی کو اٹل قدرتی حقیقت سے جوڑنے والے ٹی وی چینلوں کے  پرانی چال کے تبصرہ نگار  یہ  منطق بھی  پیش کرتے ہیں کہ کیا یہ کافی نہیں کہ یہ خطہ زمین مذہب اسلام کے نام پر آزاد کرایاگیا تھا، رہی بات یہاں پر رہنے والی قوموں کی (جنہیں یہ لسانی گروہ مانتے ہیں ، قومیتیں نہیں) تو انکا تو  ڈیزائن میں پہلے سے ہی بندوبست موجود ہے۔ کیا یہ نظر نہیں آرہا کہ لفظ پاکستان میں ہر قوم کی نمائندگی کیلئے حروف تہجی کا  باقاعدہ اہتمام  ہے۔ ہر قوم کیلئے ایک حرف الاٹ کرایا گیا ہے۔ جیسے پ سے پنجاب، ا سے افغان، س سے سندھ،  ک کشمیر، اور  بلوچستان  چونکہ رقبے میں بڑا ہے، تو حصہ بقدرِ جُسہ کے مصداق پر اس کیلئے  تین حروف یعنی (ت، ا، ن) تان  کو مخصوص  کیا گیاہے۔

البتہ بنگا ل کیلئے حرف دستیاب نہیں تھا، اور نام میں ترمیم  کرانا بھی نا مناسب تھا، جغرافیائی لحاظ سےبھی ہمارے تمام  تر  نیک و بد ہمسائیوں کے مقابلے  ہم سے کوسوں دور بھی تھا، پٹ سن کے علاوہ اور کچھ اگاتا بھی نہیں تھا،اس لئےاس نے علیحدگی میں عافیت جانی،چپ چاپ اس قومی دھارے سے الگ ہو گیا۔ جو حروف کی مانند جڑے رہ گئے  وہ الجھتے سلجھتے  ہی صحیح، قومی دھارے میں تو  شامل ہیں ، کون آگے کون پیچھے یہ بحث شر انگیز  اور نکتہ چین ذہنوں میں پلتے ہیں،یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم سب ایک ہی  دھارے  میں بہہ رہے ہیں ۔ اب دھارے کی  دھار کس سمت کو نکلتی ہے یہ  ہماری نیتوں اور خوبی تقدیر پر منحصر ہے۔

بظاہر ریاست کی صالح مشنیری مختلف قومیتوں کی شناخت  سے کوئی خاص سرو کار نہیں رکھتی ، اسی پر  اجماع اور اکتفا ہے کہ پاکستان مختلف ثقافتوں سے مزین ایک گلدستہ ہے جس کی مہک سےہمسائیوں کو الرجی ہے۔ خود گلدستے کا کیا حال ہے ، لگے ہوئے پھولوں کی تازگی و شگفتگی کی کیا کیفیت ہے؟،  نالہ گل و بلبل  کی کوئی تڑپ ہے بھی؟ اور کاروبار گلشن کن خطوط پر استوار ہے اس کے حوالے سے کوئی خیر خبر نہیں۔

البتہ دیواروں پر نوشتہ تحریروں، بینروں، ٹی  وی چینلوں ،نصاب کی کتابوںاور اب فیس بک کے ورچول (جسے کاغذی بھی نہیں کہا جاسکتا) دنیا میں جس دیدہ دلیری سے منافرت، تقسیم  اور تعصب کے جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں اس سے کم از کم یہ امر ظاہر ہو رہا ہے کہ  جس طرح اشیائے خورد و نوش کی معیار اور قیمتوں  کےنگرانی کرنے والے ادارے ناقص ہیں اتنے ہی یہ ادارے بھی غیر موثر ہیں۔

حق تو یہ ہے کہ قومی دھارے میں شامل ہونا اتنا  آسان بھی نہیں جتنا کہ خان صاحب کے دھرنے میں شمولیت اختیار کرنی ہو ،  یا تبلیغی جماعت میں سہ روزہ، یا چلہ لگوانے کیلئے ارادہ  لکھوانا ہو۔کیونکہ اس پر بڑا خرچہ آتا ہے ،خیال رکھنا پڑتا ہے، محنت کرنئ پڑتی ہے، جن کو بڑا ہونے کا  گھمنڈہے انہیں ذرہ جھکنا پڑتا ہے۔یہی نکتہ باریک سمجھنا ہوتا ہے کہ مختلف ہونے سے لوگ بیگانے نہیں ہوجاتے، مختلف بولی بولنے والے کے سینے میں بھی ایک دل دھڑکتا ہے، مختلف ہونے کی وجہ سے ضروریات بھی مختلف ہو سکتی ہیں، پیدائشی طور پر کوئی غدار پیدا نہیں ہوتا، وغیرہ وغیرہ ۔

یہ سارے بڑے کٹھن سوالات ہیں ۔اگر قومی دھارے میں شمولیت اخباری بیانات، خالی خولی اعلانات اور تعزیتی ریفرنسز سے پوری ہوجاتی تو ان سوالات کا کوئی جواز نہیں تھا۔ گر یہ سمجھ لیاجائے کہ  اس دھارے کی دھار اور منجھدار کا بقا  جھوٹے وعدوں کے سراب کی بجائے خلوص اور سچائی کی حرارت میں پنہاں ہے تو شاید کوئی  سبیل نکل آئے ۔

معاشرتی علوم میں اگر درج کیا جائے کہ  قومیتوں کے درمیان حائل سردمہری، بیگانگیت  اور برف کے  جمے ہوئے جزیرے محبت اور ایثار کی حرارت سے ہی  پگھلائے جاسکتے ہیں تب ہوسکتا ہے کہ ایک ہمارے سفر کا عنوان  بدل جائے اورصراط مستقیم کی جانب گامزن ہوں۔

2 Comments

  1. an outstanding Artical, but lets see where the wind blows.

  2. great dr. sb

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *