سائیں دے مٹھڑے گیت

سعید ملک

hqdefault

ممتاز صوفی گائیک سائیں اختر حسین

تقریبا چالیس سال کے عرصہ پر پھیلے ہوئے اپنے گائیکی کے زمانہ کو انہوں نے سندھ اور پنجاب کے درویشوں اور فقیروں کی درگاہوں پر اپنا گانا سناتے ہوئے گذارا۔ حقیقتاً ان کو سیلانی گویے کے خطاب سے سرفراز کیا جانا چاہیے۔ وہ ریڈیو اور ٹیلیویژن سے بھی وابستہ رہے۔ 14 جون 1987 ان کی وفات کا دن ہے۔
سارے ملک میں معروف اس گویے نے صوفی درویش بزرگوں جن میں شاہ حسین ، بلہے شاہ، شہباز قلندر، شاہ عبدالطیف بھٹائی اور سچل سرمت کی درگاہوں پر نہ صرف سال بہ سال حاضری دی ۔ تاآنکہ ان کی جسمانی صحت نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔
آخری زندگی انہوں نے اندرون شہر کے ایک کمرے کے خستہ حال مکان میں تقریباً تنہائی اور گوشہ نشینی میں بسر کی۔ ’’باوے دی کٹڑی‘‘ چونہ منڈی میں جہاں بوسیدہ اور تنگ و تاریک مکانوں کے اس سلسلے میں ’’ربابی‘‘موسیقاروں کے خاندان آباد تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دن بسر کئے۔
’’
ربابی خاندانِ موسیقاران‘‘ کے عظیم استاد اور گویے بھائی لعل محمد مرحوم کے اس عظیم شاگرد نے لوگ گائیکی کے جادو سے عارفانہ شاعری میں عقیدت کی روح بھر دی تھی۔ وہ اپنے آپ کو فنکارانہ تعصبات سے بر تر ثابت کر چکے تھے۔ اپنے والد سے ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے کلاسیکل گویا بننے کی تگ و دود کی۔ لیکن یہ ان کی منزل نہیں تھی۔ اور شاید اسی لیے اس میں انہوں نے کوئی خاص کامیابی بھی حاصل نہ کی۔
صوفی درویش شعرا کے کلام میں عقیدت ، تصوف سے ان کی گہری دلچسپی اور ان کے بلند آہنگ نے ان کا راستہ مکمل طور پر تبدیل کر دیا اور یہی ان کا مقصد حیات بن گیا۔ اپنی بھر پور جوانی ہی میں انہوں نے درویشوں کی درگاہوں اور دیہات میں میلوں اور ایسے مواقع پر موسیقی کے اجتماعات سے اپنی وابستگی گہری اور پختہ کر لی تھی۔ جہاں وہ اپنے دل کی آواز خلق خدا تک پہنچا سکتے تھے۔ ان کا بلند آہنگ بڑے بڑے اجتماعات میں اپنی آواز پہنچانے کیلئے کسی وسیلے کا محتاج نہ تھا۔ وہ لاؤڈ سپیکر سے بھی بے نیاز ’’لوکائی‘‘ تک اپنی آواز پہچانے پرقادر تھے ۔ وہ اپنی بھر پور مردانہ آواز میں اس قدر بلند آہنگ میں گا سکتے تھے ۔ وہ اپنی اس خوبی کی اثر انگیزی کا تذکرہ اس طرح کیا کرتے تھے کہ کسی طرح انہوں نے روسی انجینیروں کو مبہوت کرکے رکھ دیاتھا۔
دورہ ماسکو کے موقع پر روسی ٹیلیویژن کے ناظرین کیلئے انھیں ریکارڈنگ کروانے کی دعوت دی گئی۔ پروگرام کچھ اس طرح ترتیب دیا گیا کہ ریکارڈنگ تو سٹوڈیو میں کی جانے والی تھی اور اس کی ویڈیو کھلے لان میں بنائی جانی تھی۔
اپنی آنکھوں میں خاص طرح کی چمک کے ساتھ انہوں نے کہا ’’میں نے کھلے لان میں اس قدر بلند آہنگ کے ساتھ گایا کہ بند کمرے میں بیٹھے ساؤنڈ ریکارڈسٹ آسانی سے میری آوز کو بھی ریکارڈ کر گئے اور اس طرح آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ ایک ساتھ مکمل ہوئی‘‘۔
ہمیشہ سیاہ رنگ کے ڈھیلے دھالے چوغے میں ملبوس، چہرے پر داڑھی سجائے سائیں اختر گلے میں مختلف منکوں کی مالائیں پہنے رہتے تھے۔ سر پر سندھی ٹوپی سجائے دونوں ہاتھوں میں مختلف پتھروں والی ’’مندریاں‘‘ پہنے رہتے تھے۔ منفرد طرز زندگی اور پرانے انداز کے لباس اور گانے کی مختلف اصناف میں قدرت کے باعث سائیں اختر اپنی زندگی میں ہی لوک فنکاروں میں ایک ادارے کی حیثیت کر گئے تھے۔ اندرون اور بیرون ملک سیاحت کے وسیع تجربے کے ساتھ پنجابی اور سندھی کافیوں کے منفرد گانے والے کی حیثیت ان کی پہچان کا سبب بنی۔
اس دھرتی کے دونوں حصوں یعنی سندھ اور پنجاب کے صوفی درویشوں کے عارفانہ کلام میں کرہ ارض کے لوگوں کیلئے بھائی چارے کا پیغام ان کی خاص دلچسپی کا باعث تھا۔ ایک صوفی کی سی زندگی گزارنے والے سائیں اختر نے دنیاوی آسائشوں اور غیر ضروری آرام کو تج دیا تھا۔ وہ اپنی ذات کی شناخت سے بھی بے نیاز ہو چکے تھے۔
’’
صوفی درویشوں کے کلام کو گاتے ہوئے میں ایک ناقابل بیان راحت محسوس کرتا ہوں‘‘ ایک دفعہ مجھ سے انہوں نے ذکر کیا ’’میں ایسا کرتے ہوئے ایک سحر میں کھو جاتا ہوں۔ جو میرے لئے تسکین کا باعث ہوتی ہے‘‘۔ ان کو سننے والے بھی اس کیفیت کا حصہ بن جاتے ۔ شہروں سے باہر مضافات اور دیہات میں وہ لوگوں کے دلوں میں بستے تھے اور ’’لوکائی‘‘ کے احساسات تک رسائی کیلئے سنگیت ان کا خاص ہتھیار تھا ۔ سندھ سے شہباز قلندر اور سچل سرمست کی درگاہوں پر ان کو خاص طور پر دعوت دے کر بلایا جاتا تھا اور وہ ہمیشہ گانے کے ذریعے ان درویشوں پر اپنی عقیدت نچھاور کرتے۔
سنہ1964ء میں ایک ثقافتی طائفے کے رکن کے طور پر انہوں نے سوویت یونین کا دورہ کیا۔ اسی طرح 1974ء میں انہوں نے برطانیہ کا دورہ ایک سرکاری طورپر مدعو کیے گئے طائفے کے ہمراہ کیا۔ اس کے علاوہ بے شمار مواقع پر انہوں نے ہندوستان کے دورے کئے۔ جن کے دوران وہ نظام الدین اولیاء، امیر خسرو کے مزاروں پر دہلی حاضری کے علاوہ اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے مزار اور کلیئر شریف میں مخدوم صابر کی درگاہوں کی حاضری سے بھی شرف یاب ہوئے۔
سائیں اختر ہمیشہ مزاروں پر زائرین اور شہروں سے دوری پر واقع دیہات میں اپنی سدا بہار آواز میں کافیوں کے علاوہ موسیقی کی دوسری اصناف میں ’’لوکائی ‘‘ کیلئے جادو اثر پذیری رکھتے تھے۔ ایک درویش گویے کی شہرت ان کیلئے ہمیشہ رہنے والی تھی۔
جدید طرز زندگی کے آرام و آسائش کی خاطر جن ثقافتی اقدار سے ہمیں محروم کیا گیاہے۔ ان میں ’’انملا‘‘ ثقافتی ورثہ بھی ہے جو کہ ساری دنیا میں ممتاز اور بیش بہا قدروقیمت رکھتا ہے۔ 
صدیوں پرانے ورثہ میں نئی بدعتوں نے اس کی تکریم اور عزت کو زوال پذیری کی طرف دھکیلا ہے اور اس نے ہمارے قابل قدرورثے کو نقب لگا کر بربادی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ تیزی سے ہم اپنے لوک گانے والوں اور موسیقاروں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ فیض بلوچ، خمیسو خان، مائی بھاگی، عالم لوہار، سائیں مرنا، منیر سرحدی اور سائیں اختر جیسے لوگوں کے بچھڑنے سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ یہ ہمارے ثقافتی زندگی میں ایک رہنماکا کردار ادا کرنے والے لوگ تھے۔ 
ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے پاکستان کی سطح پر لوک ورثے کو سنبھالنے اور محفوظ رکھنے والوں کی ایک نئی کھیپ کو ان تمام سہولتوں سے بہرو ور کر سکیں۔ جو ہمارے وقتوں کے خوفناک ثقافتی بحران کے لمحے میں اس کشتی کو صحیح و سالم اگلی منزل تک لے جانے کی استطاعت رکھتے ہوں۔

(ترجمہ: پرویز مجید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *