انسانی آزادی اور غلامی ؟

4212_109624585991_3851843_nبیرسٹر حمید باشانی


آزادی ہمارے لیے ایک روزمرہ کا لفظ بن گیا ہے۔ہم سب اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہماری اس دنیا سے غلامی کے دورکا خاتمہ ہو چکا ہے۔ہم آزاد دور کے لوگ ہیں۔آزاد دنیا میں زندہ ہیں۔ لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق ہماری اس دنیا میں ایسے لوگوں کی تعداد تین کروڑ سے زیادہ ہے جو آج بھی غلام ہیں، غلاموں جیسی زندگی گزانے پر مجبور ہیں۔ان غلاموں کی سب سے بڑی تعداد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں، دوسری بڑی تعداد سوشلسٹ چین ، اور تیسری بڑی تعداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آباد ہے۔

ہماری اس دنیا میں شکار کے زمانے کے خاتمے اور زراعت کے دور کے آغاز کے ساتھ ہی غلامی کا رواج شروع ہو گیا تھا۔ کھیتی باڑی کے لیے غلاموں کی ضرورت شروع ہوئی۔ پھر یہ ضرورت بڑھتے بڑھتے زندگی کے ہر شعبے تک پھیل گئی۔ ابتدا میں غلاموں کو خریدا جاتا تھا۔ یا پھر جنگ کے دوران ان کو پکڑ کر غلام بنایا جا تا تھا۔ان لوگوں سے بلا معاوضہ کام لیا جاتا تھا۔ چنانچہ کسی شخص کو خرید کر یا جبری پکڑ کر بلا معاوضہ اس سے کام لینا غلامی کی تعریف ٹھہری۔

ان زمانوں میں غلاموں سے کھیتوں یا گھروں میں کام لیا جاتا۔ ان کو جنسی تسکین کے لیے استعمال کیا جاتا۔یا پھر جنگوں میں۔ اس زمانے کی سماجی اور معاشی تشکیل میں غلامی کی یہ تعریف درست تھی۔ ہمارے زمانے کی سماجی اور معاشی تشکیل بہت پیچیدہ ہے۔ اس میں غلامی کی شکلیں اور رنگ بالکل مختلف ہیں۔ اس معاشی تشکیل کی کئی تہہ در تہہ پرتیں ہیں۔ جس سے غلامی کی کئی نئی اور پیچیدہ شکلیں جنم لیتی ہیں۔ لہذا ہمارے اس جدید دور میں غلامی کی جدید شکلوں کا تعین کرنے کے لیے لفظ غلامی کی جدید تعریف کی ضررورت ہے۔

اس تعریف میں حقدار کو اس کے حق سے کم معاوضہ ادا کرنا اور اس کے دیگر قانونی اور انسانی حقوق سے انکار بھی شامل ہیں۔ اور بھٹہ مزدوروں اور کھیت مزدوروں سے لیکر گھروں میں مشقت کرنے والے کئی لوگ بھی اس میں شامل ہیں۔انسانی تاریخ کے ہر سماجی اور معاشی نظام کے اندر ظلم، جبر اور غلامی کی کئی گھناونی شکلیں موجود ہو تی ہیں۔ مگر چونکہ وہ اس زمانے کا ایک غالب نظام ہوتا ہے اس لیے اس میں یہ شکلیں سامنے نہیں آتیں۔ بعض صورتوں میں ان کو سامنے نہیں آنے دیا جاتا، بعض حالات میں ان کو برا نہیں سمجھا جاتا۔اور بعض حالات میں یہ سٹیٹس سمبل بن جاتا ہے۔

آپ پتھر کے زمانے سے لے کر آج تک انسانی تاریخ کے سارے نظام اٹھا کر دیکھ لیں۔ اس میں ظلم جبر اور غلامی کی ایسی ایسی خوفناک شکلیں ہیں کہ انسان حیرت اور افسوس سے سوچتا ہے کہ یہ نظام چلتا کیسے تھا ؟ مگر کیا اس دور کا انسان بھی اسی حیرت و افسوس سے یہ سوال پوچھتا تھا ؟ اگر ایسا ہوتا تو صدیوں تک انسان انسانوں کی تجارت کیسے کرتا۔غلامی کا سوال تو ہزاروں سال پہلے بائبل نے اٹھایا ؟ مگر اس نظام کو بدلنے کے سوال پر بائبل خاموش رہی۔

اسلام نے بھی جنگوں میں مال غنیمت کے ساتھ غلاموں اور لونڈیوں کے رواج کو برقرار کھا۔ قدیم یونانی تہذیب سے لے کر سلطنت عثمانیہ تک ہر مذہب، ہر کلچر اور ہر امپائر میں غلاموں کی خرید و ٖرفروخت ہوتی رہی۔یا ان کو جبری غلام بنایا جاتا رہا۔ آج ہم حیرت ، افسوس اور بے یقینی سے دیکھتے ہیں کہ کیسے کیسے عظیم دماغ اور نابغہ روزگار دانشور اس رواج کی حمایت کرتے رہے۔ کیا ہم ان لوگوں کو واقعی عظیم اور نابغہ روزگار کہہ سکتے ہیں ؟ ۔

چوہدویں صدی میں ابن خلدون لکھتا ہے کہ کالی اقوام بنیادی طور پر غلامی کی طرف مائل ہیں چونکہ کالوں میں انسانوں جیسا کچھ نہیں ہے۔ ان میں جانوروں جیسی خصوصیات ہیں۔ اس کے باوجودہمارے اسلامی دانشور اکیسویں صدی میں بھی ابن خلدون کو غلامی پسند اور نسل پرست کہنے کے بجائے عظیم دانشور اور فلسفی قرار دینے پر بضد ہیں ۔

کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ہر عہد کے مروجہ اور غالب نظام میں ظلم و نا انصافی کی کئی شکلیں ہوتیں ہیں۔ مگر چونکہ اس نظام سے طاقت ور اور بالادست طبقات کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ لہذا اس میں ہر چیز بالکل درست اور اخلاقی تقاضوں کے عین مطابق دکھائی دیتی ہے۔ عظیم شاعر، دانشور اور ادیب بھی اس بالادست نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ جو اس کا حصہ نہیں بنتے انہیں عظیم بننے ہی نہیں دیا جاتا۔چین میں غلامی کو تو بہت پہلے غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

چئیرمین ماؤ کے عظیم انقلاب کے بعد غلامی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہنی چاہیے تھی مگر چینی سماج میں غلامی نئی شکلیں اور نئے روپ دھارتی رہی۔ نہ چئیرمین ماؤ کا عظیم انقلاب اس کا کچھ بگاڑ سکا۔اور نہ ہی رد انقلاب۔ پھر چین سرمایہ داری کا بھی شراکت داربن گیا۔ مگر غلامی موجود رہی۔ حال ہی میں چین نے ہزاروں افراد پر مشتمل پولیس تیار کی جس کا کام بھٹوں پر کام کرنے والے جبری مزدوروں کو آزاد کرانا تھا۔

بھارت میں پنڈت نہرو جیسا نابغہ روزگار طویل عرصہ حکومت کرتا رہا۔ مگر غلام غلام ہی رہے۔ اب ہندوستان نیولبرل ازم کی گاڑی پر بھی سوار ہے۔ مگر غلاموں کی تعداد ہے کہ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

اور پاکستان کی تو بات ہی کیا۔ یہ دنیا کا شاید واحد ملک ہے جس میں جاگیرداری ابھی تک اپنی اصل شکل موجود ہے۔جس میں ذولفقار علی بھٹو جیسے نابغہ روزگار سوشلسٹ اور جنرل ضیا جیسے فاشست اسلامسٹ حکومت کر جاتے ہیں۔ مگر غلاموں کی قسمت کوئی نہیں بدلتا۔۔ یہاں کے عوام کی ایک بڑی اکثریت سماجی و معاشی نا انصافی کا شکار ہے۔ ظلم جبر اور غلامی تہہ در تہہ اور پیچیدہ زنجیروں میں گرفتار ہے۔ مگرظلم جبر اور استحصال کی ان شکلوں کی پردہ پوشی ہو رہی ہے۔ 

اس پردہ پوشی میں یہاں کی ریاست، بالادست طبقات، شاعر، دانشور اور ادیب شامل ہیں۔ 

2 Comments

  1. بہت اچھا لکھا گیا ھے اور مبنی بر حقیقت

  2. نجم الثاقب کاشغری says:

    جناب بیرسٹر صاحب معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ہزاروں سال پرانی بائبل میں اور آپ میں کیا فرق ہے؟۔دونوں نے غلاموں کی غلامی کا ذکر تو کردیا لیکن ان کی رہائی کی کوئی سبیل بتانے کی بجائے آخرمیں چپ سادھ لی۔
    کمیونسٹ کیوبا کا ذکربھی ہونا چاہیے تھا جس پر 32 بلین ڈالر کا قرضہ چڑھا کر کمیونسٹ سوویت یونین نے اسے ایسا غلام بنا لیا تھا جسے وہ آج تک ادا نہیں سکا۔
    یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ یہ شاعر ادیب اور دانشور ہی ہیں جو غلاموں کے حقوق کے لئے آواز اٹھاتے رہتے ہیں ،آپ کی سیاہ پوش بیرسٹر برادری (جو انگریوں کا دیا ہوا کالاغلامانہ قانون زبانی یاد کر کے اپنی روٹی روزی کماتی ہے )ایک چیف جسٹس کی “رہائی” کے لئے توکوئٹہ سے اسلام آباد تک ملک گیر ہنگامے برپا کر کے تحریک چلا سکتی ہے لیکن ان غلاموں کی رہائی کے لئے ایسا کچھ نہیں کرتی جن کا آپ نے ذکر کیا ہے۔آپ جس قانون کی پریکٹس کرتے ہیں وہ بھی زیر دست کو زیردست ہی رکھتا ہے۔غریب کا ساتھ نہیں دیتا۔اس لئے ریاست اور بالا دست کی اصل پردہ پوشی شاعر ادیب دانشور نہیں بلکہ بیرسٹر برادری کر رہی ہے۔غریب غلام تو انگریز کے متعارف کردہ” سٹامپ پیپر” کے پیسے بھی نہیں بھر سکتا۔
    ۔ایسے قانون اور قانون دانوں کو
    “میں نہیں مانتا،میں نہیں مانتا”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *